آج کچھ دلچسپ خبریں میرے پاس ہیں۔ خبریں کیا ہیں‘ ابھی قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس سے تین گھنٹے کی کارروائی سننے کے بعد کیفے میں بیٹھا کافی پی رہا ہوں اور کوشش ہے کہ جو کچھ آج دیکھا اور سنا‘ اسے لفظوں کی شکل دے سکوں۔
اگر آپ ایک جملے میں سب جاننا چاہتے ہیں کہ اس اجلاس میں ایسا کیا خاص ہوا تو اجلاس میں ایک ہی جملہ بار بار میرے ذہن میں آ رہا تھا کہ لگتا ہے آدھے ملک کے ساتھ فراڈ ہو رہا ہے اور آدھا ملک فراڈ کرنے پر لگا ہوا ہے۔ تفصیل پڑھ کر آپ کے کانوں سے دھواں نکل آئے گا کہ اس ملک میں کیسا کیسا فراڈ ہو رہا ہے اور فراڈیے کیسے کیسے نت نئے طریقے اور ہتھکنڈے ڈھونڈ چکے ہیں۔ سب سے بڑھ کر جتنے بھی آپ کے وٹس ایپ اور بینک اکاؤنٹس ہیک ہو رہے اور پیسہ نکلوایا جا رہا ہے‘ اس میں بھی زیادہ تر عوام کی مرضی اور رضا شامل ہے۔ آپ کہیں گے یہ کیسی عجیب بات ہے‘ بھلا کون اپنے ساتھ فراڈ کراتا ہے۔ کسی مشہور فراڈیے کا قول ہے کہ جب تک اس دنیا میں لالچی لوگ زندہ ہیں‘ فراڈیے بھوکے نہیں مریں گے۔ اس قول کی عملی شکل قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں دیکھی‘ جب ارکان کو این سی سی آئی اے‘ وزارتِ داخلہ‘ سٹیٹ بینک‘ ٹیلی کام کمپنیوں اور دیگر نے بریفنگ دی کہ اس ملک میں سائبر فراڈ کیسے ہو رہے ہیں اور لوگوں کے وٹس ایپ اور بینک اکاؤنٹس کیسے ہیک ہو رہے ہیں۔ اس موقع پر ارکانِ کمیٹی نے حیرت کا اظہار کیا کہ بھلا عام لوگوں کا ڈیٹا ان فراڈیوں تک کیسے پہنچ رہا ہے کہ ان کے پاس لوگوں کی سب تفصیلات موجود ہوتی ہیں۔ اور تو اور ان کا بائیومیٹرک ڈیٹا بھی موجود ہوتا ہے‘ جس کی مدد سے وہ سیلولر سم نکال کر لوگوں کو کالیں کر کے بیوقوف بناتے ہیں اور تگڑی رقومات نکلوا لیتے ہیں۔
این سی سی آئی اے کے افسر کا کہنا تھا کہ انہوں نے کل ہی فیصل آباد میں ایک ایف آئی آر درج کی اور دو نوجوانوں کو 33 لاکھ روپے کے فراڈ میں گرفتار کیا۔ ان سے جو کچھ ریکور ہوا وہ سن کر آپ کے ہوش اڑ جائیں گے۔ بتانے لگے کہ انہوں نے ایک خاتون کے ساتھ سائبر فراڈ کیا اور اس کے اکاؤنٹ سے 33لاکھ روپے نکلوائے۔ خاتون نے فوراً بینک کو اطلاع دی اور مقدمہ درج ہو گیا۔ این سی سی آئی اے نے کارروائی کی اور اس فراڈیے سے 195 ایکٹو فون سمز‘ 16موبائل فونز اور مختلف بینکوں کے 81 اے ٹی ایم کارڈز برآمد کیے۔ وہ مختلف فونز میں مختلف سمیں ڈال کر لوگوں کو فون کر کے پھنساتا اور فراڈ کرتا۔ جب کمیٹی نے پوچھا کہ اس نے سولہ فون کیوں رکھے ہوئے تھے تو چیئرمین پی ٹی اے میجر جنرل (ر) حفیظ الرحمن نے انکشاف کیا کہ اگر کوئی بندہ ایک فون میں ایک مہینے میں آٹھ دفعہ مختلف سمز استعمال کرے تو پی ٹی اے اس فون کو بلاک کر دیتا ہے کہ یہ فراڈ میں استعمال ہو رہا ہے۔ اس لیے اس فراڈیے نے متعدد فون رکھے ہوئے تھے تاکہ ایک مہینے میں آٹھ سے زیادہ سمیں استعمال کر سکے۔ اس پر ایک ممبر نے کہا کہ ٹیلی کام کمپنیوں سے پوچھیں کہ ایک بندے کو کیسے 195 سمز ایشو کی گئیں۔ پتا چلا کہ کمپنیوں کے صارفین کا ڈیٹا چوری ہو رہا تھا اور اس میں کچھ کمپنیوں کا عملہ بھی ملوث تھا‘ جن کی مدد سے یہ سب کچھ ہو رہا تھا۔ جب پوچھا گیا کہ یہ ڈیٹا کہاں سے چوری ہو کر ان فراڈیوں تک پہنچتا ہے‘ جہاں ان کو بائیومیٹرک تک بھی مل جاتا ہے تو چیئرمین پی ٹی اے نے انکشاف کیا کہ نادرا‘ پولیس‘ بینک‘ ریونیو ڈپارٹمنٹ‘ ڈرائیونگ لائسنس سے لے کر جہاں جہاں آپ کا شناختی کارڈ یا بائیومیٹرک استعمال ہوتا ہے‘ وہاں کا عملہ یا سٹاف کے لوگ یہ ڈیٹا بیچتے ہیں۔ اگرچہ کچھ عرصہ پہلے چیئرمین پی ٹی اے نے ہی انکشاف کیا تھا کہ یہ سب ڈیٹا ڈارک ویب پر پڑا ہے‘ جس کا فی کس پانچ سو روپے ریٹ ہے۔ وہاں سب پاکستانیوں کا ڈیٹا مل جاتا ہے۔ اس پر این سی سی آئی اے کے افسر نے انکشاف کیا کہ انہوں نے ایک جگہ چھاپہ مارا تو وہاں سے انہیں چھ لاکھ لوگوں کا بائیومیٹرک ڈیٹا ملا‘ جو فراڈیے دو نمبر کاموں کیلئے استعمال کر رہے تھے۔
اب سم لینا کوئی مسئلہ نہیں رہا کیونکہ ٹیلی کام کمپنیوں کو اس سے بزنس ملتا ہے۔ اس وقت ملک میں 21کروڑ کے قریب سمز ایکٹو ہیں اور اکثر لوگوں نے ایک سے زائد سمیں نکلوا رکھی ہیں۔ کمیٹی ممبر اظہار الحسن نے کہا کہ جیسے بینک سے کسی بھی ٹرانزیکشن پر انہیںموبائل فون پر میسج آ جاتا ہے تو ایسا ٹیلی کام کمپنیاں کیوں نہیں کرتیں کہ جب کسی صارف کے نام پر نئی سم ایشو ہو تو اسے پرانے نمبر پر میسج بھیج دیا جائے تاکہ صارف فوراً ایکشن لے سکے۔
چیئرمین پی ٹی اے نے ایک اور بڑا انکشاف کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اب تک ایک کروڑ 80 لاکھ سمیں بلاک کی ہیں جو دوسروں کے ناموں پر جاری کرائی گئی تھیں اور پی ٹی اے نے ٹیلی کام کمپنیوں کو چار ارب روپے کا جرمانہ کیا۔ اس پر وہ ہم سے ناراض ہیں‘ انہوں نے جرمانہ بھی ادا نہیں کیا اور عدالتوں سے سٹے لے رکھا ہے جبکہ سمیں اب بھی جاری کی جا رہی ہیں۔ چیئرمین پی ٹی اے نے ملک میں ہونے والے فراڈوں سے متعلق ایک واقعہ یہ سنایا کہ ایک سم پشاور میں دہشت گردی میں استعمال ہوئی۔ فون نمبر کو ٹریس کیا گیا تو پتا چلا کہ وہ راجن پور کی کسی دیہاتی خاتون کے نام پر رجسٹرڈ ہے۔ ایجنسیاں اس عورت تک پہنچیں تو علم ہوا کہ اس عورت نے زندگی بھر کبھی فون استعمال نہیں کیا‘ سم نکلوانا تو دور کی بات ہے۔ اچانک اس عورت کو یاد آیا کہ کچھ عرصہ پہلے کچھ نوجوان راشن بانٹ رہے تھے اور وصولی کی رسید پر اس کا انگوٹھا لگوایا تھا۔ یقینا یہی بائیو میٹرک ڈیٹا سم نکلوانے کیلئے استعمال ہوا ہو گا۔ تاہم کچھ حکام کا یہ بھی کہنا تھا کہ لوگ خود بھی اپنے ساتھ فراڈ کراتے ہیں اور بعد میں رولا ڈال دیتے ہیں۔ انہیں کوئی بندہ فون کرے گا کہ میں کوریئر کمپنی سے بول رہا ہوں‘ اپنا ایڈریس دیں یا آپ کو کوڈ بھیجا گیا ہے وہ بتا دیں‘ یا آپ کا انعام نکلا ہے یا رقم آپ کو ٹرانسفر کرنی ہے‘ انعام یا کیش کا سن کر لوگ بغیر سوچے سمجھے ایڈریس سے لے کر خفیہ کوڈ اور اپنا بینک اکاؤنٹ تک سب کچھ شیئر کر دیتے ہیں اور فوراً سب کچھ ہیک ہو جاتا ہے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ وٹس ایپ بھی آپ کی اپنی مدد کے بغیر ہیک نہیں ہو سکتا۔ جس شخص کا وٹس ایپ ہیک ہوتا ہے‘ متاثرہ شخص اس کی سب تفصیلات خود فراڈیوں کو فراہم کرتا ہے۔ سب سے زیادہ تکلیف دہ فراڈ وہ ہے جس میں متاثرہ شخص کسی کی کہانی میں پھنس کر ساری رقم خود ٹرانسفر کرتا ہے اور جب تک اسے احساس ہوتا ہے فراڈ ہو چکا ہوتا ہے۔ پھر وہ حکومت اور بینکوں کو الزام دیتا ہے۔ وہ خود کو کبھی اپنی حماقت کا ذمہ دار نہیں ٹھہراتا۔ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے یہ کہہ کر اجلاس میں بم پھوڑا کہ پاکستان میں تو رینٹ اے اکاؤنٹ بینک کھلے ہوئے ہیں۔ جس بندے کے نام پر اکاؤنٹ کھلتا ہے یا پہلے سے بینک اکاؤنٹ ہوتا ہے‘اس کے ساتھ باقاعدہ ڈیل ہوتی ہے۔ اس اکائونٹ میں فراڈ کی رقومات ٹرانسفر ہوتی ہیں۔ بندے کو پتا ہوتا ہے کہ پکڑے گئے تو جیل بھی جانا پڑ سکتا ہے۔ وہ اس کا الگ سے پیسہ چارج کرتا ہے۔ اس فراڈ میں شریک سب افراد اپنا اپنا حصہ وصول کرتے ہیں اور پکڑے جائیں تو چند ماہ جیل میں گزار لیتے ہیں۔ وہی بات کہ آدھی قوم فراڈ پر لگی ہوئی ہے اور آدھی کیساتھ فراڈ ہو رہا ہے۔ ہر وقت کچھ نہ کچھ ''معاشی سرگرمی‘‘ ہو رہی ہے۔ آپ لُٹ رہے ہیں یا کسی کو لوٹ رہے ہیں! بھلا معاشی ترقی اور کسے کہتے ہیں کہ کچھ افراد کما رہے ہیں تو کچھ ان سے اپنا حصہ وصول کر رہے ہیں۔ سرمایہ ہاتھ بدلتا رہتا ہے‘ ایک جیب سے دوسری جیب! ہمارا یہی معاشی ماڈل ہے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved