کچھ سانحات پر کالم نہیں نوحے لکھے جاتے ہیں‘ جذبات کا اظہار نہیں کرنا پڑتا‘ یہ خود چھلک جاتے ہیں۔ اسلام آباد کے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کی نرسری میں چودہ نومولود بچوں کی موت بھی ایسا ہی سانحہ ہے۔ بچے دنیا میں آئے تو والدین نے خوشیاں منائیں‘ مٹھائیاں بانٹیں لیکن انہیں کیا معلوم تھا کہ ان کی یہ چند روزہ خوشیاں جلد سوگ میں اور مبارکبادیں تعزیت میں بدل جائیں گی۔ یہ بچے کسی زلزلے‘ جنگ یا دہشت گرد حملے میں جاں بحق نہیں ہوئے یہ وفاقی دارالحکومت کے قلب‘ اقتدار کے ایوانوں سے چند کلومیٹر دور‘ ملک کے ایک بڑے سرکاری ہسپتال میں جان سے گئے ۔ جہاں زندگی بچائی جانی تھی‘ وہی جگہ موت کی کھائی بن گئی۔ جس نرسری میں آکسیجن‘ انکیوبیٹر اور تربیت یافتہ عملہ ہونا چاہیے تھا وہاں آگ بجھانے کا بندوبست اور محفوظ انخلا کا نظام موجود نہیں تھا۔ ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق یہ سانحہ سنگین ادارہ جاتی غفلت کا نتیجہ ہے۔ حادثہ وہ ہوتا ہے جس کا اندازہ نہ ہو‘ جس خطرے کی پہلے سے اطلاع مل چکی ہو‘ خامیاں تحریری طور پر سامنے آچکی ہوں اور پھر بھی کچھ نہ کیا جائے‘ اسے حادثہ نہیں بلکہ مجرمانہ غفلت کہا جاتا ہے۔ انکوائری کمیٹی کی عبوری رپورٹ کا ایک جملہ پورے نظام کا پوسٹ مارٹم ہے۔ آگ بھڑکنے کے بعد تقریباً دو منٹ میں نرسری کا ماحول تباہ کن حد تک بگڑ گیا۔ صرف دو منٹ! جن بچوں نے چلنا تو دور‘ ابھی سر اٹھانا بھی نہیں سیکھا تھا‘ انہیں بچانے کیلئے دو منٹ کا وقت تھا‘ مگر نہ عملی مشق‘ نہ مؤثرالارم‘ نہ واضح کمانڈ اور نہ محفوظ راستے۔ رپورٹ کے مطابق بعض ہنگامی راستے بند تھے اور کچھ میں رکاوٹیں تھیں۔ امدادی اہلکاروں کو مقفل دروازے توڑنے پڑے۔ ہسپتال کے 13 ایس او پیز میں آگ یا ہنگامی صورتحال کا ذکر صرف دو ذیلی حصوں میں تھا۔ کسی نے طے ہی نہیں کیا کہ آگ لگنے کی صورت میں الارم کون بجائے گا‘ ریسکیو کو کون بلائے گا‘ کمانڈ کون سنبھالے گا‘ دروازے کون کھولے گا اور ان مریضوں؍ بچوں کو کون اٹھائے گا جو خود چل پھر نہیں سکتے۔ یہاں یہ حقیقت بھی واضح ہونی چاہیے کہ سی سی ٹی وی کے مطابق موقع پر موجود نرسوں‘ ڈاکٹر اور سکیورٹی اہلکاروں نے بچوں کو بچانے کی کوشش کی۔ ایک نرس شعلوں میں داخل ہوئی‘ ایک بچے کو نکالا اور دوبارہ اندر جانے کی کوشش بھی کی لہٰذا پوری ذمہ داری چند ملازمین کے سر ڈال کر بڑے افسران‘ وزارت اور حکومت کو بری نہیں کیا جا سکتا۔ اصل سوال یہ نہیں کہ آگ لگنے کے بعد کس نے کتنی کوشش کی‘ اصل سوال یہ ہے کہ آگ لگنے سے پہلے ذمہ داروں نے کیا کیا؟ انتظامی و ہنگامی معاملات کسی نرس‘ ڈاکٹر یا گارڈ کی انفرادی بہادری پر چھوڑ دینا مینجمنٹ نہیں‘ انتظامی دیوالیہ پن ہے۔
سب سے شرمناک حقیقت یہ ہے کہ پمز کو خطرے کی پیشگی گھنٹی سنائی جا چکی تھی۔ 6 جولائی کو خواتین کے نرسنگ ہاسٹل میں آگ لگی تھی‘ اس کے بعد فائر الارم‘ بجلی کے نظام‘ ہنگامی راستوں‘ عملے کی تربیت اور ریکارڈ میں خامیوں کی نشاندہی ہوئی مگر 25 اگست یعنی نرسری سانحے سے صرف ایک دن پہلے‘ انکوائری رپورٹ نامکمل ہونے کے باعث درست کرنے کیلئے لوٹائی جا رہی تھی۔ فائل میزوں پر گھومتی رہی‘ نوٹ لکھے جاتے رہے‘ اعتراضات لگتے رہے اور اگلی صبح چودہ بچے جان سے چلے گئے۔ آگ 26 اگست کو لگی مگر اس کا ایندھن برسوں سے سرکاری فائلوں‘ ناقص نگرانی اور افسرانہ بے حسی میں جمع ہو رہا تھا۔ یہ پہلا واقعہ نہیں ہے‘ جون 2012ء میں لاہور کے سروسز ہسپتال میں آگ لگنے سے کم از کم چار نومولود جاں بحق اور 17 جھلس گئے۔ جنوری 2020ء میں کراچی کے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ میں انکیوبیٹر میں آگ لگنے سے نومولود بچی جاں بحق ہو گئی۔ مئی 2023ء میں لاہور کے چلڈرن ہسپتال کی نرسری میں آتشزدگی سے ایک نومولود جاں بحق اور دوسرا جھلس گیا۔ جون 2024ء میں ساہیوال ٹیچنگ ہسپتال کے بچوں کے وارڈ میں ایئرکنڈیشننگ نظام کے شارٹ سرکٹ کے باعث گیارہ بچے جان سے گئے۔ پھر اگست 2026ء میں پمز میں چودہ نومولود بچے جاں بحق ہوگئے۔ ہر سانحے کے بعد نوٹس‘ کمیٹی اور انکوائری ہوئی‘ مگر کسی رپورٹ نے اگلی آگ کا راستہ نہ روکا۔
چودہ کا عدد وزیراعظم شہباز شریف کے سیاسی سفر کا ایک حیرت انگیز حوالہ بھی بنتا جا رہا ہے۔ آخر چودہ کا عدد ان کے اقتدار پر اتنا بھاری کیوں ہے؟ 17 جون 2014ء کو شہباز شریف وزیراعلیٰ پنجاب تھے تو اس وقت ماڈل ٹائون میں پولیس فائرنگ سے دو خواتین سمیت 14 افراد جاں بحق ہو ئے۔ اکتوبر 2018ء میں وہ مبینہ طور پر 14 ارب روپے کے آشیانہ اقبال ہائوسنگ کرپشن مقدمے میں گرفتار ہوئے‘ بعد میں عدالت نے انہیں اور دیگر ملزمان کو بری کر دیا۔ اسی آشیانہ مقدمے میں 16 اکتوبر 2018ء کو ان کے جسمانی ریمانڈ میں 14 روز کی توسیع ہوئی۔ 14 اپریل 2021ء کو لاہور ہائیکورٹ نے منی لانڈرنگ مقدمے میں شہباز شریف کی ضمانت منظور کی‘ یعنی مشکل عدالتی سفر میں ریلیف بھی 14 تاریخ کو ملا۔ اپریل 2022ء میں شہباز شریف کے خلاف منی لانڈرنگ مقدمے کی رقم بعض ابتدائی رپورٹس میں تقریباً 14 ارب روپے بتائی گئی اگرچہ بعد کی عدالتی رپورٹنگ میں اسے 16 ارب روپے کہا گیا تاہم بعد ازاں الزامات بے بنیاد قرار پائے اور وہ بری ہو گئے۔ 24 مئی 2026ء کو شہباز شریف کی وزارتِ عظمیٰ میں کوئٹہ میں ٹرین کے قریب دہشت گرد حملے نے 14 جانیں لے لیں۔ 2 اگست 2026ء کو سوات کے علاقے کبل میں امن کیلئے جمع شہریوں کے قریب خودکش حملہ ہوا اور 14 افراد جاں بحق ہو گئے۔ 26 اگست کو پمز کی نرسری میں 14 نومولود بچے جان سے گئے۔ یہ تمام واقعات الگ الگ نوعیت کے ہیں۔ آشیانہ ہائوسنگ اور منی لانڈرنگ کے مقدمات میں شہباز شریف بری ہو چکے ہیں۔ دہشت گرد حملوں کی براہِ راست ذمہ داری وزیراعظم پر عائد نہیں کی جا سکتی۔ لہٰذا یہ کہا جا سکتا ہے کہ عدد چودہ کے یہ حوالے کسی بدشگونی کا ثبوت نہیں‘ یہ محض ایک غیر معمولی اتفاق اور حکمرانی کا علامتی سوال ہیں۔ تاہم اگر کچھ عدد کسی حکمران کے سامنے اتنی مرتبہ آن کھڑے ہوں تو انہیں مکمل طور پر نظرانداز کرنا بھی مشکل ہوتا ہے۔ مسلم لیگ کے حامی شہباز شریف کو ایک بہترین ایڈمنسٹریٹر قرار دیتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ وہ ملک کیلئے دن رات محنت کرتے‘ گھنٹوں اجلاس کرتے‘ افسران سے سخت بازپرس کرتے اور قومی نقصان پر دکھی‘ بلکہ بعض اوقات آبدیدہ بھی ہو جاتے ہیں۔ بڑی حد تک ان کے مخالفین بھی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ وہ فائل پڑھتے‘ منصوبے کی تفصیل پوچھتے اور کام مکمل کرانے کیلئے دبائو ڈالتے ہیں۔ پمز کے چودہ بچوں کا سانحہ یقینا انہیں اندر سے پریشان کیے ہوئے ہے لیکن یہی پریشانی ان کیلئے اصل امتحان ہے۔ بظاہر کوئی قاتل نہیں مگر چودہ بچوں کا خون پورے نظام کے ہاتھوں سے ٹپک رہا ہے۔ محض چودہ کا عدد ہی وزیراعظم کا پیچھا نہیں کر رہا‘ بار بار ناکام ہونے والا نظام‘ ادھورا احتساب اور شہریوں کی غیر محفوظ زندگیاں بھی ان کا تعاقب کر رہی ہیں۔ ان کیلئے اس تعاقب سے نکلنے کا راستہ موجود ہے؛ پمز کے چودہ بچوں کا مقدمہ رسمی نہیں حقیقی معنوں میں لڑیں! ذمہ داری نیچے سے اوپر لے کر جائیں۔ رپورٹ‘ سزا اور اصلاح کو انجام تک پہنچائیں اور ملک کے ہر ہسپتال کا آزادانہ فائر و سیفٹی آڈٹ کرائیں۔ اگر ایسا ہو گیا تو چودہ کا عدد صرف سانحات کا استعارہ نہیں رہے گا بلکہ یہ بدلے ہوئے نظام کی بنیاد بھی بن سکتا ہے۔ لیکن اگر اس مرتبہ بھی نوٹس‘ کمیٹی‘ معطلی اور معاوضے کے بعد فائل بند کر دی گئی تو پمز کی نرسری میں صرف بچے نہیں‘ حکومت کی ترجیحات‘ بیورو کریسی کی اہلیت اور ریاست کی ذمہ داری بھی شعلوں میں جل کر راکھ ہوگئی۔ قائداعظم کے چودہ نکات نے قوم کو منزل کا راستہ دکھایا تھا‘ ہمارے سانحات میں چودہ کا عدد نظام کی گمشدہ سمت بتا رہا ہے۔ تب چودہ کا عدد حقوق‘ تحفظ اور امید کی علامت تھا اور آج یہ عدد غفلت‘ ادھورے احتساب اور ریاستی ناکامی کی چارج شیٹ بنتا جا رہا ہے!
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved