تحریر : خورشید ندیم تاریخ اشاعت     03-09-2026

فالوورز

بہن نے بہن کو قتل کر ڈالا۔ اس کو غصہ تھا کہ مقتولہ کے فالوورز کی تعداد اس سے زیادہ تھی۔
'فالوورز‘ بلاشبہ اس عہد کا عظیم فتنہ ہے۔ بظاہر اس نے سوشل میڈیا کی کوکھ سے جنم لیا ہے لیکن اس کی جڑیں انسانی فطرت میں پیوست ہیں۔ یہ وہی حبِ جاہ اور حبِ مال کا فتنہ ہے جو روزِ اوّل سے انسان کے دامن کے ساتھ لپٹا ہوا ہے۔ اس کا ظہور مذہب‘ ادب‘ فنونِ لطیفہ‘ صحافت... ہر شعبۂ حیات میں ہوتا آیا ہے۔ پاپولر ادب‘ پاپولر سیاست‘ پاپولر کالم نگاری‘ یہ سب اسی کے مظاہر ہیں۔ ایک جائز بات اس وقت فتنہ بن جاتی ہے جب وہ کسی کو اس طرح اپنی گرفت میں لے لے کہ ہر اخلاقی قدر اس کی نذر ہو جائے۔ مال کی طلب یا شہرت کی خواہش میں فی نفسہٖ کوئی برائی نہیں۔ یہ خواہش برائی اس وقت بنتی ہے جب کوئی اخلاقی قدر اس کی زد میں آئے۔ یہ خواہش اس طرح انسانی وجود کا احاطہ کر لے کہ ہر اخلاقی مطالبے کو بہا لے جائے۔
ہمارے سیاسی کلچر کو 'فالوورز‘ کی طلب نے سب سے زیادہ برباد کیا ہے۔ تحریک انصاف نے اپنے پیغام کے ابلاغ کے لیے‘ سوشل میڈیا کو سب سے زیادہ مہارت کے ساتھ استعمال کیا ہے۔ اس میں کوئی برائی نہ تھی۔ دوسری سیاسی جماعتیں اگر اس دوڑ میں پیچھے رہ گئیں تو یہ ان کی نااہلی تھی۔ عمران خان صاحب کی مقبولیت نے حبِ جاہ و مال میں مبتلا بعض لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ انہوں نے محسوس کیا کہ اس دنیا میں ان کے لیے بہت کچھ ہے۔ 'فالوورز‘ زیادہ ہوں تو شہرت اور پیسہ ایک ساتھ آپ کے گھر کا رخ کر لیتے ہیں۔ انہوں نے عمران خان صاحب اور تحریک انصاف کی مقبولیت کو اپنی ان خواہشات کے تکمیل کے لیے استعمال کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ جو خان صاحب اور ان کے مرید سننا چاہتے ہیں‘ انہوں نے بیان کرنا شروع کیا‘ بلکہ مبالغے کے ساتھ۔ عمران خان صاحب کا تمام حلقہ اثر ان کے حلقۂ دام میں آ گیا۔ ان کی دکانوں سے انہیں وہ مال وافر مقدار میں میسر آگیا جس کی طلب بہت تھی۔ دھن اور شہرت ان پر برسنے لگے۔
سوشل میڈیاکا اصول یہ ہے کہ فالوورز زیادہ ہوں گے تو پیسہ بھی زیادہ آئے گا۔ ان کی تعداد بڑھانے کے لیے تھوڑے سے سچ کے ساتھ‘ بہت سا جھوٹ بھی بکنے لگا۔ خوب رونق لگ گئی۔ آہستہ آہستہ سچ برائے نام رہ گیا۔ خواہشات کو خبر بنا کر بیچا جانے لگا۔ خریداروں کی کمی نہیں تھی۔ یوں ایک ایسا بیانیہ سیاست پر چھا گیا جس کی کوئی حقیقت نہیں تھی۔ سیاستدان کو کلٹ بنا دیا گیا۔ ذہن آلودہ ہو گئے۔ کاروبار جب چل نکلا تو دکانداروں کی تعداد بھی بڑھنے لگی۔ یہ ہوشیار لوگ تھے۔ انہوں نے تحریک انصاف کو اپنا یرغمال بنا لیا۔ اب تحریک انصاف کا بیانیہ وہ نہیں تھا جو اس کی قیادت بیان کرتی تھی یا جسے جماعت کے پالیسی کہنا چاہیے۔ یہ وہ تھا جو یوٹیوبر بناتے تھے۔ انہوں نے تحریک انصاف کو ریاستی اداروں کے ساتھ تصادم میں جھونک دیا۔ تحریک انصاف کی قیادت ان کے سامنے بے بس ہو گئی۔ دکانیں چل گئیں مگر سیاسی کلچر برباد ہو گیا۔ تحریک انصاف بھی بند گلی میں جا پہنچی۔
کیا یہ جھوٹ کا کاروبار تھا؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنا مشکل نہیں۔ ایک سادہ سا ٹیسٹ ہے۔ کسی ایک ویلاگر کے وہ پروگرام دیکھ لیں جو تین ماہ میں نشر ہوئے۔ ان میں جو خبریں دی گئیں‘ یہ جانچ لیں کہ ان میں کتنی سچ ثابت ہوئیں؟ جو پیش گوئیاں کی گئیں‘ ان میں سے کتنی پوری ہوئیں؟ اگر جھوٹ کا تناسب زیادہ ہے تو اس سوال کا جواب اثبات میں ہے۔ میرا تجزیہ یہ ہے کہ جھوٹ نوے فیصد ہے۔ ان کی دی ہوئی خبر شاذ ہی سچ ثابت ہوئی۔ ان کی کوئی پیش گوئی شاید ہی پوری ہوئی ہو گی۔ انہوں نے مگر سیاسی انتہا پسندی‘ ہیجان اور نفرت پھیلا کر‘ ہمارے سیاسی کلچر کو وہ نقصان پہنچایا ہے کہ اس کی تلافی کے لیے نہیں معلوم کتنے برس درکار ہوں۔ تحریک انصاف کے بعض راہنماؤں نے ان کے خلاف اگر آواز اٹھائی تو وہ صدا بصحرا ثابت ہوئی۔ اس سے آپ ان کی گرفت کا اندازہ کر لیجیے۔ اگر یہ کہا جائے کہ عمران خان صاحب کی رہائی میں سب سے بڑی رکاوٹ فالوورز کی یہ خواہش ہے تو شاید اس میں مبالغہ نہ ہو۔
فالوورز کا یہی فتنہ سماجی مسائل میں بھی سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے ایسے ایسے بیہودہ پروگرام دکھائے جاتے ہیں کہ دیکھنے والے کی تنہائی بھی ناپاک ہو جاتی ہے۔ ایک خاتون کا ا نٹرویو چل رہا ہے جس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ خسر کی شیطنت کا شکار رہی۔ انٹرویو کر نے والی بھی ایک خاتون ہے۔ ایسے سوال پوچھے جاتے ہیں جو صرف غلاظت کو اچھالتے ہیں۔ ناجائز تعلق کو اس کی جزئیات کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے۔ لفظوں میں جتنی عریاں تصویر بنانا ممکن ہے‘ بنا دی جاتی ہے۔ معلوم ہوتا ہے انٹرویو کرنے والی کا بھی اخلاقیات سے کوئی علاقہ نہیں۔ ان پروگراموں کا صرف ایک مقصد ہے: فالوورز میں اضافہ کرنا۔ اس نوعیت کے پروگرام چونکہ توجہ کھینچتے ہیں‘ اس لیے ان کے فالوورز کی تعداد بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ اب سماج کو اس کی کیا قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے‘ کسی کو پروا نہیں۔
ایسے پروگرام بہت سے ہیں جن کا تعلق اس طرز کی بے ہودگی سے ہے۔ حکومتی ادارے ان پروگراموں کے بارے میں تو حساس رہتے ہیں جو ان کے خلاف ہوں لیکن معاشرے کی اخلاقی بربادی سے انہیں زیادہ سروکار دکھائی نہیں دیتا۔ فالوورز کی ہوس میں مبتلا ان لوگوں کی اکثریت اس ملک میں رہتی ہے۔ بعض چہرے تو جانے پہچانے ہیں۔ یہی نہیں‘ اخلاقی جرائم میں ملوث مجرموں کے انٹرویو تھانوں میں‘ پولیس کے موجودگی میں لیے جاتے ہیں۔ یہ غیر اخلاقی ہے اور غیر قانونی بھی۔ ان کا مقصد بھی معاشرتی اصلاح نہیں ہے۔ ایسے لگتا ہے جیسے کسی سکرپٹ پر مبنی پروگرام چل رہا ہے۔ یہ سب پیسہ کمانے کا ڈھنگ ہے۔ لسانی عریانیت کا ایک مظہر۔ اب جتنے فالوورز بڑھیں گے‘ اتنے ہی پیسے آئیں گے۔
اس کا ایک ا ور پہلو خطرناک وڈیوز بنانا ہے۔ ٹرین کے آگے لیٹ کر وڈیو بنائی جا رہی ہے۔ اونچی عمارت سے لٹک کر وڈیو بن رہی ہے۔ ایسی کوششوں نے کئی افراد کی جان لے لی۔ یہ دنیا بھر میں ہوتا ہے اور ہمارے ہاں بھی ہو رہا ہے۔ بہت سی نوجوان لڑکیاں اس کاروبار میں ملوث ہیں۔ فالوورز کی تعداد ان کے لیے دیگر کاروباری مواقع پیدا کرتی ہے جیسے ماڈلنگ۔ اس عمل میں ان کے کئی عشاق پیدا ہو جاتے ہیں۔ اکثر یہ عشق یکطرفہ ہوتا ہے۔ معاشرے کی حساسیت بھی اس کا ایک پہلو ہے۔ بہت سے والدین اور اہلِ خانہ اس کو پسند نہیں کرتے جس کی وجہ سے گھر میں جھگڑے شروع ہو جاتے ہیں۔ ان میں بعض کا انجام بہت المناک ہوتا ہے۔ عاشق کے ہاتھوں قتل ہونے والی ایک نوجوان بچی کا مقدمہ عدالت میں ہے۔ دو دن پہلے خبر سنی کہ ٹیکسلا میں ایک خاتون اسی ضد میں والد اور بھائی کے ہاتھوں قتل ہو گئی۔
اب لازم ہو گیا ہے کہ فالوورز بڑھانے کی اس خواہش کو قانونی اور اخلاقی دائروں میں قید کیا جائے۔ یہ افراد اور سماج‘ دونوں کے لیے خطرناک ہوتی جا رہی ہے۔ عوام کو روکنا مشکل ہے کہ اس کا تعلق عمومی اخلاقی حالت سے ہے۔ جب تک اس میں بہتری نہیں آئے گی‘ انہیں دیکھنے سے روکا نہیں جا سکتا۔ سماجی تعلیم کے ساتھ‘ یہ کوشش ہونی چاہیے کہ قانون حرکت میں آئے اور ایسے پروگرام بند کر دیے جائیں۔ مجھے حیرت ہے کہ سائبر کرائم والے ان معاملات میں کیوں متحرک نہیں ہوتے۔ کیا سماجی اخلاق ہمارا مسئلہ نہیں ہے؟ کیا ہمیں اپنے بچوں کا اخلاقی مستقبل عزیز نہیں؟

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved