تحریر : علامہ ابتسام الہٰی ظہیر تاریخ اشاعت     14-09-2026

صلہ رحمی

عصری معاشروں میں لوگوں کی بڑی تعداد معاشی معاملات میں الجھی ہوئی ہے۔ لوگ مختلف طرح کی پریشانیوں اور مسائل کا شکار ہیں جس کی وجہ سے رشتہ داروں کے حقوق کو بہت مرتبہ نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس بات کا مشاہدہ بھی کیا جا سکتا ہے کہ بہت سے لوگ مال کی فراوانی اور اثر و رسوخ بڑھنے کے بعد اپنے رشتہ داروں کے حقوق کو فراموش کر دیتے ہیں۔ انسان خواہ کتنا بھی مصروف کیوں نہ ہو ‘ اسے اپنے رشتہ داروں کے حقوق کو ادا کرنے کے لیے وقت نکالنا چاہیے۔ اسی طرح انسان خواہ کتنی بھی ترقی کیوں نہ کر جائے‘ اسے اپنے رشتوں کو نبھانے کے لیے تگ و دو کرتے رہنا چاہیے۔ اس حوالے سے کتاب و سنت میں بہت خوبصورت نصیحتیں کی گئی ہیں۔
اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الرعد کی آیات: 20 تا 23 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''جو اللہ کے عہد (و پیمان) کو پورا کرتے ہیں اور قول و قرار کو توڑتے نہیں۔ اور اللہ نے جن چیزوں کے جوڑنے کا حکم دیا ہے وہ اسے جوڑتے ہیں اور وہ اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں اور حساب کی سختی کا اندیشہ رکھتے ہیں۔ اور وہ اپنے رب کی رضامندی کی طلب کے لیے صبر کرتے ہیں اور نمازوں کو برابر قائم رکھتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دے رکھا ہے اسے چھپے (اور) کھلے خرچ کرتے ہیں اور برائی کو بھی بھلائی سے ٹالتے ہیں ان ہی کے لیے عاقبت کا گھر ہے۔ ہمیشہ رہنے کے باغات جہاں یہ خود جائیں گے اور ان کے باپ دادائوں اور بیویوں اور اولادوں میں سے بھی جو نیکوکار ہوں گے‘ ان کے پاس فرشتے ہر ہر دروازے سے آئیں گے‘‘۔ ان آیات مبارکہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ہمیں نماز‘ زکوٰۃ اور دیگر اچھے امور کی انجام دہی کے ساتھ رشتوں کو بھی جوڑنا چاہیے۔
جہاں اللہ تبارک وتعالیٰ نے مذکورہ آیات میں صلہ رحمی کی اہمیت کو اجاگر کیا وہیں قطع رحمی کی مذمت کرتے ہوئے سورۃ الرعد ہی کی آیت: 25 میں ارشاد فرمایا ہے: ''اور جو اللہ کے عہد کو اس کی مضبوطی کے بعد توڑ دیتے ہیں اور جن چیزوں کے جوڑنے کا اللہ نے حکم دیا ہے انہیں توڑتے ہیں اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں‘ ان کے لیے لعنتیں ہیں اور ان کے لیے (آخرت میں) برا گھر ہے‘‘۔
سورۃ البقرہ کی آیت: 27 میں بھی اللہ تبارک وتعالیٰ نے صلہ رحمی نہ کرنے والوں کی مذمت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ''جو لوگ اللہ کے مضبوط عہد کو توڑ دیتے ہیں اور اللہ نے جن چیزوں کے جوڑنے کا حکم دیا ہے‘ انہیں کاٹتے ہیں اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں‘ یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں‘‘۔ سورۂ محمد کی آیات: 22 تا 23 میں زمین پر اقتدار ملنے کے بعد قطع رحمی کرنے والوں کی مذمت کرتے ہوئے اللہ تبارک وتعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: ''اور تم سے یہ بھی بعید نہیں کہ اگر تم کو حکومت مل جائے تو تم زمین میں فساد برپا کر دو اور رشتے ناتے توڑ ڈالو۔ یہ وہی لوگ ہیں جن پر اللہ کی پھٹکار ہے اور جن کی سماعت اور آنکھوں کی روشنی چھین لی ہے‘‘۔ قرآن مجید کی ان آیات سے یہ سمجھنا کچھ مشکل نہیں کہ اللہ تبارک وتعالیٰ صلہ رحمی کو پسند کرتے اور قطع رحمی کو ناپسند کرتے ہیں۔
اسی طرح جب ہم احادیث طیبہ کا مطالعہ کرتے ہیں تو ان میں بھی صلہ رحمی کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے اور قطع رحمی کی صراحت سے مذمت کی گئی ہے۔ اس حوالے سے چند اہم احادیث درج ذیل ہیں:
1: صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا ''جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے اپنے مہمان کی عزت کرنی چاہیے اور جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہیے کہ وہ صلہ رحمی کرے اور جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو‘ اسے چاہیے کہ اچھی بات زبان سے نکالے ورنہ چپ رہے‘‘۔ 2: صحیح بخاری میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ''جو چاہتا ہو کہ اس کے رزق میں فراخی ہو اور اس کی عمر دراز ہو تو وہ صلہ رحمی کیا کرے‘‘۔ رزق کی فراخی اور عمر کی درازی کی خواہش ہر شخص کے دل میں موجود ہوتی ہے‘ اس خواہش کو پورا کرنے کے لیے انسان کو صلہ رحمی کا اہتمام کرنا چاہیے۔ 3: جامع ترمذی میں حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ''لوگو! سلام کو عام کرو‘ کھانا کھلائو اور رات میں جب لوگ سو رہے ہوں تو نماز پڑھو‘ تم لوگ سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جائو گے‘‘۔ جب انسان سلام کو عام کرے گا اور کھانا کھلانے کی رغبت رکھے گا تو جہاں وہ مساکین اور غریبوں کے ساتھ حسنِ سلوک کرے گا وہیں رشتہ داروں کے ساتھ بھی تعلقات نبھائے گا اور خاطر مدارت کا اہتمام کرے گا۔ 4: سنن نسائی میں حضرت سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا ''مسکین آدمی کو صدقہ دینا صرف صدقہ ہے جبکہ قرابت دار کو صدقہ دینا صدقہ بھی ہے اور صلہ رحمی بھی‘‘۔ 5: صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ ''کسی کام کا بدلہ دینا صلہ رحمی نہیں ہے بلکہ صلہ رحمی کرنے والا وہ ہے کہ جب اس کے ساتھ صلہ رحمی کا معاملہ نہ کیا جا رہا ہو تب بھی وہ صلہ رحمی کرے‘‘۔
احادیث مبارکہ میں جہاں صلہ رحمی کی تحسین کی گئی ہے وہیں قطع رحمی کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ اس حوالے سے چند اہم احادیث درج ذیل ہیں:
1: صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا ''رحم کا تعلق رحمان سے جڑا ہوا ہے پس جو کوئی اس سے اپنے آپ کو جوڑتا ہے اللہ پاک نے فرمایا کہ میں بھی اس کو اپنے سے جوڑ لیتا ہوں اور جو کوئی اسے توڑتا ہے میں بھی اپنے آپ کو اس سے توڑ لیتا ہوں‘‘۔ 2: صحیح مسلم میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ''رحم (خونی رشتوں کا سارا سلسلہ) عرش کے ساتھ چمٹا ہوا ہے اور یہ کہتا ہے: جس نے میرے تعلق کو جوڑ کر رکھا اللہ اس کے ساتھ تعلق جوڑے گا اور جس نے میرے تعلق کو توڑ دیا اللہ تعالیٰ اس سے تعلق توڑ لے گا‘‘۔ 3: صحیح بخاری میں حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریمﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ ''قطع رحمی کرنے والا جنت میں نہیں جائے گا‘‘۔
بسا اوقات انسان جب رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک کرتا ہے تو وہ اس کے حسنِ سلوک کا اچھے طریقے سے جواب نہیں دیتے جس سے انسان بددل ہو جاتا ہے۔ ایسے انسان کو دل شکستہ نہیں ہونا چاہیے بلکہ نبی کریمﷺ کی اس حدیث شریف کو ذہن میں رکھنا چاہیے۔ صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کی: اللہ کے رسولﷺ! میرے (بعض) رشتہ دار ہیں‘ میں ان سے تعلق جوڑتا ہوں اور وہ مجھ سے تعلق توڑتے ہیں‘ میں ان کے ساتھ نیکی کرتا ہوں اور وہ میرے ساتھ برائی کرتے ہیں‘ میں بردباری کے ساتھ ان سے درگزر کرتا ہوں اور وہ میرے ساتھ جہالت کا سلوک کرتے ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا ''اگر تم ایسے ہی ہو جیسے تم نے کہا ہے تو تم ان کو جلتی ہوئی راکھ کھلا رہے ہو اور جب تک تم اس روش پر رہو گے‘ ان کے مقابلے میں اللہ کی طرف سے ہمیشہ ایک مددگار تمہارے ساتھ رہے گا‘‘۔
صلہ رحمی کے حوالے سے کتاب وسنت کی تعلیمات واضح ہیں کہ جو شخص یہ کام کرے گا‘ اللہ تبارک وتعالیٰ اس کے لیے دنیا وآخرت کی کشادگیاں پیدا کرے گا اور جو شخص اس حوالے سے اللہ اور اس کے رسولﷺ کے احکامات کو نظر انداز کرے گا‘ وہ دنیا و آخرت کی بہت سی برکات سے محروم ہو کر اللہ تبارک وتعالیٰ کی ناراضی کا حقدار ٹھہرے گا۔ دعا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ ہم سب کو صلہ رحمی کرنے کی توفیق دے‘ آمین!

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved