ہم سب ایسا مسافرخاندان لگتے ہیں جس کی اپنے قریبی سٹیشن سے ٹرین چھوٹ گئی۔ اس کے پاس کسی طرح سفر جاری رکھنے کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا‘ سو چلتے رہے۔ بہت مشکلیں اٹھائیں‘ بہت تکلیفیں جھیلیں‘ بہت مسائل کا سامنا کیا لیکن ہمت اور کچھ کامیابیوں کے ساتھ سفر جاری رہا۔ پھر بھی رہ رہ کر وہ چھوٹی ہوئی ٹرین یاد آتی رہی۔ اچانک کسی نے تجویز دی کہ وہ ٹرین اب اگلے سٹیشن پر پھر پکڑی جا سکتی ہے۔ دیر ہی سے سہی‘ منزل تک پہنچ جائیں گے۔ خاندان دو حصوں میں تقسیم ہو گیا۔ کچھ کہتے تھے کہ یہ ٹھیک بات ہے‘ ٹرین پکڑنا ہی مسائل کا حل ہے۔ کچھ کہتے تھے کہ اب وہ موقع گزر چکا‘ حالات تبدیل ہو چکے‘ مسائل مختلف ہو چکے‘ اب ٹرین پر سوار ہونے کا مطلب ہے کہ پچھلے مسائل برقرار رہنا اور نئے مسائل کو جنم دینا۔ دونوں گروہوں میں شدت سے بحث جاری ہے۔ اب بحث میں احتجاج اور دھمکیوں کا رنگ بھی شامل ہوتا جا رہا ہے۔ آگے کیا ہوگا‘ دیکھتے جائیے۔
صوبے یا منصوبے! کسی کو اپنے صوبے کا جغرافیہ اتنا مقدس لگتا ہے کہ اسے بدلنے کی بات تک گوارا نہیں۔ کسی کو لگتا ہے کہ یہ انتظامی یونٹس کون سے ہمیشہ سے چلے آ رہے ہیں‘ ہر دور میں ان میں تبدیلیاں آتی رہی ہیں۔ اب اگر نقشے میں مزید تبدیلیاں ہو جائیں تو کون سی قیامت آ جائے گی۔ دونوں طرف دلائل ہیں اور دونوں طرف جذبات۔ کچھ ملک کی بات کرتے ہیں اور کچھ صوبے کی۔ دل میں جھانکا جائے تو ہر ایک کے دل میں من چاہے صوبے ہیں 'من صوبے‘ کہہ لیجیے۔
نام کچھ بھی رکھ لیں‘ نئے انتظامی یونٹس کا ذکر آتے ہی انصاری کمیشن کا ذکر لازمی ہو جاتا ہے۔ میرا ذہن 1983ء کے زمانے یعنی 43 سال پیچھے پہنچ جاتا ہے‘ جب ہمارے سمن آباد موڑ والے آبائی گھر میں اس کمیشن کی تجاویز پر روز و شب ملاقاتیں ہوا کرتی تھیں۔ کوئی شک نہیں کہ یہ کمیشن ان لوگوں پر مشتمل تھا جو نہ صرف مفاد پرستی اور سیاسی وابستگی سے دور تھے بلکہ یہ غیر متنازع ارکان حب الوطنی اور ملکی بہتری کے جذبے سے بھی سرشار تھے۔ اس کمیشن کے صدر محمد ظفر احمد انصاری تھے۔ کمیشن کے اہم ارکان میں جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری‘ جسٹس مولانا محمد تقی عثمانی‘ جسٹس (ریٹائرڈ) محمد افضل چیمہ‘ مولانا محمد مالک کاندھلوی‘ علامہ سید محمد رضی مجتہد‘ بیگم سلمیٰ تصدق حسین‘ اخوند زادہ بہرہ ور سعید‘ مفتی محمد حسین نعیمی‘ ڈاکٹر ضیا الدین احمد‘ ڈاکٹر منیر الدین چغتائی اور پروفیسر محمود احمد غازی شامل تھے۔ ڈاکٹر محمد حمید اللہ‘ محمد اسد اور سید حسین امام کو کمیشن کا اعزازی مشیر مقرر کیا گیا تھا۔ کمیشن کے سربراہ جناب ظفر احمد انصاری ہمارے گھر کے مستقل مہمانوں میں تھے‘ وہ لاہور میں اکثر ہمارے ہی گھر میں قیام کرتے تھے۔ عم مکرم مفتی محمد تقی عثمانی بھی کمیشن کے رکن تھے‘ لہٰذا ہمارا گھر ملاقاتوں کا مرکز بنا ہوا تھا۔ اب 2026ء میں ان افراد میں بہت سے رخصت ہو چکے لیکن ملکی تاریخ کے اس موڑ پر‘ ان حضرات سے بھی مدد لینی چاہیے جو اللہ کے فضل سے ہمارے درمیان موجود ہیں اور اس تمام بحث کے بہت سے پہلوؤں سے بہتر طور پر واقف رہے ہیں۔ اگر یہ فیصلہ اعلیٰ سطح پر زیر بحث ہے تو میری تجویز ہے کہ مفتی محمد تقی عثمانی سے حکومتی سطح پر اس معاملے پر مشاورت کرنی چاہیے۔
حقیقت یہ ہے کہ 1983ء کا زمانہ ان فیصلوں کے نفاذ کیلئے بہت بہتر تھا‘ لیکن بدقسمتی سے کچھ فیصلے نہیں کیے جا سکے۔ اس کی وجوہات یقینا ہوں گی لیکن 2026ء میں یہ وجوہات پہلے سے زیادہ اور مزید پیچیدہ ہو چکی ہیں۔ بہت سے لوگوں کو شاید معلوم نہیں کہ یہ کمیشن بنیادی طور پر صوبوں اور انتظامی یونٹس کی تشکیل کیلئے نہیں بلکہ ریاست کے نظریاتی اور انتظامی ڈھانچے کو مضبوط اور بنیادی مقاصد کی روشنی میں استوار کرنے کیلئے بنایا گیا تھا۔ کمیشن کے پاس قوتِ نافذہ نہیں تھی‘ صرف تجاویز اور رپورٹس کی حد تک اختیار تھا‘ جو اس نے پورا کر دیا۔ اس کی تجاویز شائع شدہ شکل میں موجود ہیں۔ صوبوں کے بارے میں بظاہر کمیشن کے اندر بھی مختلف آرا تھیں۔
خیر ٹرین اس وقت چھوٹ گئی لیکن نئے انتظامی یونٹس کے فائدے اور ممکنہ مسائل اب 2026ء کے حالات کی روشنی میں دیکھنا ہوں گے۔ میں ہمیشہ سے اس حق میں ہوں کہ چاروں صوبوں کے اندر خالص انتظامی بنیادوں پر نئے یونٹس بنانا بہتر ہے۔ لسانی‘ گروہی اور قومیتی بنیادوں پر یونٹس ملک کی یکجہتی کیلئے زہر رہے ہیں اور رہیں گے۔ لیکن اس نکتے سے ہٹ کر بھی نئے صوبوں کے بے شمار فائدے ہیں۔ ان پر ایک نہیں‘ کئی کالموں کی ضرورت ہو گی۔ اس کام میں عملی مسائل اور پیچیدگیاں کیا ہوں گی‘ یہ بھی سوچنا لازمی ہے۔ قومی اتفاقِ رائے بھی اس کیلئے لازمی ہے۔ ایسا ہی اتفاقِ رائے جیسا 1973ء کے آئین پر ہوا تھا۔ یہ اتفاقِ رائے کیا اب حاصل کیا جا سکتا ہے؟ سیاسی جماعتوں کی اس بارے میں پوزیشن آہستہ آہستہ واضح ہوتی جا رہی ہے۔ جن کا مؤقف واضح نہیں وہ آئندہ دنوں میں واضح ہو جائے گا۔ بدقسمتی سے سیاسی جماعتوں میں کئی اپنے مفاد سے اوپر اُٹھ کر ملک کیلئے سوچنے سے عاری ہیں۔ انہیں خوف ہے کہ چھوٹے یونٹس کی صورت میں ان کا مستقبل زیادہ روشن نہیں ہو گا۔ جب مستقبل غیر محفوظ لگتا ہو تو ان کی جیبوں سے لسانی‘ قومیتی اور صوبائی کارڈ نکل آتے ہیں۔ سیاسی جماعتوں میں پیپلز پارٹی کا مؤقف کم و بیش واضح ہو چکا۔ پیپلز پارٹی پہلے ہی ایک صوبے کی حد تک سمٹ چکی ہے۔ یہ حقیقت ڈھکی چھپی نہیں کہ اسے شہری علاقوں خاص طور پر کراچی‘ حیدرآباد اور سکھر سے ووٹ نہیں ملتے۔ دیہی ووٹ کی بنیاد پر وہ مسلسل صوبے کی سربراہی سنبھالے ہوئے ہے۔ یہ ووٹ بینک کتنا حقیقی ہے‘ یہ ایک الگ سوال ہے۔ ان کا خوف ہے کہ اگر سندھ میں کئی انتظامی یونٹس بن گئے تو وہ ایک گوشے میں سمٹ جائے گی۔ سندھ کے بڑے شہروں میں اس کے سیاسی حریف طاقت میں ہیں۔ جس طرح اسے کراچی کی میئرشپ اور سندھ کی وزارتِ اعلیٰ ملی ہے وہ بھی سب کے علم میں ہے۔ اگر مقتدر حلقوں کا فیصلہ نئے انتظامی یونٹس ہیں تو ممکنہ کارڈ ان کے خلاف بھی جا سکتا ہے۔ صوبے کا کارڈ کتنی دیر تک کھیلا جا سکے گا؟ پارٹی کی نوجوان لیڈرشپ کا سیاسی مستقبل خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ زرداری صاحب نے مقتدرہ سے بنا کر رکھنا سیکھ لیا ہے لیکن اب پیپلز پارٹی کیلئے یہ آسان فیصلہ نہیں ہے۔ ان کی طرف سے مخالفت اور احتجاج کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے‘ لیکن اگر ایم کیو ایم‘ جو نئے صوبوں کے حق میں ہے‘ ان کے خلاف کھڑی ہو جاتی ہے تو شہری علاقوں میں حکومت کیلئے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ ابھی جماعت اسلامی کا مؤقف واضح نہیں۔ وہ بھی سندھ کی سیاست اور فیصلوں میں اہم کردار ادا کرے گی۔
جمعیت علمائے اسلام (ف) کا مؤقف روز بروز واضح ہوتا جا رہا ہے۔ مولانا فضل الرحمن کی سکھر کانفرنس اس سلسلے کی تازہ مثال ہے جس میں انہوں نے اس منصوبے کو رد کیا ہے۔ بظاہر مولانا کا مؤقف یہ ہے کہ اس وقت کے حالات میں یہ فیصلہ بہت سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے کیونکہ ملک پہلے ہی بدامنی کی حالت میں ہے۔ مولانا فضل الرحمن یہ بھی کہہ چکے کہ اصولاً نئے صوبوں پر انہیں اعتراض نہیں لیکن اس وقت یہ شوشہ چھوڑنا کیا اہم معاملات سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے؟ جے یو آئی چاروں صوبوں میں طاقت رکھتی ہے اور علاقائیت یا لسانیت سے اس کا کبھی واسطہ نہیں رہا۔ اس لیے اس کا مؤقف نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس وقت پیپلز پارٹی کو ان کے مؤقف سے تقویت مل رہی ہے‘ لیکن میرے خیال میں نئے انتظامی یونٹس سے جے یو آئی کو بہت فائدہ ہو سکتا ہے۔ وہ کئی علاقوں میں‘ جہاں اس کی بھرپور طاقت ہے‘ اقتدار سنبھال سکتی ہے جو موجودہ نظام میں ممکن نہیں ہو سکا۔ کے پی میں نئے انتظامی یونٹس ان کیلئے پورے صوبے میں اپنی طاقت بڑھانے میں مؤثر ہوں گے۔ یہی صورت بلوچستان میں بھی ہے۔
لیجیے! بات شروع ہوئی ہی تھی کہ گنجائش ختم ہو گئی۔ اگلی ملاقات میں مزید بات کرتے ہیں۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved