ایک بڑی پرانی کہاوت ہے کہ جنگ اور محبت میں سب کچھ جائز ہے۔ بعد میں یار لوگوں نے اس میں تھوڑی سی ترمیم کرتے ہوئے اضافہ فرما دیا کہ جنگ‘ محبت اور سیاست میں سب کچھ جائز ہے۔ اس جملے نے دنیائے سیاست کی ہر کج رخی‘ جھوٹ‘ فریب‘ وعدہ خلافی‘ اخلاقی دیوالیہ پن‘ غرض ہر چیز کو جواز فراہم کر دیا۔ اس نے ہر اخلاقی‘ قانونی‘ آئینی طور پر غلط سمجھی جانے والی حرکتوں کو ایک ایسی چھتری عطا کر دی جس کے نیچے سیاستدانوں نے پناہ لی اور سیاسی اخلاقیات کا جنازہ نکال دیا۔ مورخہ 27 جولائی کو آزاد جموں کشمیر کے انتخابات کا پہلا مرحلہ میرپور کے تین اضلاع میرپور‘ کوٹلی اور بھمبر کی تیرہ نشستوں پر مشتمل پہلا مرحلہ تھا۔ ان تیرہ نشستوں میں سے نو نشستوں پر مسلم لیگ (ن) کامیاب ٹھہری جبکہ پیپلز پارٹی نے چار نشستوں پر کامیابی سمیٹی۔ اس الیکشن کے حوالے سے پیپلز پارٹی جو اپنے آپ کو فاتح سمجھ رہی تھی اپنے اندازوں کے برعکس غیر متوقع نتائج آنے پر غیظ و غضب کا شکار ہو گئی۔ اپنے تئیں اس غیر متوقع شکست کے بعد پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ(ن) کے لتے لینا شروع کیے اور باہمی معاملات کے کچے چٹھے کھول کر اپنے دل کی بھڑاس نکالنی شروع کر دی۔ اس سلسلے میں بلاول بھٹو بہت زیادہ غصے میں تھے اور انہوں نے الیکشن کے نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ''مسلم لیگ( ن) نے آزاد کشمیر کے عوام کا ووٹ گولی‘ لاٹھی اور دھونس کے ذریعے چوری کیا ہے‘‘۔ اس دوران انہوں نے ہر وہ الزام‘ جو انتخابی انجینئرنگ پر لگایا جا سکتا تھا‘ لگایا اور نہ صرف یہ کہ انہوں نے آزاد جموں کشمیر کے حالیہ انتخابات کے حوالے سے مسلم لیگ(ن) کو لتاڑا بلکہ اس کی زد میں 2024ء کے پاکستان کے انتخابات بھی آ گئے۔ فارم 47 کا ذکر ہوا‘ مرکز میں مسلم لیگ(ن) کی حکومت کے اخلاقی جواز پر انگلی اٹھائی‘ اسمبلی میں موجود مسلم لیگ(ن) کی اکثریت کو جعلی قرار دیا‘ اس جعلی اکثریت کا بندوبست کرنے والوں کو ڈھکے چھپے الفاظ میں مطعون کرتے ہوئے مسلم لیگ(ن) کے مینڈیٹ کو مکمل چوری شدہ قرار دیا۔ انہوں نے آزاد جموں کشمیر کے الیکشن کے ساتھ ساتھ پاکستان کے 2024ء کے انتخابات کے نتائج کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے خلاف تقریباً اعلانِ جنگ کر دیا۔ تب لگتا تھا کہ شاید یہ لڑائی اسی اور نوے کی دہائی جیسی محاذ آرائی کی یادیں تازہ کر دے گی لیکن ابھی بیانات کی گونج بھی ماند نہیں پڑی تھی کہ ہر دو فریقین کے درمیان پیار و محبت کی پینگیں دوبارہ سے شروع ہو گئیں۔
اگر میں بلاول بھٹو کے دیے گئے ان سارے بیانات کو کسی ایک جملے میں سمیٹوں تو یوں سمجھیں کہ انہوں نے ہر دو انتخابات میں مسلم لیگ( ن) کو انتخابی سیاست اور جمہوریت کی آبرو لوٹنے والی پارٹی قرار دیا۔ کشمیر الیکشن کے اختتام تک تو نہایت گرما گرم صورتحال رہی۔ اس لڑائی میں‘ جو تقریباً یکطرفہ تھی مسلم لیگ(ن) کے کچھ وزرا نے ہلکی پھلکی جوابی کارروائی کی لیکن وہ بلاول بھٹو کی جانب سے استعمال کیے جانے والے زبانی توپخانے کے حملوں کے مقابلے میں محض چھروں والی بندوق سے جواب دینے کے مترادف تھی۔
شاہ جی سے پوچھا کہ شاہ جی! یہ کیا معاملہ آن پڑا ہے ؟ تو شاہ جی کہنے لگے کہ مفاد پرستوں کی آخری جنگ ان کی باہمی جنگ ہوتی ہے۔ جب تک مفادات میں مرضی کا حصہ ملتا رہے‘ معاملات ٹھیک رہتے ہیں تاہم جیسے ہی لوٹ مار کے مال میں تقسیم کا جھگڑا کھڑا ہو جائے اور کسی فریق کو یہ احساس ہو کہ اس کے ساتھ زیادتی کی جا رہی ہے‘ اس کو اس کا جائز حصہ نہیں دیا جا رہا تو پھر اُن میں باہمی جنگ شروع ہو جاتی ہے۔ یہ جنگ بھی اسی قسم کی ہے جو زیادہ دنوں تک چلتی دکھائی نہیں دے رہی کیونکہ پیپلز پارٹی بھی ان ساری چیزوں میں حصے دار‘ شریکِ کار اور بینی فشری ہے۔ جن انتخابی نتائج کو بنیاد بناتے ہوئے بلاول بھٹو مسلم لیگ(ن) پر اعتراضات کے گولے برسا رہے ہیں‘ اسی انتخابی دھاندلی‘ جو میں نہیں کہہ رہا‘ میں تو محض بلاول بھٹو صاحب کے الزامات دہرا رہا ہوں۔ میری کیا مجال کہ میں پاکستان کے انتخابی معاملات پر‘ دھاندلی پر‘ الیکشن کمیشن کی غلط بخشیوں پر یا عدلیہ کی آنکھ بند کرنے کی پالیسی پر کچھ اعتراض کروں۔ میں تو صرف وہ بات کہہ رہا ہوں جو بلاول بھٹو نے آزاد جموں و کشمیر کے حالیہ انتخابات کے پہلے مرحلے کے نتائج آنے کے بعد کہنا شروع کی۔ بلاول بھٹو نے ہر دو انتخابات کے نتائج کو الزامات کی باڑ پر رکھتے ہوئے سارے موجودہ حکومتی نظام کو انتخابی دھاندلی اور فارم 47کی پیداوارقرار دیا۔ انہوں نے جس قومی اسمبلی میں (ن) لیگ کی اکثریت کو‘ مینڈیٹ کو‘ نتائج کو‘ ارکان اسمبلی کی اخلاقی حیثیت کو‘ ووٹ کی عزت کو‘ غرض ہر چیز کو فراڈ اور فریب قرار دیا‘ مسلم لیگ (ن) کے بعد وہ خود اسی اسمبلی سے مستفید ہونے والے دوسرے بڑے فریق ہیں۔ میں نے بھولا بن کر شاہ جی سے پوچھا کہ پیپلز پارٹی کے پاس مرکز میں نہ وزارتیں ہیں‘ نہ مشاورتیں ہیں‘ نہ ہی پنجاب میں ان کی کوئی دال گل رہی ہے‘ آپ کے سامنے ہے کہ ملتان میں تین ایم این اے اور ایک ایم پی اے کے ساتھ یوسف رضا گیلانی کے چاروں برخوردار آدھے ملتان کو لپیٹے ہوئے ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ملتان کے کسی تھانے میں ان کی مرضی کا ایس ایچ او لگنا تو رہا ایک طرف‘ پٹواری بھی ان کی مرضی کا نہیں لگ رہا‘ اور آپ انہیں اقتدار میں حصے دار قرار دے رہے ہیں۔ شاہ جی ہنسے پھر کہنے لگے اب مجھے نہیں سمجھ آ رہی کہ تم یہ بات کھچرے پن میں کر رہے ہو یا تم واقعتاً عقل سے فارغ ہو۔ اللہ کے بندے اسی جعلی مینڈیٹ (میں پھر وضاحت کر دوں‘ یہ میں نہیں کہہ رہا‘ میں تو صرف بلاول بھٹو صاحب کے بیانات اور خیالات کو از سر نو بیان کر رہا ہوں کہ یہ جو فارم 47 کی پیداوار اسمبلی ہے) کے طفیل بلاول کے والد بزرگوار صدرِ مملکت ہیں‘ سید یوسف رضا گیلانی چیئرمین سینیٹ ہیں‘ سردار سلیم حیدر خان پنجاب کے اور فیصل کریم کنڈی خیبر پختونخوا کے گورنر ہیں۔ بلوچستان کی حکومت بھی انہی کی جانب سے عطا کردہ ہے جنہیں وہ فارم 47 کا مدارالمہام سمجھتے ہیں‘ لیکن اس کے باوجود وہ خود کو اس سارے جعلی سیٹ اَپ سے مستفید ہونے والے کے بجائے متاثرہ فریق قرار دے رہے ہیں۔
ابھی بلاول بھٹو کے بیانات کو مہینہ بھی پورا نہیں ہوا تھا کہ اس مصنوعی نظام سے بہرہ مند ہونے والوں کو اپنی باہمی لڑائی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال کا ادراک ہوا اور مفاہمت کے بادشاہ آصف علی زرداری نے اپنے برخوردار کی شعلہ فشاں پرفارمنس پر پانی ڈالتے ہوئے صلح کا جھنڈا لہرا کر 'سیزفائر‘ کا اعلان کر دیا۔ پیپلز پارٹی نے حلقہ این اے 168 کی اقبال چنڑ کی وفات کے باعث خالی ہونے والی قومی اسمبلی کی نشست پر ہونے والے ضمنی انتخاب میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کی حمایت کا اعلان کر دیا۔ سید یوسف رضا گیلانی کے فرزند ارجمند اور رکن صوبائی اسمبلی علی حیدر نے مورخہ 29 اگست کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر‘ جذبۂ خیرسگالی اور اتحادی سیاست کے تحت وہ بہاولپور کی اس نشست پر مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کی حمایت کا اعلان کر رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے کارکنوں کو کہا کہ وہ شیر کے نشان کو تیر کا نشان سمجھ کر ووٹ دیں۔ صرف چھبیس دن میں اس نظام سے مستفید ہونے والوں کو باہمی لڑائی کے عواقب کا اندازہ ہوا تو ساری اکڑ فوں رخصت ہو گئی۔ بیوقوف کارکنوں کو یہ بات کبھی سمجھ نہیں آئے گی کہ مفاد پرستوں کی لڑائی اور صلح کے درمیان کوئی اخلاقی یا اصولی حد نہیں ہوتی۔ حالانکہ اس صورتحال کا بچپن میں سنی گئی کہانی سے کوئی تعلق نہیں‘ تاہم پھر بھی اللہ جانے مجھے علی بابا اور چالیس چوروں کا خیال کیوں آ گیا ۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved