تحریر : خورشید ندیم تاریخ اشاعت     14-09-2026

صرف پندرہ سال

اگر ہم صرف پندرہ سال کے لیے یکسو ہو سکیں تو ایک نئی قوم کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔ قوموں کی تاریخ میں پندرہ برس‘ دو منٹ میں گزر جاتے ہیں۔
ماہرینِ نفسیات کا کہنا ہے کہ انسانی شخصیت پانچ سے سات برس کی عمر میں مکمل ہو جاتی ہے۔ شخصیت کی تشکیل کے باب میں بہت سے نظریات پیش کیے جاتے ہیں۔ ڈی این اے سے ماحول تک‘ کئی عوامل ہیں جن کا ذکر کیا جاتا ہے۔ ایک تحقیق یہ بتاتی ہے کہ انسانی شخصیت ڈی این اے کے تابع نہیں ہے۔ جینز بلیو پرنٹ کی طرح کام کرتے ہیں۔ یہ خارج سے سگنل موصول کرتے ہیں جو کسی جین کو فعال کر دیتے ہیں اور کسی کو غیر فعال۔ یہ ماحول اور خیالات ہیں جو سگنل یا اشارے دیتے ہیں۔ ان کا مرکز دماغ ہے۔ یہ ہمارے شعور اور لاشعور میں جنم لینے والے خیالات ہیں جو ایک کیمیکل کو جنم دیتے ہیں اور یہ ہماری جسمانی صحت اور سیلز کی حرکت پر اثر انداز ہوتا ہے۔ لاشعور کی تشکیل بڑی حد تک بچپن میں ہو جاتی ہے۔ یہ تحقیق حیاتیاتی جبر کو نہیں مانتی۔ اس کے مطابق دماغ انسان کو کنٹرول کرتا ہے نہ کہ جینز۔
یہ ڈاکٹر بروس لپٹن کی تحقیق ہے۔ یہ امریکی ہیں۔ انہوں نے 1971ء میں یونیورسٹی آف ورجینیا سے ترقیاتی حیاتیات میں پی ایچ ڈی کی۔ 1980ء کی دہائی تک یہ دہریے تھے۔ پھر اپنی اس تحقیق کے نتیجے میں انہوں نے خدا کو دریافت کیا۔ اپنی کتاب Biology of Belief میں انہوں نے یہ تحقیق پیش کی ہے۔ ان کی اس تحقیق سے عدم اتفاق رکھنے والے بھی بہت ہیں۔ ناقدین کا خیال ہے کہ سائنسی اعتبار سے 'ایپی جنیٹکس‘ (Epigenetics) کا یہ مقدمہ ثابت نہیں ہے۔ ڈاکٹر لپٹن نے ا س کتاب میں اپنے دلائل اور بعض مشاہدات پیش کیے ہیں اور یہ بتایا ہے کہ وہ اس نتیجۂ فکر تک کیسے پہنچے۔ یہ کتاب اس خیال کو تقویت دیتی ہے کہ انسانی شخصیت بچپن میں مکمل ہو جاتی ہے اور اس کے ساتھ تعلیم اور ماحول شخصیت پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ علمِ نفسیات کی روشنی میں جو تعلیمی نفسیات وجود میں آئی اس میں بھی تسلیم کیا گیا ہے کہ یہ عمر کے پہلے پانچ سات سال ہیں جن میں شخصیت بنتی ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم جو انسان تیار کرتے ہیں‘ ان کا ٹیکسال گھر ہے یا وہ سکول جہاں سے وہ ابتدائی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ اگر یہ ادارے درست ہو جائیں تو ہم مطلوب انسان پیدا کر سکتے ہیں۔ ہمارا مطلوب انسان وہ ہے جسے کوئی سرکاری‘ سیاسی‘ عدالتی یا سماجی ذمہ داری سونپی جائے تو وہ اسے پوری دیانت داری اور اہلیت کے ساتھ ادا کرے۔ عدل وانصاف سے کام لے۔ سماجی اقدار اور انسانی حقوق کا خیال رکھنے والا ہو۔ اس کے اخلاق پاکیزہ ہوں اور اس سے انسانی جان و مال اور عزت و آبرو کو کوئی خطرہ نہ ہو۔ اس کا تصورِ زندگی جو بھی ہو‘ وہ انسانوں کے لیے باعثِ خیر ہو۔ اگر زندگی کے ہر شعبے میں ان اوصاف کے حاملین کا غلبہ ہو تو ہم ایسی قیادت پیدا کر سکتے ہیں جو سماج ا ور ریاست کی صورت بدل دے۔ اس طرح ہماری ان شکایات کا ازالہ ہو جو ہمیں اربابِ ریاست و سماج سے رہتی ہیں۔
گویا کرنے کے کام دو ہیں۔ ایک یہ کہ والدین کو اس بارے میں حساس بنایا جائے کہ ان کی گود میں آنے والا بچہ ان کے لیے ایک آزمائش ہے۔ اگر اس کی تربیت کا خیال نہ رکھا گیا تو یہ سماج میں شر کا باعث بنے گا اور اس کے نتیجے میں آپ کو دنیا اور آخرت میں رسوائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ دوسرا کام یہ ہے کہ ہم پہلے بارہ سال کی تعلیم اُن خطوط پر استوار کریں جو طالب علم کی شخصیت میں وہ اوصاف پیدا کرے جو مطلوب ہیں۔ بارہ برس کی رسمی تعلیم مکمل ہونے پر وہ سولہ سترہ برس کا نوجوان ہو گا۔ اب وہ عمر کے اس مرحلے میں ہو گا جب وہ سماج کے بناؤ میں شریک ہو سکتا ہے۔ اس کے بعد وہ ڈاکٹر بنے‘ انجینئر بنے‘ عالم بنے‘ سیاستدان بنے‘ ان شاء اللہ معاشرے کے لیے باعثِ خیر بنے گا۔
آج جن والدین کے بچے اس عمر کو پہنچ چکے‘ ہم ان والدین اور ان کے بچوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ ایسے والدین کی تربیت کا مرحلہ گزر چکا۔ بچوں کی شخصیت میں بھی اب کوئی جوہری تبدیلی پیدا نہیں کی جا سکتی۔ اس لیے اب ہمیں نئے والدین اور اُن بچوں کو ہدف بنانا ہوگا گزشتہ ایک دو سال میں پیدا ہوئے ہیں۔ دوسرا ہمیں اپنے تعلیمی نظام کو نئے خطوط پر استوار کرنا ہو گا۔ میری تجویز ہے کہ والدین کو ان کی ذمہ داریوں سے آگاہ کر نے کے لیے‘ شادی سے پہلے ایک سرٹیفکیٹ کورس لازمی قرار دیا جائے۔ اس میں جہاں خاندانی نظام کے بارے میں آگاہی دی جائے‘ وہاں اس بات کی بھی تربیت دی جائے کہ بچے کی تعلیم و تربیت کتنی ضروری ہے اور اس میں والدین کی ذمہ داری کیا ہے۔ شادی کے لیے یہ سرٹیفکیٹ شرط ہو۔ انڈونیشیا میں نہضۃ العلما نے شادی کی عمر کو پہنچنے والے نوجوانوں کے لیے اس نوعیت کے کورسز بنائے ہیں۔ ایران میں شادی کے لیے قبل از نکاح کورس قانوناً ضروری ہے جس میں آنے والی زندگی کے تمام پہلوئوں کے بارے میں آگاہی دی جاتی ہے۔ ایران نے تو آنے والی نسلوں کو موروثی اور جینیاتی امرض سے بچانے کے لیے خون کے ٹیسٹ بھی لازمی قرار دیے ہیں۔ ہمیں بھی نئی نسل کوجسمانی اور اخلاقی امراض سے بچانے کے لیے اس کا اہتمام کرنا چاہیے۔
سکولوں میں ابتدائی مرحلے کی تعلیم کو شخصیت کے تین پہلوئوں پر مرتکز کرنا چاہیے: تنقیدی شعور‘ اخلاقی تعمیر اور جمالیاتی ذوق کی آبیاری۔ تنقیدی شعور فلسفے کی تعلیم سے آئے گا۔ اخلاق کی تعمیر مذہبی تعلیم سے ہو گی۔ جمالیات کا شعور فنونِ لطیفہ سے پروان چڑھے گا۔ اگر بچے کی شخصیت میں یہ تین اوصاف پیدا ہو جائیں تو وہ سماج کو عقلی‘ اخلاقی اور جمالیاتی پہلو سے سمجھ سکے گا۔ یہ شعور اسے ایسا شہری بنائے گا جو معاشرے کے لیے صاحبِ خیر ہو۔ ان مضامین کی تعلیم کو عمر کے ساتھ ساتھ‘ بارہ سال تک جاری رکھا جائے۔ کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر‘ پھر ان کی ضرورت نہیں رہے گی۔ اس مرحلے میں طالب علم اپنے لیے ایک میدانِ عمل کا انتخاب کر چکے ہوں گے۔ کالج میں اس انتخاب کے مطابق‘ مختلف علوم کی تعلیم ہو اور یونیورسٹی میں ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو جلا بخشنے کے لیے سازگار ماحول دیا جائے۔
اس کام کے لیے ریاضت چاہیے۔ اگر اس کو تسلسل کے ساتھ جاری رکھا جائے تو مجھے یقین ہے کہ ہم پندرہ برس میں وہ معاشرہ پیدا کر سکیں گے جو ہمارے اجتماعی اخلاقیات کا نمونہ ہو۔ اگر ہم نے تعلیم کو شتر بے مہار کی طرح چھوڑ دیا‘ جیسے وہ اب ہے تو اس کے نتیجہ میں ایک پراگندہ فکر نسل ہی پیدا ہو گی۔ اس کے بعد شاید وہ اصلاحی کوششیں بھی نتیجہ خیز ہو جائیں جن کے بے ثمر ہونے کا میں نے گزشتہ کالم میں ذکر کیا ہے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد‘ قوم کو تذکیر اور یاد دہانی کی ضرورت ہو گی اور یہ کام اصلاحی جماعتیں سرانجام دے سکتی ہیں۔ ان جماعتوں کو چلانے والے بھی جب اس تعلیم سے گزر کر آئیں گے تو انہیں اپنی حدود کا خیال ہو گا۔ پھر انہیں معلوم ہو گا کہ مذہب اخلاق کے تزکیے کے لیے ہے‘ کسی سیاسی مقصد یا مسلکی مفاد کے لیے نہیں۔ اس کے بعد سول سوسائٹی ا ور ریاست کے ذمہ داران سے بھی یہ توقع باندھی جا سکتی ہے کہ اپنے فرائضِ منصبی آئین‘ قانون اور اخلاقیات کے دائرے میں رہتے ہوئے ادا کریں گے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved