اگلے روز خط نویسی کا عالمی دن گزرا تو یاد آیا کہ ایک زمانے میں رابطوں یعنی کمیونی کیشن کا واحد ذریعہ صرف خطوط ہوا کرتے تھے۔ بادشاہ اپنی بات دوسرے بادشاہ یا عوام تک پہنچانے کیلئے خط لکھتے تھے۔ دور کے شہروں میں رہنے والے رشتے دار بھی خطوط کے ذریعے اپنے دل کی باتیں کرتے اور دوسرے رشتے داروں کے خیالات جانتے تھے۔ جوانی کی محبتوں اور الفتوں کے اظہار کا ذریعہ بھی خطوط ہی ہوا کرتے تھے۔ پڑھے لکھے یہ کام اپنے ہاتھ سے سرانجام دیتے تھے جبکہ اَن پڑھ اپنے قریبی ترین راز دان دوستوں سے اپنی اپنی دل پسندوں کے نام رقعے لکھواتے تھے۔ ہر محلے میں کوئی نہ کوئی ایسا شخص ضرور ہوتا جو پُرتاثیر محبت نامے لکھنے میں ماہر ہوتا تھا۔ محلے بھر کے عاشقان دل پذیروں کا اس کے در پر ہجوم لگا رہتا تھا۔ اب خطوط کا زمانہ لد چکا‘ اس کی جگہ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ میسجز نے لے لی ہے‘ لیکن خطوط کے زمانے والے اس ناسٹلجیا سے باہر نہیں نکل پائے ہوں گے۔
خط لکھنے والے کو مکتوب حوالۂ ڈاک کر دینے کے بعد پھر اس کے جواب کا شدت سے انتظار شروع ہو جاتا تھا۔ باقاعدہ دن گنے جاتے تھے کہ خط ڈاک کے ذریعے دو یا تین دن میں مکتوب الیہ کو پہنچ گیا ہو گا اور آج اس نے جواب لکھا ہو گا اور اگلی جمعرات کو مجھے اس کا جوابی خط موصول ہو جائے گا۔ نامہ نگار اپنے حساب سے خط کے موصول ہونے کا جو دن طے کرتا اس روز صبح سے ہی ڈاکیے کا انتظار شروع ہو جاتا تھا۔ جوابی خط مل جاتا تو ٹھیک‘ بصورت دیگر اگلے دن کا انتظار شروع ہو جاتا تھا۔ یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ انتظار اگر زحمت ہے تو اس میں ایک مزہ بھی چھپا ہوا ہے‘ ایک کسک آمیز مزہ۔
اس دور کے فلمی گانوں میں بھی خطوط کا ذکر وافر ملتا تھا۔ فلم شاردا کا گانا آپ کا خط ملا آپ کا شکریہ۔ 1956ء کی فلم 'چن ماہی‘ کا گانا نی چٹھیے سجناں دی اے تینوں چُم چُم دل نال لاواں۔' کنیا دان‘ کا گانا لکھے جو خط تجھے وہ تیری یاد میں ہزاروں رنگ کے نظارے بن گئے۔ 'سرسوتی چندرا‘ فلم کا گانا پھول تجھے بھیجا ہے خط میں پھول نہیں یہ میرا دل ہے۔ فلم 'دوستی‘ کا گانا چٹھی جرا سیاں جی کے نام لکھ دے‘ حال میرے دل کا تمام لکھ دے۔ فلم' شکتی‘ کا گانا ہم نے صنم کو خط لکھا‘ خط میں لکھا اے دلربا دل کی گلی شہر وفا۔ فلم‘ سنگم‘ کا گانا یہ میرا پریم پتر پڑھ کر تم ناراض نہ ہونا۔ فلم' پلکوں کی چھاؤں‘ کا گانا ڈاکیا ڈاک لایا‘ ڈاکیا ڈاک لایا‘ خوشی کا پیام کہیں‘ کہیں دردناک لایا۔ فلم' سہاگ‘ کا گانا مجھ کو غمِ حالات کی تصویر سمجھنا اس خط کو میری آخری تحریر سمجھنا‘ اور کیا آپ جانتے ہیں کہ راجیش کھنہ کی پہلی فلم کا عنوان آخری خط تھا۔
اب تو کمیونیکیشن نہایت آسان ہو چکی ہے لیکن ایک دور ایسا بھی تھا جب خطوط کی ترسیل کیلئے کبوتروں کا استعمال بھی کیا جاتا تھا۔ فلم 'میں نے پیار کیا ‘کا کبوتر جا جا جا والا گانا تو آپ نے سن ہی رکھا ہو گا‘ یا فلم 'دُلا بھٹی‘ کا گانا واسطہ ای رب دا توں جانویں وے کبوترا‘ چٹھی میرے ڈھول نوں پہچانویں وے کبوترا بھی سن رکھا ہو گا‘ تو یہ خطوط لے جانے والے کبوتروں کی طرف ہی اشارے تھے۔ جب موٹر گاڑیاں ایجاد نہیں ہوئی تھیں تب خطوط رسانی یعنی ڈاک کی ترسیل کا کام گھوڑوں سے لیا جاتا تھا۔ گھڑ سوار ایک جگہ کے خطوط دوسری جگہ اور دوسری جگہ کے خطوط تیسری جگہ پہنچانے کیلئے وقف ہوتے تھے اور ڈاک کی باقاعدہ چوکیاں قائم کی جاتی تھیں جیسے آج کل ڈاک خانے ہیں۔
ستر اور اسی کی دہائی میں ریڈیو پاکستان لاہور سے ایک پروگرام نشر ہوا کرتا تھا‘ شیزان ہٹ پریڈ۔ یہ پروگرام شروع میں حسن جلیل پیش کرتے تھے‘ پھر حماد حسن پیش کرنے لگے تھے۔ اس پروگرام میں ہفتے بھر میں سامعین کی جانب سے سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے گانے ریٹنگ کے حساب سے سنائے جاتے تھے اور آخر میں سب سے زیادہ پسند کیا جانے والا گانا سنوایا جاتا تھا۔ حسن جلیل نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں بتایا کہ پہلا پروگرام نشر ہونے کے دوسرے تیسرے روز ریڈیو پاکستان لاہور کو صرف اس پروگرام کے حوالے سے 55000 خطوط موصول ہوئے تھے۔ پتا نہیں آپ نے ریڈیو پر فلمی گانوں کا فرمائشی پروگرام سن رکھا ہے یا نہیں‘ ایک زمانے میں ریڈیو پاکستان اور آل انڈیا ریڈیو سے بھی گانوں کے فرمائشی پروگرام چلا کرتے تھے۔ لوگ خط لکھتے تھے کہ ہمیں فلاں گانا سنوا دیں۔ وہ گانا فرمائش بھیجنے والوں کے ناموں کے ساتھ سنوایا جاتا تھا۔ ان پروگراموں کی پسندیدگی کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ پاکستان سے آل انڈیا ریڈیو اور بھارت سے ریڈیو پاکستان لاہور کے نام سینکڑوں خطوط آتے تھے۔ گھروں میں یہ پروگرام بڑی باقاعدگی سے سنے جاتے تھے۔
جس زمانے کی میں بات کر رہا ہوں اُس دور میں فلمی ستاروں کو خط لکھنے کا بھی بڑا رواج تھا۔ ان خطوط میں فلمی اداکاروں اور اداکاراؤں کے ساتھ الفت کا اظہار کرتے ہوئے ان کی اداکاری کی تعریف کی گئی ہوتی تھی۔ ان میں سے کسی کسی خط کا نامہ نگار کو جواب بھی ملتا تھا۔ فروری 2021ء میں بی بی سی اردو میں ایک سٹوری شائع کی گئی جس میں انڈیا کی فیکٹ چیکنگ ویب سائٹ آلٹ نیوز کی شریک بانی عالیہ نازکی نے ایک دل گداز حقیقی کہانی شیئر کی تھی۔ ان کی پھوپھی کی وفات 2006ء میں ہوئی تھی۔ ان کی وفات کے بعد ان کا کچھ سامان کسی سٹور روم کے تہ خانے میں کئی سال تک پڑا رہا۔ پھر اس سامان میں موجود ایک پرانا البم عالیہ کے ہاتھ لگا۔ ان کی پھوپھی مہرالنسا نجمہ انڈین فلموں کی بہت بڑی مداح تھیں اور اپنی والدہ کی ناراضی کے باوجود اپنا خاصا وقت اس وقت کے فلم سٹارز کو خط لکھنے میں گزارتی تھیں۔ عالیہ کو اس پرانے البم میں اس وقت کے بڑے فلم سٹارز کے وہ خطوط بھی ملے جو انہوں نے نجمہ کو جواب میں لکھے اور اپنی دستخط شدہ تصاویر کے ساتھ بھیجے تھے۔ شمی کپور نے انگریزی میں‘ دھرمیندر نے اپنے ہاتھ سے لکھی ہندی میں تو سنیل دت نے خالص اور خوش خط اردو میں اس نوجوان لڑکی کے خطوط کے جواب دیے تھے۔ نجمہ کے خطوط کے جواب دینے والوں میں کامنی کوشل‘ سادھنا‘ آشا پاریکھ‘ سائرہ بانو‘ تبسم‘ ثریا‘ راجندر کمار اور راج کمار بھی شامل تھے۔ ذرا تصور کریں کہ ہم اور آپ میں سے کوئی شاہ رخ خان‘ دیپیکا پاڈوکون‘ فواد خان یا ماہرہ خان کو خط لکھے اور ان کا اس طرح ہاتھ سے لکھا ہوا جواب آئے تو ہماری کیا حالت ہو گی۔ اس وقت کی نوجوان نجمہ کی حالت اِس سے سو گنا زیادہ دیوانوں جیسی ہوئی ہو گی۔
خطوط کے زمانے میں قلمی دوستی کا بھی بڑا رواج تھا۔ مختلف رسالوں میں قلمی دوستی کے خواہش مندوں کے باقاعدہ پتے چھاپے جاتے تھے۔ جو جس کو چاہتا خط لکھ سکتا تھا۔ قلمی دوست کبھی ایک دوسرے سے ملے نہیں ہوتے تھے لیکن دل کی باتیں وہ ایسے ہی کرتے تھے جیسے صدیوں سے ایک دوسرے کو جانتے ہوں۔ قلمی دوست ڈاک کے ذریعے ایک دوسرے کو تحائف بھی بھیجتے تھے جو زیادہ تر کتابوں اور رسائل پر مشتمل ہوتے تھے۔
دورِ جدید میں برقی ذرائع ابلاغ نے حالات کی کایا پلٹ کر رکھ دی ہے۔ ای میل‘ ایس ایم ایس‘ ٹیلی فون‘ موبائل فون‘ واٹس ایپ نے فاصلو ں کی طنابیں کھینچ دی ہیں۔ جس رابطے کیلئے ماضی میں دنوں انتظار کرنا پڑتا تھا‘ وہ اب چند سیکنڈ میں ہو جاتا ہے۔ صرف رابطہ ہی نہیں ہوتا‘ ویڈیو بات چیت بھی ہو جاتی ہے۔ اس طرح مکتوب نگاری کا زور اب پہلے جیسا نہیں رہا لیکن یہ حقیقت ہے کہ اس کی اہمیت و افادیت کم نہیں ہوئی۔ میرے اور آپ جیسے پچاس برس سے زیادہ عمر کے لوگ اب بھی خطوط کے سحر سے نکل نہیں پائے ہیں۔ خط لکھنے‘ حوالۂ ڈاک کرنے‘ جوابی خط کا انتظار کرنے کا اپنا ہی مزہ تھا۔ اس کا حظ وہی اٹھا سکتے ہیں جو خط لکھتے رہے ہوں۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved