آپ نے سنا‘ پڑھا اور سمجھا ہو گا کہ انسان کی پہلی اور آخری پرورش گھر میں ہی ہوتی ہے۔ اوائلِ زندگی میں زبان‘ ثقافت‘ اخلاقیات‘ مذہب اور رویے جو بھی ہیں یا نہیں ہیں‘ تحت الشعور میں رچ بس جاتے ہیں۔ خیر‘ یہ تو ایک نظریہ ہے جس سے میں خود ذاتی طور پر اتفاق نہیں کرتا۔ میرا ماننا ہے کہ انسان کی سوشلائزیشن پوری زندگی جاری رہتی ہے۔ گھر سے باہر نکل کر بھی یہ عمل کتابیں پڑھنے‘ دور دراز کے ملکوں میں علم حاصل کرنے اور سفر کر کے دنیا کا مشاہدہ کرنے سے جاری رہتا ہے۔ ہم مختلف زاویوں‘ ذرائع اور لوگوں سے اپنی ذات کے میلان کے مطابق کم یا زیادہ‘ اثر قبول کرتے ہیں۔ بالا طبقات جو نسل در نسل اُسی کلاس سے چلے آتے ہیں‘ ان کی اولادیں بھی اکثر اپنی خاندانی روایات کے مطابق زندگی نہیں گزارتیں۔ ان میں بھی ہم فرق دیکھتے ہیں۔ اگر نہیں دیکھتے تو یہ ہیں ہمارے آج کل کے سیاسی حکمران گھرانے‘ جو ٹاپ پر تو دو ہی ہیں۔ ان دو میں سے ہر ایک کے ساتھ سینکڑوں سیاسی خاندانوں کا اتحاد ہے‘ جس سے وہ حکومتیں بناتے‘ چلاتے‘ بگاڑتے اور اپنی سیاست کا رنگ دکھاتے چلے آ رہے ہیں۔ ہماری اپنی زندگی اور ملکی تاریخ کا نصف صدی کے قریب کا زمانہ انہیں اقتدار میں دیکھتے گزرا ہے۔ پیپلز پارٹی کے ذوالفقار علی بھٹو صاحب کا ذکر کریں اور ان کے والدِ محترم‘ سر شاہنواز بھٹو کا بھی‘ تو اب ان کی چوتھی نسل اقتدار میں ہے۔
دوسرے سیاسی گھرانے کے بانی میاں شریف صاحب مرحوم اور میاں نواز شریف صاحب ہیں۔ صنعتی اور کاروباری لوگوں کی پنجاب اور پاکستان میں کوئی کمی نہیں مگر جب انہیں ایک حکومت میں موقع ملا تو انہوں نے اپنی جگہ بنائی اور اپنی سیاست اور طاقت کو وسعت دیتے چلے گئے۔ بھٹو صاحب کو بھی موقع ایک ایسی ہی حکومت میں ملا تھا مگر بھٹو صاحب کی ذہانت‘ تاریخ‘ قانون اور سیاسی علوم میں گہرائی اور وسعت کے مقابلے میں ابھی تک میرے خیال میں کوئی دوسرا سیاستدان میدان میں نہیں آیا۔ آپ ان کی سیاست اور طرزِ اقتدار اور دیگر چیزوں سے تو اختلاف کر سکتے ہیں لیکن جہاں تک ان کے عالمی سطح کے مدبر اور سیاستدان ہونے کا تعلق ہے اس کے بارے میں میرے نزدیک کوئی دوسری رائے نہیں ہو سکتی۔ قومی سیاسی منظر نامے پر سکہ تو اب بھی ان دو خاندانوں کا چلتا نظر آ رہا ہے مگر سیاست میں چلنے کی ان کی اپنی طاقت گزشتہ دو‘ تین انتخابات میں تحلیل ہو چکی ہے۔ اگر کوئی کھڑا ہو کر کہیں یہ کہتا ہے کہ انہیں کسی اور جگہ سے چلایا جا رہا ہے تو میں اس بات کو تسلیم کرنے میں کوئی وقت ضائع نہیں کروں گا۔ آخری انتخابی معرکے کے حالات تاریخ کی کتابوں کے علاوہ دیواروں اور چہروں پر بھی لکھے نظر آ رہے ہیں۔ ایک تیسری طاقت اس ملک کی سیاست میں ابھری ہے یا ابھری تھی‘ جسے اب بند کر کے کام چلایا جا رہا ہے۔ اس بارے میں کچھ زیادہ بات کرنے کو جی نہیں کرتا۔ بہتر ہے کہ ہم سب خاموش رہیں۔
اصل بات تو ان دو خاندانوں کی اُس اگلی نسل کی ہے جو آج کل اپنی سیاسی ذمہ داریاں سنبھالے‘ سب کو نظر آتی ہے۔ جو باتیں کچھ بڑوں کے بارے میں اخباروں میں لکھنے والے لکھتے تھے‘ وہ ان کی اگلی نسل کے نمائندوں پر بھی صادق آتی ہیں۔ اس بارے میں ہمیں تو کچھ زیادہ علم نہیں مگر جو کھوجی ادھر اُدھر سے شواہد جمع کر کے لکھتے اور بولتے رہتے ہیں ان کی تحریریں پڑھیں تو لگتا ہے کہ سیاسی شیروں کے پیٹ کبھی نہیں بھرتے۔ یہ صرف افریقہ کے جنگلوں میں رہنے والے شیروں کے بارے میں ہی آپ کہہ سکتے ہیں کہ جب وہ شکار کر کے اپنا پیٹ بھر لیتے ہیں تو چین کی نیند سو جاتے ہیں۔ جب تک بھوک انہیں نئے شکار کے لیے مجبور نہیں کرتی وہ کسی جانور کی طرف دیکھتے بھی نہیں۔ یہاں زبانِ خلق جو کچھ کہتی ہے ہم کانوں کو ہاتھ لگا کر آسمان کی طرف دیکھنے لگتے ہیں۔ ہماری نظر تاریخ پر ہے‘ اپنی سے زیادہ دوسری قوموں اور شخصیات کی تاریخ پر‘ حکمران طبقات کی تاریخ‘ ان کے عروج و زوال کی تاریخ پر۔ میں ذاتی طور پر ان لوگوں سے متاثر ہوں جنہوں اپنی محنت سے کمایا اور اپنا مقام بنایا مگر اس کا زیادہ تر حصہ معاشرے کو واپس کر کے پرانی سادگی پر زندگی کا آخری حصہ گزارا۔ ہماری سماجی اخلاقیات اور اس کے معیار کچھ ایسے ہو چکے ہیں کہ یہ وقت راج‘ دولت اور طاقت کا ہے۔ یہ رجحان اوپر سے شروع ہوا اور اب ہر سطح پر پھیل چکا ہے۔ ہم تو تماشائی ہیں‘ یہ تماشا اب دوسری تیسری نسل میں بھی دیکھ رہے ہیں۔ دولت سمیٹنے کا سلسلہ جو اسّی کی دہائی کے آخری سالوں میں شروع ہوا تھا اب بھی نہ صرف جاری ہے بلکہ بہت بڑھ چکا ہے۔ سندھ سے جو خبریں دہائیوں سے آ رہی ہیں وہ سب کو معلوم ہیں اور وہاں کھربوں خرچ ہونے کے بعد کیا ترقی ہوئی ہے‘ اس کے بارے میں ملک کے سب سے بڑے شہر کے لوگ ہی بتا سکتے ہیں۔ اندرونِ سندھ تو میرے دل کے قریب ہے‘ اس کے حالات بیان کروں تو دل دکھتا ہے۔
میرے اور آپ کے پنجاب کی محترم وزیراعلیٰ‘ شنید ہے کہ انہیں نواز شریف صاحب اپنا سیاسی وارث بنا چکے ہیں اور اپنی زیرِ نگرانی ان کی تربیت بھی کر رہے ہیں۔ ان کے کارناموں کی مہم اور ان کے وزیروں اور مشیروں کی طرف سے ان کی تعریفیں سن کر پنجاب کا ہر باشندہ اب فخر محسوس کرنے لگا ہے کہ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے بعد کوئی تو کام کا وزیراعلیٰ ہمیں نصیب ہوا ۔ پنجاب میں سکولوں سے باہر ایک کروڑ کے قریب بچے‘ ان کے علاوہ کسان‘ مزدور اور وہ غریب لوگ کیا جانیں کہ ان کے حکمرانوں کے بھاگ جاگے ہوئے ہیں۔ سب سے بڑے صوبے کی اعلیٰ ترین وزارت‘ یہ کوئی کم عزت کا درجہ نہیں۔ پھر ایک ہی خاندان میں پانچویں وزارتِ عظمیٰ‘ چھٹی یا ساتویں وزارتِ اعلیٰ‘ تاہم مشکل معاشی دور میں شاہ خرچیاں اگلی سیاسی نسل کے بارے میں بہت کچھ بتاتی ہیں۔ اپنے ملک کے بارے میں ہمیں سب پہلے بھی کچھ خوش فہمی تھی اور اب بھی رہے گی کہ ہمیں تو اس زمین سے محبت ہے مگر ان سیاسی گھرانوں کے سیاسی اور غیر سیاسی کارناموں کو دیکھ کر کئی سوال اٹھتے ہیں۔ اب زیادہ سوال تو عوام کی بے بسی‘ اقتدار کے جھوٹے رویوں اور فنِ سیاست کے بارے میں اٹھتے ہیں۔ ٹرکوں پر لکھی تحریر پر اب کچھ زیادہ غور کرنے کو جی چاہتا ہے: نصیب اپنا اپنا!
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved