بھارت کشمیر کی سیاسی‘ جغرافیائی اور تاریخی اہمیت سے ہمیشہ منحرف اور اسے اپنا اٹوٹ انگ قرار دینے کی ضد اور ہٹ دھرمی پر قائم رہا ہے‘ لیکن کشمیر کی بڑی حقیقت جسے جھٹلایا نہیں جا سکتا وہ یہ ہے کہ کشمیری بھارتی تسلط قبول کرنے کو تیار نہیں۔ بھارت نے کشمیر پر اپنا تسلط قائم رکھنے کیلئے وہاں لاکھوں فوجی تعینات کر رکھے ہیں لیکن کشمیریوں کے دلوں میں بھارت سے نفرت کے علاوہ کوئی جذبہ موجود نہیں۔ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے باوجود آج بھی کشمیر کی قراردادیں اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر ہیں اور مغربی میڈیا کشمیر جیسے سلگتے ایشو کو جنوبی ایشیا کا نیو کلیئر فلیش پوائنٹ قرار دیتا نظر آتا ہے‘ جبکہ بھارت آج تک کشمیر پر اپنے تسلط کے حوالے سے عالمی برادری کو مطمئن نہیں کر سکا۔
حال ہی میں بھارتی دفتر خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے اپنے ایک بیان میں کشمیر کو بھارت کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ چار ستمبر 2026ء کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک قرارداد منظور ہونے کے بعد درست نقشہ سامنے آیا ہے۔ ان کے مطابق قرارداد کا مقصد مساوی رقبے والے نقشے کی پروجیکشنز کے استعمال کی حوصلہ افزائی کرنا ہے جو براعظمی زمینی خطوں کے متعلقہ سائز کو برقرار رکھتے ہیں۔ بھارتی ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ قرارداد کسی مخصوص نقشے کی پروجیکشن یا قومی سرحدوں کی توثیق نہیں کرتی۔ پاکستان کے دفتر خارجہ نے اس کا بروقت نوٹس لیا اور ترجمان دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ انڈیا کے یکطرفہ اقدامات اور مسلسل غیر قانونی قبضہ جموں و کشمیر کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے سرکاری نقشے‘ جن میں جموں و کشمیر کو متنازع علاقہ قرار دیا گیا ہے‘ علاقے کی موجودہ قانونی حیثیت کی واحد نقشہ جاتی نمائندگی ہیں‘ اور انڈیا کے نام نہاد سرکاری نقشوں اور خود مختاری کے یکطرفہ دعوؤں کا اس متنازع علاقے کی حیثیت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ ترجمان کے مطابق جموں و کشمیر کا تنازع اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈا پر موجود سب سے پرانے‘ حل طلب اور تسلیم شدہ تنازعات میں سے ایک ہے جس کا حتمی فیصلہ سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی مرضی کے مطابق ہونا چاہیے‘ جس کا اظہار اقوام متحدہ کی سرپرستی میں ہونے والی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کے ذریعہ کیا جائے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے واضح انداز میں کشمیر جیسے تنازع کی اہمیت و حیثیت اور اقوام متحدہ کے مؤقف و کردار پر روشنی ڈالی ہے‘ لیکن بنیادی ایشو یہ ہے کہ آخر بھارت کشمیر جیسے عالمی تنازع پر کنفیوژن پیدا کرنے اور اس حوالہ سے تاریخ کو مسخ کرنے کے ایجنڈا پر کیوں عمل پیرا ہے‘ اور کیا اس کی یہ مذموم کوشش کارگر ہو پائے گی؟
مسئلہ کشمیر کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو اس مسئلہ کے بنیادی طور پر چار فریق ہیں: پاکستان‘ بھارت‘ کشمیری اور اقوام متحدہ۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ محض بھارت کا مسئلہ نہیں ہے اور نہ اس کا تعلق صرف پاکستان اور بھارت کے درمیان کسی سرحدی تنازع سے ہے۔ یہ مسئلہ دراصل کشمیریوں کے مستقبل سے وابستہ ہے‘ جسے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں وہاں کے عوام کو اپنی مرضی اور بین الاقوامی نگرانی میں منعقد کیے جانے والے استصوابِ رائے کے ذریعہ طے کرنا ہے۔ یہ ان کا حق ہے کہ وہ طے کریں کہ اس ریاست کا الحاق پاکستان سے ہوتا ہے یا بھارت سے۔
بھارت کا ایجنڈا کشمیر کا مسئلہ پیچیدہ بنانا اور حقائق سے انحراف کرکے انہیں مسخ کرنا ہے لیکن اس مسئلے کا استصوابِ رائے سے ہٹ کر کوئی قانونی‘ سیاسی اور اخلاقی حل ممکن نہیں۔ جہاں تک اس کی جغرافیائی حیثیت کا تعلق ہے تو کشمیر بھارت کا حصہ نہیں بلکہ ایک متنازع علاقہ ہے جس کے مستقبل کا فیصلہ کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کے تحت ہونا طے ہے۔ بھارت مستقل طور پر یہ مغالطہ پیدا کرنے کیلئے کوشاں ہے کہ کشمیر اس کا حصہ ہے۔ یہ تاریخی و جغرافیائی حیثیت سے سراسر انکار ہے۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور اس کی علاقائی حیثیت و اہمیت سے ثابت ہے کہ یہ ایک متنازع علاقہ ہے۔ کیا بھارت نے طاقت کے ذریعہ یہاں اپنا تسلط قائم کرنے کے ساتھ کبھی سوچا ہے کہ اس کی پالیسیاں کشمیر کو اس کیلئے دردِ سر بنا چکی ہیں؟ یہاں کے عوام بھارت اور یہاں مسلط اس کی افواج سے نفرت کرتے ہیں۔ آج مقبوضہ وادی کی مسلم آبادی ان کے خلاف ہے اور بھارت سے مستقل آزادی ہی اسے اپنے لیے بہتر مستقبل اور زندگی کا سامان نظر آ رہا ہے۔ کیا یہ امر بھارت کیلئے لمحۂ فکریہ نہیں کہ خود کو دنیا کی بڑی جمہوریت کہنے والے ملک کے کشمیر پر جبری تسلط اور قبضے نے اس کے اس دعوے کو تار تار کر دیا ہے؟
مقبوضہ کشمیر میں جمہوری اداروں اور بار بار کے انتخابی عمل کو دراندازی اور بدعنوانی کے ذریعہ تباہ کر دیا گیا اور دہلی سرکار یہ ماننے کو تیار نہیں کہ اس ریاست میں کٹھ پتلی حکومت کے سوا کوئی برسراقتدار ہو۔ دہلی کے حکمرانوں نے کشمیر کے عوام کی خواہشات کا کوئی احترام نہیں کیا اور کشمیر کو زور و زبردستی سے اپنے ساتھ رکھنے اور یہاں فوج مسلط کرنے کا عمل بھی ان کے خزانہ پر بوجھ ڈال رہا ہے۔ بھارت کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمہ کے باوجود کشمیر کی صورتحال سے خوفزدہ ہے۔ اسے خوب معلوم ہے کہ جب بھی کشمیریوں کو موقع ملے گا وہ خود کو بھارتی تسلط سے آزاد کرنے کا سوچیں گے۔ یہی خوف بھارت کو کشمیر بارے نت نئے ہتھکنڈوں پر مجبور کرتا ہے۔ ویسے بھی اب علاقائی صورتحال میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے کردار نے بھارتی لیڈرشپ پر خوف طاری کر رکھا ہے۔ امریکہ ایران جنگ بندی میں پاکستان کے ثالثی و سفارتی کردار پر جب دنیا پاکستان کو سراہتی نظر آتی ہے تو بھارتی لیڈرشپ پر یہ خوف طاری ہو جاتا ہے کہ پاکستان کسی نہ کسی مرحلہ پر کشمیر کاز سے اپنی کمٹمنٹ کا آغاز ضرور کرے گا‘ اور بھارت کیلئے اس چیلنج سے نمٹنا آسان نہیں ہوگا۔ ویسے بھی علاقائی سیاست کے تناظر میں چین بھی پاکستان کو یہ مشورہ دیتا نظر آ تا ہے کہ یہی وقت ہے کہ مسئلہ کشمیر کا کوئی پائیدار اور منصفانہ حل تلاش کیا جائے تاکہ خطے میں امن و استحکام یقینی بنے۔ یہی وجہ ہے کہ کشمیر کاز پر اپنا مضبوط سیاسی کیس نہ رکھنے کے باوجود اب بھارت عالمی نقشہ جاتی نمائندگی پر چھیڑ چھاڑ شروع کر رکھی ہے‘ اور اقوام متحدہ کی چار ستمبر کو پاس ہونیوالی قرارداد کو بنیاد بنا کر یہ کہتا نظر آتا ہے کہ کسی مخصوص نقشے کی پروجیکشن یا قومی سرحدوں کی عکاسی کی توثیق نہیں کرتی اور یہ کہ کشمیر اور لداخ کو بھارتی نقشے کے مطابق دکھایا جانا چاہیے۔ جس کا پاکستان نے نوٹس لیا اور واضح کیا کہ اقوام متحدہ کے سرکاری نقشے‘ جن میں جموں و کشمیر کو متنازع علاقہ قرار دیا گیا ہے وہی کشمیر کی موجودہ قانونی حیثیت کی واحد نقشہ جاتی نمائندگی ہے۔ مذکورہ موقف حقائق پر مبنی ایک بھرپور وضاحت ہے۔ لیکن بھارت کی جانب سے کشمیر کی بین الاقوامی حیثیت کو اب نقشوں سے چھیڑ چھاڑ کے ذریعہ متاثر کرنے کی کوشش اسکی روایتی بدنیتی‘ ضد اور ہٹ دھرمی کا ثبوت ہے۔ آج جب خطہ میں امن و استحکام بارے پاکستان اتنا بڑا اور بنیادی کردار ادا کرتا نظر آ رہا ہے تو ہمیں اپنے اس ایشو کی فکر بھی کرنی چاہیے۔ آج ہمارے پاس عالمی و علاقائی محاذ پر بھرپور مواقع ہیں کہ ہماری بات سنی بھی جا رہی ہے اور پاکستان کی امن کے حوالے سے سفارتی پوزیشن کو تسلیم بھی کیا جا رہا ہے۔ تو اس ایشو کو بھی اجاگر کیا جائے۔ عالمی برادری اور یو این او پر اس سلگتے ایشو کے حل کیلئے دباؤ بڑھانا چاہیے۔حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ اس خطے کا نیو کلیئر فلیش پوائنٹ ہے اور اس مسئلے کے حل تک خطے میں امن و استحکام کی کوئی گارنٹی نہیں دی جا سکتی۔ یہ سب سے بڑا سیاسی مسئلہ ہے اور یہ بات چیت کے ذریعہ ہی حل ہونا چاہیے‘ جس کی سپورٹ میں اقوام متحدہ کی مؤثر قراردادیں موجود ہیں۔ جب تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا بھارت اوچھے ہتھکنڈوں کے ذریعہ کشمیر کی متنازع حیثیت پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتا رہا گا‘ اس لیے کہ اس کا کشمیر پر کوئی مضبوط سیاسی کیس نہیں اور وہ مذاکرات کی میز پر پاکستان سے بات چیت سے گریزاں ہے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved