اسلام آباد کو پردیسیوں کا شہر کہا جاتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ اس میں بسنے والے عوام ہوں یا پھر اس پر حکومت کرنے والے‘ زیادہ تر اپنی عید‘ اپنی چھٹیاں اور خوشی غمی اپنے آبائی علاقوں میں مناتے ہیں۔ میں نے جب سے ہوش سنبھالا ہے خود کو اسلام آباد میں پایا ہے۔ اب کوئی پوچھے کہ آپ کا تعلق کہاں سے ہے تو مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ میرا تعلق اسلام آباد ہی سے ہے۔ تعلیم یہاں حاصل کی‘ ایک مدت سے اپنے والدین کے ساتھ یہاں رہائش پذیر ہوں‘ اور صحافت بھی یہاں سے شروع کی۔ مجھے یہ شہر بہت پسند ہے۔ بے فکری کے بچپن میں مجھے گرمیوں اور سردیوں کی چھٹیاں بالکل پسند نہیں تھیں۔ وجہ یہ تھی کہ سکول کی چھٹیوں میں بہت سے ساتھی طالبعلم اپنے گاؤں یا شہروں میں چلے جاتے تھے تو مجھے اچھا نہیں لگتا تھا۔ تب سب کچھ ویران سا ہو جاتا تھا۔ گھر سے متصل پارک‘ آپا جی سے ناظرہ پڑھنے والے بچے اور ٹیوشن میں بچے بہت کم ہو جاتے تھے۔ میری قریبی دوستیں بھی مثلاً منال لالہ موسیٰ چلی جاتی تھی‘ فائزہ میرپور‘ شبنم ہری پور اور میں اکیلی ہی تھی جو اسلام آباد میں رہتی تھی۔ اسلام آباد میں ایک ایسی آبادی بھی ہے جو کئی دہائیوں سے یہاں مقیم ہے۔ میرے والدین کی طرح وہ اس شہر کو آباد کرنے والے ہیں‘ جنہوں نے ایک جنگل نما شہر میں قدم رکھا تھا۔ امی بتاتی ہیں کہ اسلام آباد میں پہلے صرف آبپارہ اور کوہسار مارکیٹ ہوتی تھی۔ خریداری کیلئے اکثر راولپنڈی جانا پڑتا تھا۔ ہر طرف جنگل اور سناٹا ہوتا تھا اور جنگلی جانوروں کی بہتات تھی۔ جب میں پیدا ہوئی اسلام آباد ایک جدید شہر بننے کی طرف گامزن تھا۔ میں نے اپنے بچپن میں اسلام آباد میں وہ دور دیکھ رکھا ہے جب یہاں بہت ہریالی تھی۔ موسم بہت ٹھنڈا اور خوشگوار ہوتا تھا۔ ہم اکثر رات کا کھانا اور آئس کریم ایف ٹین مرکز سے کھاتے تھے۔ ایف نائن پارک میں ایئر شو دیکھا کرتے تھے اور لوک ورثہ میں میلہ دیکھنے جایا کرتے تھے۔ کھیل وتفریح کے لیے پلے لینڈ‘ شکرپڑیاں‘ سپورٹس کمپلیکس اور چڑیا گھر تھے۔ زیادہ تفریح کا دل ہوتا تو چھتر پارک اور مری بھی قریب تھے۔ فضا میں سبزے اور ہریالی کی خوشبو ہوا کرتی تھی۔ پرندے‘ پھول‘ پودے‘ تتلیاں اور جگنو عام تھے۔ اس وقت غضب کی بارشیں ہوا کرتی تھیں لیکن مجال ہے کہ کبھی سکول بند ہوا ہو یا کبھی ندی نالوں کو اوور فلو ہوتے دیکھا ہو۔ جب دھوپ نکلتی تو سڑکیں ایسے صاف ہو جاتی تھیں کہ جیسے یہاں پانی کی ایک بوند بھی نہیں پڑی۔ کچرا اٹھانے کے لیے گاڑی آیا کرتی تھی۔ پمز ہسپتال اتنا صاف ستھرا تھا کہ ہمارے والدین صرف اس پر خصوصاً اس کے چلڈرن وارڈ پر اعتماد کرتے تھے۔ وہاں ہنستا مسکراتا سٹاف‘ کھلونے اور بار بار ہوتی صفائی مجھے آج بھی یاد ہے۔ پی این سی اے آرٹ اور کلچر کا مرکز ہوا کرتا تھا۔ مصوری‘ میوزک‘ کیلیگرافی‘ کولاج میکنگ سمیت بہت سے کورسز کیے اور متعدد بار انعامات جیتے۔ اس وقت ریڈیو پاکستان جانا اعزاز کی بات سمجھا جاتا تھا۔ میں نے وہاں تقریری مقابلہ بھی جیتا تھا۔ ریڈیو پاکستان کا ایف ایم ون او ون بہت مقبول تھا۔ اس طرح شہر میں قاعدے اور قوانین پر سختی سے عمل کیا جاتا تھا۔ ہر گھر کو ایک کیاری اور ٹیرس لازمی بنانے کا حکم تھا۔ درخت کاٹنے کی اجازت نہیں تھی۔ کبھی ٹریفک جام کا سنا تک نہیں تھا‘ سڑکیں خالی ہوتی تھیں۔ اس وقت مزید سناٹا ہو جاتا تھا جب پردیسی عید‘ شبِ برات‘ سردی اور گرمی کی چھٹیوں میں اپنے آبائی گھروں کو چلے جاتے تھے۔
آپ بھی سوچ رہے ہوں گے کہ میں اتنی چھوٹی چھوٹی تفصیلات کیوں بتا رہی ہوں۔ وہ اس لیے کہ اب کچھ سالوں سے یہ شہر بدل گیا ہے۔ اب یہ وہ شہر ہی نہیں رہا جس میں پل‘ بڑھ کر ہم جوان ہوئے۔ اب ایک سیکٹر سے دوسرے سیکٹر میں جانے کے لیے ایک بدنما پل یا انڈر پاس سے گزر کر جانا پڑتا ہے۔ ہمیں تو یہ کہا گیا تھا کہ نئی سڑکوں سے سگنل فری کوریڈور بنے گا۔ یہاں تو یہ حال ہو گیا ہے کہ نیو بلیو ایریا جانے والی گاڑیوں کی قطاریں ایف ٹین سے ایف الیون تک کی سڑک تک اپنی باری کا انتظار کر رہی ہوتی ہیں۔ سرینگر ہائی وے پر ناکے اور ٹریفک جام روز کا معمول ہے۔ ہر طرف سہولت کے نام پر مٹی‘ کچرا‘ آلودگی اور بے ہنگم تعمیرات دیکھ رہی ہوں۔ سرکاری پانی نہیں‘ بجلی کا نظام بوسیدہ ہو گیا ہے‘ اکثر گلیاں اندھیرے میں ڈوبی ہوتی ہیں‘ پبلک پارکس میں سے اکثر کے جھولے ٹوٹے ہوئے ہیں۔ گھاس بڑھی ہوئی‘ پبلک ٹوائلٹس کا فقدان ہے‘ سرکاری ہسپتال میں بنیادی سہولتوں کا فقدان ہے‘ ریسکیو سروس جدید نہیں‘ اکثر علاقے اب بھی قدرتی گیس سے محروم ہیں۔ تمام روٹس پر پبلک ٹرانسپورٹ نہیں چلتی۔ نکاسیٔ آب کا نظام ٹھیک نہیں‘ ندی نالوں کی جگہوں پر قبضہ ہو چکا ہے۔ مہنگائی بہت ہے اور شہری ترقیاتی ادارہ اپنے نئے سیکٹرز میں ان لوگوں کو فوقیت نہیں دیتا جن کو یہاں رہتے ہوئے تیس سے چالیس سال ہو گئے اور وہ کرائے کے گھروں میں مقیم ہیں۔ اب کرائے اتنے زیادہ ہیں کہ اللہ کی پناہ! کیا یہ ان کا حق نہیں کہ ان اسلام آباد میں ان کا اپنا گھر‘ ان کی اپنی چھت ہو؟
ہمارے ہاں صرف انڈر پاسز‘ پل اور مصنوعی سجاوٹ کو فوقیت دی جاتی ہے۔ تعلیم‘ صحت‘ بنیادی حقوق‘ روٹی‘ کپڑا اور مکان بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔ اسلام آباد صرف شاہراہِ دستور کا نام نہیں‘ جی نائن‘ جی 6‘ آئی نائن‘ جی الیون‘ ای الیون‘ ایف ٹین اور گولڑہ بھی اس کے حصے ہیں۔ اسلام آباد کو واقعی ایک نئے نظام کی ضرورت ہے‘ جس کو یہاں کے مقامی خود چلائیں۔ اس کے لیے اختیارات کی تقسیم مقامی سطح تک ہونی چاہیے۔ تاہم جس بھی قومیت سے تعلق رکھنے والے شخص کی رہائش یہاں پر دو دہائیوں سے ہو‘ اس کو اس نظام میں حصہ ملنا چاہیے‘ وہ کرائے پر رہتا ہو یا اس کی اپنی رہائش ہو‘ ان سب کو موقع دیا جائے۔ اب اسلام آباد کے لیے نئے نظام کی تجاویز دی گئی ہیں جس کے مطابق اسلام آباد کو صوبائی طرز کی انتظامی اور مالی خود اختیاری حاصل ہو گی جس میں ایک ایگزیکٹو اور 27 رکنی اسمبلی ہوگی‘ جس میں خواتین کی پانچ مخصوص نشستیں اور ایک اقلیتی نشست ہوگی۔ قومی اسمبلی میں بھی اسلام آباد کی سات نشستیں قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ میرے نزدیک ایسا ہونا چاہیے لیکن کیا عوام کو بھی یہ حق حاصل ہو گا کہ وہ ان نشستوں پر الیکشن لڑ سکیں؟ یا پھر پاکستان کے چند سیاسی خاندان اور ان کے رشتہ دار ہی الیکشن پر چھائے رہیں گے۔
پاکستانی سیاسی خانوادوں کے نزدیک جمہوریت کا مطلب اقتدار اُن کے بہن بھائیوں‘ بیٹے‘ بیٹیوں‘ بہو‘ دامادوں کو ملنے کا نام ہے۔ اب جو نئے انتخابات ہوں گے وہاں فارم 45 اور 47 کے درمیان معاملہ الجھ تو نہیں جائے گا؟ مخصوص نشستوں پر ہمیشہ اقربا پروری ہوتی آئی ہے اس لیے خواتین کی نشستوں پر براہِ راست عوام ووٹ دیں۔ اسلام آباد کو صوبہ بنانے کے لیے آئین میں ترمیم بھی کرنا ہو گی۔ بظاہر تو نظام میں شامل لوگ اس سے متفق نظر آ رہے ہیں لیکن پیپلز پارٹی کا مؤقف صوبوں کی تقسیم پر سب کے سامنے ہے۔ اسلام آباد کے عوام تو اس تبدیلی پر خوش نظر آ رہے ہیں لیکن کیا پہلے سے موجود چہرے جو اَب تک ڈِلیور نہیں کر سکے وہ نئے نظام میں کچھ کر پائیں گے؟ ہمیں نئے نظام کے ساتھ نئے چہروں کی بھی ضرورت ہے جن کے ساتھ کرپشن کا کوئی بیگیج نہ ہو۔ تجاویز کے مطابق اسلام آباد کی نئی اسمبلی کو وہی اختیارات حاصل ہوں گے جو دیگر صوبائی اسمبلیوں کے پاس ہوتے ہیں تاہم اسلام آباد کی سکیورٹی وفاق کے پاس ہوگی۔ مگر صوبہ ہو‘ نئی اسمبلی ہو یا بلدیاتی نظام‘ جب تک وسائل کی منصفانہ تقسیم نہیں ہو گی‘ میرٹ پر فیصلے نہیں ہوں گے‘ اقربا پروری ختم نہیں ہو گی‘ احتساب کا عمل کڑا نہیں ہو گا‘ معاملات حل نہیں ہو سکتے۔ اسلام آباد کا ماسٹر پلان اَپ گریڈیشن مانگ رہا ہے۔ ہمیں نئے پُل نہیں چاہئیں‘ بنیادی انسانی ضرورت کی چیزوں پر کام کریں گے تو ہی افاقہ ہوگا۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved