تحریر : کنور دلشاد تاریخ اشاعت     12-09-2026

اسلام آباد صوبہ اور آئینی تقاضے

گزشتہ دنوں اعلیٰ سطح کی ایک خصوصی کمیٹی نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے مستقبل کے انتظامی ڈھانچے سے متعلق مجوزہ ڈرافٹ وزیراعظم کو پیش کیا جس میں اسلام آباد کو صوبائی طرز کی انتظامی اور مالی خودمختاری ‘ منتخب اسمبلی اور اپنے چیف ایگزیکٹو کے انتخاب کی سفارش کی گئی ہے۔ مذکورہ ڈرافٹ کے مطابق اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری میں 27 رکنی اسمبلی قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اسلام آباد کو صوبائی طرز کا خودمختار انتظامی ماڈل بنانا پاکستان میں انتظامی ڈھانچے کی ممکنہ ری سٹرکچرنگ کا پہلا عملی تجربہ ہو سکتا ہے۔ اپنے سیکرٹریٹ اور 27 انتظامی محکموں کے ذریعے اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے کا مقصد شہری حکمرانی کو سیاسی نعروں کے بجائے سروس ڈیلیوری‘ جوابدہی اور انتظامی کارکردگی سے جوڑنا ہے۔ اگر اسلام آباد انتظامی ماڈل کامیاب رہتا ہے تو یہ تجربہ مستقبل میں بڑے شہری مراکز اور نئے انتظامی یونٹس کے لیے ایک قابلِ عمل مثال ہو گا جس میں منتخب اسمبلی اور اس کے وزیراعلیٰ یا لارڈ میئر کا تقرر ہو سکتا ہے۔اسلام آباد کی مجوزہ 27رکنی اسمبلی میں سے 21 ارکان براہِ راست منتخب ہوں گے۔ یہ محض بلدیاتی ادارہ نہیں بلکہ ایک قانون ساز اسمبلی ہو گی جو لوکل باڈیز ایکٹ بھی منظور کر سکے گی۔ احسن اقبال کی زیر صدارت کمیٹی نے لندن‘ واشنگٹن اور نئی دہلی کے ماڈل پر غور کیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ نیویارک کے مضبوط نظام کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے۔ بعض وزرا کے بیانات سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام آباد میں قومی اسمبلی کی نشستوں کو تین سے بڑھا کر سات کرنے پر بھی غور ہو رہا ہے۔
اگر اسلام آباد کو صوبائی درجہ دینا ہے تو آئین میں تبدیلی ناگزیر ہے۔ سب سے پہلے آئین کے آرٹیکل 1 میں تبدیلی کرتے ہوئے پانچویں صوبے کا ذکر کیا جائے گا۔ اس وقت آرٹیکل ایک میں چار صوبوں کا ذکر ہے۔اسلام آباد کو صوبائی درجہ دینے کی تجویز دینے والی کمیٹی کا خیال ہے کہ اسلام آباد کو صوبہ بنانے کے لیے آئین میں ترمیم کی ضرورت پیش نہیں آئے گی اور نہ ہی یہ تجویز دو تہائی اکثریت کی مرہونِ منت ہے، حالانکہ اس کے لیے آئین کے آرٹیکل 2‘ 3‘ 4 اور 9 کو مدنظر رکھتے ہوئے آئینی ترامیم کرنا پڑیں گی۔ اسی طرح اگر اسلام آباد میں قومی اسمبلی کی نشستوں میں اضافہ کرنا مقصود ہے تو آئین کے آرٹیکل 51 اور 106میں ترامیم کرنا ہوں گی۔ اگر خواتین کی مخصوص نشستیں شامل کی جاتی ہیں تو آئین کے آرٹیکل 224 میں ترمیم لازمی ہو گی۔ گویا اسلام آباد کو صوبہ بنانے کے لیے آئین کے بنیادی ڈھانچے میں متعدد ترامیم کرنا پڑیں گی۔ آئینی ماہرین کے مطابق آئین کے آرٹیکل 1 سے آرٹیکل 28 تک کو آئین کا بنیادی ڈھانچہ قرار دیا گیا ہے‘ ان میں ترامیم کرنے سے آئین کا بنیادی ڈھانچہ متاثر ہو جائے گا۔ وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری کا کہنا ہے کہ اگر نئے صوبے بنانے میں آئینی ترمیم کی رکاوٹ پیش آئی تو دوسرے مرحلے پر ریفرنڈم پر غور کیا جائے گا مگر یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ ہمارے ملک میں ریفرنڈم تب ہوئے جب ملک مارشل لاء کی زد میں تھا اور آئین معطل کر دیا گیا تھا۔ پہلا ریفرنڈم دسمبر 1984ء اور دوسرا اپریل 2002ء میں کرایا گیا تھا۔ موجودہ حالات میں پارلیمنٹ موجود ہے‘ سویلین صدر اور وزیراعظم ہیں اور آئین برقرار ہے۔ اس سیٹ اَپ میں ریفرنڈم کی ضرورت پیش آنے کو پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں پر عدم اعتماد تصور کیا جائے گا۔ جو حکومتی دانشور ریفرنڈم کی تجویز دے رہے ہیں انہوں نے شاید آئین کے آرٹیکل 47 کو نہیں پڑھا۔ اگر ان حالات میں ریفرنڈم کرایا جاتا ہے تو عوام کے سامنے ون پوائنٹ ایجنڈا کیا ہو گا؟ ویسے بھی ریفرنڈم کرانے کے بعد بھی پارلیمنٹ سے دو تہائی اکثریت سے توثیق ضروری ہو گی‘ جس طرح جنرل ضیاء الحق نے اپنے ریفرنڈم کی توثیق 1985ء کی غیر جماعتی پارلیمنٹ اور جنرل پرویز مشرف نے اپنے ریفرنڈم کی منظوری نومبر 2002ء میں پارلیمنٹ سے سترہویں آئینی ترمیم کی صورت میں لی تھی۔ آئین کے آخری باب میں اس کا مکمل حوالہ دیا گیا ہے اور نظریۂ ضرورت کے تحت مذکورہ دونوں ریفرنڈمز کو آئینی تحفظ دیا گیا۔ گزارش صرف اتنی ہے کہ اس میں عجلت سے کام نہ لیا جائے بلکہ آئینی راستہ اختیار کرتے ہوئے پارلیمانی کمیٹی مقرر کر کے اس کی رائے پر حکمت عملی بنائی جائے۔
روایتی سیاستدانوں کی تقریریں عموماً اقتدار‘ سیاسی مخالفین اور وسائل کی تقسیم کے گرد گھومتی ہیں‘ یعنی کون حکومت کرے گا اور اختیار کس کے پاس ہو گا تاہم وزیر داخلہ محسن نقوی کے حالیہ بیانات کا فکری زاویہ اس سے مختلف ہے۔ وہ بحث کو شخصیات اور حکومتوں سے بالاتر ہو کر ریاست کے انتظامی ڈیزائن‘ ادارہ جاتی استعداد‘ اختیارات کی تقسیم اور عوامی خدمات کی مؤثر فراہمی تک لے جاتے ہیں۔ بنیادی سوال یہ نہیں کہ کون حکمران ہو گا بلکہ یہ ہے کہ موجودہ ریاستی ڈھانچہ بڑھتی ہوئی اور پیچیدہ ہوتی ہوئی ضروریات کو مؤثر طور پر نبھانے کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں۔اس تناظر میں انتظامی یونٹس اور اختیارات کی نچلی سطحی تک منتقلی کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں بلکہ ریاستی صلاحیت‘ جوابدہی اور گورننس کو بہتر بنانے کی طرف اقدام ہے۔ یعنی یہ بیانیہ اقتدار کی سیاست سے نکل کر ریاست کی کارکردگی کی طرف منتقل ہوتا ہے۔ عہدہ عارضی جبکہ اصلاح مستقل ہوتی ہے‘ اسے سیاسی مصلحت کی خاطر روکا نہیں جا سکتا۔
دوسری جانب سندھ اسمبلی میں فریال تالپور اور مراد علی شاہ کی تقاریر حقائق کے برعکس ہیں۔ موجودہ صوبہ سندھ کی حدود پاکستان کے قیام سے 11 سال قبل کچھ اور تھیں۔ 1839ء سے 1936ء تک سندھ اور گجرات‘ بمبئی پریذیڈنسی کی حدود میں تھے۔ تقریباً سو سال تک برطانوی دور میں سندھ دھرتی کسی کو یاد نہیں آئی۔ اس سے پہلے بلوچ تالپوروں کے دور میں 1783ء میں‘ ڈیرہ غازی خان سے سندھ آئے تھے۔ تالپور بلوچ غیر سندھی ہوتے ہوئے سندھ کے حکمران رہے۔ میمن بھی زیادہ تر گجرات سے آئے۔ جب انگریزوں نے کراچی کو تعمیر کیا تو سب اس میں گھل مل گئے۔ تاریخ کا سبق یہ ہے کہ قوم کا حصہ وہ بنتا ہے جو اس میں ضم ہو جاتا ہے‘ اس کے لیے اپنی ثقافت چھوڑنا ضروری نہیں ہوتا۔
اُدھر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے دہشت گردی کے حوالے سے ریاستی بیانیہ کے برعکس یہ کہہ کر سب کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا کہ دہشت گردی کا خطرہ پڑوسی ملک سے کم اور پڑوسی صوبوں سے زیادہ ہے۔ وفاقی حکومت اور مقتدر حلقے اس حوالے سے واضح ہیں کہ ملک میں دہشت گردی کے پیچھے فتنہ الہندوستان ہے۔ بین السطور میں مریم نواز بھارت کے بجائے پنجاب کے ساتھ ملحق صوبوں یعنی سندھ‘ بلوچستان اور خیبر پختونخوا سے خطرہ محسوس کر رہی ہیں۔ بھارتی میڈیا نے اس بیان کو اپنے رنگ میں ڈھال کریہ تاثرات دینے کی کوشش کی کہ وزیر اعلیٰ نے پاکستان کا قومی بیانیہ زمین بوس کر دیا ہے اور فتنہ الہندوستان کا رخ اب اپنے ہی تین صوبوں کی طرف موڑ دیا ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved