11ستمبر کو قائداعظم محمد علی جناح کی 78ویں برسی عقیدت و احترام سے منائی گئی۔ جنابِ صدر اور جنابِ وزیراعظم نے خصوصی پیغامات جاری کیے جن میں قائد کے سنہری اصولوں اتحاد‘ ایمان اور تنظیم سے وابستگی کا عہد دہرایا گیا اور قوم کو یقین دلایا گیا کہ پاکستان کو ایک اسلامی فلاحی اور جمہوری مملکت بنانے کا سفر جاری رہے گا۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے بھی اپنے اپنے انداز اور الفاظ میں قائد کے تصورات کے مطابق پاکستان کی تعمیر کا عہد کیا۔ چھوٹے بڑے شہروں میں‘ کئی چھوٹے بڑے اجتماعات ہوئے جن میں پاکستان کو ایک مثالی جمہوریت بنانے کا عہد کیا گیا۔ مختلف مقررین نے اپنے سامعین کو گرمایا اور آگے بڑھنے کے لیے اُکسایا۔ ادارہ نظریۂ پاکستان کے زیر اہتمام 'ایوانِِ قائداعظم‘ میں کہ یہ لاہور شہر میں تعمیر ہونے والا سب سے وسیع قومی ایوان ہے‘ تحریک پاکستان کے نامور کارکن میاں فاروق الطاف کے زیر صدارت ایک بڑا جلسہ ہوا جس میں نوجوانوں کی کثیر تعداد شریک تھی۔ ایک بڑی یونیورسٹی کے بڑے پروفیسر ڈاکٹر عابد شیروانی نے اس سے خطاب کرتے ہوئے قائد کا یہ فرمان پُرزور انداز میں دہرایا ''کام‘ کام اور کام‘‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم سب کو کام کرنے کی عادت ڈالنی چاہیے۔ قائداعظم آخری سانس تک‘ بیماری کے باوجود کام کرتے رہے۔ پاکستان کی تعمیرکیلئے ہر شخص کو کام میں جت جانا ہوگا۔ ان کی تائید کرتے ہوئے عرض کیا گیا کہ یہ تو درست ہے کہ قائد نے کام‘ کام اور کام کرنے پر زور دیا تھا لیکن اس کے ساتھ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ہر شخص اور ہر ادارے کو اپنا اپنا کام کرنا ہے۔ دستورِ پاکستان نے جس کی جو ذمہ داری متعین کی ہے‘ اس کے مطابق اس کو محنت کرنی ہے اگر الف کا کام ب اور ب کا کام ج کرنے لگے گا تو پھر سب کام چوپٹ ہو جائیں گے۔ پاکستان میں ماشاء اللہ ہم نے بہت کچھ حاصل کیا ہے‘ اپنے سے کئی گنا بڑے حملہ آور کے دانت کھٹے کرکے اپنا لوہا منوایا ہے۔ ہماری دفاعی صلاحیت کے سب معترف ہیں۔ افواجِ پاکستان کو دنیا کی بہترین افواج میں شمار کیا جاتا ہے۔ پاکستان عالمِ اسلام کی واحد ایٹمی طاقت ہے۔ حالیہ ایران امریکہ جنگ میں اس کی سفارتی صلاحیتوں نے بھی اپنے آپ کو منوایا ہے۔ ترکیہ اور سعودیہ کے ساتھ طے پانے والا دفاعی الائنس دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ عالمِ اسلام میں اتحاد اور یگانگت کی ایک نئی لہر اُبھر رہی ہے۔ اس معاہدے کو وسعت دے کر عالمِ اسلام کے اتحاد کے دیرینہ خواب کی تعبیر تلاش کی جا سکتی ہے۔ علامہ اقبالؒ نے برسوں پہلے واضح کر دیا تھا کہ سلطنتِ عثمانیہ کے خاتمے کے بعد اب عالمِ اسلام کا اتحاد مختلف ممالک کی آزادی اور خود مختاری کا تحفظ کرتے ہوئے ہی ممکن ہو گا گویا ان کی ''اقوام متحدہ‘‘ قائم کر کے ان کے درمیان تعاون کو فروغ دیا جا سکے گا۔ پاکستان‘ سعودیہ اور ترکیہ نے ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر یہ اعلان کر دیا ہے کہ ان میں سے کسی ایک پر حملہ دوسرے پر حملہ سمجھا جائے گا۔ اس طرح ایک ایسا دفاعی حصار قائم کیا گیا ہے‘ جو کسی بھی حملہ آور کو حملہ کرنے سے پہلے سو بار سوچنے پر مجبور کرے گا۔ جوں جوں مسلمان ملک اس لڑی میں خود کو پروتے جائیں گے‘ ان کے اثر و رسوخ اور صلاحیتوں میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔ ان سب کامرانیوں اور کامیابیوں کے باوجود پاکستان اپنے داخلی مسائل پر قابو پانے میں کامیاب نہیں ہو رہا۔ بکھری ہوئی سیاست بہت کچھ بکھیر دینے پر تلی نظر آتی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ ہم سب اپنا اپنا کام نہیں کر رہے‘ دوسروں کے کام میں مداخلت کو فرضِ اولین سمجھ بیٹھے ہیں۔ ہمارے اہلِ سیاست کو بھی اس کا ادراک کرنا چاہیے اور ان کو بھی جن کو سیاست سے الگ رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔
ہماری حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تعلقات کار قائم نہیں ہو پاتے‘ دونوں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں لگے رہتے ہیں۔ وزیراعظم نام کی مخلوق کی عجب درگت بنائی گئی ہے۔ اس کیلئے جیل یاترا لازم قرار دے دی گئی ہے۔ کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے۔ ایوانِ وزیراعظم سے نکلنے (یا نکالے جانے) والے ہر شخص کو حوالۂ زنداں کرنا ہماری سیاست کا بنیادی اصول قرار پایا ہے۔ زنداں خانے سے ایوانِ اقتدار تک پہنچنے کا راستہ بھی مسدود نہیں ہوا۔ جیو اور جینے دو کی گردان تو بہت کی جاتی ہے لیکن اس پر عمل دکھائی نہیں دیتا۔ قائد کی ساری جدوجہد آئین اور قانون کے دائرے میں رہی‘ اسی لیے انہوں نے قید و بند کا مزہ نہیں چکھا۔ ان کے قائم کردہ ملک میں آئین اور قانون کے تحت زندگی منظم نہیں ہو گی تو چین نصیب نہیں ہو گا۔
آئین سے ماوراء اقدامات تجویز کرنا اور ان کے ذریعے فلاح کا راستہ تلاش کرنا ایک ایسی بدعت ہے جس نے ہمیں ماضی میں شدید نقصان پہنچایا ہے‘ یہ روش برقرار رہی تو مستقبل بھی خطرات سے دوچار ہو سکتا ہے۔ ہر مسئلے کا حل آئین کے اندر رہتے ہوئے تلاش کرنا ہمارا قومی شعار ہونا چاہیے۔ ڈاکٹر مکان کا نقشہ نہیں بنا سکتا اور آرکیٹیکٹ کسی مرض کا علاج نہیں کر سکتا۔ معدہ جگر کی جگہ اور جگر دل کی جگہ نہیں لگایا جا سکتا۔ سارے اعضا اپنا اپنا کام کریں گے تو سب کا کام چلتا رہے گا۔ ایک دوسرے کی جگہ لینے کی کوشش عجیب الخلقت بچوں کو تو جنم دے سکتی ہے‘ کوئی مایہ ناز مخلوق تخلیق نہیں کر سکتی۔ اپنا اپنا کام کیجئے اور آگے بڑھتے جائیے۔ صدیوں کا تجربہ یہی بتا رہا ہے جس کا کام اسی کو ساجھے اور کرے تو ٹھینگا باجے۔
''عجز عاجزانہ‘‘
جناب عابد حسین قریشی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کے طور پر ریٹائر ہوئے لیکن اس کے بعد قلم کے محاذ پر دادِ فراست دینے لگے۔ ایک جج کے طور پر تو ان کی توجہ کا مرکز وہ مقدمات تھے جن کا فیصلہ انہیں کرنا ہوتا تھا۔ ان کی معاملہ فہمی اور عدل گستری کا چرچا ہوا‘ دور و نزدیک‘ ان کو جانا اور مانا جانے لگا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد ان کا قلم فراٹے بھرنے لگا۔ ''عدل بیتی‘‘ کے زیر عنوان خود نوشت چھپی تو پھر کالموں کا مجموعہ ''تجاہلِ عادلانہ‘‘ منظر عام پر آ گیا۔ ان کا شمار بڑے ادیبوں اور کالم نگاروں میں ہونے لگا۔ اب ''عجز عاجزانہ‘‘ کے زیر عنوان ان کی تازہ تصنیف نے مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کر دیے ہیں۔ قرآن‘ صاحبِ قرآن اور اہلِ بیت کے حوالے سے انہوں نے جو کچھ لکھ ڈالا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے اس کی لذت اس کے مطالعے میں ہے۔ رسول اللہﷺ کی شان میں وہ الفاظ جو اُن کے قلم سے نکلے ہیں‘ بڑی بڑی کتابوں پر بھاری ہیں۔ عاشقانِ رسولﷺ کے لیے یہ تحفۂ خاص ہے: ؎ اللہ اگر توفیق نہ دے انسان کے بس کاکام نہیں۔
چند الفاظ کا لطف اٹھائیے اور اپنے آپ کو معطر کیجئے: ''ایک عام انسان اور انسانِ کامل میں بنیادی فرق ہی کردار کی پختگی‘ عمل کی طاقت‘ صبر کی توفیق‘ شکر کی چاشنی‘ عجز و انکسار کی رعنائی‘سوچ و فکر کی پاکیزگی‘ بصیرت کی گہرائی‘ دیانت و امانت کی چھاپ اور صداقت کی رعنائی میں پنہاں اور پوشیدہ ہے۔ ان ساری خوبیوں اور صفات سے مرصع اس کائنات میں ایک ہی ہستی ہے کہ جن کی حیاتِ مبارکہ کا ایک ایک لمحہ تاریخ کے اوراق میں محفوظ ہو کر پوری آب و تاب کے ساتھ جگمگا رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو پوری کائنات میں یگانہ اور عدیم النظیر بنایا اور صدفِ ادکان کو آپ جیسا موتی آج تک نصیب نہیں ہوا‘‘۔
(یہ کالم روزنامہ ''پاکستان‘‘ اور روزنامہ ''دنیا‘‘ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے)
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved