مان لیا قانون‘قاعدہ اور اصول اہم ہوتے ہیں اور انسانوں کے معاشرے پر یہ سب راج کرتے ہیں لیکن میری زندگی کا جو چھوٹا موٹا تجربہ ہے اس کے مطابق انسان کی سب سے بڑی خوبی اس کی اخلاقی برتری ہوتی ہے۔ قانون بہت سے قاتلوں کو سزائے موت دیتا ہے لیکن بعض دفعہ مقتول کا خاندان انسانی بنیادوں پر قاتل کو معاف بھی کر دیتا ہے۔ اس طرح اگر پاکستانیوں کو یاد ہو تو 1987ء کے کرکٹ ورلڈ کپ کے ایک کوارٹر فائنل میں‘ جو پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان کھیلا جارہا تھا‘ فاسٹ باؤلر کورٹنی واش نے بھی اخلاقی بنیادوں پر وہ میچ جیت لیا تھا چاہے ویسٹ انڈیز ہار گیا تھا۔ آخری اوورز تھے اور عبدالقادر کریز پر تھے۔ وہ بال پھینکے جانے سے پہلے ہی باؤلنگ سائیڈ سے دوڑ پڑے۔ کورٹنی واش بال پھینکتے ہوئے رک گئے اور عبدالقادر تقریباً پچ کے درمیان تک پہنچ چکے تھے۔ وہ چاہتے تو آؤٹ کر سکتے تھے کہ وہ کریز سے بہت دور تھے لیکن کورٹنی کی کرکٹ اخلاقیات نے اجازت نہ دی کہ وہ میچ کے اس اہم ترین موڑ پر کسی کھلاڑی کو اپنی باؤلنگ کے بجائے ٹیکنکل بنیادوں پر آؤٹ کریں۔ بعد میں عبدالقادر نے ہی اسے چھکے مارے اور پاکستان سیمی فائنل میں پہنچ گیا۔ مجھے نہیں پتہ کہ اس کے ساتھی کھلاڑیوں نے کورٹنی واش کو کیا کہا ہو گا۔ میچ پاکستان جیت گیا تھا مگر دل کورٹنی واش جیت گیا۔ وہ میچ میں نے ٹی وی پر لائیو دیکھا ہوا تھا اور میری زندگی کا یہ پہلا بڑا سبق تھا کہ قانون قاعدہ یا اصول سب کچھ نہیں ہوتے۔ اخلاقی برتری سب پر بھاری ہوتی ہے۔ یہ سب باتیں مجھے دو تین حالیہ واقعات سے یاد آرہی ہیں۔ ابھی افغان میڈیکل سٹوڈنٹس کو پی ایم ڈی سی نے پاکستان کے میڈیکل کالجز سے نکالنے کا جو نوٹیفکیشن جاری کیا ہے اس پر ملا جلا ردِعمل سامنے آیا۔ ان طالب علموں کو کچھ سال پہلے پاکستانی حکومت سکالرشپ پر لائی تھی اور اب بدلتے حالات میں کابل حکومت کے ساتھ ایشوز کی وجہ سے انہیں کہا گیا ہے کہ واپس جائیں۔ اس پر دو آراء تھیں۔ ایک وہی پاپولر رائے کہ افغانوں نے پاکستان کو اپنے احسانات کا بدلہ نہیں دیا لہٰذایہاں کوئی افغان نظر نہیں آنا چاہیے۔ وہی ریاست جو پچاس برسوں تک افغانوں کو اپنی دفاعی حکمت عملی کا اہم جزو سمجھتی رہی اور انہیں اس معاشرے کا حصہ بنایا وہ اب اس نتیجہ پر پہنچ گئی ہے کہ چند افغان سٹوڈنٹس جو پاکستان میں ڈاکٹر بن رہے ہیں وہ بھی ہمیں قبول نہیں۔ میرے لیے یہ چیز بہت خوشگوار تھی کہ بہت سے پاکستانیوں نے اس فیصلے کو غیراخلاقی قرار دیااور ان کا کہنا تھا کہ ان سب کو اگر بلایا ہے‘ایڈمیشن دیا ہے تو اب انہیں تعلیم مکمل کرنے دیں۔ لیکن کچھ ایسے بھی ہیں جنہوں نے الٹا ان لوگوں کو برا بھلا کہا جنہوں نے ان طالبعلموں کیلئے آواز اٹھائی۔
مجھے یاد پڑتا ہے کہ دس برس قبل پاکستان کے چند سابق سیکرٹری خارجہ نے ایک مشترکہ مضمون ڈان اخبار میں لکھا تھا جس میں نئی خارجہ پالیسی گائیڈ لائنز دی گئی تھیں کہ پاکستان کو بدلتے ہوئے حالات میں طالبان سے ہٹ کر افغانستان میں دیگر قوموں اور طبقات سے بھی روابط رکھنے چاہئیں۔ ان کا مشورہ تھا کہ پاکستان کو افغانستان میں پڑھے لکھے اور جدید طبقات کے ساتھ روابط رکھنے چاہئیں۔ یہ دس برس پہلے کی بات ہے اور اب وہی ہوا ہے کہ وہی طالبان جو وی آئی پی بن کر اپنے خاندانوں سمیت ہمارے ہاں رہے‘ آج وہ ہمارے دشمن ہیں۔ ہم بھول گئے کہ ان طالبان کو ہم ہی اگست 2021ء میں کابل چھوڑ کر آئے اور اگلے دن ہمارے ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید ہوٹل میں چائے پینے پہنچے ہوئے تھے اور آج ہم ان کا نام تک نہیں سننا چاہتے۔ کچھ قصور ہمارا بھی ہے کہ ہم نے افغانستان میں سارا وزن ایک ہی پلڑے میں ڈال دیا تھا۔ وہاں کے پروگریسو اور جدید طبقات سے ہمیں چڑ تھی۔ اب بھی ہم ان پڑھے لکھے افغان ڈاکٹروں کو اپنا مستقل دشمن بنا کر افغانستان بھیجنا چاہتے ہیں۔ ویسے طالبان پر اس سے کیا اثر پڑے گا؟ یہ بیس پچیس ڈاکٹرز کابل جا کر طالبان حکومت کا کیا بگاڑ لیں گے اگر ہم نکال بھی دیں؟ اس دفعہ ہم کمزور وِکٹ پر کھڑے ہیں۔ بعض دفعہ اخلاقی قوت کتنی بڑی فورس ہوتی ہے اس کا اندازہ ایک اہم واقعہ سے لگا سکتے ہیں جو آپ کو حیران کن لگے گا۔ کچھ دن پہلے خوشونت سنگھ کی ایک شاندار کتاب پڑھ رہا تھا جو بڑی مشکلوں سے میرے لاہوری صحافی دوست عبدالستار خان نے اپنے دوست کے ذریعے تلاش کر کے دی۔ وہ پورے پاکستان میں کہیں سے نہیں مل رہی تھی۔
The Good, the Bad and the Ridiculous میں خوشونت سنگھ نے بیسویں صدی کی اہم شخصیات کے کمال کے خاکے لکھے ہیں۔ مختصراً لیکن چند صفحات میں ان کی شخصیات کوپورا سامنے لے آئے۔ ان میں قائداعظم‘ جواہرلعل نہرو‘ اندرا گاندھی‘ سنجے گاندھی‘ فیض احمد فیض‘ مدر ٹریسا اور دیگر شامل ہیں۔ اس میں ایک باب اندرا گاندھی پر بھی ہے۔ اس تحریر سے لگتا ہے خوشونت سنگھ اندرا گاندھی کو پسند نہیں کرتے تھے یا ان کی رائے اچھی نہ تھی۔ انہوں نے کچھ سخت الفاظ بھی استعمال کیے ہیں۔ اب زرا خوشونت سنگھ کی اخلاقی جرأت ملاحظہ فرمائیں۔ وہ ہفت روزہ میگزین کے ایڈیٹر تھے۔ اُن کی ملاقات وزیراعظم اندرا گاندھی سے ہوئی۔ اُس وقت بنگلہ دیش کو بنے کچھ عرصہ ہوا تھا اور وہ بھارت کی مقبول ترین وزیراعظم تھیں جو پاکستان کو شکست دے چکی تھیں۔ نوے ہزار پاکستانی ‘سویلین اور فوجی قید میں تھے۔ خوشنونت سنگھ نے اندرا گاندھی سے کہا کہ آپ پاکستان کے نوے ہزار قیدی واپس کر دیں۔ جنگ ختم ہوگئی ہے اب انہیں قید رکھنے کا کوئی اخلاقی جواز باقی نہیں رہ گیا۔ اندرا گاندھی جو بہت سخت مزاج کی حامل تھیں وہ یہ سن کر بھڑک گئیں اور کہا کہ مجھے آپ کے اس اخلاقی بھاشن کی ضرورت نہیں۔ آپ کو سیاست کا کچھ علم نہیں ہے۔ اب یہ ایک رپورٹر کی اخلاقی جرأت تھی جو اُس نے دکھائی تھی ‘جس کے خیال میں اخلاقیات کا تقاضا تھا کہ اب پاکستان کے قیدی واپس بھیجے جائیں۔ یہ ذہن میں رکھیں خوشونت سنگھ یہ گفتگو اُس وقت بھارتی وزیراعظم سے کررہے تھے جب پورے بھارت میں ابھی جشن جاری تھا۔ اندرا کو دیوی کی طرح پوجا جارہا تھا اور کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ کوئی صحافی اسے منہ پر جنگی اخلاقیات کا سبق دے گا۔ اندرا کو یہ بات پسند نہیں آئی اور خوشونت سنگھ کو بھی پتہ تھا کہ اندرا ایسی باتوں کو دل میں رکھتی ہیں اور اب شاید انہیں اس کے کچھ نتائج کا سامنا تو کرنا پڑے گا۔ تاہم خوشونت سنگھ نے وہی کہا جو اُن کے خیال میں کہنا چاہیے تھا۔ بھارتی عوام کیا سوچ رہے تھے اس سے ہٹ کر انہوں نے اخلاقیات کو اہمیت دی۔ خوشونت سنگھ کا خیال تھا کہ اب اندرا اسے نیگیٹو لسٹ میں رکھے گی لیکن کچھ عرصے کے بعد کسی فنکشن میں خوشونت سنگھ بھی موجود تھے اور وہاں اندرا گاندھی بھی آئی ہوئی تھیں۔ انہوں نے خوشونت سنگھ کو دیکھا تو ان سے ملیں اور اچھے طریقے سے بات کی جس پر خوشونت سنگھ کو خوشگوار حیرت ہوئی۔ اس کا مطلب تھا کہ اس دن خوشونت سنگھ کی وہ پاکستانی جنگی قیدی کے حوالے سے کی گئی بات کا کچھ نہ کچھ اثر ہوا تھا۔ یہی واقعہ میں نے اپنے دوستوں غلام حیدر‘ طاہر خوشنود اور امجد صدیق کو اس جمعہ کے روز اپنی ہفتہ وار بیٹھک میں سنایا تو طاہر نے بڑی خوبصورت بات کی کہ گل کر دینی چاہیدی اے ‘کی پتہ کس ویلے کس تے اثر کر جائے۔ ہوسکتا ہے اس وقت اسے برا لگے لیکن بعد میں وہ اس پر سوچے تو اسے وہی بات مناسب لگے۔ہوسکتا ہے جب بھٹو اور اندرا گاندھی کے درمیان شملہ معاہدہ ہورہا تھا اور بھٹو نے نوے ہزار قیدی واپس مانگے تو اندرا گاندھی کے ذہن کے کسی کونے میں خوشونت سنگھ کی وہ بات موجود ہو کہ پاکستان کو فوجی واپس کردیں۔ انہیں اب قید رکھنے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں ۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved