وطن عزیز میں مہنگائی کے طوفان کے باوجود دو چیزیں اب بھی بالکل مفت ہیں۔ ایک آکسیجن‘ اور دوسرا مشورہ۔ فرق صرف اتنا ہے کہ آکسیجن رب العالمین کی طرف سے عطا کیا گیا انعام ہے اور زندگی کی ضمانت ہے جبکہ مفت مشورہ ہمارے ارد گرد موجود لوگوں کی طرف سے لیا گیا از خود نوٹس ہے جو ہم سے پوچھے بغیر لیا جاتا ہے اور جس کا مقصد ہماری بہتری نہیں بربادی ہوتا ہے۔ ہمارا معاشرہ ایک ایسا بازار ہے جہاں ہر شخص پیدائشی ڈاکٹر بھی ہے‘ انجینئر بھی‘ مفتی بھی‘ معاشی ماہر بھی‘ مستند حکیم بھی‘ ماہرِ نفسیات بھی اور کرکٹ اور فٹ بال کا کوچ بھی۔ ہاں‘ بس ڈگری نہیں ہے اور ڈگری کی ضرورت بھی نہیں کیونکہ مشورہ دینے کیلئے قابلیت نہیں‘ محض فراغت درکار ہوتی ہے اور دوسروں کے معاملات میں ٹانگ اڑانے کیلئے ہمارے پاس بہت وقت ہے۔ ہر دوسرا شخص اپنی مہارت اور تجربات کے بنیاد پر مشیر سے ترقی پا کر مشیر اعلیٰ کے درجے پر فائز ہو چکا ہے۔ البتہ مشیران کی کئی اقسام اور درجے موجود ہیں۔ روزمرہ زندگی میں آپ کا ان سب سے ضرور واسطہ پڑا ہو گا۔
سب سے پہلے خاندانی مشیر اعلیٰ کا ذکر لازم ہے جو دراصل ہر خاندان میں چاچے‘ ماموں اور دیگر صورتوں میں موجود ہوتا ہے۔ وہ ہر شادی‘ فوتیدگی‘ کاروبار اور تعلیم کے معاملے میں مع مشورہ موجود ہوتا ہے۔ اس لیے آپ جب بھی کچھ کرنا شروع کریں گے تو وہ علم و حکمت سے بھری زبنیل آپ کے سامنے ضرور کھولے گا۔ آپ نے ابھی بی اے میں داخلہ لینے کا سوچا ہی ہو گا کہ وہ کہیں گے بیٹا انجینئرنگ کرو‘ آگے اس کا بہت سکوپ ہے۔ آپ نے کاروبار کا ارادہ کیا تو فوراً اعلان جاری ہو گا کہ ملکی معیشت کا برا حال ہے‘ مارکیٹ میں مندے کا رجحان چل رہا ہے اس لیے چند ماہ میں آپ کا کاروبار بند ہو جائے گا‘ اس سے بہتر ہے نوکری کر لو۔ ہر مفت مشورے کیلئے اس کے پاس سند کا صرف ایک جملہ ہے کہ میں نے دنیا دیکھی ہے! حالانکہ عملی طور پر شاید اس نے ساتھ والا گاؤں بھی نہ دیکھا ہو۔ البتہ یہ ممکن ہے کہ وہ دنیا کو چشمِ باطن سے دیکھنے کی صلاحیت رکھتا ہو اور یہ راز لوگوں پر عیاں نہ ہو پایا ہو۔ مشیرِ اعلیٰ کی دوسری قسم فیس بکی ماہرین کی ہے۔ یہ حضرات صبح نو بجے گڈ مارننگ کی پوسٹ لگا کر دن کا آغاز کرتے ہیں اور رات نو بجے غزہ کی خارجہ پالیسی پر آٹھ پیراگراف کا تجزیہ جھاڑ رہے ہوتے ہیں۔ آپ نے انہیں اپنی بیماری بتائیں تو گوگل سے نسخہ پیش کرتے ہیں کہ ادرک اور شہد پی لیں‘ اس سے کینسر بھی ٹھیک ہو جاتا ہے۔ مشیر اعلیٰ کی تیسری قسم نفسیاتی ڈاکٹر کہلاتی ہے جس کی نمائندگی محلے کی آنٹیاں کرتی ہیں۔ آپ پچیس برس کی عمر میں کنوارے ہیں تو یہ ان کا مسئلہ ہے۔ اٹھائیس برس میں شادی کر لی تو اتنی جلدی کس بات کی؟ پہلے کیریئر مستحکم کریں‘ شادی تو ہو ہی جاتی ہے؟ شادی کے بعد بچہ پیدا نہیں ہوا تو یہ ان مشیران اعلیٰ کیلئے بڑا سنگین مسئلہ ہے۔ ایک بچہ پیدا کیا تو کہا جاتا ہے اکلوتا خراب ہو جائے گا‘ مزید کوشش جاری رکھیں۔ اگر تواتر کے ساتھ دو بچے پیدا کر لیے تو کہہ دیتے ہیں کہ ان کے پاس تو آبادی بڑھانے کے علاوہ اور کوئی کام نہیں۔ ان کا واحد مشن آپ کے ہر فیصلے میں سے کیڑے نکالنا اور پھر اپنے پلّے سے آپ کی زندگی میں نئے کیڑے ڈالنا ہے۔ چوتھی قسم کاروباری گرو کی ہے۔ غالب امکان اس بات کا ہے کہ انہوں نے خود کبھی کوئی کاروبار نہیں کیا ہو اور زندگی میں ان کی اپنی ایک دکان بھی نہ چلی ہو۔ اگر آپ ریسٹورنٹ کھولیں تو وہ بتائیں گے مینو غلط ہے‘ لوکیشن ٹھیک نہیں‘ سٹاف چور ہے۔ اگر نوکری کریں تو کہیں گے آپ خوا ہ مخواہ غلامی کر رہے ہو‘ اپنا کام کرو۔ اور اگر اپنا کام کریں تو فوراً کہیں گے اس میں رِسک بہت ہے‘ سرکاری نوکری بہتر تھی۔ حاصلِ کلام یہ کہ آپ جو بھی کریں ان کی نظر میں غلط ہے۔
مشیران کی پانچویں قسم مذہبی ٹھیکیدار ہیں۔ آپ کوئی اچھا عمل کریں تو ان کی نظر میں نمائش ہے۔ اپنی نیکیوں کو ظاہر کریں تو ریاکاری اور پوشیدہ رکھیں تو آپ دین سے دور ہیں۔ حج کیا تو دکھاوا ہے‘ نہ کیا تو فرض چھوڑ دیا۔ مسجد میں نماز پڑھنے چلے جائیں تو آپ کے ننگے سر ہونے پر اعتراض کر دیں گے۔ نماز کے بعد یہ مشیران آپ کو ایسے عمل کے مضمرات اور دوزخ کے عذاب سے ڈرانے کی ذمہ داری بھی ضرور سرانجام دیں گے۔ گویا جنت اور دوزخ کا داخلی دروازہ انہی کے پاس ہے۔ مشیران کی چھٹی قسم خاموش قاتل ہے‘ اس صف میں ساس‘ نند اور بھابھی وغیرہ شامل ہیں۔ یہ ڈائریکٹ مشورہ نہیں دیتیں‘ طنز کے نشتر چلاتی ہیں۔ ان کا طریقۂ واردات کچھ یوں ہوتا ہے کہ بہو نے آج سالن میں بہت نمک ڈال دیا ہے‘ خیر کوئی بات نہیں! نئی نئی ہے۔ چائے میں دودھ کم اور پانی ذرا زیادہ ڈال دیا ہے جس سے چائے کا وہ مزہ نہیں آیا جس طرح کی چائے میں خود بناتی ہوں۔ ہم تو اپنے کچن کو ہمیشہ صاف شفاف رکھتے ہیں مگر اب ہر وقت گندے برتنوں کا ڈھیر لگا رہتا ہے۔ آج کل کی لڑکیاں ان چیزوں پر کہاں دھیان دیتی ہیں کیونکہ انہیں اپنے موبائل فون سے ہی فرصت نہیں ملتی۔ ان تمام تر تندو تیز جملوں کا مطلب صاف اور مقصد واضح ہوتا ہے کہ بہو کو یہ باور کرایا جائے تم ایک ناکام اور نااہل عورت ہو۔ مشیران اعلیٰ کی آخری قسم پیشہ ور نقاد کی ہے جو ہر کامیاب کہانی کا جنازہ پڑھتے ہیں۔ آپ نے کہا یوٹیوب چینل شروع کیا ہے تو جواب آئے گا پاکستان میں بھلا کون دیکھتا ہے۔ سی ایس ایس کی تیاری کا ذکر کیا تو فوراً فرمائیں گے کہ میاں یہاں سیٹیں پہلے ہی بِک جاتی ہیں‘ یہ سارا ڈھونگ فضول ہے‘ آپ اپنا وقت مت برباد کریں۔ ان کا مقصد صرف ایک ہے‘ آپ کا حوصلہ پست کرنا اور اس امکان کو رد کرنا کہ کہیں آپ کامیاب ہو کر ان سے آگے نہ نکل جائیں۔
مگر سب سے اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم مفت مشورہ دیتے کیوں ہیں؟ اس سوال کے پیچھے تین نفسیاتی محرکات کارفرما ہیں۔ سب سے اولین تو فراغت ہے۔ ہمارے ہاں بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جن کے پاس کرنے کو کوئی کام نہیں۔ وہ دوسروں کے معاملات میں مداخلت کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ لوگوں کی ذاتی زندگی سے لے کر ملکی معیشت اور عالمی سطح کے حالاتِ حاضرہ پر تبصرے اور جائزے ان کا پسندیدہ مشغلہ بن جاتا ہے۔ فلاں کا بیٹا کیا کر رہا ہے‘ فلاں کی شادی کیوں نہیں ہو رہی اور فلاں کی بیٹی کو طلاق کیوں ہو گئی‘ یہ سوالات ان کی گفتگو کا محور و مرکز ہوتے ہیں۔ دراصل جب دماغ خالی ہو اور کثیر وقت عام میسر ہو تو وہ دوسروں کے معاملات سے بھر جاتا ہے۔ دوسری بڑی وجہ برتری کا احساس ہے۔ مشورہ دینے سے انسان کو وقتی تسکین ملتی ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ میں تم سے زیادہ سمجھدار ہوں۔ اگر آپ ناکام ہو جائیں تو وہ سینہ تان کر کہہ سکے گا کہ میں نے پہلے ہی کہا تھا۔ یہ بغیر محنت کے بڑا بننے کا سستا طریقہ ہے۔ تیسری بڑی وجہ حسد کا زہر ہے۔ آپ ترقی کر رہے ہیں تو حاسد کو تکلیف ہوتی ہے۔ وہ براہِ راست روک نہیں سکتا لہٰذا مفت مشورے کی آڑ میں روڑے اٹکاتا ہے۔ رِسک نہ لو کا مطلب ہوتا ہے کہ کہیں تم کامیاب نہ ہو جائو۔ لوگ کیا کہیں گے کا مطلب ہوتا ہے کہ درحقیقت میں خود اندر جل رہا ہوں۔
آخر میں ان تمام مشیرانِ اعلیٰ کی خدمت میں ایک مفت مشورہ میں بھی دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ اگر آپ دوسروں کی زندگیوں میں بے جا مداخلت کے بجائے اس سے آدھا وقت اپنے معاملات کی درستی پر صرف کر لیں تو آپ کی زندگی گلزار بن جائے اور یقینی طور پر دوسروں کی بھی‘ جن کی زندگی میں آپ ٹانگ اڑاتے رہتے ہیں۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved