تحریر : علامہ ابتسام الہٰی ظہیر تاریخ اشاعت     07-09-2026

جغرافیے اور نظریات کا دفاع

کسی بھی ریاست کے دفاع کے حوالے سے اس کے جغرافیے اور نظریات کے دفاع کی اہمیت بیک وقت اور غیر معمولی ہے۔ اگر جغرافیے کا دفاع صحیح طریقے سے نہ ہو سکے تو ریاست کمزور ہو جاتی ہے اور اکثر اس کا وجود خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ اسی طرح اگر ریاست کے نظریات خطرے میں پڑ جائیں تو اس صورت میں بھی ریاست غیر مستحکم ہو جاتی ہے۔ چنانچہ پوری قوم کو پاکستان کے جغرافیے اور نظریات کے دفاع کیلئے ہر وقت مستعد رہنا چاہیے اور اس حوالے سے اپنی تاریخ سے بھی آگاہ رہنا چاہیے کہ ہم نے کس انداز سے مختلف ادوار میں اپنے جغرافیے اور نظریات کا دفاع کیا۔
6 ستمبر 1965ء کا دن اس اعتبار سے غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے کہ لاہور اور سیالکوٹ سیکٹر میں ہمارے دیرینہ دشمن بھارت نے دراندازی کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ اس دراندازی کو روکنے کیلئے افواج پاکستان نے بھرپور جرأت اور استقامت کا مظاہرہ کیا اور پوری قوم نے بھی فوج کی مکمل تائید کی۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کے فضل وکرم سے بھارتی حملہ مکمل طور پر پسپا کر دیا گیا اور پاکستان نے یہ بات ثابت کر دی کہ وطن کے دفاع کیلئے پاکستان کے عسکری ادارے اور عوام ہر طرح کی قربانیاں دینے کیلئے آمادہ وتیار ہیں۔ دینِ اسلام نے اسلامی سرحدوں کی حفاظت کو بہت زیادہ اہمیت دی ہے اور سورۃ الانفال میں دشمن کے مقابلے پر تیار رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اسلامی سرحدوں کے دفاع کے حوالے سے چند اہم احادیث درج ذیل ہیں:
1: صحیح بخاری میں حضرت سہلؓ بن سعد سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ''اللہ کے راستے میں دشمن سے ملی ہوئی سرحد پر ایک دن کا پہرہ دنیا وما فیہا سے بڑھ کر ہے‘ جنت میں کسی کیلئے ایک کوڑے جتنی جگہ دنیا وما فیہا سے بڑھ کر ہے اور جو شخص اللہ کے راستے میں شام کو چلے یا صبح کو‘ تو وہ دنیا وما فیہا سے بہتر ہے‘‘۔ 2: صحیح مسلم میں حضرت سلمانؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ''ایک دن اور ایک رات سرحد پر پہرہ دینا ایک ماہ کے روزوں اور قیام سے بہتر ہے اور اگر (پہرہ دینے والا اسی دوران) فوت ہو گیا تو اس کا وہ عمل جو وہ کر رہا تھا‘ (آئندہ بھی) جاری رہے گا‘ اس کیلئے اس کا رزق جاری کیا جائے گا اور وہ (قبر میں سوالات کے) امتحان لینے والے سے محفوظ رہے گا‘‘۔ 3: سنن ابودائود میں حضرت فضالہؓ بن عبید سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ''ہر مرنے والے کا عمل (اس کے مرنے پر) ختم ہو جاتا ہے مگر مورچہ بند‘ کہ اس کا عمل قیامت تک کیلئے بڑھتا رہتا ہے اور وہ قبر کے عذاب (یا منکر نکیر کے سوال جواب) سے امن میں رہتا ہے‘‘۔ 4: جامع ترمذی میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے سنا ''دو آنکھوں کو جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی: ایک وہ آنکھ جو اللہ کے ڈر سے تر ہوئی ہو اور ایک وہ آنکھ جس نے راہِ جہاد میں پہرہ دیتے ہوئے رات گزاری ہو‘‘۔ نبی کریمﷺ خود بھی اسلامی سرحدوں کے دفاع میں غیر معمولی دلچسپی رکھتے تھے۔ صحیح بخاری میں حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ ''ایک مرتبہ رات کے وقت اہلِ مدینہ گھبرا گئے کیونکہ ایک آواز سنائی دی تھی۔ حضرت ابوطلحہؓ کے ایک گھوڑے پر‘ جس کی پیٹھ ننگی تھی‘ رسول کریمﷺ حقیقت حال معلوم کرنے کیلئے تنہا اطرافِ مدینہ میں سب سے آگے تشریف لے گئے۔ پھر آپﷺ واپس آ کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ملے تو تلوار آپﷺ کی گردن میں لٹک رہی تھی اور آپ فرما رہے تھے کہ گھبرانے کی کوئی بات نہیں‘ گھبرانے کی کوئی بات نہیں‘‘۔
اگر کتاب وسنت کی تعلیمات پر غور وفکر کیا جائے تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ 6 ستمبر کو افواج پاکستان نے جو کردار ادا کیا وہ درحقیقت کتاب وسنت کے عین مطابق تھا۔ 1965ء کے بعد بھی پاکستان کے دفاع کو مختلف طرح کے چیلنجز لاحق رہے لیکن اللہ کے فضل وکرم سے پاکستان نے ان چیلنجز کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ 28 مئی 1998ء کو پاکستان نے جوہری توانائی کو حاصل کر کے اپنے دفاع کو بہت زیادہ مضبوط اور مستحکم کر لیا۔ گزشتہ برس آپریشن بنیانٌ مرصوص اور معرکہ حق کے دوران بھی پاکستان نے اس بات کو ثابت کیا کہ دفاعِ وطن کے حوالے سے ریاست ہر طرح کے چیلنجز سے عہدہ برآ ہونے کیلئے تیار ہے۔
6 ستمبر کے ساتھ ساتھ 7 ستمبر کا دن اس اعتبار سے غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کے فضل وکرم سے 1974ء میں اس دن پاکستان کی قومی اسمبلی نے نبی کریمﷺ کی ختم نبوت کو آئینی اور قانونی حیثیت دی تھی۔ یہ عقیدہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہﷺ سے بالکل واضح تھا۔ جب نبی کریمﷺ کو مبعوث کیا گیا تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۃ الاعراف کی آیت: 158 میں آپﷺ کی رسالت ونبوت کی جامعیت کا اظہار فرما دیا: ''آپ کہہ دیجئے کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف اس اللہ کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں‘‘۔ چونکہ نبی کریمﷺ جمیع انسانیت کے مقتدا ہیں‘ اس لیے آپﷺ پر اللہ تبارک وتعالیٰ نے رسالت ونبوت کے سلسلے کو ہر اعتبار سے تمام فرما دیا اور سورۃ الاحزاب کی آیت: 40 میں اس امر کا اعلان فرما دیا: ''محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں بلکہ وہ اللہ کے رسول ہیں اور سب انبیا کے آخر میں (سلسلۂ نبوت کو ختم کرنے والے) ہیں‘‘۔ قرآن مجید کی کلی آیات کے ساتھ ساتھ بہت سی احادیث میں بھی عقیدۂ ختم نبوت کے حوالے سے وضاحت کی گئی ہے جن میں سے چند اہم درج ذیل ہیں:
صحیح بخاری وصحیح مسلم‘ مسند احمد اور سنن الکبریٰ للبیہقی میں حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول کریمﷺ نے فرمایا: میری اور سابق انبیاء کرام کی مثال ایسی ہے کہ جیسے ایک شخص نے ایک خوبصورت گھر بنایا مگر ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ خالی چھوڑ دی۔ لوگ اس گھرکو دیکھ کر اس کی خوبصورتی پر تعجب کرتے ہیں‘ مگر کہتے ہیں کہ کیا خوب ہو اگر (وہ آخری) اینٹ بھی اپنی جگہ پر لگا دی جائے‘ پس میں وہ اینٹ ہوں اور میں آخری نبی ہوں۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ ''قیامت اُس وقت تک نہیں آئے گی جب تک تیس بڑے کذاب نہیں آئیں گے اور ان میں سے ہر ایک کا یہ دعویٰ ہوگا کہ وہ اللہ کا رسول ہے‘‘۔ صحیح بخاری میں حضرت سعدؓ سے روایت ہے کہ ''رسول اللہﷺ جب جنگ تبوک کیلئے نکلے تو حضرت علیؓ کو مدینہ میں اپنا نائب مقررکیا۔ حضرت علیؓ نے عرض کی کہ (میں تو میدانِ جنگ کا سوار ہوں) کیا آپ مجھے بچوں اور عورتوں کے پاس چھوڑکر جانا چاہتے ہیں؟ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا: اے علی! کیا آپ اس بات پر خوش نہیں کہ آپ کو مجھ سے وہی نسبت ہو جو موسیٰ کو ہارون (علیہما السلام) سے تھی‘ مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں‘‘۔ صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ ''بنی اسرائیل پر انبیاء کرام حکومت کرتے اور ان کی رہنمائی بھی کرتے رہے۔ جب ایک نبی کا انتقال ہو جاتا تو دوسرا نبی ان کی جگہ لے لیتا۔ میرے بعدکوئی نبی تو نہیں ہو گا؛ تاہم خلفا ہوں گے اور تعداد میں بہت ہوں گے‘‘۔
گو اس عقیدے کی شرعی اور علمی حیثیت واضح تھی لیکن پاکستان کی قومی اسمبلی نے جو فیصلہ کیا وہ آئینی اعتبار سے ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے اور دنیا کے بہت سے ممالک میں اس کو بطور حوالہ پیش کر کے ختم نبوت کے منکروں کو دائرہِ اسلام سے خارج قرار دیا گیا۔ آئین پاکستان میں ختم نبوت کے ساتھ ساتھ حرمت رسول اللہﷺ کے تحفظ کی شقیں بھی شامل ہیں۔ بعض عناصر ان شقوں کو تبدیل کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں لیکن دینی طبقات‘ مذہبی جماعتوں اور علمائے کرام کی محنتوں کی وجہ سے ان کی یہ سازشیں ناکام ہو جاتی ہیں اور اہلِ پاکستان اس عزم کا بھرپور طریقے سے اظہار کرتے رہتے ہیں کہ وطن کے جغرافیے اور نظریات کے دفاع کیلئے پوری قوم ہمیشہ یکجا رہے گی‘ ان شاء اللہ!

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved