اگر آپ وطن عزیز میں کسی سرکاری ادارے سے وابستہ ہیں تو بیرونِ ممالک بسنے والے آپ کے زمانہ طالب علمی کے دوست احباب اور رشتہ داروں کا مسلسل یہ اصرار ہوتا ہے کہ آپ اپنی مصروفیات سے وقت نکال کر ان کے پاس نیویارک‘ اوسلو‘ میلان‘ پیرس یا لندن کا چکر لگائیں۔ سب کے سب دیارِ غیر میں اپنے وسیع کاروبار اور معاشی خوشحالی کے دعوے کرتے ہیں اور اکثر اس حوالے سے تصاویر اور وڈیوز بھی بھیجتے رہتے ہیں تاکہ آپ کو یقین ہو جائے کہ آپ کا دوست بیرونِ ملک ایک کامیاب آدمی بن چکا ہے۔ آئے روز دوستوں کے لندن‘ پیرس یا نیویارک سے فون بھی آتے ہیں۔ سلام دعا کے بعد دوسری طرف سے مخاطب دوست یہی کہتا ہے کہ کب آ رہے ہو؟ پلیز اس بار ضرور آئیں۔ یہاں آپ کا اپنا گھر ہے‘ جب دل کرے آ جائیں۔ برطانیہ میں مقیم دوست یہی کہتے ہیں کہ کبھی آئیں لندن! یہ سب کچھ سن کر آپ کا دل خوش ہو جاتا ہے اور محسوس ہوتا ہے کہ سمندر پار بھی دوست احباب کا ایک وسیع حلقہ موجود ہے۔ یہ الگ بات کہ اس رسمی دعوت کے بعد وہ صاحب اپنے یا کسی عزیز کے ضروری کام کی پوری تفصیل بیان کرکے اس میں معاونت کی تاکید کرنے لگے گا‘ جو اس فون کال کا اصل مقصد ہو گا۔ یہ عمل نجانے کتنی مرتبہ دہرایا جاتا ہے۔ اگر آپ نے ہمت باندھ کر ویزہ حاصل کر لیا اور بیرونِ ملک جانے کا پروگرام بنا لیا تو سامان کے ساتھ امیدوں اور خواہشات کا ایک بڑا بیگ بھی تیار ہوتا ہے۔ ویزہ حاصل کرنے کے بعد جب دوستوں کو اپنی آمد کی تاریخ سے آگاہ کیا جائے تو دس میں سے پانچ متعلقہ دنوں میں اپنی ذاتی یا کاروباری مصروفیات کا بہانہ پیش کرکے پتلی گلی سے نکل جائیں گے۔ البتہ کچھ سچے اور کھرے دوست آپ کو ایئرپورٹ ریسیو کرنے آئیں گے اور بڑی عزت سے اپنے پاس ٹھہرائیں گے۔ پہلے تین چار دن تو بڑے چاؤ سے گزرتے ہیں۔مگر چند روز کے بعد میزبان کی بس ہو جاتی ہے اور وہ باتوں باتوں میں پوچھنا شروع کر دیتا ہے کہ واپسی کب ہے۔ اگر آپ تعلیم یا ملازمت کے سلسلے میں لمبے عرصے کیلئے جائیں تو معاملہ یکسر مختلف ہوتا ہے۔ جب چند روز کیلئے آئیں تو آپ مہمان ہیں۔ مہمان کو ہمارے مذہب اور کلچر‘ دونوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ایسی صورت میں ہر دوسرا دوست فون کر کے یہی کہتا ہے کہ آج رات کا کھانا میری طرف ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ اتوار کو فلاں جگہ سیر کرنے چلتے ہیں‘ کھانے کے بعد شاپنگ بھی ہو جائے گی۔ تقریباً ہر کھانے کے بعد چند تصویریں بنتی ہیں اور سوشل میڈیا پر لگائی جاتی ہیں جبکہ وڈیو کلپس ٹک ٹاک کی زینت بنتے ہیں۔ ایک آدھ کھانے یا سیر وغیرہ پر پچاس سے سو پاؤنڈ کا خرچ آتا ہے۔ ویسے بھی آپ نے آٹھ دس دن بعد واپس چلے جانا ہوتا ہے‘ لہٰذا دوست یہ سب کچھ برداشت کر لیتے ہیں۔ اس کے برعکس جب آپ لمبے عرصے کیلئے جائیں تو رویہ 180 ڈگری گھوم جاتا ہے۔ تب وہی دوست بہانے بناتا ہے کہ میں بہت مصروف ہوں۔ کچھ ملے جلے بہانے تراشے جاتے ہیں‘ مثلاً اگلے مہینے ملتے ہیں‘ گھر چھوٹا ہے ورنہ میں آپ کو ضرور بلاتا۔ کئی تو ایسے غائب ہوں گے جیسے وہ کبھی دنیا میں ہی نہیں آئے تھے۔ اچانک اتنی بے رخی کیوں؟ اس کی پانچ ممکنہ بڑی وجوہات ہیں۔
سب سے بڑی وجہ مالی بوجھ کا خوف ہے۔ برطانیہ میں زندگی مہنگی ہے۔ کرایہ‘ بل‘ بینک کی قسط‘ بچوں کی فیس سب کچھ مل کر ایک بڑا معاشی بوجھ ہے جو ہر کوئی اٹھائے پھرتا ہے۔ ہر شخص مہینے کے آخر میں جمع تفریق اور حساب لگا رہا ہوتا ہے۔ جب آپ پاکستان سے مہمان بن کر آتے ہیں تو آپ چھٹیاں منانے آتے ہیں۔ اس مختصر دورانیہ کا زیادہ معاشی بوجھ نہیں ہوتا کیونکہ گنتی کے یہ چند دن دوستوں میں تقسیم ہو جاتے ہیں۔ لیکن جب آپ مستقل رہنے آتے ہیں تو لاشعوری طور پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ ہم سے مدد مانگے گا؟ مثلاً کچھ رقم بطور قرض مانگ سکتا ہے‘ نوکری کی توقع ہو سکتی ہے‘ یا کچھ عرصہ گھر میں قیام کا کہا جا سکتا ہے۔ دوسری طرف وطن عزیز سے جانے والے شخص کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہوتی ہے کہ وہ نیا ہونے کے باعث سسٹم سے واقف نہیں ہوتا۔ اس لیے پرانے دوست آپ کے بوجھ بننے سے پہلے ہی فاصلہ اختیار کر لیتے ہیں۔ دوم‘ پاکستان میں فون پر آپ کو بتایا جاتا ہے کہ میرا تین چار بیڈ روم کا بڑا گھر ہے‘ دو گاڑیاں ہیں‘ بزنس ہے۔ آپ یہ سب سنتے اور دل میں سوچتے ہیں کہ واہ! کیا بات ہے‘ میرا دوست کامیاب ہو چکا ہے۔ مگر جب آپ اس کا دو بیڈ والا فلیٹ‘ 15 سال پرانی گاڑی اور 12 گھنٹے کی ڈیوٹی والی جاب دیکھتے ہیں تو تصور اور حقیقت کا فرق سامنے آ جاتا ہے۔ اس دوست کو بھی ڈر لگتا ہے کہ آپ واپس جا کر سب کو بتائیں گے کہ فلاں کی اصل اوقات کیا ہے۔ اس لیے واضح اکثریت تو سرے سے جھلک ہی نہیں دکھاتی اور اکثر مختصر ملاقات میں ہی عافیت سمجھتے ہیں۔ سوم‘ پاکستان کے طرزِ زندگی کے برعکس یورپ میں وقت کی کمی اور زندگی روبوٹک ہے۔ صبح سات بجے کام یا تعلیم کیلئے گھر سے نکلے تو پھر شام کو واپسی۔ پھر بچے‘ ان کا سکول۔ اتوار کو گروسری سٹور سے خریداری۔ بیس بیس سال سے یہاں رہنے والوں کا سارا سوشل سرکل اب یہیں کے لوگوں پر مشتمل ہے‘ جن میں بچوں کے کلاس فیلوز کے والدین‘ کولیگز اور مسجد کے ساتھی شامل ہوتے ہیں۔ آپ اچانک آ کر ان کے 20 سال کے بنے ہوئے سوشل نیٹ ورک میں خلل ڈالتے ہیں۔ اس لیے ان کے پاس آپ کیلئے اضافی وقت نہیں ہوتا۔ چوتھی وجہ حسد اور شرمندگی ہے۔ یہ ایک کڑوا سچ ہے۔ کئی بار پاکستان سے آنے والا تازہ دم ہوتا ہے‘ اس کے پاس نئی کہانیاں اور نئی توانائی ہوتی ہے جبکہ وہاں رہنے والا 15 سال سے ایک ہی جگہ گھس رہا ہوتا ہے۔ لاشعوری طور پر اسے لگتا ہے کہ یہ تو دو ہفتے میں واپس جا کر پھر راج کرے گا اور میں یہیں پستا رہوں گا۔ وہ اس حسد کو مصروفیت کے پردے میں چھپا لیتا ہے۔ پانچویں بڑی وجہ ثقافتی خلیج ہے۔ جو شخص 20 سال سے یورپ‘ امریکہ میں آباد ہے اس کی سوچ‘ بول چال اور ترجیحات بدل چکی ہیں۔ اس کے بچے اردو نہیں بول سکتے۔ جو ابھی پاکستان سے آیا ہے وہ وہیں کی باتیں کرتا ہے۔ دو چار دن تک یہ فرق اچھا لگتا ہے مگر پھر یہ سماجی تفاوت اجنبیت بن جاتا ہے۔ اس طرح دو مختلف معاشرتی روایات کے حامل دوستوں میں بات کرنے کو موضوع نہیں رہتے۔
لہٰذا اگر آپ لمبے عرصے کیلئے برطانیہ یا کسی دوسرے ملک میں شفٹ ہو رہے ہیں تو دل چھوٹا نہ کریں‘ بس اپنی تو قعات بدل لیں اور خواہشات محدود کر لیں۔ اس ضمن میں چند رہنما اصول یاد رکھیں۔ اول: کبھی مہمان بن کر نہ جائیں بلکہ خودمختار بن کر جائیں۔ جہاز سے اترتے ہی کسی دوست کے گھر رہنے کا پلان نہ بنائیں بلکہ مناسب رہائش کرایہ پر حاصل کریں۔ جب آپ بوجھ نہیں بنیں گے تو لوگ خود بخود عزت دیں گے۔ دوم: تو قعات انتہائی کم رکھیں۔ جو دوست آپ کو ہمیشہ اپنے گھر آنے کی دعوت دیتا تھا اس سے یہ امید نہ رکھیں کہ وہ یہاں آپکو ہر روز کھانا کھلائے گا کیونکہ یہاں وہ خود مزدور ہے۔ سوم: اپنا سوشل سرکل خود بنائیں۔ مسجد جائیں‘ کمیونٹی سنٹر جائیں‘ کالج یا یونیورسٹی جوائن کریں۔ محض پرانے دوستوں تک محدود نہ رہیں۔ مغرب میں کامیاب وہی ہیں جنہوں نے خود اپنا نیٹ ورک بنایا ہے۔
''کبھی آئیں لندن‘‘ یہ جملہ جھوٹ نہیں‘ یہ دل سے بولا جاتا ہے۔ لیکن سچ یہ ہے کہ پردیس میں دل اور جیب دونوں کا حساب لگانا پڑتا ہے۔ اس لیے گلہ نہ کریں۔ نہ وہ برے ہیں نہ آپ۔ حالات اور وقت نے سبھی کو اپنے پنجوں میں جکڑ رکھا ہے۔ اگر آپ دیارِ غیر جا رہے ہیں تو یہ نیت کر کے جائیں کہ میں کسی پر بوجھ نہیں بنوں گا۔ اگر آپ مغرب میں مقیم ہیں تو ایک بار اپنے اُس دوست کو کال کر لیں جو مہینوں سے آپ کے شہر میں ہے اور آپ نے آج تک اس کا حال نہیں پوچھا۔ آخر میں پیسہ نہیں‘ رشتے ہیں جو کام آتے ہیں اور رشتے کبھی جھوٹی دعوت اور شان و شوکت سے نہیں بلکہ میل ملاپ سے زندہ رہتے ہیں۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved