تحریر : کنور دلشاد تاریخ اشاعت     05-09-2026

مستقبل کے سیاسی چیلنجز اور نئی انتظامی تشکیل

ملکی معیشت اس وقت اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے۔ اگلے تین سال تک بیرونی قرضوں کی ادائیگی کیلئے ہر سال تقریباً 19 ارب ڈالر درکار ہیں۔ تجارتی خسارہ اس کے علاوہ ہے‘ یعنی ہر سال کم از کم 25 ارب ڈالر کی ضرورت ہو گی جو قرضوں وغیرہ سے پوری کی جائے گی۔ یہ ہے وہ ترقی جو ہمارے موجودہ اور سابقہ حکمرانوں نے گزشتہ برسوں میں کی ہے۔ دوسری جانب ذاتی استعمال کیلئے 11 ارب روپے کا پُرتعیش جہاز خریدا گیا اور بقول رانا ثناء اللہ‘ سندھ کے بجٹ کا پیسہ دبئی منتقل کر کے سندھ اور کراچی کو کھنڈرات میں بدل دیا گیا۔ بدلتے عالمی حالات کے تناظر میں غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ مستقبل کی سیاست کے تقاضے بہت حد تک تبدیل ہو جائیں گے۔ اب معیشت‘ ٹیکنالوجی‘ نوجوان نسل‘ سوشل میڈیا‘ مصنوعی ذہانت‘ موسمیاتی تبدیلیاں اور عالمی تعلقات سیاسی فیصلوں پر گہرا اثر ڈالیں گے۔ پاکستان کیلئے آنے والے برسوں میں سیاسی استحکام اور مضبوط جمہوری اداروں کی ضروریات پہلے سے زیادہ اہم ہوں گی۔ ملک میں گورننس کے حالات کو بہتر کرنے کیلئے بے رحمانہ احتساب کا امکان بھی نظر آ رہا ہے تاکہ عوام اور اشرافیہ میں جو خلیج حائل ہے وہ کم ہو‘ ریاست پر اعتماد بڑھے اور حکومتوں کی کارکردگی گڈ گورننس میں تبدیل ہو جائے۔
حکومتوں کی تبدیلی‘ سیاسی کشمکش اور اداروں کے مابین اختلافات نے ہمیشہ قومی ترقی کے سفر میں رخنہ ڈالا ہے۔ اب سیاسی جماعتوں کو یہ سوچنا ہو گا کہ مسلسل محاذ آرائی کے اس گرداب میں الجھے رہنا ہے یا قومی مسائل پر اتفاقِ رائے پیدا کرنا ہے۔ ہمارے ہاں سیاسی اختلافات کو ذاتی دشمنی میں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ مستقبل میں ایک اہم ضرورت اس امر کی ہو گی کہ تمام سیاسی جماعتیں آئین‘ پارلیمنٹ اور جمہوری عمل کو مضبوط بنانے کیلئے مشترکہ اصول طے کریں‘ اقتدار کی منتقلی آئینی اور پُرامن طریقے سے ہو اور سیاسی اختلافات پارلیمانی اور عدالتی فورمز پر حل ہوں۔
آنے والے وقت میں انتخابی نظام میں ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھ سکتا ہے اور انتخابی فہرستوں‘ ووٹروں کی شناخت‘ نتائج کی ترسیل اور انتخابی نگرانی کے نظام کو جدید بنانے کی ضرورت ہو گی۔ الیکٹرانک ووٹنگ مشین اور ڈیجیٹل نظام مستقبل میں بحث کا اہم موضوع رہیں گے تاہم ان کے استعمال میں شفافیت‘ سکیورٹی‘ قابلِ اعتماد آڈٹ اور سیاسی اتفاقِ رائے ضروری ہو گا۔ پاکستان کی آبادی میں نوجوانوں کا تناسب زیادہ ہے اور ان کی طاقت کو اب نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ وزیر داخلہ محسن نقوی واضح کہہ چکے ہیں کہ مستقبل کی سیاست میں نوجوان فیصلہ کن کردار ادا کریں گے۔ نوجوان روایتی سیاسی نعروں کی بجائے تعلیم‘ روزگار‘ کاروباری مواقع‘ ٹیکنالوجی اور بہتر مستقبل چاہتے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کو نوجوانوں کو صرف جلسوں اور انتخابی مہمات تک محدود رکھنے کے بجائے انہیں فیصلہ سازی اور قیادت میں حقیقی مواقع دینا ہوں گے۔موجودہ قیادت کو یہ بھی ادراک ہونا چاہیے کہ سوشل میڈیا مستقبل کی سیاست کا ایک طاقتور ذریعہ بن سکتا ہے۔ تاہم اس کے ساتھ ایک بڑا خطرہ جھوٹی خبریں‘ افواہیں‘ جعلی مواد اور سیاسی اشتعال انگیزی ہے۔ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے جعلی تصاویر‘ وڈیوز اور آوازیں بنانا مزید آسان ہو گا‘ لہٰذا سیاسی جماعتوں‘ میڈیا اور عوام کو معلومات کی تصدیق کی عادت اپنانا ہو گی۔ خطرے کی گھنٹی بج چکی ہے‘ مصنوعی ذہانت مستقبل میں حکومتی نظام کیلئے بڑا خطرہ ثابت ہو سکتی ہے۔ اس کے استعمال کو شفاف اور ذمہ دارانہ بنانے کے اقدامات ضروری ہیں۔ شہریوں کے ذاتی ڈیٹا‘ رازداری اور بنیادی حقوق کا تحفظ بھی مستقبل کی اہم سیاسی بحث کا حصہ بنتا نظر آ رہا ہے۔ اس کے علاوہ معیشت‘ مہنگائی‘ بیروزگاری‘ توانائی‘ قرضے‘ ٹیکسوں کی اصلاحات اور برآمدات میں اضافہ جیسے مسائل‘ جو براہ راست عوام کی زندگی کو متاثر کرتے ہیں‘ ان کا پائیدار اور ٹھوس حل بھی ناگزیر ہے۔ عوام اب سیاسی جماعتوں سے صرف وعدے نہیں بلکہ قابلِ عمل معاشی منصوبے مانگتے ہیں۔ جس سیاسی جماعت کے پاس روزگار پیدا کرنے‘ سرمایہ کاری بڑھانے‘ برآمدات میں اضافہ کرنے اور مہنگائی کو قابو کرنے کی قابلِ اعتماد حکمت عملی ہو گی‘ اسے ہی عوامی حمایت حاصل کرنے میں کامیابی مل سکے گی۔ عالمی حالات بھی ملکی سیاست پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کو چین‘ امریکہ‘ یورپ‘ خلیجی ممالک‘ وسطی ایشیا اور پڑوسی ممالک کے ساتھ متوازن تعلقات کی ضرورت ہے۔ خارجہ پالیسی میں سیاسی نعروں کے بجائے معاشی سفارتکاری‘ تجارت‘ سرمایہ کاری‘ علاقائی راہداریوں اور قومی سلامتی کو اہمیت دی جانی چاہیے۔ حاصلِ کلام یہ ہے کہ ملکی سیاست ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے۔ایسے میں سیاسی جماعتوں کیلئے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ عوام کا اعتماد بحال کریں‘ اداروں کو مضبوط کریں اور ذاتی و جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر قومی مسائل کا حل تلاش کریں۔ مضبوط ادارے‘ باخبر عوام‘ شفاف انتخابات‘ بہتر معیشت اور قومی مفاد کی ترجیح؛ یہی مستقبل کی کامیاب سیاست کے بنیادی ستون ہوں گے۔
سیاسی نظام میں مضبوط بلدیاتی ادارے ناگزیر ہیں۔ عوام کے روزمرہ مسائل مثلاً صاف پانی‘ صفائی‘ سڑکیں‘ صحت اور تعلیم وغیرہ مقامی حکومتوں کے ذریعے زیادہ مؤثر انداز میں حل کیے جا سکتے ہیں۔ اگر اختیارات اور مالی وسائل نچلی سطح تک منتقل کیے جائیں تو عوام اور حکومتوں کے درمیان فاصلہ کم ہو سکتا ہے۔ اس سے جمہوریت بھی مضبوط ہو گی اور سیاسی شمولیت میں بھی اضافہ ہو گا۔ اس وقت ملک میں مستقبل کے انتظامی ڈھانچے پر بحث جاری ہے۔ بڑے صوبوں کے بہتر انتظام کیلئے چھوٹے صوبوں میں تقسیم کی تجاویز سامنے آ رہی ہیں۔ایسی تبدیلیاں انتظامی ضرورت‘ عوامی رائے‘ معاشی امکانات اور آئینی طریقہ کار کے مطابق ہونی چاہئیں۔اگر سیاسی تاریخ کا مطالعہ کریں تو نئے صوبوں کی تجاویز وقتاً فوقتاً سامنے آتی رہی ہیں۔ پنجاب کے جنوبی علاقوں کیلئے جنوبی پنجاب یا سرائیکی صوبہ‘ بہاولپور کی صوبائی حیثیت کی بحالی اور کے پی میں ہزارہ صوبے کا مطالبہ دہائیوں سے علاقائی سیاست کے موضوع ہیں‘ تاہم صرف لسانی یا سیاسی بنیادوں کو صوبوں کی تقسیم کا معیار نہیں بنانا چاہیے۔ بہتر طریقہ یہ ہے کہ آبادی‘ جغرافیہ‘ انتظامی سہولت‘ معاشی استعداد‘ قدرتی وسائل‘ مواصلاتی رابطوں اور عوامی خواہشات کو سامنے رکھ کر فیصلہ کیا جائے۔ ایک قابلِ غور تصور یہ ہے کہ موجودہ چار کے بجائے آٹھ یا دس بڑے انتظامی یونٹس بنادیئے جائیں اور اسلام آباد کو موجودہ آئینی حیثیت کے مطابق وفاقی دارالحکومت رکھا جائے۔ اس حوالے سے پارلیمنٹ کی نگرانی میں قومی کمیشن تشکیل دیا جا سکتا ہے۔
نئے صوبوں کے قیام کا مقصد قومی یکجہتی کو کمزور کرنا نہیں بلکہ اسے مزید مضبوط بنانا ہونا چاہیے۔ پاکستان میں مختلف زبانیں‘ ثقافتیں اور علاقائی شناختیں موجود ہیں‘ لہٰذا لسانی یا نسلی کے بجائے انتظامی اور معاشی پہلو کو سامنے رکھ کر حدود کا تعین ہونا چاہیے۔ نئے صوبوں کے قیام سے قبل ہر صوبے کی اسمبلی‘ سیکرٹریٹ اور دیگر اداروں‘ ان کی مالی استعداد اور آمدنی کے ذرائع کا بھی جامع جائزہ لینا ہوگا۔ نئے صوبوں کے ساتھ وفاقی نظام کو بھی بہتر بنانے کی بھی ضرورت ہے۔ قومی مالیاتی کمیشن‘ وسائل کی تقسیم‘ پانی‘ بجلی‘ قدرتی گیس اور دیگر قومی وسائل کے معاملات میں واضح اور شفاف اصول ضروری ہیں۔ صرف صوبوں کی تعداد بڑھانے سے عوامی مسائل حل نہیں ہو سکتے‘ اختیارات کو صوبے سے ڈویژن‘ ضلع اور مقامی حکومت تک منتقل کرنا ضروری ہے۔ جدید پاکستان کیلئے مستقبل کا انتظامی ماڈل تین سطحوں پر مبنی ہو سکتا ہے؛ وفاق‘ صوبے اور مضبوط مقامی حکومتیں۔ اگر یہ اصلاحات سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر آئینی اور جمہوری طریقے سے نافذ ہو جائیں تو نئی انتظامی تقسیم گورننس‘ کارکردگی‘ معاشی ترقی اور قومی یکجہتی کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ تاہم نئے صوبوں کے حوالے سے سندھ حکومت کے مؤقف سے ملک کو ایک نئے بحران کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved