اللہ تعالیٰ نے مشرکینِ مکہ کی اتحادی فورسز کو شکست سے دوچار فرمایا۔ عرب کی یہ متحدہ قوت دس ہزار افراد پر مشتمل تھی‘ جس کو صرف ایک ہزار نبوی فوج نے 25روزہ محاصرے کے بعد بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ 10ہزار کے لشکر کو خیبر کے یہود کی بھی حمایت حاصل تھی۔ مدینہ منورہ کے اندر آباد یہود کے قبیلے بنو قریظہ کی بھی معاونت حاصل تھی۔ منافقین بھی ان کے ساتھ ملے ہوئے تھے۔ عبداللہ بن ابی ان کا سردار تھا۔ مدینہ منورہ کے ارد گرد مسلمانوں نے خندق کھود رکھی تھی۔ اس کے اردگرد دس ہزار کا محاصرہ تھا۔ اندرونی حالات بھی انتہائی خطرناک تھے۔ اس جنگ میں معرکہ صرف ایک ہی ہوا۔ یہ حضرت علی حیدر کرار رضی اللہ عنہ اور عمرو بن عبدوُد کے درمیان تھا جس میں عرب کا بڑا سورما عمرو بن عبد وُد مارا گیا۔ اللہ کے رسولﷺ کی سیاسی اور عسکری تدبیروں سے مسلمانوں کو فتح ملی۔ فتح کے بعد اللہ کے رسولﷺ نے اندرونی دشمنوں سے نمٹنا شروع کیا۔ جنہوں نے دفاعی معاہدے کو توڑا‘ ان سے آہنی ہاتھوں نبٹنے کا فیصلہ ہوا۔ جنہوں نے منافقانہ سیاست کے دائو پیچ کھیلے ان کے ساتھ اچھی سیاست کے رویے اختیار کرکے راہِ راست پر لانے کا رویہ اختیار فرمایا۔ مدینہ منورہ کی اندرونی صورتحال کو معمول پر لانے کے بعد اللہ کے رسولﷺ نے ایک اور اہم فیصلہ فرمایا۔
آپﷺ نے مکہ کی اتحادی فورسز پر فتح پانے پر خدا کا شکر بجا لانے کیلئے عمرہ کا سفر اختیار فرمایا۔ مکہ والوں کو اپنی ہزیمت کی شرمندگی تھی‘ لہٰذا عمرہ کرنے سے روک دیا۔ حدیبیہ کے مقام پر صلح کا ایک معاہدہ ہوا کہ آپ لوگ آئندہ سال عمرہ کو آ جانا۔ الغرض! صلح حدیبیہ کی صورت میں پہلی بار مکہ کے سرداروں نے مدینہ کی ریاست کو تسلیم کر لیا۔ یہ ایک اہم ٹرننگ پوائنٹ تھا۔ واپس مدینہ منورہ لوٹنے پر اللہ کے رسولﷺ نے اس دور کی دو سپر پاورز‘ فارس اور روم کے حکمرانوں کو دعوتی خطوط لکھے۔ عرب حکمرانوں کو بھی خطوط لکھے۔ ساتھ ہی مدینہ منورہ کے شمال کی جانب خیبر کو فتح کرکے اہلِ عرب کو مضبوط ترین پیغام دیا کہ جو لوگ ریاست مدینہ کی سالمیت کیلئے خطرہ بننے والوں کا ساتھ دیں گے ان کے ساتھ ایسے ہی نمٹا جائے گا۔ ساتھ ہی ساتھ اللہ کے رسولﷺ نے مدینہ منورہ کی سیاسی‘ سماجی اور اخلاقی حالت کی طرف توجہ مبذول فرمائی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے رہنمائی کیلئے سورۃ الاحزاب نازل فرمائی۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے امہات المومنینؓ یعنی ازواجِ رسول کو ان کا بلند اور ارفع مقام یاد دلایا۔ اہلِ بیت اطہارؓ کی تطہیر کا اعلان فرمایا۔ مومن مردوں اور مومن عورتوں کا دینی اور اخلاقی معیار کیا ہونا چاہیے‘ شرم و حیا کے تقاضے کیا ہیں‘ سب اللہ نے بیان فرما دیا۔ اپنے آخری رسولﷺ کی ختم نبوت کا ذکر فرمایا۔ آپﷺ کا مقام بیان فرمایا کہ محمدﷺ اہلِ ایمان کیلئے ان کے مال و جان‘ سب سے بڑھ کر ہیں۔ یہ سارا کچھ اس لیے تھا کہ مدنی معاشرے کو ایک صالح معاشرہ بنایا جائے۔ اس سے اندرونی استحکام آئے گا۔ یہ نہ ہوا تو استحکام نہیں آئے گا۔
مندرجہ بالا وجوہات اور حضور کریمﷺ کے اقدامات کو بنیاد بناتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے واضح کیا کہ ''اللہ اور اس کے فرشتے نبی (کریمﷺ) پر صلوٰۃ (درود) بھیجتے ہیں‘‘۔ یعنی زمین پر اللہ کے رسولﷺ کی جو گورننس ہے وہ اس قد عالیشان اور عدل پر مبنی ہے کہ اللہ تعالیٰ پُررحمت اور محبت بھری نگاہیں ہمہ وقت اپنے حبیبﷺ پر اتکاز کیے ہوئے ہے۔ یاد رہے ''یصلون‘‘ کا لفظ 'مضارع‘ ہے جس میں زمانہ حال اور مستقبل ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کا نزول متواتر‘ مسلسل اور پیہم ہو رہا ہے۔ کوانٹم لیول پر جائیں تو ایٹم کے ذرات سے آگے کوارکس آتے ہیں‘ وہ لہروں کی صورت میں ہیں۔ یعنی ایسی Waves ہیں جو Vibrative حالت میں ہیں۔ ان میں فوٹون کا حسن الگ ہو گا‘ ہر عنصر کا حسن الگ ہو گا۔ یہ تو ہے ہماری مادی دنیا۔ اللہ اللہ! اپنے حبیبﷺ کے چہرۂ انور پر اللہ تعالیٰ کی صلوات کا کیسا حسن وجمال ہو گا‘ ہمارے تصور میں بھی نہیں آ سکتا۔ پھر فرشتے جو خود نور سے بنی ہوئی مخلوق ہیں اور ان پر ایمان لانا ضروری ہے‘ چونکہ درود شریف بھیجنے میں تمام فرشتے بھی شامل ہیں تو وہ آٹھ فرشتے جو عرش اٹھائے ہوئے ہیں‘ حضورﷺ نے فرمایا کہ ایک فرشتے کے کان کی لُو سے گردن تک کا فاصلہ سات سو سال کی مسافت ہے۔ ہماری روشنی کی رفتار تین لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ ہے‘ جبکہ فرشتے کی رفتار ساتویں آسمان سے زمین تک ایک سیکنڈ کے کھربویں حصے میں ہو سکتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ عرش اٹھانے والے فرشتے کے کان کی لُو سے گردن تک کی جگہ میں نہ جانے کتنی کائناتیں سما جائیں۔ پھر عرش کے گرد گھومنے والے فرشتے‘ بیت المعمور والے‘ ساتوں آسمانوں کی فیبرک چھتوں پر سجدے میں پڑے ہوئے‘ سب کے سب حضور نبی کریمﷺ پر درود شریف بھیج رہے ہیں۔
امام جلال الدین سیوطی کی شہرہ آفاق کتاب ''الاتقان فی علوم القرآن‘‘ کا مطالعہ کیا‘ دیگر علماء کی تحقیق اور اہلِ لغت کو دیکھا۔ مطلب یہ ہے کہ یہاں قرآن کی عربی کا اصول جسے '' احتباک‘‘ کہا جاتا ہے‘ وہ لاگو ہو گا۔ اس کے مطابق یصلون کے بعد ''یسلمون‘‘ کا لفظ مانا جائے گا کہ اللہ اور اس کے فرشتے درود اور سلام نچھاور کرتے ہیں۔ اسے محقق علماء اُس کپڑے کی صنعت کا جمال کہتے ہیں جسے بُنتے ہوئے خوبصورت اور رنگدار سنہرا بارڈر بنا دیا جائے۔ جی ہاں! درود شریف میں سلام یوں فٹ ہوتا ہے۔ یہ منظر جلالی‘ جمالی‘ نورانی اور تجلیاتی ہے۔ یہ بیان و تصور سے ماورا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے آخری رسولﷺ پر ایسا درود و سلام بھیج رہے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی عظمت و قدرت کے مطابق اور اس کی جلالت کے لائق ہے جبکہ تمام فرشتوں کے لاتعداد گروہ اور جماعتیں اپنے اپنے مقام کے مطابق درود و سلام کا ہدیہ اللہ تعالیٰ کی بار گاہ میں پیش کرتے ہیں اور پھر وہاں سے وہ نجانے کس کس جمال و جلال اور حسن و خوبی کے ساتھ حضور عالیشانﷺ تک پہنچتا ہے۔ یہ تو ہو گئے آسمانوں والے جبکہ ہم جو اہلِ زمین ہیں‘ ہم تشہد میں بیٹھتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کی حمد کے تین کلمات ادا کرتے ہیں اور پھر حضور کریمﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے درود و سلام پیش کرتے ہیں۔ حضورﷺ کے ساتھ جیسی والہانہ اور گہری محبت ہو گی‘ درود و سلام کا معیار بھی وہی ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی ڈیوٹی لگائی ہوئی ہے کہ وہ اس درود و سلام کو جمع کرتے ہیں‘ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کرتے ہیں اور پھر یہاں سے قبولیت کی سند پا کر درود شریف حضور کریمﷺ کی بارگاہ میں پہنچ جاتا ہے۔ یوں اہلِ زمین بھی اس میں شامل ہو جاتے ہیں۔
اے حکمرانو اور تمام لوگو! ہمارے حضورﷺ کی مبارک‘ مقدس اور پاکیزہ زندگی کے بہت سارے پہلو ہیں۔ ہر پہلو کو لاتعداد درود و سلام کا خراجِ تحسین ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ نے توفیق دی تو اس پر پوری کتاب لکھ دوں گا‘ ان شاء اللہ! آج تو صرف سورۃ الاحزاب کو سامنے رکھتے ہوئے حضورﷺ کی حکمرانی کے لاتعداد موتیوں میں سے صرف ایک موتی سامنے رکھا ہے۔ اس کا بھی حق کہاں ادا ہو سکتا ہے؟ حضورﷺ نے اپنی حکمرانی کو حکمرانی کی معراج بنایا۔ اقربا پروری اور وراثتی نظام کو مدینے کی پاک سرزمین سے باہر پھینک دیا۔ میرے پاک وطن میں بھی نظام کی ناکامی اور نئے نظام کی باتیں ہو رہی ہیں مگر سیاسی جماعتوں کا نظام اقربا پروری اور وراثتی سسٹم پر کھڑا ہے۔ یہ بھلا کب بااختیار بلدیاتی نظام چاہیں گے؟ کیونکر زیادہ صوبے بنانا پسند کریں گے؟ ان جماعتوں کے اندر جو میرٹ کی بات کرے گا وہ راندۂ درگاہ اور عبرت کا نشان بن جائے گا۔ یہ نام نہاد قائدین کیا جانیں حضورﷺ کی حکمرانی کا انداز۔ یہ کیا پہچانیں گے اقتدار و اختیار کی ذمہ داریاں۔لاکھوں کروڑوں درود و سلام خاتم النبیینﷺ پر۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved