''روڈ پر کوئی حادثہ ہو‘ ہسپتال میں کوئی حادثہ ہو یا کسی فیکٹری میں‘ اس ملک میں غریب کا بچہ ہی کیوں مرتا ہے؟‘‘ صحافی نے گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر سے یہ سوال کیا تو جواب ملا ''یہ تو آپ کوخدا سے ہی پوچھنا پڑے گا کہ غریب ہی کیوں مرتا ہے‘‘۔ یہ جواب سُن کر شاید چند لمحوں کیلئے خاموشی چھا گئی ہو گی مگر اس ایک جملے نے پاکستان کے سیاسی‘ انتظامی اور سماجی نظام کے بارے میں اتنے سوالات پیدا کر دیے ہیں کہ ان کا جواب ایک جملے میں ممکن نہیں۔ سوال غریب کے مرنے کا تھا لیکن جواب تقدیر کے کھاتے میں ڈال دیا گیا۔ سوال ریاستی ذمہ داری کا تھا لیکن انگلی آسمان کی طرف اٹھا دی گئی۔ سوال یہ تھا کہ سڑک پر حادثہ کیوں ہوتا ہے‘ ہسپتال میں مریض کیوں مرتا ہے اور فیکٹری میں مزدور کیوں جان سے جاتا ہے‘ ریاست اپنے شہریوں کی جان ومال کی حفاظت کیوں نہیں کرتی‘ مگر جواب یہ ملا کہ غریب ہی کیوں مرتا ہے‘ اس کے بارے خدا سے پوچھیں۔
موت یقینا اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے مگر حادثات کے انسداد کے اسباب پیدا کرنا‘ ناقص سڑکوں کی تعمیر ومرمت‘ حفاظتی قوانین پر عمل درآمد‘ ہسپتالوں کی نگرانی‘ فیکٹریوں میں حفاظتی انتظامات یقینی بنانا اور شہریوں کی جان ومال کا تحفظ کرنا ریاست اور حکومت کی ذمہ داری ہے۔ تقدیر کا حوالہ دے کر انسانی ذمہ داری سے فرار اختیار نہیں کیا جا سکتا۔ یہاں اصل مسئلہ کسی سیاستدان کی ذات نہیں بلکہ اس سیاسی ذہنیت کا ہے جو ہر اس سوال سے فرار کا راستہ تلاش کرتی ہے جس کا جواب اسے اپنے عمل‘ اپنی پالیسی اور اپنی حکومت سے دینا چاہیے۔
پاکستانی سیاست میں صحافیوں کے تیکھے سوالات پر سیاستدانوں کے ایسے جوابات کی ایک طویل فہرست موجود ہے جنہیں عوام نے کبھی کم علمی‘ کبھی غیر سنجیدگی اور کبھی مضحکہ خیز منطق کے طور پر لیا۔ مسئلہ یہ نہیں کہ سیاستدان سے کبھی غلط جملہ سرزد ہو گیا‘ بلکہ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ایک غیر ذمہ دارانہ جواب کسی بڑے قومی مسئلے کے مقابلے میں پیش کیا جائے۔ ایک زمانے میں بلوچستان کے سابق وزیراعلیٰ نواب اسلم رئیسانی کی ڈگری کے حوالے سے سوال اٹھا۔ صحافیوں کے سوال پر انہوں نے کہا ''ڈگری ڈگری ہوتی ہے‘ اصلی ہو یا جعلی‘‘۔ یہ جملہ اتنا مشہور ہوا کہ پاکستان کے سیاسی محاوروں کا حصہ بن گیا۔ بعد ازاں اسلم رئیسانی نے اس بیان پر معذرت بھی کی۔ اسلم رئیسانی کے سیاسی سفر میں ''نو کمنٹس‘‘ بھی ایک یادگار واقعہ بن گیا۔ ایک میڈیا ٹاک میں صحافیوں نے ان سے متعدد سوالات کیے‘ انہوں نے صحافیوں کو سوالات کرنے کا موقع دیا اور جب سوالات مکمل ہوئے تو مختصر سا جواب دیا ''نو کمنٹس‘‘ اور وہاں سے روانہ ہو گئے۔ سیاستدان اگر کسی سوال کا جواب نہیں جانتا تو یہ اعتراف قابلِ احترام ہے کہ ''مجھے اس کا علم نہیں‘‘ لیکن جب جواب کے بجائے مذاق‘ تاویل یا خاموشی کو ڈھال بنا لیا جائے تو سوال اپنی جگہ موجود رہتا ہے اور عوام کا اعتماد کم ہوتا جاتا ہے۔ ان جاہلانہ‘ غیر سنجیدہ اور عجیب وغریب جوابات کے لکھنے کے لیے تو شاید ایک دفتر درکار ہو۔ بقول میرؔ:
ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا
آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا
اور غالبؔ نے شاید ایسے ہی مواقع کے لیے کہا تھا:
حیراں ہوں دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں
مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں
ہمارے سیاسی مزاح کا ایک اور دلچسپ واقعہ لاہور کی بلدیاتی تاریخ سے منسوب ہے۔ چودھری محمد حسین نے ایک تقریب میں سپاس نامہ پڑھتے ہوئے ایسی غلطیاں کیں کہ ایک سنجیدہ سرکاری تقریب مزاحیہ منظر پیش کرنے لگی۔ ''ملکہ معظمہ‘‘ کو ''مکہ معظمہ‘‘ اور ''آپ کی معیت میں‘‘ کو ''آپ کی میت میں‘‘ پڑھنے اور ''دو اکتوبر‘‘ کو ''بارہ کبوتر‘‘ پڑھنے کا واقعہ عرصے تک سیاسی لطیفوں میں دہرایا جاتا رہا۔ یہ صرف تلفظ کی غلطی نہیں تھی اصل مزاح اس بات میں تھا کہ ایک باقاعدہ لکھی ہوئی تحریر سامنے موجود تھی اور پھر بھی الفاظ نے ایسی کروٹیں لیں۔ ہمارے سیاستدانوں اور وزیروں کا حال کبھی کبھی اس سے بھی برا دکھائی دیتا ہے۔ آئے روز کوئی نہ کوئی ایسی حرکت سرزد ہو جاتی ہے جو پہلے تو سوشل میڈیا پر قہقہے بکھیرتی ہے‘ پھر آدمی کو سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے کہ جن لوگوں کے ہاتھ میں ملک کے فیصلے ہیں وہ ان فیصلوں کے نتائج پر کبھی غور بھی کرتے ہیں یا نہیں۔ شہباز شریف کا ایک بیان بھی پاکستانی سیاسی گفتگو میں بہت مشہور ہوا۔ مئی 2022ء میں بشام کے ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر خیبر پختونخوا کے عوام کو سستا آٹا فراہم نہ کیا گیا تو وہ اپنے کپڑے بیچ کر سستا آٹا فراہم کریں گے۔ یہ جملہ بظاہر عوامی ہمدردی اور جذباتی وابستگی کا اظہار تھا‘ مگر سوال یہ ہے کہ ریاستی پالیسی کیا جذباتی نعروں سے بنتی ہے؟ غریب کو سستا آٹا چاہیے تو اس کے لیے ایک پائیدار معاشی نظام چاہیے‘ مؤثر نگرانی چاہیے‘ ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کا خاتمہ چاہیے اور ایسی حکمت عملی چاہیے جس سے عام آدمی کی قوتِ خرید بحال ہو۔ کپڑے بیچنے کا وعدہ سیاسی تقریر کو ضرور گرم کر سکتا ہے مگر معیشت کو نہیں۔
اسی طرح 'منجی تھلے ڈانگ پھیرنے‘ والا جملہ بھی شہباز شریف سے منسوب ہو کر سیاسی مزاح کا حصہ رہا ہے۔ اس نوعیت کے جملے عوام کو وقتی طور پر محظوظ کرتے ہیں مگر اقتدار کی زبان اگر مسلسل محاوروں‘ نعروں اور سیاسی جگتوں میں تبدیل ہو جائے تو سنجیدہ قومی مسائل پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ پاکستانی عوام کو لطیفے نہیں جواب چاہئیں۔ بدقسمتی سے ہمارے حکمران بھی ہمیں اس طرح کے جواب اور مشورے دے کر ہمارے زخموں پر نمک چھڑکتے آئے ہیں‘ لیکن اب عوام خاموش رہنے والے نہیں‘ انہیں یہ جاننا ہے کہ سڑک پر حادثہ کیوں ہوا‘ ہسپتال میں مریض کیوں مرا‘ فیکٹری میں مزدوروں کے لیے حفاظتی انتظامات کیوں نہیں تھے‘ مہنگائی کیوں بڑھی‘ روزگار کیوں کم ہوا‘ بجلی کیوں مہنگی ہوئی اور تعلیم وصحت جیسی بنیادی سہولتیں عام آدمی کی پہنچ سے کیوں دور ہو گئی ہیں۔
اگر حکومت ان سوالات کا جواب نہیں دے سکتی تو کم از کم یہ تو تسلیم کرے کہ مسائل موجود ہیں۔ غریب کا بچہ اگر ہر حادثے میں مرتا رہے اور حکمران ہر بار کہیں کہ ''یہ تو خدا سے پوچھنا پڑے گا‘‘ تو مسئلہ صرف حادثوں کا نہیں رہتا‘ پھر مسئلہ حکمرانوں کی جہالت‘ غیر سنجیدگی اور ذمہ داری سے فرار کا بن جاتا ہے۔ اور جب جہالت اقتدار کی کرسی پر بیٹھ جائے تو اس کی قیمت صرف ایک شخص نہیں دیتا‘بلکہ پوری قوم ادا کرتی ہے۔ عام آدمی سیاستدان کی ایک غلطی پر صرف ہنستا نہیں‘ اس کے نتائج بھی بھگتتا ہے۔ وہ غلط پالیسی کی صورت میں مہنگائی کا سیلاب دیتا ہے‘ غلط منصوبہ بندی کی صورت میں بے روزگاری کا عذاب دیتا ہے‘ ناقص انتظام کی صورت میں حادثات ہوتے ہیں۔ حکمرانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہر سوال کا جواب جگت‘ لطیفے‘ بہانے یا تقدیر کے حوالے سے نہ دیں‘ کیونکہ اقتدار صرف اختیار کا نام نہیں‘ جوابدہی کا نام بھی ہے۔ قوم جب سوال کرتی ہے تو اسے خدا سے نہیں‘ حکمرانوں سے جواب چاہیے۔ اور شاید یہی وہ بنیادی فرق ہے جو ایک ذمہ دار ریاست اور ایک بے حس نظام کے درمیان لکیر کھینچتا ہے۔اور ہمارا موجودہ ریاستی اور سیاسی نظام اس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved