میں اپنی اس کوتاہی پر معافی کا طلبگار ہوں کہ طویل سوچ بچار کے بعد بھی میں حتمی طور پر نہیں کہہ سکتا کہ پاکستان کی 79سالہ تاریخ میں وہ کون سے واقعات ہیں جو ہمارا سر فخر سے بلند کرنے یا شرم سے جھکا دینے کا موجب بنے۔ پہلے اوّل الذکر واقعات دیکھ لیتے ہیں‘ جو میرے ذہن میں‘ یادوں کی گرد میں بھی ستاروں کی طرح روشن اور درخشندہ ہیں۔
٭ 14 اگست 1947ء کو قائداعظم نے دو عہدوں کا حلف اٹھانا تھا۔ ایک تھا پاکستان کے سربراہِ مملکت کا اور دوسرا تھا دستور ساز اسمبلی کے صدر کا۔ قائداعظم ایوان میں تشریف لائے اور اُس کرسی پر بیٹھ گئے جو وہاں ان کے لیے رکھی گئی تھی۔ پاکستان کے پہلے چیف جسٹس سر میاں عبد الرشید نے قائداعظم سے حلف لینا تھا۔ وہ قائداعظم کے پاس گئے اور اُن کے کان میں سرگوشی کی کہ آپ اس کرسی پر اُس وقت بیٹھنے کے مجاز ہوں گے جب آپ کی حلف برادری کی کارروائی مکمل ہو چکی ہو گی۔ قائداعظم فوراً سے پیشتر اُٹھے اور اراکین اسمبلی کے لیے رکھی گئی ایک کرسی پر بیٹھ گئے۔ یہ تھی ہماری اصول پسندی کی وہ معراج جس کے بعد ہمارا زوال کی طرف سفر شروع ہوا۔
٭ 1961ء میں وزارتِ قانون کا سب سے بڑا افسر (وفاقی سیکرٹری) ایک انگریز تھا‘ نام تھا سر ایڈورڈ سنیلسن۔ سول سروس اکیڈمی میں اپنی ایک تقریر میں اُس نے کہا کہ ہائیکورٹ کے جج صاحبان جس طرح حکومت کے خلاف دائر کردہ رِٹ پٹیشن کی سماعت کر کے اپنے اختیارات کو غیر ذمہ دارانہ طور پر استعمال کر رہے ہیں اس سے حکومت کیلئے انتظامی مشینری کو بطریق احسن چلانا بہت مشکل ہو گیا ہے۔ اگلے دن یہ تقریر اخباروں میں چھپی تو ہائیکورٹ نے وفاقی سیکرٹری کو توہینِ عدالت کا نوٹس بھیج دیا۔ ملزم کی بدقسمتی کہ مقدمے کی کارروائی جس جج کو سونپی گئی وہ بھی ایک انگریز تھا‘ جسٹس جے ایم آرکسن (J.M. Orcheson)۔ اُنہوں نے فیصلہ سنایا کہ ملزم توہینِ عدالت کا مرتکب ہوا ہے اور اسے عدالت برخاست ہو جانے تک (بمشکل ایک منٹ کی) قید کی سزا سنائی گئی۔ سزا یافتہ ہونے کا نتیجہ یہ نکلا کہ سر ایڈورڈ کو مستعفی ہونا پڑا اور وہ اپنی پنشن سے بھی محروم ہو گیا۔ مارشل لاء کے زمانے میں بھی ہائیکورٹ نے اپنی برتری کا پرچم بلند کرتے ہوئے فیصلے میں لکھا کہ ملک کا قانون وہی ہوگا اور قانون میں لکھے ہوئے الفاظ کا مطلب ہوگا جو عدالت عالیہ کی تشریح کے مطابق ہوگا۔
٭ تمیز الدین کیس میں سندھ ہائیکورٹ کا درخواست دہندہ (دستور ساز اسمبلی کے سپیکر مولوی تمیز الدین) کے حق میں فیصلہ بھی ہمارا سر فخر سے بلند کرنے کا باعث بنا۔ اس بینچ کا سربراہ بھی ایک انگریز جج تھا۔ بدقسمتی سے اس فیصلے کو جسٹس منیر کی وفاقی عدالت نے مسترد کر کے گورنر جنرل کے (دستور ساز اسمبلی کو تحلیل کرنے کے) اختیار کو قانونی جواز کے بجائے ''نظریہ ضرورت‘‘ کے تحت شرفِ قبولیت بخشا۔ سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ جتنا قابلِ تعریف ہے‘ وفاقی عدالت کا فیصلہ اُتنا ہی متنازع اور قابلِ مذمت ہے۔
اگر مؤخر الذکر واقعات کو دیکھیں تو سنگین غلطیوں کی ہمالیہ پہاڑ جتنی لمبی فہرست نظر آتی ہے اور مضمون کی محدود جگہ سب کا ذکر کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔ یقینا سب سے بڑا المیہ تو 1971ء میں مغربی پاکستان کی ایک بڑی سیاسی جماعت اور چار پانچ کے ٹولے (جس کا سربراہ یحییٰ خان تھا) کی عوامی لیگ کے چھ نکات کو تسلیم کر کے ملکی وحدت کو قائم رکھنے کے بجائے مشرقی پاکستان پر چڑھائی کی حکمت عملی تھی۔ ملک کے قیام کے محض 24 سال کے اندر اسے اپنے سب سے بڑے قومی سانحے سے گزرنا پڑا۔ ٭مارشل لاء کا تاریک دور ہماری تاریخ کے 30 برس لے گیا۔ ٭کشکولِ گدائی لے کر 25 بار آئی ایم ایف کے پاس جانا اور وطنِ عزیز کو اربوں ڈالروں کا مقروض بنانا۔٭پاکستان سٹیل مل‘ پی آئی اے اور ریلوے کو (کرپشن کی بدولت) نفع بخش سے خسارے میں چلنے والے ادارے بنا دینا۔ ٭قوتِ اُخوتِ عوام‘ قانون کی حکمرانی‘ آئین اور انسانی حقوق کے احترام کے اُصولوں کو بار بار پامال کرنا۔ ٭عدلیہ پر شدید دبائو ڈال کر ایک سیاسی لیڈر (ذوالفقار علی بھٹو) کو سزائے موت دینا۔ ٭غیر ملکی ایما پر افغانستان کی جنگ میں (حلیف بن کر) شامل ہونا اور جنگ کو سرحدوں کے اندر لے آنا۔ ٭1997ء میں سپریم کورٹ (جو اُس وقت کے وزیراعظم کے خلاف ایک مقدمے کی سماعت کر رہی تھی) پر دھاوا بولنا اور ججوں کو ہراساں کرنا۔
جسٹس سجاد علی شاہ اُس وقت چیف جسٹس آف پاکستان تھے‘ انہوں نے اور ان کے ساتھی جج صاحبان نے کمرہِ عدالت سے بھاگ کر اپنی جان بچائی۔ 2010ء میں اپنی اہلیہ کے ہمراہ میں پاکستان گیا تو واپسی پر کراچی رکے۔ کراچی کے ایک سینئر وکیل‘ سالم سلیم انصاری کا بھلا ہو کہ وہ جسٹس سجاد علی شاہ سے ملانے لے گئے۔ شاہ جی اور اُن کی بیگم صاحبہ روایتی خوش اخلاقی سے ملے۔ جب اس انتہائی تکلیف دہ واقعے کا ذکر چھڑا تو شاہ جی نے بڑی دکھی آواز میں کہا کہ اگر خواتین نہ بیٹھی ہوتیں تو میں آپ کو وہ مغلظات بھی سناتا جو حملہ آور ججوں کو سنا رہے تھے۔ یہ سن کر کر ہم کس قدر شرمندہ ہوئے‘ اس کا اندازہ بھی نہیں لگایا جا سکتا۔ شاہ جی کے گھر سے سر جھکائے باہر نکلے تو خیال آیاکہ آج تک سب سے انوکھی بات کون سی سنی ہے؟قیام پاکستان سے لے کر (خوشی اور افتخار کے گنتی کے چند واقعات کے علاوہ) اب تک ہم مستقل طور پر سرنگوں ہیں۔ کچھ 'اہلِ نظر‘ برسوں سے پاک سرزمین پر یومِ حساب کی مبارک گھڑی آجانے کی بشارت سنا رہے ہیں مگر میری آنکھیں تو 79 برس سے یہ خواب دیکھتے دیکھتے تھک ہار کر بوڑھی ہو چکی ہیں۔
اب جسٹس سجاد علی شاہ کا مختصر تعارف۔ 17 فروری 1933ء کو صوفیا کی سرزمین سندھ کے ایک قانون دان گھرانے میں پیدا ہوئے۔ قانون کی پہلی ڈگری کراچی کے ایس ایم لاء کالج سے حاصل کی۔ والدین نے بیرسٹر بن جانے کیلئے لندن بھیجا اور بھاری تعلیمی اخراجات برداشت کیے۔ 1959ء میں وکالت شروع کی اور جلد ہی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج بنا دیے گئے۔ 1977ء میں سپریم کورٹ کے رجسٹرار اور 1987ء میں سندھ ہائیکورٹ کے جج بنے۔ 13 دسمبر 1989ء کو سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس بنے اور اس عہدہ پر ایک سال (4 نومبر 1990ء تک) فائز رہے۔ اس کے بعد سپریم کورٹ کے جج بنا دیے گئے۔ 1994ء میں نسیم حسن شاہ چیف جسٹس کے عہدے سے ریٹائر ہوئے تو سب سے سینئر جج جسٹس سعد سعود جان تھے مگر وزیراعظم بینظیر بھٹو نے سجاد علی شاہ کو چیف جسٹس بنا دیا۔ 4 جون 1994ء سے لے کر 2 دسمبر 1997ء تک چیف جسٹس آف پاکستان رہے۔
1997ء میں اُس وقت کے وزیراعظم کے خلاف کرپشن اور توہین عدالت کے مقدمے کے سماعت کے دوران عدالت میں پیش آنے والے واقعات سے سب بخوبی علم ہیں۔ مختصراً یہ کہ پہلے سپریم کورٹ پر دھاوا بول کر مقدمے کی سماعت سے روکا گیا بعد ازاں اعلیٰ عدلیہ کے ججوں پر اتنا دبائو ڈالا گیا کہ اُنہوں نے چیف جسٹس کے خلاف علمِ بغاوت بلند کر دیا۔ جسٹس اجمل میاں جسٹس سجاد علی شاہ کے جانشین بنے۔ ایک قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ 1992ء میں سپریم کورٹ کے جج بننے کے بعد ایک اہم آئینی مقدمے کا فیصلہ کرتے ہوئے سجاد علی شاہ واحد جج تھے‘ جس نے صدر غلام اسحاق خان کے ہاتھوں وزیراعظم بینظیر بھٹو کی برطرفی کے حکم کو غلط قرار دیا مگر جب 1996ء میں صدر فاروق لغاری نے بدعنوانی اور نااہلی کی بنا پر بینظیر بھٹو کی حکومت کو برطرف کیا تو اُنہوں نے اس فیصلے کو درست قرار دیا۔ ایک اہم بات یہ ہے کہ سجاد علی شاہ کے بیٹے‘ اویس شاہ کو جولائی 2016ء میں اغوا کر لیا گیا۔ پاک فوج کی ایک کارروائی میں اسے خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک سے برآمد کیا گیا۔ اغوا کنندگان اس کارروائی میں ہلاک ہو گئے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved