تحریر : رسول بخش رئیس تاریخ اشاعت     11-09-2026

کرے کوئی بھرے کوئی!

اس زمانے میں جب اہلِ اقتدار اور ان کے حواریوں سے اختلاف کرنا آسان نہیں رہا‘ ایک گزارش تہہ دل سے کرنے کی جسارت کر رہا ہوں۔ خبریں پڑھ کر پہلے سے اداس دل مزید اداس ہو گیا ہے۔ سمجھ نہیں آتی کہ ایسے بے رحمانہ فیصلے کون اور کہاں بیٹھ کر کرتا ہے کہ ان تمام افغان طالب علموں کو‘ جو ہمارے میڈیکل کالجز اور یونیورسٹیوں میں پڑھ رہے ہیں‘ فوراً ملک بدر کر کے طالبان کے افغانستان بھیج دیا جائے۔ نہیں معلوم کہ ان کی تعداد کتنی ہے‘ سینکڑوں میں تو ضرور ہو گی۔ یہ ناگوار خبر پڑھ کر میرا دھیان فوراً نصف صدی قبل اپنے طالب علمی کے دور کی طرف چلا گیا۔ سوچتا ہوں کہ اگر امریکہ اور پاکستان کے تعلقات‘ جو تب اتنے دوستانہ نہیں رہے تھے اور ہمارے اوپر ہر نوع کی پابندیاں تھیں‘ کے نتیجے میں امریکی صدر یہ حکم دیتا کہ سب پاکستانیوں کو امریکی جامعات سے نکال باہر کیا جائے اور انہیں اپنے ملک روانہ کر دیا جائے تو اپنے اوپر کیا بیتتی۔ معلوم تو ایسا ہوتا ہے کہ میڈیکل کے شعبے کے یہ طلبہ مہاجر خاندانوں میں سے ہیں‘ جو یہیں پیدا ہوئے‘ یہیں بڑے ہوئے اور ہمارے ہی تعلیمی اداروں میں اچھی کارکردگی کی بنا پر میڈیکل کالجز میں داخل ہوئے۔ ہو سکتا ہے کہ وہاں طالبان کی یلغار اور قبضے کے بعد جو صورتحال بنی‘ اس سے بچنے کیلئے لاکھوں میں جو افغان ہمارے ملک میں آئے‘ وہ ان میں سے ہوں۔ افغانستان کے رہنے والے بھی کابل میں ہمارے سفارتخانے کے ذریعے ہزاروں کی تعداد میں پاکستانی تعلیمی اداروں میں تعلیم کی غرض سے آتے رہے ہیں۔ اب اچانک ایسا فیصلہ کرتے ہوئے ان بچوں اور بچیوں کو پیشہ ورانہ تعلیم پوری کرنے سے محروم کرنا ایک غیرمعمولی فیصلہ ہے۔ ان طلبہ کا نہ طالبان سے کوئی تعلق ہے نہ ہی کسی سیاسی کشمکش سے۔
دنیا میں کئی ممالک ہیں جن کے درمیان جنگیں ہوئیں‘ باہمی تعلقات تلخ رہے مگر کم ہی ایسے ہوں گے جنہوں نے دشمن ملک پر غصے کو اپنے ملک کے تعلیمی اداروں میں زیرِ تعلیم طالب علموں پر نکالا ہو۔ طالبان کی پالیسیوں کی وجہ سے ہمارے اس ملک سے تعلقات بہت کشیدہ ہیں۔ یہ درست ہے کہ ان کی نگرانی اور اعانت میں وہاں دہشت گردوں کے اڈے قائم ہیں‘ جو آئے روز ہمارے ملک کے اندر حملے کرتے رہتے ہیں۔ افغانستان کے اندر جا کر بھی ہم نے ان کے ٹھکانوں کو کئی بار نشانہ بنایا ہے اور آئندہ بھی ایسا ہو گا۔ ملک کی سلامتی اور علاقائی استحکام کے پیشِ نظر یہ سب کچھ درست ہے۔ طالبان رجیم دنیا کی واحد عبوری حکومت ہے جو چھ سال سے جاری ہے‘ اور دنیا کے کسی ملک نے اسے باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا۔ اس پر ہر طرف سے پابندیاں ہیں‘ سوائے چین اور روس کی طرف سے کچھ تجارت کے۔ باہر کے راستے ہم نے اور ایران نے ان کیلئے بند کر رکھے ہیں‘ اور یہ بند ہی رہیں گے‘ جب تک وہ دہشت گردوں کی پشت پناہی سے تائب ہو کر ایک نارمل حکومت کے نارمل کارندے کے طور پر دنیا کے سامنے خود کو ثابت نہیں کرتے۔ صرف ہم نہیں بلکہ پورا مغرب اور مشرق‘ جنوب و شمال انہیں ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ یہاں کچھ دیگر اس نوعیت کی مملکتیں ہیں جہاں بزور طاقت اقتدار پر قبضہ جما کر مذہبی اور نظریاتی ریاست قائم ہے۔ حکمران جو بھی ظلم اپنے شہریوں سے کرتے رہیں‘ وہ بے بسی سے سہتے رہتے ہیں۔ سب کو معلوم ہے کہ افغانستان میں پانچویں جماعت کے بعد بچیوں کی تعلیم پر پابندی ہے۔ جامعات اور میڈیکل کالجز بند ہیں‘ ان میں درس و تدریس کیلئے آئے تعلیم یافتہ اساتذہ اب ملک چھوڑ کر کہیں اور جا کر آباد ہو گئے ہیں۔ اس وقت افغانستان کے حکمران وہاں کے باشندوں کیلئے بے شمار مصائب اور مشکلات کا موجب ہیں۔ جب تک وہ طاقت میں ہیں ان کی رجعت پسندی‘ قبائلی اور ہٹ دھرم قیادت افغانوں پر ظلم کے پہاڑ ڈھاتی رہے گی۔ دنیا خاموش تماشائی ہے اور ساتھ ہی طالبان کو کمزور کرنے اور سزا دینے کیلئے اقتصادی‘ تجارتی اور دیگر پابندیاں لگا کر سب افغانوں کو سزا دے رہی ہے۔ ہم بھی ایسا ہی کر رہے ہیں‘ مگر اس سزا کا دائرہ میڈیکل اور دیگر شعبوں کے افغان طلبہ تک پھیلانا مناسب معلوم نہیں ہوتا۔
یاد رکھیں! تاریخ تو بدلتی رہتی ہے‘ اور سب سے زیادہ اور تیزی سے اگر کسی ملک کی تاریخ بدلی ہے‘ اور وہ بھی ہماری سرحدوں کے ساتھ‘ تو وہ افغانستان ہے۔ ایک دن ضرور آئے گا‘ کچھ کہہ نہیں سکتے کہ کب‘ جب ایسے لوگ وہاں تختِ کابل پر براجمان رہیں گے اور نہ ہی قندھار ان کی پناہ گاہ ہو گا۔ وہاں سے خبریں آ رہی ہیں کہ افغان متحدہ محاذ نے کارروائیاں کرنا شروع کر دی ہیں۔ میں تو افغان شہریوں کو کسی ملک سے زبردستی نکالنے کو بھی قابلِ اعتراض خیال کرتا ہوں‘ مگر ان بیچارے سٹوڈنٹس کا کیریئر قلم کی نوک سے چند سطریں لکھ کر یوں برباد کرنا انسانی قدروں کی پامالی سے کم نہیں۔ خدانخواستہ‘ اگر ہم نکال کر انہیں طالبان کے افغانستان میں دھکیل بھی دیں تو اکثریت کہیں نہ کہیں اپنی تعلیم مکمل کر ہی لے گی۔ اب خود سوچیں کہ ان کے دلوں میں ہمارے ملک کیلئے کتنی محبت رہ جائے گی؟ ہمیں افغانستان کے بارے میں ایسے فیصلے کرنے سے گریز کرنا چاہیے جس سے انسانی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہو جائے‘ خصوصاً جس سے وہاں کے جدید اور پیشہ ور علوم کے طالب علموں کا مستقبل تاریک ہونے کا خدشہ ہو۔ افغانستان بھی رہے گا‘ ہم بھی اور ہماری آبادیاں بھی‘ اور ہمارے تاریخی اور ثقافتی رشتے بھی۔ ایسا کام کم از کم ہم کیوں کریں کہ جوان نسل کے دل میں ہمارے خلاف نفرت کے بیج بو دیے جائیں؟ ایسے ہنگامی فیصلوں کے برعکس ہم نے دیکھا ہے کہ ریاست ہمسایہ ممالک کے طالب علموں کو رعایتی سہولتیں‘ جیسے سکالرشپ دے کر ترجیحی بنیادوں پر اپنے تعلیمی اداروں میں جگہ دیتی ہے۔ اسے کہتے ہیں ثقافتی سفارت کاری۔
گزشتہ برسوں میں طالبان حکومت کی بے رحمانہ پالیسیوں اور دہشت گردوں کی حمایت کے ردِعمل میں ہم نے ایسے فیصلے کرنے سے گریز نہیں کیا جس کی زد میں عام افغان آتے ہیں۔ اس بارے میں جس احتیاط اور تدبر کی ضرورت تھی‘ وہ ہماری حکومت نے نہیں دکھائی۔ مجھے نہیں معلوم کہ یہ غیر ضروری فیصلہ واپس ہو سکتا ہے یا نہیں‘ مگر طالبان حکومت کی پالیسی کی سطح پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ ان کا جبر و قہر افغانوں پر اسی طرح قائم رہے گا۔ ایسے میں میڈیکل کے سٹوڈنٹس کو نکال کر ان کی نفرت کو ہم مزید بڑھنے کا موقع دینے کے علاوہ کچھ اور حاصل نہیں کر سکیں گے۔ ہم بڑا ملک ہیں اور ہمارے وسائل بھی محدود نہیں۔ مسائل اگر ہیں تو وہ ہمارے حکمرانوں کی بے قاعدگیوں کی وجہ سے ہیں۔ ہم افغانستان کے طالبان حکمرانوں کی دہشت گردوں سے چاہت کے باوجود اپنا دل بڑا رکھنے کی گنجائش رکھتے ہیں۔ ان کی طرف سے ہماری ریاست اور معاشرے کے خلاف کھلی اور خفیہ جنگ ایک المیہ ہے‘ جس سے کسی کو انکار ہے اور نہ ہی کوئی ایسا پاکستانی ہے جس کا دل زخمی نہ ہو کہ ہزاروں کی تعداد میں ہمارے عام لوگ‘ پولیس اور سب سے بڑھ کر فوج کے جوان شہید اور زخمی ہوئے ہیں اور اب بھی خطرات کی زد میں ہیں۔ افغان سٹوڈنٹس اور ان کی اپنے اداروں میں تعلیم کو طالبان کیساتھ جوڑنا اور انہیں صرف افغان ہونے کی بنیاد پر ایسے ناگوار حالات سے دوچار کرنا دور رس حکمتِ عملی نہیں ہے۔ طالبان کے ہاتھوں افغانستان کے لوگ سخت مشکلات کا شکار ہیں۔ یہ سب گزشتہ پچاس سال کی جنگوں کے نتائج ہیں جن میں کچھ نہ کچھ ہمارا بھی ہاتھ رہا ہے۔ نہ وہ سرد جنگ‘ بڑی طاقتوں کا کھیل ہوتا‘ نہ ہماری فرنٹ لائن ہوتی‘ اور نہ ہی آج افغانستان پر طالبان کا غلبہ ہوتا۔ ان کی زیادتیوں کے برعکس ہمیں انسانی اقدار‘ ہمسائیگی‘ اچھے سلوک اور خیرسگالی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ اسے مستقبل کی معاشرتی سرمایہ کاری کہتے ہیں۔ افغان طلبہ کو نکال کر ہم نے اپنا سرمایہ دائو پر لگا دیا ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved