پہلے اسرائیل کے وزیر دفاع نے غزہ سے سارے فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کی تجویز دی اور اب ایک اور انتہا پسند وزیر نے فلسطینیوں کی بے دخلی کا باقاعدہ منصوبہ پیش کر دیا ہے۔ دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے وزیر ایتمار بن گویر نے کہا ہے کہ اہلِ غزہ کا اس کے علاوہ کوئی حل نہیں کہ انہیں یہاں سے نکال باہر کیا جائے۔ اس وزیر کی ہرزہ سرائی کے مطابق پہلے سال یہاں سے ڈھائی لاکھ اہلِ غزہ کو جبری امیگریشن کے ذریعے دوسرے ملکوں میں بھیجا جائے گا جبکہ اگلے چھ برس میں باقی ماندہ 20 لاکھ غزہ کے مکینوں کو ترکیہ‘ ایتھوپیا اور جمہوریہ کانگو بھیج دیا جائے گا۔ اس کے منہ میں خاک!
حماس اور اسرائیلی حکومت کے مابین 7 اکتوبر 2023ء کو شروع ہونے والی جنگ ٹھیک دو برس کے بعد 10 اکتوبر 2025ء کو سیز فائر کے ذریعے بند ہوئی ۔ امریکہ‘ قطر‘ مصر اور ترکیہ نے سفارتکاری سے کام لیتے ہوئے یہ معاہدہ کرایا مگر نیتن یاہو نے فائر بندی کا حقیقی احترام نہیں کیا۔ اب اکتوبر 2026ء کی آمد آمد ہے‘ گویا معاہدہ ہوئے ایک برس گزر چکا مگر اس دوران اسرائیل نے اپنے اوپر عائد کردہ ذمہ داریاں پوری نہیں کیں۔ اہلِ غزہ کیلئے غذائی وطبی امداد کو بلا روک ٹوک آنے نہیں دیا۔ اس دوران اسرائیل نے بار بار فائر بندی کی خلاف ورزیاں کیں اور فضائی و زمینی حملوں سے اہلِ غزہ کو نشاہ بنایا‘ اور عورتوں اور بچوں کو اُنکے کیمپوں اور کھنڈرات میں شہید کیا۔ اس سے پہلے دو سالہ جنگ میں اسرائیل نے کم از کم 80 ہزار اہلِ غزہ کو شہید کیا اور تقریباً پونے دو لاکھ کو شدید زخمی کیا۔ اتوار کے روز 62بچوں سمیت ایک سو میتوں کو کھنڈرات سے نکال کر دفن کیا گیا۔ اس دوران دنیا نے لائیو دیکھا کہ کیسے ظالم اسرائیلی حکومت نے غزہ کے بچوں‘ بوڑھوں اور جوانوں کو خوراک کے چند لقموں کیلئے تڑپایا۔ اسرائیل کے انہی غیر انسانی مظالم کی بنا پر ساری دنیا میں اسکی مذمت کی گئی۔ دو اسرائیلی وزیروں کی طرف سے اہلِ فلسطین کی غزہ سے نسلی تطہیر کے بارے میں اقوام متحدہ کے شعبۂ انسانی حقوق نے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ گزشتہ جمعرات اور جمعہ کے روز انتہا پسند اسرائیلی وزیروں کے غیر انسانی منصوبے کی یو این نے شدید مذمت کی اور اسے اقوام متحدہ کے چارٹر کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔
دوسری طرف اسرائیلی فوج‘ پولیس اور دیگر سکیورٹی فورسز ٹینکوں اور بندوقوں کے زور پر مغربی کنارے کے فلسطینیوں کو پناہ گزین کیمپوں اور اُن کے ملکیتی گھروں سے جبری طور پر بے دخل کر رہی ہیں۔ اُن کی زمینوں پر غیر قانونی عمارات تعمیر ہو رہی ہیں۔ 2025ء میں غاصب فورسز نے 33 ہزار فلسطینیوں کو کیمپوں سے نکالا اور جون 2026ء میں مغربی کنارے کے علاقے جنین‘ نور شمس اور طولکرم سے 33 ہزار سے زائد فلسطینیوں کو بے دخل کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق آفس کے مطابق اس جارحانہ اور بہیمانہ کارروائی کیلئے جہازوں سے بمباری اور ٹینکوں سے گولہ باری کی گئی اور بلڈوزروں سے ملبے کو صاف کیا گیا۔ حال ہی میں مغربی کنارے کے ایک کیمپ پر اسرائیلی آپریشن کے دوران دلوں کو تڑپا دینے والا منظر دیکھنے میں آیا‘ جب ایک فلسطینی خاتون تمام تر حملہ آوروں کو نظر انداز کرتے ہوئے کیمپ میں موجود ایک درخت سے لپٹ گئی۔ اس نے کہا کہ تم میری سرزمین‘ میرے کیمپ اور میرے شجر سے مجھے جدا نہیں کر سکتے۔ صاحبو! کیسی بے بسی ہے بیچارے فلسطینیوں کی۔ زمین اُنکی‘ ریاست اُنکی‘ ملکیت اُنکی مگر انہیں بزور بندوق وہاں سے بے دخل کیا جا رہا ہے۔ 1948ء میں بھی صہیونی غاصب لاکھوں فلسطینیوں کو ارضِ فلسطین سے باہر دھکیل چکے ہیں۔ انہیں بچانیوالا اور غاصب اسرائیلیوں کو غیر قانونی اقدام سے روکنے والا کوئی نہیں۔
اسرائیلیوں کے یہ گھناؤنے عزائم و جرائم سامنے آنے پر گزشتہ جمعۃ المبارک کو حماس کے قائدین نے دنیا بھر کے عربوں اور مسلمانوں سے بھرپور اپیل کی ہے کہ وہ اسرائیلی وزیروں کی فلسطینیوں کی غزہ سے جبری بے دخلی کے زہریلے بیانات کا فی الفور نوٹس لیں اور غاصب صہیونی ریاست کو شٹ اَپ کال دیں۔ حماس کے ترجمان حازم قاسم نے دنیا بھر کے مسلمانوں کو پکارا ہے۔ اس وقت دنیا کی کُل آبادی تقریباً سوا آٹھ ارب ہے۔ اس آبادی میں سے دو ارب مسلمان ہیں؛ یعنی دنیا کی آبادی کا ایک چوتھائی! جبکہ اسرائیل کی آبادی زیادہ سے زیادہ ایک کروڑ ہے۔ امریکہ اور اسرائیل نے جب ایران پر مشترکہ جنگ مسلط کی تھی تو ایران نے صرف میزائلوں کی قوت سے اسرائیل کو ناقابلِ فراموش سبق سکھایا ۔ تاہم اسے مزید سبق سکھانے کی ضرورت ہے۔ 6 ستمبر بروز اتوار پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک‘ جن میں ترکیہ‘ سعودی عرب‘ قطر‘ مصر‘ انڈونیشیا‘ متحدہ عرب امارات اور اردن شامل ہیں‘ نے اسرائیلی وزیروں کی طرف سے اہلِ غزہ کی بے دخلی کے حوالے سے جو ہرزہ سرائی کی گئی ہے‘ اس کی بھرپور مذمت کی ہے۔ تاہم ملتِ اسلامیہ کو معلوم ہونا چاہیے کہ اب معاملہ مذمت کے رسمی بیانات سے کہیں آگے بڑھ چکا ہے۔ رابطہ عالم اسلامی اور او آئی سی جیسی عرب اور اسلامی ممالک پر مشتمل تنظیمیں تو زمانے سے موجود ہیں مگر ان کا دائرہ کار بڑا محدود تھا۔ 7 اگست 2026ء کو مقدس ترین شہر مکۃ المکرمہ میں سعودی عرب‘ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان ایک تاریخی معاہدہ طے پایا‘ جس میں حرم کی پاسبانی بھی ہے اور عالم اسلام کی نگرانی بھی۔ اس مشترکہ دفاعی معاہدے کے بعد گمان یہ تھا کہ ''گریٹر اسرائیل‘‘ کیلئے غاصب صہیونی ریاست کے قدم رک جائیں گے‘ نیز اسرائیل ارضِ فلسطین اور دیگر عرب ملکوں کے بارے میں زبان سنبھال کر بات کرے گا۔ عالمی تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس معاہدے کا واضح سگنل اسرائیل تک پہنچے گا اور مستقبل میں وہ محتاط بھی ہو جائے گا اور فلسطینیوں کو اُن کی زمین پر حاصل مالکانہ حقوق کے سلسلے میں بھی کوئی مداخلت اور جارحیت نہیں کرے گا۔ مگر خوئے بد اتنی جلدی اپنا رویہ بدلنے پر آمادہ نہیں ہوتی۔ اب مکہ دفاعی معاہدے کی طرف سے اسرائیل کو ایک واضح پیغام جانا چاہیے۔ دوسری طرف امریکہ اور ایران کے مابین ایک بار پھر بڑھتی ہوئی کشیدگی کو ختم کرانے‘ ایک دوسرے کے بحری جہازوں پر حملے رکوانے اور معاہدۂ اسلام آباد کے مطابق فریقین کو مذاکرات کی میز پر فیصلہ کن بات چیت کیلئے لانے کی بھی ضرورت ہے۔
صدر ٹرمپ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر پر اعتماد کا اظہار کرتے ہیں اور اس جنگ سے نکلنا بھی چاہتے ہیں‘ مگر ساتھ ساتھ اپنی اَنا کی کلغی بھی بلند رکھنا چاہتے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان پر اعتماد کریں اور پاکستانی قیادت ایک بار پھر شٹل ڈپلومیسی کو اپنا مشن بنائے اور امریکہ اور ایران کے مابین پائیدار امن کا معاہدہ یقینی بنائے۔ بلاشبہ ایران گزشتہ کئی ماہ سے فولادی عزم کا مظاہرہ کر رہا مگر زمینی حقائق‘ بڑھتے معاشی مسائل اور خطے کے مسلم ممالک کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے خدشات کے پیش نظر ایران کو مدبرانہ حکمت عملی سے کام لیتے ہوئے امریکہ کیساتھ امن معاہدے کا موقع نہیں گنوانا چاہیے۔ نیٹو کی طرز کا مسلم دفاعی اتحاد خواب وخیال اور تمنا و خواہش سے آگے بڑھ کر ایک حقیقت بن چکا۔ اسلامی دنیا کے تین مضبوط ترین ممالک کے بعد دیگر بہت سے مسلم ممالک اس دفاعی اتحاد کا حصہ بننے کے خواہشمند ہیں۔اس معاہدے کے مطابق مذکورہ تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر حملہ تینوں پر حملہ تصور ہوگا۔ معاہدۂ مکہ کا فورم غزہ اور مغربی کنارے کو دفاعی معاہدے کا حصہ ڈکلیئر کر کے اسرائیل کو واضح پیغام دے کہ ارضِ فلسطین پر کوئی حملہ ہم سب پر حملہ تصور ہوگا اور ہم فلسطینی بھائیوں کے دفاع کیلئے مشترکہ ردعمل سے کام لیں گے۔ اسرائیل یو این او کی قراردادوں کے مطابق جون 1967ء کی حدود میں واپس جائے‘ فلسطینی علاقے خالی کرے اور دو ریاستی فارمولے پر عملدرآمد کرے‘ وگرنہ محض مذمت کا زمانہ لد چکا‘ اب امتِ مسلمہ مل کر ارضِ فلسطین کا دفاع کرے گی۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved