تحریر : ایاز امیر تاریخ اشاعت     06-09-2026

ذکر کس پری وش کا چھِڑ گیا

کینیڈا میں مقیم ہمارے دوست مسرت صاحب نایاب قسم کے گانے بھیجتے رہتے ہیں۔ چند روز ہوئے ایک لوک گیت بھیجا جسے گایا ہے اپنے زمانے کے مشہور ایکٹر اور سنگر سُرندر اور ایک خاتون جس کا نام پہلی بار سنا‘ وحیدن بائی۔ گانا لگایا تو وحیدن کی آواز نے یوں سمجھیے مدہوش کر دیا۔ کیا گہرائی میں جانے والی آواز اور کتنی اونچی تان۔ گانا دو تین بار سنا اور پھر وحیدن کے بارے میں کچھ جاننے کیلئے انٹرنیٹ کی مدد لی۔ معلوم ہوا کہ آگرہ کے قریب فتح آباد میں پیدا ہونے والی وحیدن اپنے وقت کی مشہور ایکٹر اور گلوکارہ تھیں۔ بعد میں اُن کی بیٹی نواب بانو عرف نِمی نے فلموں میں بہت نام کمایا۔ وحیدن کی دوسری شادی عبدالحکیم سے ہوئی اور نِمی اسی شادی سے پیدا ہوئی۔
دلچسپ بات البتہ یہ ہے کہ وحیدن کی پہلی شادی ایک علی سکندر سے ہوئی جسے دنیا جگر مراد آبادی کے نام سے یاد کرتی ہے۔ جگر کے دو شعر ملاحظہ ہوں:
اک لفظِ محبت کا ادنیٰ یہ فسانہ ہے
سمٹے تو دلِ عاشق پھیلے تو زمانہ ہے
اور دوسرا:
ہم کو مٹا سکے یہ زمانے میں دم نہیں
ہم سے زمانہ خود ہے زمانے سے ہم نہیں
یہ تھے علی سکندر جن سے وحیدن کی شادی ہوئی۔ لیکن شادی چل نہ سکی۔ ایک تو گھر میں عبدالحکیم کا آنا جانا کچھ زیادہ تھا اور علی سکندر کے دل میں کچھ شک پیدا ہونے لگا۔ گھر چھوڑ کے چلے گئے اور کوئی چھ ماہ ادھر اُدھر پھرتے رہے۔ اس دوران شادی گئی اور عبدالحکیم جو ایک ٹھیکیدارکے بیٹے تھے اُن سے بیاہ ہو گیا۔
وحیدن کے کچھ گانے انٹرنیٹ پر ملتے ہیں اور ان میں چند بہت ہی عمدہ ہیں۔ لیکن مقصد اُن کی گائیکی پر کوئی مقالہ لکھنا نہیں۔ بس اُن کے بارے میں کچھ جانا اور خیال پھر اُس زمانے کی طرف گیا جب آگرہ جیسے شہر مسلم تہذیب کا گہوارا ہوا کرتے تھے۔ یوپی کے کتنے ہی شہر ہیں جن کی نسبت کسی شاعر سے بنتی ہے: جوش ملیح آبادی‘ مجروح سلطان پوری‘ خمار بارہ بنکوی وغیرہ وغیرہ۔ اختری بائی گانے والی تھیں اور فیض آباد کا نام اُنہوں نے مشہور کیا۔ جس لفظ اشرافیہ کو ہمارے ہاں کوٹ کوٹ کے پیسا جاتا ہے یوپی کی اشرافیہ زیادہ تر مسلمان گھرانوں پر مشتمل تھی۔ وہاں کے رئیس اور زمیندار‘ مشاعروں میں جانے والے اور کوٹھوں کی سیڑھیاں چڑھنے والے‘ یہی لوگ تھے۔ مسلمان بادشاہتوں سے گہرا تعلق رہا تھا اور اسی رشتے سے بڑی بڑی زمینوں کے مالک بنے۔ جب جمہوری طرزِ حکمرانی کی پہلی اور کچی بنیادیں انگریزوں کے ہاتھوں ڈولنے لگیں تو پتا نہیں کون سا ڈر اور وہم ان جاگیرداروں کے دلوں میں بیٹھنے لگا۔ کہ ہر فرد کا ووٹ ہوا تو ہندو اکثریت کا راج ہو گا اور پتا نہیں ہمارے ساتھ کیا ہو جائے گا۔ تصورِ پاکستان کی سوچ یہاں سے شروع ہوئی تھی اور پھر زور پکڑتے ایک ایسی تحریک بنی جو تقسیمِ ہند پہ جا کے ختم ہوئی۔
یہ سوال بھی ذہن میں اُٹھتا ہے کہ دونوں اطراف ہجرت تو بہت وسیع پیمانے پر ہوئی‘ یہاں سے وہاں اور وہاں سے اس طرف‘ لیکن کیا وجہ تھی کہ یوسف خان عرف دلیپ کمار اور محمد رفیع جیسے لوگ جن کا تعلق خالصتاً اِن علاقوں سے تھا‘ یہاں نہ آئے؟ دلیپ کمار پشاور کے پٹھان لیکن وہاں ٹھہرنا اُنہوں نے پسند کیا۔ ایک لحاظ سے ٹھیک ہی کیا‘ شہرت جو وہاں ملی یہاں کہاں نصیب ہونی تھی۔ ثریا جمال شیخ گوجرانوالہ کی تھیں‘ شمشاد بیگم اور شیاما باغبان پورہ کی تھیں۔ وہ وہیں ٹِک گئیں۔ سعادت حسن منٹو یہاں آئے اور پچھتاتے ہی رہے۔
کچھ ایسے تھے جنہوں نے ارادہ تو یہاں ٹھہرنے کا کیا لیکن یہاں کے حالات دیکھ کر ارادے پر قائم نہ رہ سکے۔ جسے دنیا ساحر لدھیانوی کے نام سے یاد کرتی ہے تقسیم کے بعد تقریباً ایک سال لاہور میں رہے اور پھر ہندوستان چلے گئے۔ یہاں رہتے تو یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ خوار ہی ہوتے۔ شہرت کی بلندیوں پر پہنچے ایک تو اپنی شاعری کے بل بوتے پر اور پھر وہاں کی دنیا ذرا وسیع تھی‘ بمبئی میں مواقع زیادہ تھے۔ حیرانی ہوتی ہے یہ جان کر کہ عہد ساز ناول نگار قراۃ العین یہاں رہنے کے ارادے سے آئی تھیں لیکن جلد ہی فیصلہ بدل لیا اور میں نے کہیں پڑھا تھا کہ وزیراعظم جواہر لال نہرو نے خود اُن کی انڈین شہریت کا حکم دیا تھا۔ استاد بڑے غلام علی خان یہیں کے تھے۔ ریڈیو پاکستان سے منسلک رہے۔ کہتے ہیں کہ ریڈیو پاکستان کے تب کے سربراہ زیڈ اے بخاری کا رویہ اُن کے ساتھ کچھ اچھا نہ تھا۔ خان صاحب پھر ہندوستان چلے گئے اور وہیں کے ہو کے رہ گئے۔ بمبئی میں رہنے کیلئے باقاعدہ کوٹھی دی گئی۔ یہاں کس نے پوچھنا تھا۔
جوش صاحب کی کہانی دلچسپ ہے۔ اچھا بھلا اُن کا مقام ہندوستان میں تھا۔ پورا ہندوستان عزت کرتا تھا۔ پنڈت جواہر لال نہرو سے ذاتی دوستی تھی۔ پنڈت نہرو کہتے رہے کہ مت جاؤ لیکن ایک نقوی صاحب کمشنر کراچی تھے‘ اُنہوں نے کہہ رکھا تھا کہ کراچی آئیں گے تو جائیدادوں سے نوازے جائیں گے۔ جوش صاحب کی قسمت ہاری اور نقوی کی باتوں میں آ گئے۔ کراچی آئے تو دفتروں کے چکر لگنے لگے۔ کبھی کسی باغ کا کہا جاتا کبھی کسی اور جائیدادکا۔ 'یادوں کی بارات‘ میں خود بتاتے ہیں کہ کیسے رسوا ہوئے۔ کتاب ویسے پڑھنے والی ہے‘ ایک دفعہ انسان شروع کرے تو پڑھتا ہی جائے۔ بعد میں کچھ فارم ہاؤس وغیرہ اسلام آباد میں الاٹ ہوا۔
ملک بنا تو کوشش ہوتی کہ شاندار ملک بنتا۔ بھائی چارے اور باہمی اعتماد کی فضا کو روا رکھا جاتا۔ لیکن تصورِ جمہوریت سے یہاں کوئی خاص قسم کی نفرت تھی۔ شاید یہی وجہ تھی کہ شروع دن سے ہی الٹے کام ہونے لگے۔ جو حکمران طبقہ بنا انگریزوں کے کاسہ لیس تھے۔ وہاں سے امریکہ کے کاسہ لیس بن گئے۔ تاریخِ پاکستان پڑھیں تو دل میں ملال اُٹھتا رہتا ہے کہ کیسے حکمران اس ملک کو نصیب ہوئے۔ کیا اُن کی سوچ تھی کیا ترجیحات۔ اور اس چکر سے ہم کبھی نکل نہ سکے۔ وہی کہانی جو شروع کے برسوں میں لکھی گئی وہ ہی دہرائی جاتی رہی۔ چین میں انقلاب سے جو سو سال پہلے تھے‘ اُس صدی کو 'بے عزتی کی صدی‘ کہا جاتا ہے۔ وہ سو سال ایسے تھے جن میں فرنگیوں نے چینی قوم کو ایڑھیوں تلے روندا اور بے عزت کیا۔ ہماری تاریخ کیا رہی ہے؟ انگریز کی جنگیں ہندو اور مسلم قوموں نے مل کر لڑیں۔ سکھ بھی اس کارِخیر میں شامل تھے۔ چند ہزار گورے دیسی لوگوں کی معاونت سے اتنے بڑے خطۂ ارض پر حکومت کرتے رہے۔ چینی قوم کو اپنی تذلیل یاد ہے۔ یہاں جو ہماری قوموں کے ساتھ ہوا اُسکا احساس تک نہیں ہے۔
انگریز کے ہاتھوں صرف یہاں کی قومیں بے عزت نہیں ہوئیں۔ پورے مشرقِ وسطیٰ کو دیکھ لیں‘ کون سا ملک ہے جو رسوائی کے سامان سے بچا رہا۔ اُردن کوئی ملک نہیں تھا‘ اُس کا نقشہ انگریزوں نے کھینچا اور وہاں ایک بادشاہ بٹھا دیا۔ عراق پر ایک اور بادشاہ بٹھایا اور وہاں کے تیل پر انگریزوں نے قبضہ کیا۔ انقلاب کی وجہ سے ایرانی قوم کا مزاج بدل گیا۔ امریکہ سے انحراف کیا‘ اسرائیل کو للکارا۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ اس نئے ایران کو برداشت نہیں کر سکا۔ اوپر سے یہ جنگ امریکہ کو مہنگی پڑ رہی ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved