برطانیہ نے دریائے اردن کے مغربی کنارے پر آباد فلسطینیوں کی نسل کشی کے الزام پر یہودی آباد کاروں پر اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے منگل کے روز پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں 'ہاؤس آف کامنز‘ میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری نظروں کے سامنے مغربی کنارے پر رہنے والے فلسطینیوں کو یہودی آبادکار بدترین تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں‘ حکومت اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ یہودی آبادکاروں کی یہ دہشت گردی صریح نسل کشی ہے اور سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ اسرائیلی حکومت نے نہ صرف اس ظلم سے آنکھیں بند کر رکھی ہیں بلکہ اس جرم میں برابر کی شریک ہے‘ کیونکہ حکام ایسے واقعات کو نہ صرف نظر انداز کرتے ہیں بلکہ موقع پر پہنچ کر غیر قانونی اور غیر انسانی کارروائیوں میں یہودی آبادکاروں کا ساتھ دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ناانصافی پر ہم خاموش نہیں رہ سکتے‘ اس لیے برطانیہ مغربی کنارے پر غیر قانونی بستیوں میں رہنے والے یہودی آبادکاروں کی تیار کردہ اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کر رہا ہے۔ ان پابندیوں کا اطلاق ان تمام افراد اور اداروں پر ہوگا جو مغربی کنارے پر نئی غیر قانونی یہودی بستیوں کی تعمیر میں مالی یا دیگر قسم کی مدد فراہم کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی برطانوی وزیر خارجہ نے کہا کہ حکومت واضح کر دینا چاہتی ہے کہ ان کی نظر میں دریائے اردن کے مغربی کنارے‘ جہاں تیس لاکھ کے قریب فلسطینی آباد ہیں‘ پر اسرائیلی قبضہ غیر قانونی ہے اور یہ کہ مشرقِ وسطیٰ کے بنیادی مسئلے کا حل یہودیوں اور فلسطینیوں کیلئے دو علیحدہ اور الگ الگ‘ مگر آزاد اور خودمختار ریاستوں کے قیام میں مضمر ہے۔ برطانوی وزیر خارجہ نے یہ بھی اعلان کیا کہ یورپی یونین میں شامل دیگر ممالک بھی برطانیہ کے ساتھ مل کر ان جرائم میں ملوث انتہا پسند یہودی آبادکاروں کے خلاف پابندیاں نافذ کریں گے۔
برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم نے بھی وزیر خارجہ کے بیان کی تائید کرتے ہوئے مغربی کنارے کے انتہاپسند یہودی آبادکاروں کے خلاف اقتصادی پابندیوں کی حمایت کی۔ پارلیمنٹ میں بیان دیتے ہوئے انہوں نے کہا ''جب لوگوں کو زبردستی اُنکے گھروں سے بے دخل کیا جا رہا ہو‘ انہیں بلاوجہ ہراساں کیا جا رہا ہو تو ہم ہمیشہ مظلوم کیساتھ کھڑے ہوں گے اور انکی مدد میں ہر ممکن قدم اٹھائیں گے‘‘۔ تاریخ کی ستم ظریفی دیکھیے کہ وہی برطانیہ جس نے 1917ء میں بالفور معاہدہ کر کے فلسطین میں یہودی آباد کاروں کیلئے دروازے کھول کر 1948ء میں غیر قانونی صہیونی ریاست کے قیام کی راہ ہموار کی تھی اور تاریخ کی سب سے بڑی ناانصافی کا ارتکاب کیا تھا‘ اس ملک کا وزیراعظم آج اپنی پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر انصاف کا ساتھ دینے کا اعلان کر رہا ہے۔ اسے کہتے ہیں قومی اور صرف قومی مفادات کی جنگ۔ 1917ء میں فلسطین میں ایک یہودی ''نیشنل ہوم‘‘ کے قیام کے حق میں بالفور ڈیکلریشن جاری کرنے سے بہت پہلے برطانیہ مشرقِ وسطیٰ اور اس سے آگے ہندوستان اور مشرقی افریقہ میں اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے نئے اڈے کے قیام کا فیصلہ کر چکا تھا‘ کیونکہ مصر میں وفد پارٹی کی سربراہی میں عرب قوم پرستی کی ابھرتی لہر کے سامنے اسکے قدم اکھڑ چکے تھے۔ فلسطین اُس وقت سلطنتِ عثمانیہ کا حصہ تھا۔ پہلی عالمی جنگ میں ترکی نے اتحادی طاقتوں (برطانیہ اور فرانس) کیخلاف جرمنی کا ساتھ دیا تھا۔ اس جنگ میں ترکی کو شکست سے برطانیہ کو یہودیوں کی مدد کیساتھ فلسطین پر قبضہ کرنے کا موقع مل گیا‘ جسے بعد میں لیگ آف نیشنز کے مینڈیٹ میں تبدیل کر دیا گیا۔ یہ مینڈیٹ مئی 1948ء تک جاری رہا۔ مینڈیٹ کے اس 30 سالہ (1918ء تا 1948ء) عرصے کے دوران برطانوی حکومت نے ہر وہ اقدام کیا جسکے نتیجے میں کُل آبادی کا ایک تہائی سے بھی کم ہونے کے باوجود یہودیوں کو فلسطینی علاقے میں اپنی ریاست قائم کرنے کا موقع ملا۔ اب 100 سال سے بھی زیادہ عرصہ گزر جانے کے بعد برطانیہ کو فلسطین میں ظلم وناانصافی کے وہ مناظر دکھائی دے رہے ہیں جن سے عربوں کے علاوہ یہودی دانشوروں نے بھی برطانیہ اور صہیونیوں کو متنبہ کیا تھا۔
برطانیہ میں اس وقت لیبر پارٹی کی حکومت ہے۔ لیبر پارٹی کو کنزرویٹو پارٹی کے مقابلے میں اسرائیل کا زیادہ حامی سمجھا جاتا ہے۔ تاہم لیبر پارٹی کے موجودہ وزیراعظم نے نہ صرف غزہ بلکہ مغربی کنارے پر آباد فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم کی کھل کر مخالفت کرتے ہوئے انہیں ''نسل کشی‘‘ کے مترادف قرار دیا بلکہ انہیں روکنے کیلئے صہیونی آبادکاروں پر اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ برطانیہ کے علاوہ دیگر یورپی ممالک اور کینیڈا نے بھی برطانیہ کا ساتھ دیتے ہوئے فلسطینیوں پر حملہ آور مغربی کنارے کے یہودی آبادکاروں پر دباؤ ڈالنے کیلئے اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ البتہ امریکہ نے اس عمل میں شامل ہونے سے انکار کر دیا ہے۔ اسلئے یہ معلوم کرنا دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا کہ برطانیہ‘ کینیڈا اور یورپی یونین کے دیگر ممالک یہ اقدامات کرنے پر کیوں سرگرم نظر آتے ہیں؟ اس کی دو وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ایک یہ کہ اکتوبر 2023ء سے اسرائیل نے غزہ میں اور انتہاپسند یہودی آبادکاروں کی مدد سے مغربی کنارے پر فلسطینیوں کے خلاف ظلم‘ ناانصافی اور بربریت کی ایسی داستانیں رقم کی ہیں کہ پوری دنیا میں اسرائیل کی مذمت کی جا رہی ہے۔ برطانیہ‘ فرانس‘ جرمنی اور اٹلی میں لاکھوں افراد پر مشتمل احتجاجی جلوسوں میں اسرائیل سے تجارتی روابط ختم اور ہتھیاروں کی سپلائی بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ احتجاجی جلوسوں اور جلسوں کا یہ سلسلہ تاحال جاری ہے اور یورپ کے بعد ان ممالک کی حکومتوں‘ خصوصاً برطانیہ اور جرمنی‘ جو اسرائیل کو ہتھیاروں کی سپلائی جاری رکھے ہوئے ہیں‘ پر اس پالیسی پر نظرثانی کرنے کیلئے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ اسرائیل کو بے لگام چھوڑ کر یورپی ممالک مشرقِ وسطیٰ اور اس سے آگے جنوب اور جنوب مشرقی ایشیا میں سرمایہ کاری اور تجارت کی صورت میں صدیوں سے موجود اپنے اثاثہ جات کو خطرے میں نہیں ڈال سکتے۔ مشرقِ وسطیٰ کیساتھ امریکہ کا براہِ راست عسکری اور اقتصادی تعلق تو تیل کی دریافت کے بعد شروع ہوا مگر یورپی ممالک کے مشرقِ وسطیٰ کیساتھ تعلقات کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے۔ حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وسط انیسویں صدی کی منرو ڈاکٹرائن (1823ء) کو اپنے خارجہ تعلقات کا جس طرح سے دوبارہ محور بنایا ہے اور اپنے ہمسایہ ممالک مثلاً کینیڈا کو بھی بھاری ٹیرف کا نشانہ بنایا ہے‘ متبادل تجارتی پارٹنرز کی تلاش میں اب یورپ کیلئے مشرقِ وسطیٰ اور اس سے آگے جنوب اور جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک کی اہمیت میں اضافہ ہو گیا ہے۔
مغربی کنارے اور غزہ میں گزشتہ تقریباً تین برسوں سے بنیادی انسانی قوانین کی خلاف ورزی بلکہ کھلے عام نسل کشی اور قتلِ عام کا ارتکاب ایک ایسا جرم ہے جس پر کوئی انسان خاموش نہیں رہ سکتا۔ برطانیہ سے پہلے اقوامِ متحدہ کا انسانی حقوق کا ادارہ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل وغیرہ اپنی رپورٹس میں غزہ اور مغربی کنارے کی تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتحال پر تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔ ان رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ ان تمام غیر قانونی اور غیر انسانی اقدامات کے پیچھے اسرائیل کا یہ منصوبہ ہے کہ عربوں پر فلسطین کی زمین تنگ کر کے اور غیر قانونی یہودی آبادکاروں کی تعداد بڑھا کر خطے میں فلسطینی ریاست کے قیام کا امکان یکسر ختم کر دیا جائے۔ اسرائیلی وزیر خزانہ بیزلیل سموٹرچ اوسلو معاہدے کے تحت دو ریاستی حل کو ختم کرنے کا اعلان کر چکے ہیں۔ ان حالات میں برطانیہ کی طرف سے دو ریاستی حل کی مکمل حمایت اور انتہا پسند یہودی آبادکاروں پر اقتصادی پابندیوں کا اعلان ایک خوش آئند اقدام ہے‘ جس کا بشمول پاکستان آٹھ مسلم ممالک نے خیرمقدم کیا ہے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved