امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست حملوں کا سلسلہ ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا ہے۔ یکم ستمبر کو امریکی افواج نے ایران کے جنوبی ساحلی علاقوں میں ریڈار‘ فضائی دفاعی نظام‘ میزائل تنصیبات‘ آبنائے ہرمز کے قریب عسکری و بحری اہداف‘ اور دو ایرانی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا‘ جبکہ امریکی حکام کے مطابق تقریباً 100 اہداف پر حملے کیے گئے۔ اس کے جواب میں ایران نے بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے خطے میں امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ ان تازہ جھڑپوں کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کرنے کا اعلان کیا ہے‘ جس سے خلیجی ممالک کی تیل برآمدات‘ ایشیا کو توانائی کی فراہمی اور عالمی بحری تجارت متاثر ہو گی جبکہ انشورنس اور مال برداری کے اخراجات میں بھی اضافہ ہوگا۔ اگر یہ صورتحال طول پکڑتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ‘ سپلائی چین میں خلل اور خطے کی معیشتوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ ان حملوں سے قبل صدر ٹرمپ نے ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کیلئے تجارتی اور اقتصادی پابندیوں اور بحری ناکہ بندی کا راستہ اختیار کیا تھا۔ صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ یہ اقدام زیادہ مؤثر ثابت ہو گا کیونکہ آبنائے ہرمز کے راستے امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں سے تیل اور گیس باہر لیجانے اور باہر سے ایران میںسامان لانے پر سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ امریکہ کے سیکرٹری خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے ایران کے خلاف اس اقتصادی جنگ کا اعلان کرتے ہوئے نہ صرف ایران کی معیشت کو تباہ کرنے کے کا اعلان کیا بلکہ خبردار کیا کہ جو ملک ایران کے خلاف امریکہ کی ان معاشی اور تجارتی پابندیوں کی مخالفت کرے گا‘ امریکہ اسے بھی سخت تادیبی کارروائیوں کا نشانہ بنائے گا۔
امریکہ کے اس اعلان سے اُن ممالک میں تشویش کی سخت لہر دوڑ گئی جو دہائیوں سے ایران کے ساتھ تجارت کرتے چلے آ رہے ہیں۔ ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک میں چین خاص طور پر قابلِ ذکر ہے‘ جو ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے اور اگر امریکی اعلانات کے بعد چین کو ایرانی تیل کی سپلائی میں رکاوٹ آئی تو چین کی صنعت کو سخت نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ چین نے اس بارے میں امریکہ کو اپنی تشویش سے آگاہ بھی کر دیا۔ چین کی وزارتِ خارجہ کی ترجمان نے اپنے ایک بیان میں امریکہ کے اس اقدام کو غیر قانونی قرار دیا۔ چین کے اس ردِعمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین‘ جس نے چند برس قبل ایران سے تیل کی خریداری اور ایران کی توانائی کے شعبے میں بھاری سرمایہ کاری کا ایک طویل المیعاد معاہدہ کیا تھا‘ ایران سے تیل کی سپلائی کو کسی نہ کسی طرح جاری رکھنے کی کوشش کرے گا۔ ماضی میں بھی چین بین الاقوامی منڈی میں ایرانی تیل کی فروخت پر پابندی کو بائی پاس کر کے نجی چینی کمپنیوں کے ذریعے ایران کا خام تیل حاصل کرتا رہا ہے‘ مگر امریکہ کی طرف سے ان کمپنیوں کو ٹارگٹ کرنے کے بعد چین کیلئے یہ آپشن اب دستیاب نہیں رہا۔ آبنائے ہرمز کی بندش کی صورت میں چین کیلئے واحد راستہ خشکی کا ہے اور وہ پاکستان کی صورت میں دستیاب ہے کیونکہ پاکستان اور ایران کی 900 کلو میٹر طویل سرحد پر ایران اور پاکستان کے درمیان تجارت کیلئے چھ کوریڈور موجود ہیں۔ 17جون کو سوئٹزرلینڈ میں اسلام آباد ایم او یو پر دستخط ہونے کے بعد پاکستان نے اپنی بندرگاہوں پر موجود ایرانی کنٹینرز کو کلیئرنس کے بعد انہی ٹریڈ کوریڈور سے سامان لے جانے کی اجازت دی تھی۔ ایران کے خلاف امریکہ کی معاشی جنگ اور اقتصادی پابندیوں کے علاوہ بحری ناکہ بندی کے بعد ایران نہ صرف ان تجارتی کوریڈورز کے ذریعے اپنی ضروریات کا سامان درآمد کرنے کی خواہش کرے گا بلکہ چین بھی سی پیک کے راستے ایران سے تیل حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔ 2015ء میں پاکستان اور چین کے درمیان چینی صوبے سنکیانگ کے شہر کاشغر اور آبنائے ہرمز کے دہانے پر واقع بحیرہ عرب کے ساتھ بلوچستان کے ساحل پر گہرے پانی کی قدرتی بندرگاہ‘ گوادر کو ملانے والے سی پیک کی تعمیر کے پیچھے سب سے اہم محرک بحر ہند کی آبنائے ملاکا پر چینی انحصار کا خاتمہ تھا‘ کیونکہ اسے کسی وقت بھی بند کیا جا سکتا تھا۔ 2020ء میں جب ہمالیائی سرحد پر چین اور بھارت کے درمیان مسلح تصادم ہوا تھا تو بھارتی فوج کے سربراہ نے دھمکی دی تھی کہ اگر آئندہ چین اور بھارت میں جنگ ہوئی تو یہ ہمالیائی علاقے تک محدود نہیں رہے گی بلکہ خطے کے دوسرے حصوں تک پھیل جائے گی۔ تب انہوں نے آبنائے ملاکا کو بند کرنے کی طرف ہی اشارہ کیا تھا۔ اب جبکہ امریکہ نے آبنائے ہرمز کے راستے ایرانی تیل کی برآمد پر سخت پابندی لگا دی ہے تو چین کیلئے ایرانی تیل حاصل کرنے کیلئے سوائے سی پیک کے اور کوئی راستہ نہیں بچتا۔
امریکہ کی طرف سے ایران کی معاشی ناکہ بندی سے صرف ایران کو ہی نقصان نہیں ہو گا بلکہ اس کی وجہ سے امریکہ کے چین اور پاکستان کے ساتھ تعلقات بھی متاثر ہو سکتے ہیں‘ کیونکہ امریکی سیکرٹری خزانہ نے واضح کیا ہے کہ ناکہ بندی میں ایران کی سہولت کاری کے مرتکب ممالک کے خلاف بھی امریکہ سخت اقدامات کرے گا۔ چین کے بعد ایران کے جن ممالک کے ساتھ بھاری تجارتی تعلقات قائم ہیں‘ وہ متحدہ عرب امارات اور ترکیہ ہیں۔ متحدہ عرب امارات پہلے ہی ایران کے ساتھ ہر قسم کے تجارتی اور کاروباری تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کر چکا ہے۔ دوسی جانب چین نے ایران کے خلاف امریکہ کی اقتصادی پابندی اور بحری ناکہ بندی کو بین الاقوامی قانون کے خلاف قرار دیا ہے۔ صاف نظر آ رہا ہے کہ چین ایران کے خلاف امریکی تجارتی پابندیوں اور ناکہ بندی کو قبول نہیں کرے گا۔ چین کے علاوہ دیگر کئی ملکوں نے بھی ایران کے خلاف امریکی معاشی پابندیوں کی مخالفت کی ہے‘ جن میں قطر بھی شامل ہے۔ قطر نے ایران اور عمان کے درمیان حال ہی میں آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمد و رفت کو ریگولیٹ کرنے کے ایک سمجھوتے کی حمایت کی ہے اور جنگ کے بجائے سفارت کاری کے ذریعے مسئلے کے حل پر زور دیا ہے۔
ادھر جی20 کے رکن ممالک کے وزرائے خزانے کے اجلاس میں بھی امریکی وفد کو یورپی ممالک کی ناراضی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ خاص طور پر جرمنی کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ ان کا نمائندہ اجلاس میں امریکہ پر زور دے سکتا ہے کہ جنگ کے بجائے سفارتی ذرائع سے مسئلے کا حل تلاش کیا جائے۔ کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں شریک روس کے صدر ولادیمیر پوتن‘ چینی صدر شی اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے خلیج فارس میں دوبارہ جنگ اور ایران پر حملوں کی مذمت کی۔ اس موقع پر روس اور چین نے نہ صرف ایران کی حمایت کی بلکہ دفاع کے شعبے میں تعاون جاری رکھنے کا اعلان بھی کیا۔
اگرچہ امریکی صدر اور وزیر خزانہ ایران پر اقتصادی پابندیوں کا گھیرا تنگ کر کے اس کی معیشت کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں مگر بین الاقوامی سطح پر امریکہ کو اس مشن میں کہیں سے بھی حمایت حاصل نہیں ہو رہی بلکہ 17 جون کو جس دستاویز پر ایرانی صدر اور پاکستانی وزیراعظم کے ہمراہ خود صدر ٹرمپ نے دستخط کیے تھے‘ اس کی طرف دوبارہ رجوع کرنے کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اپنے ایک حالیہ بیان میں اسلام آباد ایم او یو پر عمل درآمد کیلئے ایران اور امریکہ کے درمیان بات چیت پر زور دیا ہے۔ پاکستان‘ جس نے ایران اور امریکہ کے درمیان ایم او یو پر اتفاق پیدا کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا‘ کی طرف سے بھی اس دستاویز کو ایران امریکہ جنگ کے مستقل اختتام کا واحد ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح دیکھا جائے تو صدر ٹرمپ ہتھیاروں کیساتھ لڑی جانے والی جنگ کے پہلے رائونڈ کی طرح ایران کیخلاف معاشی جنگ بھی ہار چکے ہیں۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved