ہمارے معاشرے میں آئے روز بے راہ روی کے سنگین اور ہولناک واقعات سننے کو ملتے رہتے ہیں۔ کئی مرتبہ چھوٹی عمر کے بچے‘ بچیوں کے ساتھ برائی کا ارتکاب کیا جاتا ہے اور اکثر درندہ صفت افراد اپنی ہوس پوری کرنے کے بعد معصوم بچوں کو قتل تک کر دیتے ہیں۔ اسی طرح معاشرے میں خواتین کے اغوا کے واقعات بھی رپورٹ ہوتے رہتے ہیں۔ ان واقعات کو پڑھنے‘ سننے کے بعد ہر سلیم الطبع انسان تکلیف میں مبتلا ہو جاتا ہے اور اپنے بچے بچیوں اور اہلِ خانہ کے تحفظ کے حوالے سے تشویش کا شکار ہو جاتا ہے۔ بے راہ روی کے خاتمے کیلئے کتاب وسنت میں بہت سی اہم تدابیر بتلائی گئی ہیں‘ بالخصوص سورۃ النور میں اس حوالے سے تفصیلی احکامات بیان کیے گئے ہیں جن میں سے چند اہم درج ذیل ہیں:
1۔ نگاہوں کو جھکانے کا حکم: اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۃ النور میں مردوں اور عورتوں‘ دونوں کو نگاہوں کو جھکا کے رکھنے کا حکم دیا ہے۔ سورۃ النور کی آیت: 30 میں اللہ تبارک وتعالیٰ مردوں کو حکم دیتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں: ''مسلمان مردوں سے کہہ دیں کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی پاکدامنی کی حفاظت کریں‘‘۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین کو بھی اپنی نگاہوں کو جھکا کے رکھنے کا حکم دیا ہے۔ سورۃ النور کی آیت: 31 میں ارشاد ہوا: ''مسلمان عورتوں سے کہہ دیں کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت کی حفاظت کریں‘‘۔
2۔ خواتین کو پردے کا حکم: اللہ تبارک وتعالیٰ نے جہاں مرد وزن کو نگاہیں جھکا کے رکھنے کا حکم دیا‘ وہیں خواتین کو پردے کی تلقین بھی کی۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ النور کی آیت: 31 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں‘ سوائے اس کے جو ظاہر ہے اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رہیں‘ اور اپنی آرائش کو کسی کے سامنے ظاہر نہ کریں‘ سوائے اپنے خاوندوں کے یا اپنے والد کے یا اپنے خسر کے یا اپنے لڑکوں کے یا اپنے خاوند کے لڑکوں کے یا اپنے بھائیوں کے یا اپنے بھتیجوں کے یا اپنے بھانجوں کے یا اپنے میل جول کی عورتوں کے یا غلاموں کے یا ایسے نوکر چاکر مردوں کے جو شہوت والے نہ ہوں یا ایسے بچوں کے جو عورتوں کے پردے کی باتوں سے مطلع نہیں‘‘۔
3۔ خواتین کو چال میں اعتدال کا حکم: اللہ تبارک وتعالیٰ نے جہاں خواتین کو پردے کا حکم دیا وہیں ان کو اپنی چال میں متانت اختیار کرنے کا بھی حکم دیا تاکہ زمین پر زور سے قدم مارنے کی وجہ سے لوگ ان کی طرف متوجہ نہ ہوں یا ان کے پائوں میں پہنے ہوئے زیور کی آواز ظاہر نہ ہو۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ النور کی آیت: 31 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''اور اس طرح زور زور سے پائوں مار کر نہ چلیں کہ ان کی پوشیدہ زینت معلوم ہو جائے‘‘۔
4۔ فحاشی کو تحریک دینے کی مذمت: معاشرے میں بہت سے ایسے لوگ ہیں جو فحاشی کی نشر واشاعت کیلئے مستعد رہتے ہیں اور فحش مواد کو مسلم معاشرے میں پھیلانے میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے۔ فحش اور گندے مواد کے اثرات انسانوں کے ذہنوں پر مرتب ہوتے ہیں جس کے نتیجے میں معاشرے میں بے راہ روی پھیلتی ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ایسے لوگوں کو شدید انداز سے تنبیہ کرتے ہوئے سورۃ النور کی آیت: 19 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''جو لوگ مسلمانوں میں بے حیائی پھیلانے کے آرزو مند رہتے ہیں ان کے لیے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے‘‘۔
5۔ قحبہ گری کی روک تھام: اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید میں جسم فروشی کا دھندا کرنے کی شدید انداز میں مذمت کی ہے اور ساتھ ہی ساتھ اس بات کو بھی واضح کیا ہے کسی معاشی یا معاشرتی مجبوری کی وجہ سے جن عورتوں کو اس پر مجبور کیا جاتا ہے‘ اللہ تعالیٰ ان کے گناہوں پر ان سے مواخذہ نہیں کرے گا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ النور کی آیت: 33 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''تمہاری جو لونڈیاں پاکدامن رہنا چاہتی ہیں انہیں دنیا کی زندگی کے فائدے کی غرض سے بدکاری پر مجبور نہ کرو اور جو انہیں مجبور کر دے تو اللہ ان پر جبر کے بعد بخش دینے والا اور مہربانی کرنے والا ہے‘‘
6۔ غیر شادی شدہ مردوں اور عورتوں کے نکاح کا حکم: قرآن مجید نے بے نکاح مردوں اور عورتوں کے نکاح کا حکم دیا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ النور کی آیت: 32 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''تم میں سے جو مرد عورت بے نکاح کے ہوں ان کا نکاح کر دو اور اپنے نیک بخت غلام اور لونڈیوں کا بھی‘‘۔ اس حوالے سے ان کی مفلسی کو ان کے راستے میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے‘ اس لیے کہ آیت: 32 میں یہ بھی ارشاد ہوا کہ ''اگر وہ مفلس ہوں گے تو اللہ انہیں اپنے فضل سے غنی بنا دے گا‘ اللہ کشادگی والا اور علم والا ہے‘‘۔
7۔ معاشی استحکام کی طلب میں نکاح مؤخر کرنے والوں کیلئے پاک دامنی کا حکم: جو لوگ معاشی استحکام کے حصول کیلئے اپنے نکاح کو مؤخر کرتے ہیں‘ قرآن مجید میں انہیں اپنے کردار کا تحفظ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ النور کی آیت: 33 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''اور ان لوگوں کو پاکدامن رہنا چاہیے جو اپنا نکاح کرنے کا مقدور نہیں رکھتے یہاں تک کہ اللہ انہیں اپنے فضل سے مالدار بنا دے‘‘۔
8۔ اپنے علاوہ کسی بھی گھر میں داخل ہونے سے پہلے اجازت لینے کا حکم: جب انسان اپنے گھر کے علاوہ کسی اور گھر میں داخل ہو تو اس کو اجازت کے بغیر داخل نہیں ہونا چاہیے۔ اس لیے کہ اس طرح انسان بدنظری یا کسی فتنے کا شکار ہو سکتا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ النور کی آیت: 27 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''اے ایمان والو! اپنے گھروں کے سوا اور گھروں میں نہ جائو جب تک کہ اجازت نہ لے لو اور وہاں کے رہنے والوں کو سلام نہ کر لو‘‘۔
9۔ خلوت کے اوقات کے آداب: گھر میں آرام کے اوقات میں ماتحتوں اور کم عمر بچوں کو اجازت کے بغیر رہائشی کمروں میں داخل نہیں ہونا چاہیے‘ اس سے ان کے ذہن پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ النور کی آیت: 58 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''ایمان والو! تم سے تمہاری ملکیت کے غلاموں کو اور انہیں بھی جو تم میں سے بلوغت کو نہ پہنچے ہوں (اپنے آنے کی) تین وقتوں میں اجازت حاصل کرنا ضروری ہے۔ نمازِ فجر سے پہلے اور ظہر کے وقت جبکہ تم اپنے کپڑے اتار رکھتے ہو اور عشا کی نماز کے بعد‘ یہ تینوں وقت تمہاری (خلوت اور) پردہ کے ہیں‘‘۔
10۔ جھوٹی تہمت لگانے والوں کیلئے سخت سزا: جب انسان معاشرے میں کسی پر جھوٹی تہمت لگاتا ہے اور اپنے دعوے کے ثبوت کیلئے چار گواہ پیش نہیں کرتا تو ایسے شخص کو حدِّ قذف یعنی 80 کوڑوں کی سزا ملنی چاہیے تاکہ معاشرے میں افواہ سازی کی وجہ سے برائی کی نشر واشاعت نہ ہو۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ النور کی آیات: 4 تا 5 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''جو لوگ پاکدامن عورتوں پر زنا کی تہمت لگائیں پھر چار گواہ نہ پیش کر سکیں تو انہیں اسّی کوڑے لگائو اور کبھی بھی ان کی گواہی قبول نہ کرو‘ یہ فاسق لوگ ہیں۔ ہاں! جو لوگ اس کے بعد توبہ اور اصلاح کر لیں تو اللہ بخشنے والا اور مہربانی کرنے والا ہے‘‘۔
11۔ جرم ثابت ہونے پر سزا: اسلام میں اگر بدکاری کے حوالے سے چار شہادتیں موصول ہو جائیں تو مجرم کڑی سزا کا حقدار ہوتا ہے۔ غیر شادی شدہ شخص کو قرآن کے حکم کے مطابق سو کوڑوں اور شادی شدہ افراد کو احادیث کے مطابق حدِ رجم کی سزا ملنی چاہیے۔ اسی طرح جو لوگ معصوم بچے بچیوں کے ساتھ برائی کا ارتکاب کرتے ہیں‘ انہیں فساد فی الارض کے تحت سنگین سزائیں دی جانی چاہئیں تاکہ ان سزائوں کی وجہ سے معاشرے کے وہ طبقات عبرت حاصل کریں جن کے ذہن میں منفی خیالات یا ارادے پنپ رہے ہوں۔
اگر مذکورہ بالا تدابیر پر عمل کر لیا جائے تو معاشرے میں برائی اور بدکرداری کی روک تھام ممکن بنائی جا سکتی ہے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved