تحریر : خالد مسعود خان تاریخ اشاعت     03-09-2026

پہلے اپنے مسئلے حل کریں

سندھ کے عوام دو معاملات میں بہت ہی زیادہ حساس ہیں۔ اتنے حساس اور جذباتی کہ وہ ان دو معاملات پر کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ پنجاب میں رہنے والوں کو اس کا اندازہ بھی نہیں ہو سکتا۔ ان میں سے ایک صوبہ سندھ کو تقسیم کرنے کا مسئلہ ہے اور دوسرا معاملہ دریائے سندھ کے پانی کا ہے۔ یہ دو ایسے مسئلے ہیں جن پر اندرونِ سندھ کے عوام زرداری صاحب کو بھی‘ جو اندرون سندھ اپنی سیاسی گرفت کی بنیاد پر خود کو سندھ کے سیاہ و سفید کا مالک سمجھتے ہیں‘ دھو کر رکھ سکتے ہیں۔ اس بات کا زرداری صاحب کو شاید پہلے پوری طرح اندازہ نہیں تھا لیکن انہیں اس کا حقیقی تجربہ 18 اپریل 2025ء کو دریائے سندھ پر نئی نہروں کی تعمیر کے خلاف ہونے والی ہڑتال سے ہو چکا ہے۔ اس پہیہ جام ہڑتال میں عملی طور پر سندھ اور پنجاب کے درمیان نو دن تک ٹریفک مکمل بند رہی۔ زرداری صاحب پوری کوشش کے باوجود اس ہڑتال کو ختم کرانا تو رہا ایک طرف‘ نرم بھی نہیں کروا سکے۔ اگر زرداری صاحب کو سندھ میں اپنی پارٹی کی مقبولیت اور اندرون سندھ کے عوام کی جانب سے پارٹی پالیسی یا حکم کی اندھی تقلید کے بارے میں کوئی غلط فہمی تھی تو وہ اس واقعے کے بعد بالکل ہوا ہو گئی۔ زرداری صاحب بڑے سمجھدار آدمی ہیں‘ انہیں بخوبی علم ہے کہ وہ پانی یا سندھ کی تقسیم میں سے کسی ایک مسئلے پر بھی سمجھوتا کریں گے تو سندھ کی سیاست سے فارغ ہو جائیں گے۔
گزشتہ سال نئی نہروں والے مسئلے پر صوبہ سندھ کی سڑکوں کی بندش والا معاملہ یہ تھا کہ حکومت پہلے سے تعمیر شدہ کچھ نہروں کا فیز ٹو اور کچھ نئی نہریں ڈیزائن کر رہی تھی۔ اگرچہ بعض خبروں میں چھ نئی نہریں نکالنے کا قصہ بیان کیا جاتا ہے جبکہ یہ سب نہریں نئے سرے سے تعمیر نہیں ہو رہی تھیں۔ اس منصوبے میں چھ نہروں کے نام ضرور تھے مگر مکمل طور پر نئی نہریں صرف دو تھیں۔ دیگر چار نہریں پہلے سے ہی تعمیر شدہ ہیں‘ ان میں صرف توسیع کا مرحلہ درپیش تھا۔ توسیع دی جانے والی چار نہروں میں سے ایک کا تعلق صوبہ سندھ کی زمینوں کو سیراب کرنے سے تھا۔ ان چھ نہروں میں سے ایک دریائے سندھ سے چشمہ بیراج کے مقام سے نکلنے والی چشمہ رائٹ بینک کینال تھی جس کا پانی فیز ٹو کے ذریعے خیبر پختونخوا کے ڈیرہ اسماعیل خان ڈویژن میں استعمال ہونا تھا۔ دوسری نہر تونسہ بیراج سے نکلنے والی کچھی کینال تھی۔ یہ نہر پنجاب میں سے گزرتی ضرور ہے مگر اس کا پانی بلوچستان میں ڈیرہ بگتی‘ نصیرآباد‘ بولان اور جھل مگسی کے بے آباد رقبے کی سیرابی کیلئے استعمال ہونا تھا۔ اس منصوبے میں اس نہر کا فیز ٹو تعمیر ہونا تھا جبکہ اس کا فیز ون پہلے سے ہی تعمیر ہو چکا ہے۔ تیسری نہر 2014ء میں گدو بیراج سے نکالی جانے والی رینی کینال کا فیز ٹو ہے‘ جس سے سندھ کے گھوٹکی‘ سکھر‘ سانگھڑ‘ خیرپور اور میرپور خاص کے نسبتاً بنجر علاقوں کو سیراب کرنا تھا‘ یعنی یہ پانی سندھ میں ہی استعمال ہونا تھا۔ چوتھی گریٹر تھل کینال ہے‘ اس کا فیز ون بھی پہلے سے مکمل ہو چکا ہے اور اس نہر کا فیز ٹو آگے تعمیر ہونا تھا‘ جو چوبارہ وغیرہ کی زمینوں کو سیراب کرنے کیلئے تھا۔ صوبہ سندھ والوں کو ایک تو اس نہر کی توسیع پر شدید اعتراض تھاتاہم اصل تنازع پانچویں نہر یعنی چولستان کینال پر تھا۔ یہ نئی نہر تھی اور جھگڑے کا مرکز یہی نہر تھی۔ چھٹی نہر تھر کینال تھی‘ جس سے سندھ کے صحرائے تھر کو سرسبز کرنا مقصود تھا۔ لہٰذا یہ چھ نہریں تمام کی تمام نئی نہیں تھیں‘ ان میں سے چار نہریں تو ایسی تھیں جن کا دوسرا مرحلہ تعمیر کرنے کا منصوبہ تھا اور دو نہریں بالکل نئے سرے سے بنانا مقصود تھیں۔
جیسے ذکر ہوا کہ جس نہر پر اہلِ سندھ کو سب سے زیادہ اعتراض اور تحفظات تھے وہ چولستان کینال تھی‘ تاہم عجیب بات یہ ہے کہ چولستان کینال کا بنیادی منصوبہ دریائے سندھ کے بجائے دریائے ستلج کے سیلابی پانی کو چولستان کے ریگزاروں میں پہنچا کر اسے قابلِ کاشت بنانے سے متعلق تھا۔ لیکن سندھ سے تعلق رکھنے والے بعض آبی ماہرین کا یہ کہنا تھا کہ دریائے ستلج میں سیلابی پانی اتنی بڑی نہر کیلئے درکار پانی کا مستقل ذریعہ نہیں ہو سکتا کیونکہ ستلج میں سیلابی پانی کی آمد کا دارو مدار دریائے ستلج میں بھارت کی طرف سے آنے والے سیلابی ریلے پر مشتمل ہوتا ہے‘ جو نہ صرف یہ کہ پانی کی آمد کا کوئی مستقل ذریعہ نہیں بلکہ ہر سال سیلاب کے دنوں میں بھی اس کی آمد ناقابل بھروسہ ہے۔ محض غیر معمولی بارشوں پر منحصر سیلابی پانی کی امید پر مشتمل یہ منصوبہ نہ صرف یہ کہ قابل عمل نہیں بلکہ اس پر کسی صورت بھی انحصار نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ بالآخر اس نہر میں پانی کی کمی کو دریائے سندھ کے پانی سے پورا کیا جائے گا اور صوبہ سندھ‘ جو پہلے ہی پانی کی شدید کمی کا شکار ہے‘ ان نہروں کے بننے سے پانی کے شدید بحران کا شکار ہو جائے گا۔
یہ بات درست ہے کہ صوبہ سندھ کے بہت سے علاقوں میں گزشتہ کئی سال سے پانی کی شدید کمی ہے۔ گزشتہ سال سندھ کے اضلاع سانگھڑ‘ میرپور خاص‘ نوابشاہ‘ بدین‘ ٹھٹھہ‘ مٹیاری اور عمرکوٹ وغیرہ میں دسمبر سے مئی تک پانی کی ایسی کمی تھی کہ گندم کی فصل کو پورا پانی نہیں مل سکا اور کپاس کی کاشت تاخیر سے اور کئی علاقوں میں سرے سے کاشت ہی نہ ہو سکی۔ ان علاقوں میں خشک سالی جیسی صورتحال دکھائی دیتی ہے اور فصلوں کی کاشت کے دوران پانی کی ضرورت پورا کرنے کیلئے مطلوبہ مقدار دستیاب نہیں ہے۔ ایسے میں صوبہ سندھ کے لوگوں کا مؤقف ہے کہ دریائے سندھ سے نہریں نکال کر چولستان وغیرہ کو آباد کرنے کا مطلب یہ ہے کہ سندھ کی قابل ِکاشت زمینیں بنجر ہو جائیں۔
ہم لوگ ایران امریکہ تنازع میں پاکستان کی عالمی منظرنامے پر پذیرائی اور نیک نامی پر تالیاں بجا رہے ہیں اور خوشی سے بے حال ہو رہے ہیں‘ اگر ہم اس چکر میں پڑنے کے بجائے ملک میں پانی کی کمی سے متعلق مستقبل کے بارے میں تھوڑی سوچ بچار اور کچھ عملی اقدامات کر لیں تو وہ اس ملک کی زرعی بقا کا باعث بن سکتے ہیں‘ بصورت دیگر اگلے دس سال میں پانی کا مسئلہ اتنا سنگین اور شدید ہو جائے گا کہ ہمارے پاس مئی جون میں فصلوں کو دینے کے لیے پانی ہی نہیں ہوگا۔
حکومتوں کو فوری دکھائی دینے والے ترقیاتی کام‘ جن کی نہ کوئی دیرپا اہمیت ہے اور نہ ہی ملک کی حقیقی ترقی میں ہی کوئی حصہ ہے‘ کرنے سے فرصت نہیں مل رہی۔ حکومتیں الیکٹرک بسوں‘ میٹرو منصوبوں‘ فلائی اووروں اور انڈر پاسوں کے چکر میں پڑی ہوئی ہیں جبکہ ملک کو اس وقت دیرپا بنیادوں پر مشتمل ایسے اقدامات کی ضرورت ہے جو آئندہ کیلئے معاشی استحکام کا باعث بن سکیں۔ اگلے آٹھ دس سال بعد جس روز یہ الیکٹرک بسیں کباڑ میں فروخت ہو رہی ہوں گی ہمارے پاس ان بجلی پر چلنے والی بسوں کو چارج کرنے کیلئے نہ بجلی ہوگی اور نہ ہی ان بسوں کو دی جانے والی سبسڈی دینے کی استطاعت ہو گی۔ سیلاب کی متوقع صورتحال ہمارے سامنے ہے۔ سندھ طاس پر بھارتی اقدامات اور ہٹ دھرمی کے پیش نظر اگر ہم اب بھی پانی کے مسئلے پر کوئی قومی ہم آہنگی پیدا نہیں کرتے تو آنے والے دن بہت بری صورتحال کا منظر نامہ پیش کر رہے ہیں۔ ایران اور امریکہ کے درمیان صلح کروانے جیسی کوششوں پر مجھے کوئی اعتراض نہیں لیکن میرے خیال میں تیسرے گھر کی فکر کرنے سے کہیں اہم اور ضروری کام یہ ہے کہ ہم متنازع ہو جانے والے ڈیمز کے بارے میں اتفاق رائے اور ہم آہنگی پیدا کرتے ہوئے کوئی قابلِ عمل حل نکالیں کہ پانی پر اس ملک کی بقا اور ہماری زندگیوں کا دارو مدار ہے۔ خدا نہ کرے کہ ایسا ہو‘ مگر یہی صورتحال رہی تو چند سال بعد صوبے آپس میں پانی کی وجہ سے دست و گریبان ہو رہے ہوں گے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved