تحریر : شاہد کاردار تاریخ اشاعت     08-09-2026

پیداواری شعبہ کو سزا دینے کا نظام

ہم نے گزشتہ کالموں میں ملک کے ٹیکس نظام کا جائزہ لیتے ہوئے دیکھا کہ یہ نظام رسمی اور دستاویزی کاروبار پر بے تحاشا مالی بوجھ ڈالتا اور اسے سزا دیتا ہے۔ اس نظام کے کئی متنازع پہلو ہیں جن پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے مثلاً ملک میں رائج جنرل سیلز ٹیکس کا نظام بھی ایک بڑے ساختی تضاد کا شکار ہے۔ یوں تو ملک میں جنرل سیلز ٹیکس کی شرح بلند ہے جو اس وقت 18 فیصد ہے لیکن یہاں ایک صاف‘ جدید‘ ویلیو ایڈیشن پر مبنی ٹیکس (وی اے ٹی) کا نظام موجود نہیں۔ اِن پٹ کریڈٹ کا سلسلہ ٹوٹ چکا ہے اور اس کی وجوہات ہیں: وسیع پیمانے پر ٹیکس سے استثنا‘ خصوصی شرحیں‘ دستاویزی کمزوریاں‘ پرچون شعبہ میں کمزور تعمیل‘ ٹیکس واپسی (ریفنڈ) کے تاخیری طریقہ کار اور وفاقی و صوبائی قانونی دائرہ اختیار کا باہمی تصادم۔ درست طور پر تشکیل دیا جائے تو ویلیو ایڈیشن ٹیکس صرف آخری صارف کے خرچ پر عائد ہوتا ہے جبکہ کاروباری مراحل کے درمیان ہونیوالے تمام لین دین پر ٹیکس نہیں لگتا کیونکہ ان پر اِن پٹ ٹیکس کریڈٹ کا نظام لاگو ہوتا ہے۔ پاکستان میں صورتحال یہ ہے کہ جنرل سیلز ٹیکس اکثر پیداوار اور رسمی معیشت پر براہِ راست ٹیکس میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ قوانین کی پابندی کرنیوالے کاروبار بروقت ان پٹ ٹیکس کا کریڈٹ (کٹوتی) حاصل نہیں کر پاتے۔ اسکا بڑا سبب ہیں: ڈیجیٹل نظام میں رکاوٹیں یا غیر تصدیق شدہ سپلائرز۔ جنرل سیلز ٹیکس کی واجب الادا ریفنڈ کی رقوم بھی اکثر سرکاری ادارے جان بوجھ کر روک لیتے ہیں تاکہ ماہانہ ٹیکس وصولی کے اعداد و شمار کو مصنوعی طور پر زیادہ ظاہر کر سکیں۔ سیلز ٹیکس کے نظام کی ساختی مضبوطی کو حالیہ قانون سازی نے مزید نقصان پہنچایا ہے‘ خصوصاً سیلز ٹیکس قانون کے تیسرے ضمیمہ کے ذریعے شامل کی گئی شقوں نے۔ تیار شدہ اشیا کے کارخانے سے نکلنے کے مقام پر ٹیکس وصولی کو بنیادی ذریعہ بنا لیا گیا ہے۔ یوں اس نظام نے جنرل سیلز ٹیکس کو صارف پر ٹیکس کے بجائے عملاً پیداوار پر ایکسائز ڈیوٹی میں تبدیل کر دیا ہے۔ اس تبدیلی سے مقامی صنعتکاروں پر بھاری بوجھ پڑ گیا ہے جبکہ تھوک اور پرچون تجارت کے وسیع شعبے بڑی حد تک نگرانی سے باہر ہیں۔
پاکستان میں غیر منقولہ جائیداد (رئیل اسٹیٹ) پر ٹیکس کا نظام بھی بگڑا ہوا ہے۔ موجودہ فریم ورک ایسا ہے جس میں جائیداد کی خرید و فروخت کے عمل کو متعدد ٹیکسوں کی صورت میں سزا ملتی ہے۔ جب بھی کوئی جائیداد خریدی یا فروخت کی جاتی ہے تو اس پر کیپٹل گین ٹیکس‘ سٹیمپ ڈیوٹی‘ منتقلی کے محصولات اور ایڈوانس ٹیکس عائد کیے جاتے ہیں۔ اس نظام سے جائیداد کی خرید و فروخت میں روانی کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے‘ اثاثوں کی حقیقی قدر مسخ ہوتی ہے اور خریدار اور فروخت کنندہ دونوں کو ترغیب ملتی ہے کہ وہ دہرے معاہدوں کے ذریعے لین دین کی اصل مالیت کم ظاہر کریں۔
حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ہاں تعمیر شدہ عمارت پر تو ٹیکس ہے لیکن خالی پلاٹ پر کوئی ٹیکس نہیں ہے۔ ہمارے پورے صوبہ پنجاب کی پراپرٹی ٹیکس کی مد میں وصولی ممبئی شہر کی اس مد میں وصولی کے 10 فیصد سے بھی کم ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ جائیداد پر ٹیکس کا بگڑا ہوا ڈھانچہ ہے۔ صرف تعمیر شدہ جائیداد پر پراپرٹی ٹیکس عائد ہوتا ہے جبکہ خالی‘ غیر استعمال شدہ اور ڈویلمپنٹ کی منتظر زمین پر تقریباً کوئی سالانہ مستقل ٹیکس نہیں لگتا حالانکہ اس کی قیمت سڑکوں‘ گلیوں کی تعمیر‘ پانی‘ نکاسی آب اور پارکوں پر ہونے والے سرکاری اخراجات کے باعث مسلسل بڑھتی رہتی ہے لیکن سرکاری ادارے پلاٹ مالکان سے ان اخراجات کی وصولی میں ناکام رہتے ہیں۔ ایک مؤثر ٹیکس ڈھانچہ ہو تو اس میں زمین کی ملکیت پر مارکیٹ کی قیمت کی بنیاد پر قابلِ پیش گوئی سالانہ پراپرٹی ٹیکس عائد کیا جانا چاہیے جبکہ خرید و فروخت کے مرحلہ پر عائد محصولات میں نمایاں کمی کی جانی چاہیے۔ ایسی تبدیلی سے قیاس آرائی کی غرض سے زمین روک کر رکھنے (ڈویلمپنٹ کی منتظر پراپرٹی خریدنے) کی حوصلہ شکنی ہو گی‘ رہائش کی لاگت کم ہوگی اور یہ عمل غیر منقولہ جائیداد کو اس کے بہترین معاشی استعمال کی طرف لے جائے گا۔ اس کے برعکس‘ پاکستان کی پالیسی ایسی ہے جو جائیداد کی خرید و فروخت کے عمل کو سزا دیتی ہے جبکہ غیر پیداواری دولت کے ذخیرہ کو تحفظ فراہم کرتی ہے۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو پاکستان کی ٹیکس پالیسیاں پیداواری سرمایہ کو سزا دیتی ہیں جبکہ غیر پیداواری دولت جمع رکھنے کو انعام دیتی ہیں۔ ایک باقاعدہ کمپنی قائم کرنا‘ ہنرمند ملازمین کو ملازمت دینا‘ صنعتی مشینری درآمد کرنا‘ دستاویزی فروخت میں اضافہ کرنا اور رسمی بینکاری ذرائع استعمال کرنا‘ ان سب پر بھاری مالی بوجھ عائد کیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس‘ کچھ ایسے کام ہیں جن سب پر ٹیکسوں کی شکل میں بہت کم مالی لاگت آتی ہے جیسے شہری علاقوں میں خالی پلاٹوں کو قیاس آرائی کی غرض سے سنبھال کر رکھنا‘ غیر ریکارڈ شدہ غیر رسمی کاروبار چلانا‘ غیر دستاویزی نقد دولت جمع کرنا اور بغیر ٹیکس والی زرعی سرگرمیوں میں مشغول رہنا۔ اسی صورتحال سے واضح ہو جاتا ہے کہ نجی سرمایہ صنعتی ایجاد و اختراع اور کاروباری اداروں کی نشوونما میں کیوں نہیں لگایا جاتا اور اسکے بجائے پلاٹوں کی خرید و فروخت اور کرایہ خوری پر مبنی سرگرمیوں کا رُخ کیوں کرتا ہے۔
پاکستان کے ٹیکس قوانین پر عمل درآمد کا انتظامی طریقہ کار بھی ایسا ہے جس سے یہ ساختی نقصان مزید بڑھ جاتا ہے۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران ایف بی آر نے مالی معلومات کا بے پناہ ذخیرہ جمع کر لیا ہے اور یہ کام لازمی بینکاری ریکارڈ‘ گاڑیوں کی رجسٹریشن اور جائیداد کے دستاویزات کے ذریعے کیا گیا۔ تاہم صرف معلومات تک رسائی انتظامی قابلیت کے مترادف نہیں ہوتی۔ محصولات جمع کرنے والا ایک جدید اور مؤثر ادارہ تیسرے فریق سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کو کئی مقاصد کیلئے استعمال کرتا ہے جیسے ہدفی (ٹارگٹڈ) اور رسک کی بنیاد پر آڈٹ کرنا‘ دولت میں بڑے تفاوت کی نشاندہی اور تنازعات کا فوری تصفیہ۔ اس کے برعکس‘ پاکستان کی ٹیکس انتظامیہ اکثر انہی معلومات کو کچھ اور کاموں کے لیے استعمال کرتی ہے جیسے ود ہولڈنگ ٹیکس کٹوتیوں کے جواز کے طور پر اور آڈٹ کے لاتعداد نوٹس دینے کے لیے۔ ان معلومات کو لین دین پر ایسے محصولات لگانے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے جو بعد میں ایڈجسٹ نہیں ہوتے۔ مزید یہ کہ اس ڈیٹا کو بینک اکاؤنٹس کو منجمد کرنے‘ نئے ٹیکس دہندہ کیٹیگریز کو تشکیل دینے اور رجسٹرڈ ٹیکس دہندگان کے خلاف دباؤ پر مبنی وصولی کی مہمات چلانے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ طریقہ کار قلیل مدت میں ٹیکس وصولی تو ممکن بنا دیتا ہے مگر اور چیزیں بھی جنم لیتی ہیں جیسے عدالتی مقدمات‘ ہراسانی‘ کاروباری خلل‘اداروں پر گہرا عدم اعتماد۔ مزید برآں‘ موجودہ ٹیکس بنیاد سے ہی قلیل مدت میں زیادہآمدنی حاصل کرنے کی کوشش کا یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ طویل مدت میں ٹیکس بنیاد کو وسیع کرنے کا عمل مسلسل کمزور ہوتا جاتا ہے۔
ٹیکس اصلاحات پر کوئی بھی بحث اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتی جب تک قومی بیلنس شیٹ کے اخراجات کا جائزہ نہ لیا جائے۔ شہریوں اور کاروباری اداروں سے یہ مطالبہ نہیں کیا جا سکتا کہ وہ غیر معینہ مدت تک بڑھتے ہوئے ٹیکس کا بوجھ برداشت کریں جبکہ وہ دیکھ رہے ہیں کہ ریاست بے تحاشا غیر ضروری اخراجات کرتی جا رہی ہے جن میں ضرورت سے زیادہ بڑی انتظامی افسر شاہی‘ ناقابلِ عمل سرکاری ادارے‘ بے تحاشا مراعات‘ مہنگے سرکاری پروٹوکول‘ بااثر طبقے کے خصوصی الائونسز اور کم افادیت رکھنے والی صوابدیدی ترقیاتی سکیمیں شامل ہیں۔ جو حکومت اپنے اخراجات کو معقول بنانے سے انکار کرتی ہے اس کے پاس یہ اخلاقی جواز نہیں رہتا کہ وہ اپنے شہریوں سے مالی قربانی طلب کرے۔ پاکستان کو درمیانی مدت کا ہدف مقرر کرنا چاہیے کہ ٹیکس اور جی ڈی پی کے تناسب کو 15 یا 16 فیصد تک پہنچایا جائے‘ لیکن موجودہ ٹیکس شرحوں میں اضافہ کرنے‘ نئے اضافی ٹیکس متعارف کرانے‘ یا ناقابلِ ایڈجسٹ سورس پر ٹیکس کٹوتیوں میں مزید اضافہ کر کے اس ہدف کو حاصل کرنے کی کوشش کی گئی تو معیشت کا سکڑاؤ مزید تیز ہو جائے گا۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved