اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے گزشتہ جمعہ کے روز دنیا کے موجودہ نقشے میں تبدیلی کے حق میں ووٹ دیا جس کا مقصد براعظوں‘ خطوں‘ علاقوں اور ممالک کے حجم کو زیادہ درست انداز میں دکھایا جانا تھا۔ دنیا کے 164ممالک نے اس تجویز کے حق میں ووٹ دیا لیکن امریکہ وہ واحد ملک تھا جس کو یہ تجویز پسند نہیں آئی اور اس نے اس کے خلاف ووٹ کاسٹ کیا۔ دنیا میں اس زمین کا اب تک جو نقشہ استعمال کیا جاتا رہا وہ ایک مرکیٹر نقشہ (Mercator map) تھا جس میں گول زمین کو ایک سیدھے کاغذ پر دکھایا گیا تھا۔ یہ نقشہ 1569ء میں ایک فلیمش ماہرِ نقشہ سازی جیرارڈس مرکیٹر (Gerardus Mercator) نے تیار کیا تھا‘ اسی لیے اسے مرکیٹر میپ کہا جاتا ہے۔ فلیمش سے مراد بنیادی طور پر بلجیم کا شمالی خطہ ہے جو فلینڈرس یا فلیمش کہلاتا ہے۔ اس خطے کی بڑی آبادی ڈچ (ولندیزی) زبان بولتی ہے۔
سب سے پہلے تو جیرارڈس مرکیٹر کو خراجِ تحسین کہ انہوں نے آج سے 457سال پہلے دنیا کا ایسا بہترین اور بالکل درست نقشہ تیار کیا جو اَب تک مستعمل ہے اور اس میں تبدیلی کی ضرورت محسوس کی بھی گئی تو خطوں اور علاقوں کو ان کے حجم کے مطابق دکھانے کے لیے‘ وہ بھی اس لیے کہ مرکیٹر نقشے میں زمین کو ایک قدرے جھکی ہوئی سطح پر دکھایا گیا ہے۔ اسی وجہ سے اس میں خطِ استوا کے قریب واقع ممالک اپنے اصل حجم سے چھوٹے دکھائی دیتے ہیں جبکہ قطبین کے قریب ممالک اپنے اصل حجم سے بڑے نظر آتے ہیں۔ ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق اس خامی کو دور کرنے کی کوشش میں ماہرینِ نقشہ سازی کی ایک ٹیم نے 2018ء میں مساوی رقبے پر مبنی ایک نقشہ تیار کیا تھا‘ جسے انہوں نے ایکوئل ارتھ پروجیکشن کا نام دیا تھا۔ فروری میں افریقی یونین کے 54 رکن ممالک نے اسے اختیار کیا اور کہا تھا کہ یہ تمام براعظموں‘ خصوصاً افریقہ کے حجم کو زیادہ درست انداز میں ظاہر کرتا ہے۔ اندازہ اس بات سے لگائیں کہ امریکہ‘ چین‘ انڈیا‘ جاپان‘ میکسیکو اور یورپ کے کئی علاقے مل کر بھی افریقہ جتنا رقبہ نہیں بناتے۔ یہ سارے ممالک اگر افریقہ کے اندر سمو دیے جائیں تو بھی براعظم افریقہ کا کچھ حصہ بچ رہے گا۔
جیرارڈس مرکیٹر کے نقشے پر اس لیے تنقید کی جاتی رہی کہ اس میں افریقہ کو گرین لینڈ کے برابر سائز کا دکھایا جاتا ہے‘ حالانکہ حقیقت میں افریقہ اس سے 14گنا بڑا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے خطِ استوا کے قریب واقع ممالک کی ترقیاتی ضروریات اور صلاحیتوں کو کم کرکے پیش کیا جاتا ہے۔ یہ بات سمجھ میں آتی ہے۔ اس حوالے سے اس کاوش کو ایک اچھی کوشش قرار دیا جا سکتا ہے۔ سوشل میڈیا پر یہ معاملہ بڑے شدومد کے ساتھ اٹھایا جا رہا ہے کہ جاری کیے گئے نئے نقشے میں جموں و کشمیر کے بعض حصوں کو پاکستان اور چین کا حصہ دکھایا گیا ہے۔ اتوار کے روز انڈیا کی وزارتِ خارجہ نے نئے نقشے سے متعلق تنازع پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر اور لداخ کے وفاقی زیرِ انتظام علاقوں کو اقوام متحدہ کے مجوزہ عالمی نقشے میں صرف انڈیا کے سرکاری نقشے کے مطابق دکھایا جانا چاہیے اور کوئی بھی غلط یا گمراہ کن نقشہ قابلِ قبول نہیں ہو گا۔ پاکستان نے جموں و کشمیر کے متنازع خطے کے نقشے سے متعلق انڈیا کی وزارتِ خارجہ کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انڈیا کے یکطرفہ اقدامات اور غیر قانونی قبضہ جموں و کشمیر کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتے۔ پاکستانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ جموں و کشمیر کا تنازع اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود قدیم ترین حل طلب بین الاقوامی تنازعات میں سے ایک ہے۔ اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق جموں و کشمیر کے حتمی تصفیے کا فیصلہ سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی آزادانہ اور غیر جانبدار رائے شماری کے ذریعے ان کی مرضی کے مطابق ہونا چاہیے۔
پھر فلسطین اسرائیل کی توسیع پسندانہ پالیسیوں کا شکار ہے جبکہ اس کے پشت پناہ مکمل جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کسی عالمی‘ اخلاقی قانون اور ضابطے کو خاطر میں نہیں لاتے۔ غزہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان شدید تنازع کا مرکز ہے‘ جسے بین الاقوامی سطح پر حل طلب اور حساس ترین مسئلہ مانا جاتا ہے۔ اسی طرح اقصائے چن اور لداخ کا سرحدی خطہ بھارت اور چین کے درمیان تنازع کا شکار ہیں۔ اقصائے چن ایک بلند و بالا‘ بنجر اور برف پوش علاقہ ہے‘ جو ہمالیہ کے شمال مغرب میں واقع ہے۔ اس پر چین کا کنٹرول ہے لیکن بھارت بھی اس پر دعویٰ رکھتا ہے۔ تجارت کے حوالے سے اہمیت کے حامل بحیرہ جنوبی چین پر چین اپنا کنٹرول بڑھا رہا ہے جبکہ تائیوان کے معاملے کو لے کر چین اور امریکہ کے مابین اختلافات پائے جاتے ہیں جو دونوں ملکوں کے مابین مسلسل کشمکش کا باعث ہیں۔ پھر بحیرہ احمر میں واقعہ جزیرہ نما کریمیا 1954ء میں یوکرین کا حصہ بنا تھا۔ اس وقت روس اور یوکرین دونوں سوویت یونین کا حصہ تھے تاہم روس نے کریمیا پر قبضہ کرنے کے بعد باڑ لگا کر اس کو یوکرین سے الگ کر دیا ۔ یہ تنازع اب تک برقرار ہے۔ اس معاملے کو لے کر یوکرین اور روس کے مابین گزشتہ چار سال سے جنگ جاری ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بھی ابھی تک ختم نہیں ہوئی ۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد کوریا کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ ایک شمالی اور دوسرا جنوبی کوریا کہلایا لیکن دونوں ملک اس بٹوارے سے ناخوش ہیں اور دونوں کے درمیان پورے علاقے پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے کشمکش مسلسل جاری رہتی ہے۔ اس کے علاوہ بھارت کی کئی ریاستیں بھی بھارت سے علیحدگی چاہتی ہیں اور اس حوالے سے آزادی کی تحریکیں زوروں پر ہیں۔
کیا ہی اچھا ہوتا کہ دنیا کا نیا نقشہ ان تمام مسائل کو حل کر کے بنایا جاتا جس میں سبھی اقوام کو مستقبل کے حوالے سے مکمل تحفظ حاصل ہوتا۔ جنگیں ختم ہو جاتیں اور بقائے باہمی کے اصول کے تحت تمام ملک اپنے اپنے عوام اور پھر اس سے آگے بڑھ کر پوری انسانیت کے لیے سوچتے‘ لائحہ عمل مرتب کرتے اور ان پر عمل درآمد میں مصروف نظر آتے۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ نئے نقشے میں یہ بھی واضح کیا گیا ہوتا کہ دنیا میں مساوی معیشت نافذ ہے اور یہاں رہنے والے اربوں انسان اب کسی معاشی بحران کا شکار نہیں ہیں۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ نئے نقشے میں یہ بھی نمایاں کیا جاتا کہ دنیا کی سب اقوام برابر ہیں اور کسی کو کسی پر کوئی برتری حاصل نہیں ہے اور اب دنیا بھر کے فیصلے کثرتِ رائے سے کیے جاتے ہیں جس کا فوری نتیجہ یہ نکلا ہے کہ دنیا بھر میں جنگیں ختم ہو چکی ہیں اور اب کسی ملک کو کسی دوسرے ملک سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ خطوں اور علاقوں کو ان کے اصل حجم کے مطابق دکھانا تو اچھی بات ہے لیکن کیا ہی اچھا ہوتا کہ دنیا کی آبادیوں کو بھی ان کے حجم کے مطابق وسائل کی فراہمی پر بھی توجہ دی جاتی۔ ان تمام معاملات کے نہ ہوتے ہوئے نیا نقشہ بھی کچھ ادھورا ادھورا سا نہیں لگتا؟
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved