تحریر : آصف عفان تاریخ اشاعت     11-09-2026

کرپشن کے خلاف مہم

صوبوں کی تقسیم پر سبھی سٹیک ہولڈرز اپنے اپنے محاذ پر نہ صرف ڈٹے ہوئے ہیں بلکہ لفظی گولہ باری بھی برابر جاری ہے۔ وزیر باتدبیر نے تو حتمی اعلامیہ جاری کر ڈالا ہے کہ ان کی نوکری رہے نہ رہے صوبوں کی تقسیم ہو کر رہے گی۔ جبکہ اردوان‘ صادق خان اور ممدانی کے ساشے پیک بھی مارکیٹ میں آ گئے ہیں۔ ادھر فریال تالپور نے ارکانِ سندھ اسمبلی کو روزِ محشر بینظیر بھٹو کو جوابدہی سے ڈراتے ہوئے باور کرایا ہے کہ قیامت کے دن محترمہ نے اگر گریبان پکڑ کر پوچھ لیا تو کیا جواب دو گے۔ گویا رنگین اور سنگین صورتحال پر خوب دانشوری کے علاوہ دور کی کوڑیاں بھی لائی جا رہی ہیں۔ ایک کوڑی کے مطابق صوبوں کا منصوبہ غیرمنظم لانچنگ کی وجہ سے قبل از وقت ہی متنازع بن چکا ہے یعنی لوہار کا ہتھوڑا مارنے سے کہیں بہتر تھا کہ سنار کی نازک ہتھوڑی مستعار لے آتے‘ رائے عامہ ہموار کرنے کیلئے عجلت کے بجائے سافٹ انٹری ڈالی جا سکتی تھی‘ لیکن جلد بازی کی موجودہ پالیسی نے اہداف کو دھندلا سا کر ڈالا ہے۔ دبے اختلافات زبان پر آکر کہیں للکار بن چکے ہیں تو کہیں صاف انکار سے گریزاں آئیں بائیں شائیں کرتے اور ڈنگ ٹپاتے نظر آرہے ہیں۔
ملک بھر کے وسیع و عریض صوبائی راج واڑوں میں ان سبھی کی جان اس طرح اَٹکی ہوئی ہے کہ تقسیم کا تصور ہی حکمرانوں کی نیندیں اڑائے ہوئے ہے۔ کوئی بے چینی اور بوکھلاہٹ کمال مہارت سے چھپائے اداکاری کرتا نظر آرہا ہے تو کوئی ضبط کی حدیں پار کرتے ہوئے جوش میں ہوش گنوائے ہوئے ہے جبکہ پریشانی سب کی یکساں ہے۔ پیپلز پارٹی سندھ کے ایوانوں سے لے کر روزمرہ بیانوں تک مزاحمت پر آمادہ ہے تو مسلم لیگ(ن) صاف چھپتے بھی نہیں اور سامنے آتے بھی نہیں کے مصداق محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔ البتہ سینیٹر رانا ثناء اللہ کوئی نادر موقع ضائع نہیں کرتے اور اکثر ٹاک شوز میں کریز سے نکل کر چوکا چھکا لگا ڈالتے ہیں۔ وزیر باتدبیر کا یہ کہنا معنی خیز سے کہیں زیادہ تعجب خیز ہے کہ میں اب پیچھے نہیں ہٹوں گا۔ سمجھنے والے سمجھ گئے اور جو نہ سمجھے وہ اَناڑی ہے۔
ایک طرف ملک میں نظام کی تباہی اور طرزِ حکمرانی پر کڑے سوال اٹھتے چلے جا رہے ہیں‘ دوسری طرف تختِ پنجاب نے کرپشن کے خلاف گرینڈ آپریشن شروع کر ڈالا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب زیرو ٹالرنس کے ساتھ کرپشن کو جڑ سے اکھاڑنے کا ٹاسک دے چکی ہیں۔ ہنرمندانِ انسدادِ بدعنوانی و رشوت ستانی میدانِ عمل میں آ چکے ہیں۔ آئے روز کہیں رنگے ہاتھوں پکڑے جا رہے ہیں تو کہیں مخبری اور نشاندہی پر۔ حکومتی چیمپئنز کی طے شدہ پالیسی کے تحت ہونے والی ان سبھی کارروائیوں کی جمع تفریق کریں تو کرپٹ سرکاری ملازمین کا دائرہ سپاہی سے ہوتا ہوا تھوڑا اوپر تک جاتا ہے تو دوسری طرف پٹواری اور کلرکوں سے ہوتا ہوا ماتحت افسران کے گرد ہی گھومتا ہے۔ گویا ایک خاص سطح سے اوپر کرپشن کا گمان خارج از امکان تصور کیا جا رہا ہے؛ یعنی سبھی بڑے بابو افسر شاہی کے ٹائٹل کے ساتھ نہ صرف شاداں اور محفوظ ہیں بلکہ کرپشن کے خلاف ہراول دستہ بھی بنے ہوئے ہیں۔
کرپشن کے خلاف حالیہ کارروائیوں کے بارے میں رنگ برنگی باتیں سامنے آرہی ہیں جبکہ ہنی ٹریپ کے الزامات بھی برملا لگائے جا رہے ہیں۔ پولیس نے بھی دھکے سے رشوت دینے والے کو نہ صرف دھر لیا ہے بلکہ مقدمہ بھی درج ہو چکا ہے۔ ناکوں اور پٹرولنگ کے دوران عوام کو ہراساں اور پریشان کر کے عوام سے چائے پانی طلب کرنے والے ہوں یا تھانوں میں داد رسی اور من چاہی تفتیش کے نام پر رشوت لینے والے‘ دیگر سرکاری محکموں میں فائلوں کو پہیے لگانے کے نام پر جیبیں بھرنے والے ہوں یا روزمرّہ کے جائز کاموں کو روک کر سائلین کی جیبیں کاٹنے والے‘ جہاں یہ سب قابلِ مذمت اور باعثِ شرم ہیں وہاں ان سبھی کے اعلیٰ افسران کی نگرانی اور گورننس بھی کٹہرے میں کھڑی نظر آتی ہے۔ یہ کیسی افسر شاہی ہے جو اپنی ناک کے نیچے ہونے والی لوٹ مار اور مار دھاڑ سے بے خبر اور بے نیاز رہتی ہے۔ دوسری طرف یہ معمہ ہمیشہ حل طلب رہا ہے کہ قصبوں اور دیہات سمیت چھوٹے بڑے شہروں کی کم مایہ بستیوں سے نکل کر افسر شاہی کا حصہ بننے والے بابوؤں کا ہوشربا حال ان کے ماضی (بشمول سماجی و مالی پس منظر) سے منہ چڑانے کے باوجود احتسابی اداروں اور کرتا دھرتائوں کو دکھائی کیوں نہیں دیتا؟ یہ سوال بھی جواب کی تلاش میں زمانوں سے بھٹک رہا ہے کہ مقابلے کا امتحان پاس کر کے میدانِ عمل میں آنے والے چند افراد ابتدائی چند برسوں میں ہی مالامال کیسے ہو جاتے ہیں؟ ان کا رہن سہن ہو یا تام جھام اور ٹھاٹ باٹ‘ بچوں کی مہنگی ترین تعلیم سے لے کر سیر و تفریح اور غیر ملکی دورے تک‘ یہ سب دستیاب وسائل اور تنخواہ میں کیونکر ممکن ہیں۔ پرتگال سمیت دیگر ممالک میں شہریت لے کر مال اسباب منتقل کرنے کے قصے کیونکر زبان زدِ عام ہیں۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے تو اسمبلی کے فلور پر جوشِ خطابت میں ان بابوؤں کے سبھی پرچے آؤٹ کر ڈالے تھے لیکن حکومتی ایوانوں سمیت احتسابی ادارے کونے جھانک کر ہی رہ گئے۔ وزیر دفاع نے ان کے کالے دھن اور غیر ملکی شہریت کے کچے چٹھے کھول ڈالے تھے جبکہ درجنوں بابو تو غیر ملکی زوجیت کے چکر میں مملکتِ خداداد کی قومی سلامتی سے متصادم ایڈونچر بھی کر چکے ہیں لیکن مجال ہے کہ کسی ذمہ دار کے کان پر جوں بھی رینگی ہو۔ انسدادِ کرپشن پر مامور بڑے صاحبان سے التماس ہے کہ جانے مانے اور نامی گرامی اہداف خوف اور بے چینی کے بجائے پُرسکون اور اطمینان سے کیوں پھر رہے ہیں؟ یعنی ایک قلمدان خوف کی علامت ہے تو دوسرے قلمدان کے کرتے دھرتے کڑے سوالات اور سنگین الزامات کے باوجود محض اس لیے بے نیاز دکھائی دیتے ہیں کہ سر پر چھتر چھایا قائم ہے۔ گویا بڑی چھتری کے تلے کرپشن کا تصور بھی محال ہے۔ اس تھوڑ ے کو زیادہ اور خط کو تار سمجھیں۔
دوسری طرف آئی جی پنجاب نے میڈم چیف منسٹر کے وژن سے ترغیب پکڑے ہوئے پولیس میں انٹرنل اکاؤنٹیبلٹی کے شعبے کی تنظیم نو کا فیصلہ کرتے ہوئے افسران کے خلاف شکایت پر شفاف اور خودمختار احتساب کا عندیہ دیا ہے۔ آئی جی پنجاب کی نیت اور ارادہ بجا! لیکن یہ سوال تقویت پکڑتا دکھائی دیتا ہے کہ زیرو ٹالرنس کی تلوار تلے صوبے بھر کے تفتیشی افسران چالانوں کی مد میں بھاری نذرانے کس فنڈ سے ادا کریں گے جبکہ مقدمات کی تفتیش کے اخراجات کیلئے بھی سینٹرل پولیس آفس بس ٹوکن اور برائے نام ہی مالی معاونت کرتا ہے۔ رائج طریقہ کار کے مطابق مذکورہ اخراجات کا بوجھ ہمیشہ سے سائل کی جیب پر ڈالا جاتا ہے وہ بھلے مدعی ہو یا ملزم۔ یاد رہے! پنجاب بھر میں لاکھوں مقدمات کے تفتیشی چالانوں کا سالانہ نذرانہ اربوں کھربوں تک جا پہنچتا ہے اور عدم ادائیگی کی صورت میں پراسیکیوشن کا محکمہ چالان وصول کرنے کے بجائے الٹا تفتیشی کے گلے میں طوق بنا کر ڈال دیتا ہے۔ جبری کرپشن کا یہ دروازہ جب تک کھلا ہے پولیس میں احتساب اور انصاف محض بیانوں اور اجلاس میں ہی دکھائی اور سنائی دے گا‘ یعنی کرپشن واحد آپشن۔ ویسے تھانوں کی تزئین وآرائش پر خرچ ہونے والی رقومات کا بھی فرانزک آڈٹ کرائیں تو انٹرنل اکاؤنٹیبلیٹی کو ٹیسٹ کیس میسر آسکتا ہے۔ نہ مانے تو کر کے دیکھ۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved