تحریر : میاں عمران احمد تاریخ اشاعت     14-09-2026

جی ایس پی پلس‘ قطر تجارت اور ورچوئل اثاثے

پاکستان کی معیشت برآمدات‘ زرمبادلہ کے ذخائر اور آئی ایم ایف پروگرام کے دباؤ کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ایسے میں یورپی یونین کی جانب سے جی ایس پی پلس کے نئے فریم ورک کا اعلان پاکستان کیلئے ایک اہم چیلنج ہو سکتا ہے۔ موجودہ جی ایس پی پلس ممالک کو خودکار توسیع نہیں ملے گی بلکہ پاکستان سمیت تمام ممالک کو دوبارہ درخواست دینا ہوگی اور 27 کے بجائے 32 بین الاقوامی کنونشنز پر عملدرآمد کا عہد کرنا ہوگا۔بظاہر یہ محض ایک انتظامی کارروائی دکھائی دیتی ہے لیکن حقیقت میں پاکستان کی حکمرانی‘ انسانی حقوق‘ مزدوروں کے حقوق‘ ماحولیات اور قانونی نظام کیلئے امتحان ہو سکتا ہے۔ اصل مسئلہ نئے کنونشنز پر دستخط کرنا نہیں بلکہ ان پر مؤثر عملدرآمد ثابت کرنا ہے۔ اس معاملے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 2024ء میں پاکستان نے یورپی یونین کو تقریباً ساڑھے سات ارب یورو مالیت کی برآمدات کیں۔ جی ایس پی پلس کی بدولت پاکستانی برآمد کنندگان کو تقریباً 73 کروڑ یورو کی ٹیرف بچت حاصل ہوئی۔ ٹیکسٹائل‘ گارمنٹس اور ہوم ٹیکسٹائل کی برآمدات کا بڑا حصہ اسی رعایتی رسائی کی وجہ سے یورپی منڈی میں مسابقت برقرار رکھے ہوئے ہے۔ اگر نئی شرائط پوری نہ کر جا سکیں تو پاکستانی مصنوعات پر دوبارہ 9 سے 12 فیصد تک درآمدی ڈیوٹی عائد ہو سکتی ہے۔ ایسی صورت میں بنگلہ دیش‘ ویتنام اور دیگر علاقائی ممالک کے مقابلے میں پاکستان کی برآمدات کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔ برآمدات میں کمی کا مطلب صرف زرمبادلہ میں کمی نہیں بلکہ لاکھوں ملازمتوں کا خطرے میں پڑ جانا بھی ہے۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان نے 2014ء میں جی ایس پی پلس حاصل کرنے کے بعد اس موقع سے کتنا فائدہ اٹھایا؟ اس عرصے میں پاکستان کی برآمدات میں 108 فیصد اضافہ ہوا لیکن برآمدی ڈھانچہ آج بھی ٹیکسٹائل تک محدود ہے۔ ہائی ٹیک مصنوعات‘ انجینئرنگ‘ فارماسیوٹیکل اور ویلیو ایڈڈ صنعتوں کا حصہ اب بھی محدود ہے‘ یعنی رعایت کا فائدہ تو اٹھایا لیکن مطلوبہ کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔
دوسری جانب پاکستان اور قطر کے درمیان مذاکرات ایک ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب دنیا میں تجارت کے روایتی راستے تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔ بیلٹ اینڈ روڈ سمٹ کے موقع پر وفاقی وزیر تجارت اور قطر کے وزیر مملکت برائے خارجہ کے درمیان ہونے والی ملاقات میں مشرقِ وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے ذریعے پاکستان کو ترکیہ اور یورپی منڈیوں سے جوڑنے کیلئے مذاکرات ہوئے۔پاکستان اس وقت برآمدات بڑھانے کے دباؤ کا شکار ہے۔ مالی سال 2026 ء میں پاکستان کی مجموعی برآمدات تقریباً 33 ارب ڈالر کے قریب رہیں جبکہ درآمدات 60 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئیں‘ جس کے نتیجے میں ملک کو بڑے تجارتی خسارے کا سامنا ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈیوں میں شمار ہوتی ہے۔ ایسے میں اگر پاکستان کو خلیجی ریاستوں‘ ترکیہ اور یورپ تک تیز اور کم لاگت رسائی مل جاتی ہے تو اس کے معاشی نمایاں فوائد ہو سکتے ہیں۔ قطر اس منصوبے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ دنیا کی بڑی ایل این جی برآمد کنندہ ریاست ہونے کے ساتھ ساتھ قطر علاقائی لاجسٹکس اور سرمایہ کاری کا مرکز بھی ہے۔ پاکستان اور قطر کے درمیان تجارت تقریباً چار ارب ڈالرہے جبکہ قطر میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد پاکستانی مقیم ہیں جو سالانہ تقریباً ایک ارب ڈالر زرمبادلہ وطن بھیجتے ہیں۔ تاہم یہاں ایک بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان واقعی اس موقع سے فائدہ اٹھانے کیلئے تیار ہے؟ گزشتہ کئی دہائیوں سے یہ علاقائی تجارت کے بیشمار منصوبوں کا حصہ بنتا رہا‘ سی پیک کو خطے کاگیم چینجرقرار دیا گیا‘ وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ تجارتی راہداریوں کے اعلانات ہوئے‘ افغانستان کے ذریعے سینٹرل ایشیا تک رسائی کے منصوبے بنے‘ لیکن نتائج زمینی سطح پرتوقعات کے مطابق سامنے نہیں آئے۔
پاکستان اور افریقی ممالک نے پاکستان افریقہ اکنامک کونسل کے افتتاح کے موقع پر 2030ء تک باہمی تجارت کو 15 ارب ڈالر تک پہنچانے کا عزم کیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان موجودہ رفتار کے ساتھ یہ ہدف حاصل کرسکتا ہے؟ پاکستان اور افریقہ کے درمیان مجموعی تجارت تقریباً پانچ ارب 63 کروڑ ڈالر سے زیادہ ہے۔پاکستان کی افریقہ کو برآمدات دو ارب 39 کروڑڈالر جبکہ درآمدات تین ارب 24 کروڑ ڈالر سے زیادہ ہیں۔ تقریباً 85 کروڑ ڈالر کا تجارتی خسارہ درپیش ہے۔ افریقہ میں پاکستان کئی مصنوعات مسابقتی حیثیت رکھتی ہیں۔ چاول‘ ٹیکسٹائل‘ کپڑا‘ سیمنٹ‘ کھیلوں کا سامان‘ سرجیکل آلات‘ ادویات‘ زرعی مشینری‘ ٹریکٹر‘ آئی ٹی سروسز اور حلال گوشت ایسے شعبے ہیں جن میں پاکستان اپنی برآمدات بڑھا سکتا ہے۔ آئی ٹی کا شعبہ بھی کئی مواقع پیدا کر سکتاہے۔ پاکستان کی آئی ٹی اور سروسز میں موجودہ معاشی و تجارتی صلاحیت تقریباً پونے تین ارب ڈالر ہے‘ جسے بہتر رابطوں کے ذریعے دُگنا کیا جاسکتا ہے۔ اگر پاکستان افریقہ کو صرف چاول اور ٹیکسٹائل فروخت کرنے کے بجائے سافٹ ویئر‘ فِن ٹیک‘ ای کامرس‘ سائبر سکیورٹی اور طبی ٹیکنالوجی فراہم کرے تو برآمدات میں تیزی آسکتی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے وفاق اور صوبوں کے درمیان بہتر رابطے‘ فی ایکڑ پیداوار میں اضافے‘ جدید ٹیکنالوجی‘ لائیو سٹاک اور زرعی برآمدات کو بڑھانے کی ہدایت کی ہے اور فی ایکڑ پیداوار بڑھانے کیلئے تمام ممکنہ اقدامات کرنے پر زور دیا ہے۔ پاکستان کی معیشت میں زراعت بنیادی ستون کی حیثیت رکھتی ہے لیکن اس شعبے کی اصل صلاحیت استعمال نہیں ہو رہی۔ ملکی جی ڈی پی میں حصہ تقریباً 23.4 فیصد جبکہ روزگار میں حصہ 33 فیصد ہے۔ اس کے باوجود زرعی شعبے کی مجموعی شرح نمو صرف 2.89 فیصد رہی ہے۔ گزشتہ مالی سال گندم کی پیداوار 29.61 ملین ٹن‘ چاول 9.99 ملین ٹن اور گنے کی پیداوار 89.45 ملین ٹن تھی۔ چاول کی پیداوار میں خاص طور پر یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ زیرکاشت رقبہ کم ہونے کے باوجود فی ہیکٹر پیداوار میں 6.6 فیصد اضافہ ہوا جو بہتر بیج‘ جدید آبپاشی‘ زرعی مشینری اور سائنسی طریقہ کاشت کا نتیجہ ہے۔ اسی طرح لائیو سٹاک بھی پاکستان کی معیشت کا اہم شعبہ ہے۔ حالیہ اکنامک سروے کے مطابق زرعی ویلیو ایڈیشن میں 62.4 فیصد حصہ ہے اور اس کی مالیت 6.2 ٹریلین روپے سے زیادہ ہے۔ 80 لاکھ سے زائد دیہی خاندان اس شعبے سے وابستہ ہیں‘ مگر عالمی گوشت کی برآمدات میں پاکستان کا حصہ اب بھی ایک فیصد سے کم ہے۔مسئلہ جانوروں کی کمی نہیں بلکہ جدید نظام کی کمی ہے۔
وزیر مملکت اور پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین نے اقوام متحدہ رکن ممالک پر زور دیا کہ ڈیجیٹل اثاثوں پر صرف بحث کرنے کے بجائے اب ایسے عالمی ادارہ جاتی اور ریگولیٹری ڈھانچے تشکیل دیے جائیں جو عالمی مالیاتی نظام کی اگلی نسل کو منظم کرسکیں۔ اس اجلاس میں پاکستان کی تجویز پر کوئی باقاعدہ قرارداد منظور نہیں ہوئی اور نہ ہی رکن ممالک کی جانب سے کسی اجتماعی ووٹنگ کے ذریعے اس تجویز کی منظوری دی گئی ہے لیکن یہ ضرور واضح ہوا کہ ڈیجیٹل مالیاتی نظام‘ بلاک چین اور ڈیجیٹل اثاثے اب عالمی مالیاتی بحث کے مرکزی موضوعات بنتے جا رہے ہیں۔اگر پاکستان کی دی گئی تجاویز پر عمل درآمد ہو جائے تو سب سے بڑا ممکنہ فائدہ ترسیلاتِ زر میں ہو سکتا ہے۔ پاکستان نے مالی سال 2025-26 ء میں تقریباً 41.6 ارب ڈالر کی ترسیلاتِ زر حاصل کیں۔ اگر بلاک چین‘ سٹیبل کوائنز اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کے ذریعے بیرونِ ملک پاکستانیوں کی رقم کم لاگت میں اور تیزی سے پاکستان پہنچ سکے تو موجودہ ترسیلاتی لاگت میں کمی سے پاکستانی خاندانوں کو فائدہ ہوسکتا ہے اور ملک کو زیادہ زرمبادلہ رسمی بینکاری چینلز کے ذریعے مل سکتا ہے۔ عالمی سطح پر ورلڈ بینک کے مطابق ترسیلات بھیجنے کی اوسط لاگت اب بھی تقریباً 6.36 فیصد ہے جبکہ عالمی ہدف تین فیصد ہے جو کہ بلاک چین ٹیکنالوجی سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved