تحریر : رؤف کلاسرا تاریخ اشاعت     09-09-2026

صدر زرداری جس لڑائی سے ڈرتے تھے

صدر زرداری پر یہ وقت بھی آنا تھا کہ اب ان کے منہ زبانی برخوردار محسن نقوی ان کو لندن یہ سمجھانے گئے کہ وہ صوبوں کی تقسیم کو مان لیں۔ تاہم زرداری صاحب راضی نہیں ہوئے تو پاکستان واپس پہنچ کر اگلے ہی روز محسن نقوی صاحب نے لاہور میں زور دے کر کہا کہ صوبے تو بنیں گے‘ چاہے کچھ بھی ہو جائے۔ ان کی اس بات سے مجھے پنجاب کی وزیر مریم اورنگزیب صاحبہ کا ایک پرانا بیان یاد آگیا جس میں وہ پی ٹی آئی والوں کو کسی بات پر طعنہ دے رہی تھیں کہ اب روئیں یا پٹیں... یہ کام تو ہوگا۔ یہی کچھ اب محسن نقوی صاحب نے کہا ہے کہ صوبے تو بنیں گے۔ میرا خیال ہے کہ زرداری صاحب 2008ء سے جس لڑائی سے بچتے چلے آ رہے تھے آخرکار اب وہ ان کے دروازے پر دستک دے رہی ہے۔ انہیں مقتدرہ کے ساتھ کچھ معاملات طے کرنا پڑیں گے‘ تاہم اس دفعہ جو کچھ اُن سے مانگا جا رہا ہے صدر زرداری وہ دینے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ ممکن ہے کہ انکار کی صورت میں وہ اپنا عہدہ یا حکومت کھو بیٹھیں لیکن کم از کم وہ اپنا سیاسی ووٹ بینک اور سندھ میں اپنی وراثت کو بچا لیں گے۔ سیاستدان لمبی ریس کا گھوڑا ہوتا ہے‘ وہ وقتی سیاسی نقصانات برداشت کر کے طویل مدتی مفادات پر نظر رکھتا ہے۔ اس لیے زرداری صاحب کو یہ سُوٹ کرے گا کہ وہ اپنی پارٹی پر سے پرو مقتدرہ لیبل اتاردیں اور سیاسی مزاحمت کریں۔ زرداری صاحب نے 2008ء سے ایک سبق سیکھ رکھا ہے کہ کسی سے پھڈا نہیں کرنا! ایک دفعہ بینظیر بھٹو کی برسی پر تقریر کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ گڑھی خدا بخش کا قبرستان بھر چکا ہے‘ اب ہم مزید قربانیاں نہیں دیں گے‘ اب کوئی اور اپنی جان کا نذرانہ دے۔ ان کا اشارہ نواز شریف کی طرف تھا کہ آپ مقتدرہ سے لڑنا چاہتے ہیں تو ضرور لڑیں لیکن اس لڑائی میں ہم شامل نہیں ہوں گے۔
زرداری صاحب نے مفاہمت کے نام پر سیاست کی‘ اگرچہ اس کے پیچھے ان کے مالی اور سیاسی فوائد بھی تھے لیکن انہوں نے اٹھارہ برس تک اس سلسلے کو کامیابی سے چلایا ہے اور کہیں بھی مزاحمت نہیں کی۔ بلکہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ ایک سمجھداری کی اور بھٹو صاحب کے واقعے سے یہ سبق سیکھا کہ بہتر ہے کوئی آرمی چیف نہ لگایا جائے۔ اسے اتفاق سمجھیں یا حالات ایسے بن گئے کہ پیپلز پارٹی کو تین دفعہ مرکز میں حکومت ملی لیکن جنرل ضیا کے بعد پیپلز پارٹی حکومت نے کوئی آرمی چیف نہیں لگایا۔ اس کے برعکس نواز شریف (اور اب شہباز شریف) نے چار پانچ آرمی چیف لگائے اور اس کی قیمت بھی بھگتی۔ بھٹو کے 34 سال کے بعد یوسف رضا گیلانی دور میں پیپلز پارٹی کو موقع ملا تھا کہ وہ نیا آرمی چیف تعینات کرتے لیکن انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ کوئی رسک نہیں لیں گے اور جنرل اشفاق پرویز کیانی کو ہی مدتِ ملازمت میں تین سال کی توسیع دے دی۔ ساتھ میں ڈی جی آئی ایس آئی جنرل شجاع پاشا کو بھی دو دفعہ توسیع دی۔ اس معاملے میں زرداری بڑے واضح تھے کہ ہمیں کیا ضرورت پڑی ہے کہ اپنا بندہ ڈھونڈتے رہیں‘ اس کی ذات برادری یا ضمانتیں لیتے رہیں‘ جیسے نواز شریف کرتے تھے‘ لہٰذا بہتر ہے کہ جو چیف چلا آ رہا ہے اسے ہی اپنے ساتھ رکھو۔ دیکھا جائے تو بھٹو کے بعد تین دفعہ وفاقی حکومت اور ایک دفعہ موقع ملنے کے بعد بھی پیپلز پارٹی نے نیا آرمی چیف نہیں لگایا۔ دوسری طرف نواز شریف کو بھی تین دفعہ حکومت ملی اور ان کے دور میں کسی نہ کسی چیف کی مدت پوری ہو چکی ہوتی۔ میاں صاحب نے مگر ماضی سے سبق نہیں سیکھا اور ہر دفعہ وہی جان پہچان‘ قوم برادری‘ لابنگ یا ذاتی ضمانتوں پر بھروسہ کرتے رہے اور ایک جنرل بھی ان کے کام نہیں آیا۔ وہی بات کہ اس معاملے میں زرداری صاحب کی حکمت عملی ٹھیک رہی کہ ریٹائر ہونا ہے تو ہو جائیں‘ نہیں ہونا تو ہمیں کوئی مسئلہ نہیں‘ تین سال مزید چیف لگ جائیں۔
اب سوال یہ ہے کہ نواز شریف کو اس کا نقصان کیسے ہوا؟ نواز شریف کو اس کے کئی نقصانات ہوئے۔ پہلی بات تو یہ کہ وہ جب کسی کو لابنگ یا ضمانت پر آرمی چیف لگاتے تو صاف ظاہر ہے انہیں علم ہوتا تھا کہ وہ کسی ایک جنرل کو فیور دے رہے ہیں‘ ورنہ تین چار دیگر بھی موجود تھے۔ جب آپ کسی کو اس سوچ کے ساتھ تعینات کرتے ہیں تو پھر اس کام کو اپنی ذمہ داری سے زیادہ ایک احسان سمجھ لیتے ہیں۔ اس طرح اگلے بندے پر بھی دبائو رہتا ہے اور آپ اس کی کسی بھی پروفیشنل بات کو احسان فراموشی سمجھ لیتے ہیں۔ یوں ٹکرائو کا آغاز اور گلہ شکوہ شروع ہو جاتا ہے۔ ان سب کا جو نتیجہ نکلتا ہے وہ ہم سب دیکھ چکے‘ بلکہ نواز شریف صاحب تو بھگت بھی چکے۔ یہی کام عمران خان نے بھی کیا اور جنرل فیض حمید کی حد تک کرنے کی کوشش کی اور ایسے الجھے کہ ابھی تک پھنسے ہوئے ہیں۔ لیکن زرداری صاحب کم از عسکری معاملات سے دور رہے اور یوں اس طرح براہِ راست ٹکرائو نہیں ہوا‘ جو نواز شریف اور عمران خان کا ہوا اور ہوا بھی آرمی چیف؍ ڈی جی آئی ایس آئی کے ایشوز پر۔
اگرچہ وزیراعظم گیلانی حکومت کے جنرل کیانی سے اختلافات ہوئے لیکن اس حد تک نہیں گئے کہ صدر زرداری یا گیلانی صاحب جیل جا بیٹھتے‘ جیسے نواز شریف اور عمران خان کے ساتھ ہوا۔ جب آپ کسی کو اوپر لاتے ہیں تو باقی سپر سیڈ ہو جاتے ہیں اور چیف نہیں بن پاتے‘ اس سے نہ صرف انہیں تکلیف پہنچتی ہے بلکہ ان کے سینکڑوں بیچ میٹس‘ کورس میٹس اور یار دوست بھی رنجیدہ ہو جاتے ہیں کہ ان کا بندہ وزیراعظم نے چیف نہیں لگایا ‘لہٰذا دھیرے دھیرے سرگوشیاں اور پھر ناراضیاں شروع ہو جاتی ہیں۔ جب جنرل قمر جاوید باجوہ کو چیف لگایا گیا تو ان کے سینئر افسران‘ جو چیف نہ لگ سکے تھے‘ ریٹائرمنٹ کے بعد بڑے عرصے تک ٹویٹر پر نواز شریف اور ان کی پارٹی پر تبرا پڑھتے رہتے تھے۔ جو سوشل میڈیا پر نہیں بولتے وہ چینلز پر یا نجی محفلوں میں غم وغصے کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔بہت سے افراد نواز شریف کے ایسے فیصلوں سے دل جلے بیٹھے تھے تو اس کا فائدہ عمران خان کو ہوا۔ زرداری صاحب سیانے تھے‘ سول ملٹری لڑائی سے دور بھاگتے رہے‘لیکن اب لگتا ہے کہ آخر وہ لڑائی دہلیز تک پہنچ گئی ہے۔ اب انہیں صوبوں کے ایشوز پر ایک سٹینڈ لینا پڑے گا‘ ورنہ سندھ میں ان کی پارٹی اپنا ووٹ بینک کھو بیٹھے گی۔ زرداری صاحب اس معاملے میں بڑے واضح ہیں کہ وہ سندھ میں نئے صوبے بنانے کی سرگرمی کا حصہ نہیں بنیں گے۔ اس پر یقینا ان کا ٹکرائو ہوگا اور پیپلز پارٹی پر دبائو بڑھے گا۔ تو کیا صدر زرداری عہدے سے استعفیٰ دیں گے‘ اسمبلیاں چھوڑ دیں گے اور سڑکوں پر مزاحمت کریں گے یا اندر بیٹھ کر لڑائی لڑیں گے اور اپنے مقابل کو موقع دیں گے کہ وہ ان کا تختہ الٹ دیں تاکہ وہ مزاحمت اور مظلومیت کانعرہ لگا سکیں؟ اب مقتدرہ کا بھی امتحان ہے اورصدر زرداری کا بھی۔ دونوں اب تک ایک دوسرے سے لڑائی سے بچتے آئے تھے لیکن لگتا ہے کہ اب مزید بچت نہیں ہو سکے گی۔ وہی بات جو ہزاروں سال پہلے یونانی ڈرامہ نگار سوفوکلیز لکھ گیا ہے کہ کیا کریں... ہونی ہو کر رہتی ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved