تحریر : رسول بخش رئیس تاریخ اشاعت     04-09-2026

بہاولپور کا مقدمہ

نئے صوبوں یا انتظامی اکائیوں کی بات ایک عرصے سے کی جا رہی ہے‘ کبھی محدود حلقوں میں تو کبھی سرِ بازار جلسوں میں‘ اور اب زیادہ تر میڈیا میں۔ جب بھارت میں دہائیوں پہلے موجودہ صوبوں‘ جنہیں وہاں ریاست کہا جاتا ہے‘ کو تقسیم کرکے نئی ریاستیں تشکیل دینے کا عمل شد و مد سے جاری تھا‘ ہمارا راوی مکمل طور پر چین‘ سکون اور آرام لکھ رہا تھا۔ بعد از نوآبادیات‘ ریاستوں نے اپنی تشکیلِ نو کی ہے کیونکہ سامراجی طاقتوں کی انتظامی اور سیاسی ضرورتیں مختلف نوعیت کی تھیں۔ آزادی کے چند سال بعد بھارت میں ریاستی تنظیمِ نو کیلئے کمیشن بنایا گیا تو سب سے پہلے نئے صوبوں کی آواز بھارتی پنجاب میں اٹھی۔ اصول یہ طے پایا کہ ریاستوں کی زبان کی بنیاد پر نئی حد بندی کرکے نئی ریاستیں بنائی جائیں۔ پہلی طاقتور آواز واہگہ کے اُس پار مشرقی پنجاب سے اٹھی‘ جو ہمارے پنجاب سے الگ ہو کر وہاں ریاست بنا تھا۔ اس کے پیچھے وہی ماسٹر تارا سنگھ تھے جنہوں نے تقسیم سے پہلے متحدہ پنجاب میں فساد برپا کیا تھا۔ دوسرا بڑا نام سنت فتح سنگھ کا تھا۔ یہ سکھ اکالی پارٹی کے کلیدی رہنما تھے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ پنجابی زبان بولنے والوں کی علیحدہ ریاست بنائی جائے۔ 1966ء کے ریاستی تنظیمِ نو ایکٹ کے تحت مشرقی پنجاب میں سے تین ریاستیں بنائی گئیں: پنجاب‘ ہریانہ اور ہماچل پردیش۔ ریاست بن جانے کے بعد ہمارے سکھ بھائیوں کی شکایتیں اب یہ تھیں کہ پنجابی ہندوؤں نے مردم شماری میں اپنی زبان پنجابی لکھنے کے بجائے ہندی لکھی‘ اور اس طرح کئی پنجابی علاقے ہریانہ میں چلے گئے۔ بہرحال وہ خوش ہیں کہ ان کا پنجاب ہے اور پنجابی زبان‘ جسے وہ مقدس سمجھتے ہیں‘ محفوظ ہے اور ترقی کر رہی ہے۔ یہ تعارف اس لیے ضروری ہے کہ ہمارے ہاں اس کے برعکس زور اس بات پر ہے کہ ہمارے صوبے تاریخی اہمیت اور شناخت رکھتے ہیں۔ ہمارے حکمران طبقات مشرقی پاکستان میں کئی برس تک چلنے والی لسانی تحریک کو سوچ کر اس پریشانی میں مبتلا تھے کہ اگر زبانوں کی بنیاد پر موجودہ صوبوں کی تنظیمِ نو کی گئی تو نئے مسائل کھڑے ہو جائیں گے۔ مسائل تو ہر صورت میں کھڑے منہ چڑا رہے ہوتے ہیں‘ لیکن سیاسی قیادت اگر واقعی قیادت ہے تو انہیں حل کرتی ہے۔ ہم نے گزشتہ 80 برسوں سے صوبوں کے مسئلے کو مختلف گروہوں اور سیاسی خاندانوں کے مفادات کے تابع کیا رکھا ہوا ہے۔
اس مرتبہ نئے صوبوں کی بات عوامی دباؤ سے نہیں‘ اوپر سے شروع ہوئی ہے۔ پہلی آواز تو میاں عامر محمود صاحب نے اٹھائی‘ جو ایک وقت میں لاہور کے میئر بھی رہ چکے ہیں اور مقامی حکومتوں کا بھی تجربہ اور ادراک رکھتے ہیں۔ اگر آپ اسے ریاستی تنظیمِ نو کی تحریک کہیں تو شروع اسے میاں عامر محمود صاحب نے ہی کیا ہے۔ آگے دیکھیں اس کا کیا ہوتا ہے۔ اب وہ اکیلے نہیں‘ کئی سیاستدان بھی ایسا ہی مطالبہ کر رہے ہیں۔ کئی دانشور اور ماہرین‘ جو ریاستوں اور حکومتوں کے انتظامی معاملات کے بارے میں صاحبِ رائے ہیں‘ ان کا بھی یہی خیال ہے کہ نئے صوبوں کے بغیر ہم بحیثیت ملک آگے نہیں بڑھ سکتے۔ صرف وہ ترقی اور خوشحالی کی منازل طے کرتے رہیں گے جن کے موجودہ نظام میں وارے نیارے ہیں۔ میرا خیال ذرا مختلف ہے۔ صوبے نئے بنیں‘ جتنی بھی تعداد ہو‘ یا صرف چار پر ہی گزارا کریں‘ مقامی حکومتوں کے بغیر کوئی حکومت کام نہیں کر سکتی۔ کام تو وہی ہو گا جو آپ ایک عرصہ سے دیکھ رہے ہیں: طاقت‘ دولت اور ہر چیز کا ارتکاز چار بڑے شہروں اور حکومتوں کے سربراہوں کے ہاتھ میں ہے۔ جو باتیں ہم اِدھر اُدھر سے سنتے ہیں‘ ان کے مطابق تو کوئی فیصلہ ہو چکا ہے۔ جہاں بھی ہوا اور جس نے بھی کیا‘ صرف عملی جامہ پہنانا ہے۔ یہ پتا نہیں کہ اس کی سعادت کسے نصیب ہو گی۔ مرکز میں اقتدار والی جماعت یا گھرانہ ابھی تک خاموش ہے‘ مگر قیاس آرائی ہے کہ وہ کڑوی گولی نگل لے کہ اب اس جماعت کی عوامی پذیرائی کی صورتحال یہ ہے کہ اب یہ ہم جیسے بابوں کی طرح طاقت کی گولیوں پر ہی گزارہ کرتی ہے۔ البتہ سندھ کا سیاسی گھرانہ بڑی کشمکش کا شکار ہے کہ ایک طرف سندھی قوم پرستوں‘ اور دوسری طرف اپنی جماعت کے ورکروں کا دباؤ ہے کہ سائیں‘ سندھ میں نئے صوبے بنے تو پھر آپ نوابشاہ کے بادشاہ رہ جائیں گے۔ شاید لاڑکانہ بھی ہاتھ سے نکل جائے۔ دوسری طرف انکار کی صورت فائلیں بھی موجود ہیں جن پر سرخ رِبن چڑھا ہوا ہے‘ اور ماضی کے کئی بھوت دانت نکالے سامنے آ سکتے ہیں۔ خطرہ یہ بھی ہے کہ اگر اقتدار کی چڑیا اُڑ کر کسی اور درخت پر بیٹھ گئی یا بٹھا دی گئی تو اس کی واپسی کا پھر شاید کوئی امکان نہ رہے۔ عوامی سیاست کو بچانے کیلئے ابھی تو وہ عوامی بات کر رہے ہیں کہ آپ دیگر صوبوں کو تقسیم کریں‘ ہمیں کیا اعتراض‘ مگر سندھ کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھیں۔
بات تو میں بیچارے بہاولپور کی کرنا چاہتا ہوں‘ مگر سب صوبوں کی ایک واضح نئی حقیقت کی طرف فقط یہ اشارہ کافی ہے کہ سماجی اور لسانی طور پر ایک اکثریتی اور کئی اقلیتی گروہ شامل ہیں۔ منطقی طور پر اگر کوئی صوبہ اپنے آپ کو لسانی شناخت کے اعتبار سے منفرد سمجھتا ہے تو پھر وہ اپنے اندر کے دیگر لسانی گروہوں کی شناخت کو مٹانے یاان کی طرف سے صوبے کے مطالبے کو آنکھیں بند کر کے رد کرنے کے جواز سے محروم ہو جائے گا۔ بہاولپور واحد ریاست ہے جہاں صوبے کی بحالی کی تحریک چلی ہے۔ جب ون یونٹ کو 1969ء میں ختم کیا گیا تو اس ریاست کو دیگر شاہی ریاستوں کی طرح ہمسایہ صوبے میں ضم کر دیا گیا۔ بہاولپور کا دیگر ریاستوں کے ساتھ ایک نمایاں فرق ہے کہ یہ آزادی کے بعد پاکستان کے ساتھ الحاق کرنے والی سب سے بڑی اور سب سے ترقی یافتہ ریاست تھی۔ ملک بنتے ہی کچھ دیر سابقہ شاہی ریاستوں نے اپنے آئین بنائے‘ مقننہ بھی جلدی میں تشکیل دی‘ وزیراعظم اور کابینہ بھی مقرر ہوئے مگر طاقت کا سرچشمہ نواب صاحب کی ذات ہی تھی۔ صوبے کی بحالی کی تحریک صرف بہاولپور میں چلی اور متحدہ بہاولپور محاذ نے 1970ء کے انتخابات میں پچاس فیصد سے زیادہ پنجاب اور قومی اسمبلی کی نشستیں حاصل کیں۔ اس میں قومی جذبہ اور تحرک تھا کہ وہ لوگ منتخب ہوئے جو بہاولپور صوبے کے منشور کے حامی تھے۔
چند دن پہلے سابق ریاست بہاولپور کے ولی عہد شہزادہ بہاول عباس عباسی صاحب نے ایک خط صاحبانِ اقتدار کی نظر سے گزارنے کی کوشش کی کہ ہمارا صوبہ بحال کرو۔ اگر نہیں کرو گے تو ہم اس کے حق میں ایک عوامی تحریک چلانے کیلئے تیار ہیں۔ بہاولپور کی اپنی تاریخی حیثیت ہے جو صدیوں سے ریاست کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ ہمارے آبائی گھر اور بہاولپور ریاست کے درمیان صرف دریائے سندھ اورمشرقی کنارے پر چند کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔ جونہی ہم دریا اور کچا عبور کرتے تو وہاں کے لوگوں کو ریاستی کہتے‘ جو آج بھی ''ریاستی‘‘ کہلوانے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ وہ سب ہماری نسبت زیادہ خوشحال تھے۔ زمین زرخیز‘ کاروبار اور تعلیمی معیار دہائیوں سے ہمارے علاقوں سے بہتر تھا‘ اور اب بھی ایسا ہی ہے۔ بہاولپور صوبے کے خلاف ہمارے سرائیکی دانشور کہتے ہیں کہ چونکہ ملتان‘ بہاولپور اور دیگر کئی علاقوں کی زبان ایک ہے‘ جسے اب سب سرائیکی تسلیم کرتے ہیں‘ اسلئے جنوبی پنجاب نہیں سرائیکی صوبہ بننا چاہیے۔ سرائیکی شناخت کی تاریخ کچھ زیادہ نہیں‘ اس سے پہلے علاقائی شناختیں تھیں۔ ملتانی‘ بہاولپوری‘ ڈیروی‘ جھنگووی اور مختلف دیگر لہجوں کے بھی نام تھے۔ بہاولپور میں اب پرانے ریاستی ہیں جو سرائیکی زبان بولتے ہیں‘ اسکے شمال میں اب اکثریت کی زبان پنجابی ہے اور دیگر علاقوں میں بھی لوگوں نے نقل مکانی کی ہے۔ لیکن بہاولپور سب کی شناخت ہے‘ یہاں تک کہ وہ ہندو جو بہاولپور سے بیکانیر میں جا کر آباد ہوئے‘ وہ آج بھی بہاولپوری مشہور ہیں۔ دیکھیں‘ ولی عہد صاحب کیا کرتے ہیں۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved