''ملک میں نئے صوبے بنیں گے‘‘... یہ کس کا فیصلہ ہے؟ عوام کا یا اعیان کا؟ یہ سوچ کہاں سے اٹھی؟ عوام سے‘ جو اعیان تک گئی یا اعیانی حلقوں سے اٹھی اور عوام تک گئی؟ اہم تر سوال یہی ہے۔ اس سے طے ہوگا کہ ہمارا سیاسی نظام جمہوری ہے یا اعیانی۔
سیاست کی گہرائی کو‘ افسوس کہ کم لوگ ماپ سکے۔ کسی نے خیال کیا کہ اسے ڈگریوں سے ناپا جائے۔ فیصلہ سنایا کہ جس نے بی اے کا امتحان پاس کیا ہو گا‘ وہی انتخابات میں حصہ لینے کا اہل ہے۔ تجربے نے بتایا کہ یہ خیالِ خام تھا۔ 'سیاست‘ کا ڈگری سے کوئی تعلق نہیں۔ کسی نے فتویٰ دیا کہ 'متقی‘ لوگ اسمبلی میں جائیں گے تو نظام پاکیزہ ہو جائے گا۔ تقویٰ کو ناپنے کے لیے آئین میں دفعہ 62‘ 63 کا اضافہ کر دیا گیا۔ اس کا نتیجہ بھی وہی رہا۔ کسی نے تجویز پیش کی: غیر جماعتی انتخابات کرائے جائیں تو صالحین اسمبلی تک پہنچیں گے۔ یہ کر کے دیکھا تو معلوم ہوا کہ کوئی فرق نہیں پڑا۔ ایک فارمولا کبھی دوسرا فارمولا۔ کسی نے یہ نہ سوچا کہ پہلی اینٹ ٹیڑھی ہو تو دیوار کو ثریا تک لے جائیں‘ ٹیڑھی ہی رہے گی۔
'سیاست‘ معاملہ فہمی کی خداداد صلاحیت ہے۔ یہ انسانی نفسیات اور رویوں کا علم ہے۔ یہ سماج کی تہ در تہ بُنت کو جاننا ہے۔ یہ واقعات کے پسِ پردہ‘ اُن کے اسباب کا ادراک ہے۔ یہ دور اندیشی ہے جو مستقبل کی خبر دے سکتی ہے۔ یہ سکھاتی ہے کہ سندھ کو اسی لاٹھی سے نہیں ہانکا جا سکتا جس سے پنجاب کو چلایا جاتا ہے۔ بلوچستان کو کے پی پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔ تاریخ اور جغرافیے کا فرق‘ رویوں اور شخصیتوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ 'سیاستدان‘ وہی ہوتا ہے جس کا خمیر ان تما م عناصر کو تجربے کے روغن میں گوند کر بنتا ہے۔ تعلیم‘ علم اور مطالعہ سے اس میں نکھار آتا جاتا ہے۔ تعلیم سے مگر یہ خمیر پیدا نہیں کیا جا سکتا۔ کسی خاص شعبے کی مہارت‘ سیاست کو سمجھنے کے لیے کفایت نہیں کرتی۔ آکسفورڈ یا ہاورڈ کی ڈگری تزئین وآرائش کے کام تو آ سکتی ہے‘ شخصیت میں بنیادی خواص پیدا نہیں کر سکتی۔ کیمبرج اور آکسفورڈ میں تو اہلِ سیاست کو سمجھنے پر پی ایچ ڈی کی ڈگری دی جاتی ہے۔
ہر آدمی جانتا ہے کہ آج ملک آئی پی پیز کے شکنجے میں ہے۔ بجلی مہنگی ہے اور ظلم یہ کہ بجلی کے بند کارخانوں کا کرایہ بھی عوام کو دینا پڑ رہا ہے۔ اس کا ایک آسان حل موجود ہے: پانی سے بجلی پیدا کرنا۔ اگر کالا باغ ڈیم بن جائے تو سب دلدر دور ہو جائیں۔ سندھ یا کے پی میں بعض سیاستدانوں کو اعتراض ہے۔ پنجاب میں تو کسی کو اعتراض نہیں۔ پھر کیا سبب ہے کہ پنجاب سے آنے والے وزرائے اعظم اس جانب کوئی قدم نہ اٹھا سکے؟ نواز شریف صاحب نے اس کا اعلان کیا مگر الٹے پاؤں لوٹ گئے۔ کیوں؟ ذوالفقار علی بھٹو نے چودھری ظہور الٰہی کو بلوچستان کی جیل کے لیے روانہ کیا اور وہاں کے حکمران اکبر بگٹی کو انہیں ٹھکانے لگانے کو کہا۔ بگٹی نے یہ نہیں کیا۔ کیوں؟ جنرل مشرف کے دور میں‘ خود اکبر بگٹی قتل ہو گئے۔ معلوم ہے کہ ریاستِ پاکستان کو اس کی کیا قیمت ادا کرنا پڑی؟
جو بات مجھے معلوم ہے‘ کیا حکومتوں کو معلوم نہیں تھی؟ کیا انہیں بجلی مہنگی کر کے گالیاں کھانے کا شوق ہے؟ ان سوالات کا ایک ہی جواب ہے: سیاست۔ سیاست سکھاتی ہے کہ کالا باغ بنانے سے ملک کو بجلی سستی مل جائے گی مگر فیڈریشن کو خطرات لاحق ہو جائیں گے۔ دو صوبوں کو ناراض کر کے ریاست کو یکجا نہیں رکھا جا سکتا۔ مہنگی بجلی سے پہنچنے والا نقصان اٹھایا جا سکتا مگر فیڈریشن کو داؤ پر نہیں لگایا جا سکتا۔ اکبر بگتی جانتے تھے کہ پنجاب کے سیاستدان کو بلوچستان میں قتل کرنے سے ملک کی یکجہتی پر کیا اثر پڑسکتا ہے۔ وہ اس لیے جانتے تھے کہ سیاستدان تھے۔ پرویز مشرف سیاستدان نہیں تھے۔ وہ نہیں جان پائے کہ اکبر بگٹی کے قتل سے ریاست کی سالمیت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچے گا۔ میں تواتر سے لکھتا رہا ہوں کہ جب کسی کو سیاسی عصبیت حاصل ہو جائے تو اس کے خلاف قانون اُس طرح حرکت میں نہیں آ سکتا جس طرح عام آدمی کے خلاف متحرک ہوتا ہے۔ اگر وہ مجرم ہو تو بھی سزا نہیں دی جاتی کہ بعض اوقات ریاست اس کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ مجیب الرحمن اگرتلہ سازش میں شریک تھے یا نہیں‘ اس سے قطع نظر‘ ان کو سزا دینے کی ایک قیمت تھی جو ریاست کو چکانا پڑی۔ بھٹو کی پھانسی کی بھی ایک قیمت تھی‘ اگرچہ نواب محمد احمد کے قاتل کے بارے میں ابھی تک شکوک موجود ہیں۔ عمران خان صاحب کے بارے میں بہت سے مقدمات‘ بظاہرلگتا ہے کہ پوری طرح ثابت ہیں مگر انہیں سزا دینا اس لیے مشکل ہے کہ انہیں سیاسی عصبیت حاصل ہے۔ سیاست یہ سمجھاتی ہے کہ جب کسی کو سیاسی عصبیت حاصل ہو جائے تو ہر جرم ایک سیاسی زاویہ اختیار کر لیتا ہے۔
نئے صوبے بننے چاہئیں یا نہیں‘ یہ علمی سوال ہے اور اس کے ساتھ اس کا تعلق سیاست سے بھی ہے۔ علم یہ کہتا ہے کہ انتظامی یونٹ جتنا چھوٹا ہوگا‘ گورننس اتنی بہتر ہو گی۔ سیاست یہ کہتی ہے کہ سندھ میں ایک جماعت ایسی ہے جو فیڈریشن کے ساتھ چلتی اور عوام میں رسوخ بھی رکھتی ہے۔ اگر اس کو ناراض کیا جائے گا تو یہ فیڈریشن کے لیے نیک شگون نہیں۔ طاقت یہ کہتی ہے کہ وہی فیصلہ کرے گی۔ اگر اس کی نظر میں یہ فیصلہ درست ہے تو وہ کر گزرے گی۔ طاقت کا مطلب قوتِ نافذہ کا ہونا ہے۔ طاقت اپنے فیصلے نافذ کرنے کی قدرت رکھتی ہے۔ جیسے اکبر بگٹی قتل ہو گئے اور بھٹو پھانسی چڑھ گئے مگرکوئی روک نہیں سکا۔ طاقت کے برخلاف‘ سیاست سماج کی بُنت کو سمجھتی ہے۔ وہ انسانی نفسیات کو جانتی ہے۔ اسے معلوم ہے کہ بعض فیصلے نافذ ہو جاتے ہیں مگرانسانی نفسیات پر ایسا اثر چھوڑ جاتے ہیں جو آنے والے وقت میں آتش فشاں بن کر پھٹ سکتا ہے۔ سیاست یہ سمجھتی ہے کہ فیصلہ وہی کرنا چاہیے جس کو عوام قبول کریں۔ جب وہ قبول کر لیتے ہیں تو اس کی تنفیذ آسان ہو جاتی ہے۔ ذمہ دار مناصب پر بیٹھے سمجھدار لوگ اپنی رائے عوام پر مسلط نہیں کرتے‘ ان کی رائے کو نافذ کرتے ہیں۔ اگر ان کی نظر میں کوئی فیصلہ ناگزیر ہو تو اس کے نفاذ سے پہلے‘ عوام میں آگہی کی مہم چلاتے ہیں۔ وہ اس وقت کا انتظار کرتے ہیں جب عوام اور اعیان میں اتفاق رائے پیدا ہو جائے۔
عقلِ عام اور تاریخ‘ دونوں کا فیصلہ ہے کہ بہتر گورننس کے لیے انتظامی یونٹ کو چھوٹا ہونا چاہیے۔ اس وقت اس کے دو ماڈل موجود ہیں۔ ایک لوکل باڈیز کا خودمختار نظام۔ صوبے باقی رہیں مگر صوبائی حکومت کے اختیارات مقامی حکومتوں کو منتقل ہو جائیں۔ اس پر بھی مزاحمت ہو گی مگر یہ وہ حل ہے جس پر سب کو قائل کیا جا سکتا ہے۔ دوسرا ماڈل نئے صوبوں کا قیام ہے جس کی مخالفت ہو رہی ہے۔ عقل کہتی ہے کہ فیصلہ 'سیاست‘ کو کرنا چاہیے اور سیاست دم توڑ رہی ہے۔ یہ نیک شگون نہیں ہے۔ سیاست ہی میں یہ صلاحیت ہے کہ وہ مسائل کا قابلِ قبول حل تلاش کر سکتی ہے۔ سیاست‘ سیاسی جماعتوں کے دم سے زندہ رہتی ہے۔ انہیں اس طرح دیوار سے نہ لگایا جائے کہ سیاست ہی ختم ہو جائے۔ سیاست کا متبادل ڈگری بن سکتی ہے نہ طاقت۔ سیاسی جماعتوں کی قیادت کو بھی اپنے تنِ خاکی میں جاں پیدا کرنی چاہیے۔ ان کی کارکردگی مایوس کن ہے۔ سیاست صرف اقتدار کی خواہش اور اس کے لیے کوشش کا نام نہیں۔ یہ آدرش ہے‘ ایثار ہے اور کردار ہے۔ اگر یہ باقی ہیں تو سیاسی جماعتیں زندہ ہیں۔ بصورتِ دیگر فیصلہ عوام نہیں‘ اعیان کریں گے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved