پاکستان میں نئے صوبوں کی بحث جب بھی شروع ہوتی ہے تو فوراً شور اٹھتا ہے کہ صوبے تقسیم کیے جارہے ہیں‘ شناخت خطرے میں ہے اور تاریخ مٹائی جارہی ہے مگر کوئی یہ بنیادی سوال نہیں کرتا کہ اگر ایک انتظامی ڈھانچہ کئی دہائیوں بعد بھی اپنے شہریوں کو صاف پانی‘ سکول‘ ہسپتال‘ سڑک‘ روزگار اور باعزت شہری زندگی نہ دے سکے تو اسے جوں کا توں برقرار رکھنے کی کیا منطق ہے؟ پاکستان کو آج چھوٹے‘ فعال اور مؤثر انتظامی یونٹس کی ضرورت ہے۔ یہ کسی علاقے‘ زبان یا قومیت کے خلاف نہیں بلکہ گورننس کی ضرورت ہے۔ موجودہ صوبائی ڈھانچے کی ناکامی کا شاید سب سے بڑا مقدمہ سندھ پیش کرتا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی 2008 ء سے سندھ میں برسر اقتدار ہے۔ تقریباً دو دہائیاں کسی سیاسی جماعت کیلئے اپنی حکمرانی کی افادیت ثابت کرنے کیلئے کم مدت نہیں‘ لیکن آج کراچی ایک الگ دنیا‘ حیدرآباد دوسری اور اندرون سندھ کے متعدد اضلاع تیسری دنیا کا منظر پیش کرتے ہیں۔ سندھ میں لاکھوں بچے سکولوں سے باہر ہیں‘ سرکاری سکولوں اور بنیادی سہولتوں کی حالت سوال اٹھاتی ہے‘ صحت‘ پانی‘ سیوریج اور انفراسٹرکچر کے مسائل برقرار ہیں‘ کنٹریکٹ‘ پروکیورنمنٹس‘ ترقیاتی سکیمیں اور سرکاری اخراجات پر وقتاً فوقتاً آڈٹ اعتراضات اور بے ضابطگیوں کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔ ہر آڈٹ اعتراض کو کرپشن نہیں کہا جاسکتا اور ہر سیاسی الزام حقیقت نہیں ہوتا لیکن جب ایک ہی نظام کے متعلق برسوں تک مبینہ طورپر کمیشن‘ کٹ‘ پسندیدہ ٹھیکیدار اور اثرورسوخ جیسے الزامات گردش کرتے رہیں تو سوال صرف کسی ایک افسر یا وزیر کا نہیں رہتا بلکہ پورے نظام کی ساکھ کا مسئلہ بن جاتا ہے۔ پیپلز پارٹی کیلئے اب صرف یہ کہہ دینا کافی نہیں کہ سندھ کے عوام ہمیں ووٹ دیتے ہیں‘ سوال یہ ہونا چاہیے کہ طویل اقتدار کے بعد سندھ کے عوام کو ملا کیا؟ کتنے بچوں کو معیاری تعلیم ملی؟ کتنے اضلاع میں صاف پانی پہنچا؟ کتنے سرکاری ہسپتالوں کا معیار بدلا؟ کتنے شہروں میں سیوریج کا مستقل حل نکلا؟ کس حد تک امن و امان کی صورتحال بہتر ہوسکی؟ کتنے اختیارات کراچی‘ حیدرآباد‘ سکھر‘ لاڑکانہ اور ضلعی حکومتوں تک منتقل ہوئے؟ اگر سیاستدانوں کی بات مان لی جائے کہ جمہوریت ہے تو جمہوریت صرف انتخابات جیتنے کا نام نہیں‘ جمہوریت ڈِلیوری اور جوابدہی کا نام ہے۔ کراچی کی مثال اس تضاد کو مزید واضح کرتی ہے۔ پاکستان کی معاشی شہ رگ‘ بندرگاہ‘ صنعت‘ تجارت‘ بینکنگ اور روزگار کا سب سے بڑا مرکز ہونے کے باوجود کراچی پانی‘ سیوریج‘ کچرے‘ ٹرانسپورٹ‘ ٹوٹی سڑکوں‘ اربن فلڈنگ سمیت دیگر مسائل سے لڑتا رہا ہے۔ دوسری جانب اندرون سندھ کا شہری پوچھتا ہے کہ کراچی میں بڑے ہسپتال‘ جامعات‘ روزگار‘ انفراسٹرکچر اور معاشی مواقع اُس کے ضلع تک کیوں نہیں پہنچے؟ یوں کراچی بھی شاکی ہے اور اندرون سندھ بھی محروم ہے۔ یہی کراچی اور سندھ کی اصل بحث ہے جسے لسانی نفرت کے بجائے انتظامی ناکامی کے تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ کراچی کے مسائل میٹروپولیٹن ہیں اسے الگ درجے کی پولیسنگ‘ ماس ٹرانزٹ‘ واٹر گورننس‘ ہائوسنگ‘ ویسٹ مینجمنٹ‘ اربن پلاننگ درکار ہیں‘ جبکہ تھر‘ کشمور یا دوردراز سندھ کی پہلی ترجیحات پانی‘ بنیادی صحت‘ سکول‘ سڑک‘ غذائیت اور مقامی روزگار ہوسکتی ہیں۔ ایک وزیراعلیٰ اور ان کی ایک ہی کابینہ اور کراچی میں بیٹھا ایک سیکرٹریٹ ان مختلف دنیاؤں کو یکساں مؤثر انداز میں کیسے چلا سکتا ہے؟
یہی اصول پنجاب پر لگائیں۔ لاہور کو ٹریفک‘ سموگ‘ ماس ٹرانزٹ‘ پارکنگ اور شہری منصوبہ بندی درکار ہے‘ راجن پور کو سیلاب‘ بنیادی صحت‘ تعلیم‘ پانی اور رابطہ سڑکیں درکار ہیں۔ جنوبی‘ وسطی اور شمالی پنجاب کی معاشی اور سماجی ضروریات الگ ہیں۔ جو حالات سے متعلق دعوے کیے جاتے ہیں حقیقی معنوں میں حالات اس سے کہیں بدتر ہیں‘ سب دکھاوے‘ بیانات اور الفاظ کا گورکھ دھندا ہے۔ یہی صورتحال خیبرپختونخوا میں پشاور سے وزیرستان اور چترال تک اور بلوچستان میں کوئٹہ سے چاغی‘ ژوب اور گوادر تک دکھائی دیتی ہے۔ صوبہ کوئی مقدس پتھر نہیں بلکہ ایڈمنسٹرٹیو انسٹرومنٹ ہے‘ اسکا مقصد انسان کی خدمت ہے اور جب انسٹرومنٹ آبادی اور جغرافیے کا بوجھ سنبھالنے میں ناکام ہوجائے تو اسے تبدیل کرنا تقسیم نہیں‘ اصلاح کہلاتا ہے۔ نئے صوبوں کی مخالفت میں سب سے آسان نعرہ یہ ہے کہ پاکستان تقسیم ہوجائے گا حالانکہ ایڈمنسٹرٹیوڈویژن میں ویژن نہیں ہوتے۔ نئے یونٹس زبان عصبیت پر نہیں آبادی‘ جغرافیہ‘ معاشی صورتحال‘ انتظامی استعداد اورپبلک سروس ڈلیوری کی بنیاد پربنانے پر کام ہورہا ہے تاکہ پاکستان کمزور نہ ہو بلکہ مضبوط بنے اور عوام کو ان کا حق ان کی دہلیز پر مل سکے۔ یہ نظام تب ہی مضبوط ہوگا۔ اصل فلسفہ بہت سادہ ہے علاقہ چھوٹا ہو‘ اختیار واضح ہو‘ وسائل متعین ہوں‘ منیجر قابل ہو اور جوابدہی براہ راست ہو۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے واضح پیغام دیا ہے کہ نئے انتظامی یونٹس کے معاملے سے پیچھے نہیں ہٹوں گا‘ یہ عمل آئین کے اندر اور عوام کی مرضی سے ہونا چاہیے‘ کسی فردِ واحد کی خواہش سے نہیں۔ ان کی گفتگو کا سب سے اہم پہلو پاکستان کے نظام کو پاکستان کے اندر رہتے ہوئے ری سیٹ کرنے کا تصور ہے۔ ریاست کی وحدت برقرار رہے مگر انتظامی سٹرکچر نئے دور کی ضروریات کے مطابق بدل جائے۔ جیسے دیگر ترقی یافتہ ممالک نے ضروریات کو دیکھتے ہوئے تبدیلیاں کیں۔
میری اطلاعات کے مطابق آنے والے دنوں میں بڑی سیاسی پیشرفت ہو سکتی ہے۔ آصف علی زرداری پاکستان پہنچ رہے‘ نواز شریف بھی اپنا بیرونِ ملک دورہ مکمل کرکے واپس آگئے ہیں اور بڑی سیاسی قوتوں کو بالآخر کسی مشترکہ فارمولے کی طرف بڑھنا ہوگا۔ سیاست ہمیشہ یکطرفہ نہیں ہوتی؛ کچھ دو‘ کچھ لو کے اصول پر معاملات آگے بڑھتے ہیں اور آصف زرداری سیاسی مینجمنٹ کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن نے لاہور میں صحافیوں سے گفتگو میں مخالفت کی ہے‘ لیکن پاکستانی سیاست میں ابتدائی مخالفت اور آخری سیٹلمنٹ اکثر مختلف ہوتے ہیں۔ جب آئینی پیکیج‘ نمائندگی‘ وسائل اور اختیارات کی مکمل تصویر سامنے آئے گی تو آج اختلاف کرنے والی کئی قوتیں مذاکرات کی میز پر آسکتی ہیں۔ اور اب لائن بھی واضح ہے کہ نئے یونٹس تو ہر صورت بنیں گے‘ کوئی مانے یا نہ مانے‘ عوامی کی حالت زار کو تبدیل کرنے کی ٹھان لی جاچکی ہے۔ محسن نقوی کی گفتگو میں میرے نزدیک حب الوطنی کا اہم پہلو یہی ہے کہ حل پاکستان سے باہر نہیں بلکہ آئین کے اندر اور عوام کے ذریعے تلاش کیا جائے۔
پاکستان نے حالیہ عرصے میں خارجی محاذ پر اپنی سفارتی اہمیت اور گنجائش بڑھائی ہے۔ امریکہ‘ سعودی عرب‘ چین اور دوسرے اہم ممالک کیساتھ تعلقات پاکستان کیلئے مواقع پیدا کررہے ہیں مگر بیرونی کامیابی کی حقیقی قدر تب ہوگی جب اس کا عکس اندرونی حالات میں نظر آئے۔ پاکستان کو اپنے داخلی محاذ پر گورننس‘ تعلیم‘ صحت‘ روزگار‘ پانی‘ انصاف اور شہری سہولتوں کی جنگ لڑنی ہے۔ موجودہ صورتحال میں امریکہ‘ چین‘ سعودی عرب‘ ترکیہ سمیت کئی ممالک پاکستان کیساتھ کھڑے ہیں‘ اور وہ بھی چاہتے ہیں کہ پاکستان کے اندرنی مسائل کو ہر صورت حل کیا جائے۔ عالمی سطح پر حاصل ہونیوالی گنجائش کو اندرونی اصلاحات‘ سرمایہ کاری‘ بہتر گورننس اور انسٹیٹیوشنل ری سٹرکچرنگ میں تبدیل کرنا ہوگا۔ یہی پاکستان کے ری سیٹ کا وقت ہے۔ ہمیں پاکستان دوبارہ نہیں بناناپاکستان کو بہتر چلانا ہے۔ موجودہ چار بڑے انتظامی ڈھانچے اگر کروڑوں لوگوں کی ضروریات پوری نہیں کر پا رہے تو انہیں چھوٹے‘ بااختیار اور جوابدہ یونٹس میں تبدیل کرنے سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے۔ اصل سوال یہ ہے کہ عام پاکستانی کو ریاست کتنی قریب ملتی ہے۔ نئے صوبے پاکستان کو تقسیم نہیں کریں گے‘ طاقت کے مراکز کو تقسیم کریں گے؛ پاکستان کو چھوٹا نہیں کریں گے‘ حکومت کو شہری کے قریب اور پاکستان کو مضبوط کریں گے۔ یہی حقیقی ری سیٹ ہے اور شاید اب اس ری سیٹ پر کام تیزی سے جاری ہے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved