تحریر : محمد اظہارالحق تاریخ اشاعت     15-09-2026

حکمرانوں کے اُڑتے قالین اور دھول اڑاتی بستیاں

کل ایک کام سے میرا چار بستیوں میں جانا ہوا۔ چار قریے! چار گاؤں!!
اول تو ان تک جاتے راستے کچے تھے‘ خاک اڑاتے!! اور سڑکیں تھیں بھی تو مدتوں کی بنی ہوئیں! جگہ جگہ سے ٹوٹی ہوئیں! کہیں گڑھے! کہیں پیوند! کہیں ٹیلے!! گلیاں کچی! کہیں کہیں اینٹیں نظر آئیں مگر یوں جیسے لگائی نہیں گئیں‘ پھینکی گئیں! اور یہ حال تب ہے جب یہ گاؤں وفاقی دارالحکومت سے صرف گھنٹے ڈیڑھ کی مسافت پر واقع ہیں! لیکن وفاق تو بڑی آسانی سے کہے گا کہ یہ صوبے کا مسئلہ ہے۔ صوبہ کہے گا کہ ہم ان بستیوں کو‘ ان اضلاع کو صرف اس وقت اپنے صوبے کا حصہ کہتے ہیں جب صوبے کو سب سے بڑا صوبہ ثابت کرنا ہو۔ جب سہولتیں دینے کی بات ہو تو صوبہ عملی طور پر‘ صرف اُن شہروں‘ اُن قصبوں اور اُن قریوں پر مشتمل ہوگا جو صوبائی دارالحکومت کے نواح میں یا زیادہ سے زیادہ صوبے کے وسطی حصے میں واقع ہوں گے۔ مقامی حکومتوں کے ازلی ابدی دشمن‘ یہ صوبائی دارالحکومت اُس وقت تک اختیارات اور فنڈز کو تقسیم نہیں کریں گے جب تک دور افتادہ اضلاع کا پیمانۂ صبر لبریز نہ ہو جائے!!
ایک وڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں ناروے کا وزیر عام کمرشل فلائٹ سے سفر کر رہا ہے اور ایئرپورٹ پر سامان سے بھری ٹرالی خود دھکیل رہا ہے۔ ویسے جن ملکوں میں اصل جمہوریت رائج ہے وہاں ایسے مناظر معمول کے ہوتے ہیں۔ یہ اور بات کہ ہم پاکستانیوں کیلئے یہ ایک انوکھا واقعہ ہے۔ ناروے کا حکمران اگر عام کمرشل پرواز سے سفر کرتا ہے اور اپنا سامان خود سنبھالتا ہے تو اس کا کیا مطلب ہے؟؟ اس کا مطلب ہے کہ ناروے میں دور افتادہ دیہی آبادیاں بھی ترقی یافتہ ہیں۔ ہر جگہ انٹرنیٹ موجود ہے۔ بجلی کا نظام مستحکم ہے۔ ہر جگہ پانی ٹونٹیوں سے سپلائی ہوتا ہے۔ کوڑا کرکٹ اور انسانی فضلہ ٹھکانے لگانے کا جدید ترین سسٹم کارفرما ہے۔ تعلیم اور صحت کی سہولتیں ہر جگہ میسر ہیں! اس بات سے نتیجہ کیا نکلا؟ نتیجہ یہ نکلا کہ حکمرانوں کے طرزِ زندگی کا بستیوں‘ قصبوں اور شہروں کی حالت سے فیصلہ کن تعلق ہے۔ یہ تعلق ایک فارمولے پر مبنی ہے! فارمولا کیا ہے؟ فارمولا یہ ہے کہ جہاں حکمران کمرشل پروازوں سے سفر کرتے ہیں‘ اپنا سامان خود اٹھاتے ہیں‘ قطاروں میں کھڑے ہوتے ہیں‘ محلات میں نہیں عام گھروں میں رہتے ہیں‘ وہاں عوام کو جدید ترین سہولتیں ملتی ہیں اور ہر شہری وی آئی پی ہوتا ہے۔ جہاں حکمران وی آئی پی ہوں‘ جہاں وہ خصوصی طیاروں سے سفر کریں اور ایک ایک سفر پر کروڑوں روپے صرف کریں وہاں عوام بدحالی کا شکار ہوں گے۔ گاؤں‘ قصبے اور شہر جدید سہولتوں سے محروم ہوں گے‘ سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہوں گی‘ کہیں پانی نہیں ہوگا‘ کہیں بجلی غائب ہو گی‘ تعلیم اور صحت کو ترجیح نہیں دی جائے گی۔ اس فارمولے کو ذہن میں رکھنا اشد ضروری ہے۔
معروف سیاسی رہنما فواد چودھری نے کہا ہے کہ چیف منسٹر صاحبہ کا تازہ ترین دورہ سوا چھ کروڑ روپے کا پڑا ہے۔ صوبائی وزیر صاحبہ نے کہا ہے کہ ذاتی خرچ تھا۔ تو کیا جہاز بھی ذاتی خرچ سے خریدا گیا؟ ذاتی خرچ تھا تو رسیدیں کہاں ہیں؟ ایک معروف اینکر کے مطابق طیارے کی لندن میں صرف پارکنگ فیس 35 لاکھ روپے اور فیول کا خرچہ 78 لاکھ روپے بنتا ہے۔ صدر صاحب بھی چارٹرڈ طیارے پر لندن تشریف لے گئے۔ ایوانِ صدر کا کہنا ہے کہ انہوں نے سفر کے اخراجات اپنی جیب سے ادا کیے۔ اگر اپنی جیب سے بھی ادا کیے تو انہیں سوچنا چاہیے کہ مفلوک الحال پاکستانی عوام کیا سوچیں گے؟ کیا حیران نہیں ہوں گے؟ کیا انہیں غصہ نہیں آئے گا؟ بڑے میاں صاحب اپنے صاحبزادوں کے ہمراہ خصوصی طیارے میں سنگاپور گئے۔ مریم نواز خصوصی طیارے پر لندن گئیں۔ صدر صاحب اور ان کا صاحبزادہ بھی خصوصی طیارے پر لندن گئے۔ کیا بھارت‘ ایران‘ ملائیشیا اور سری لنکا کے حکمران بھی یہی کچھ کرتے ہیں؟ سنگاپور انتہائی امیر ملک ہے‘ کیا اس کے صدر اور وزیراعظم بھی خصوصی طیاروں میں سفر کرتے ہیں؟ معروف تاریخ دان ابراہم ایرالی لکھتا ہے کہ شاہجہان کے عہد میں جب مغل سلطنت عروج پر تھی تو کُل قومی پیداوار کا ایک چوتھائی حصہ‘ بلکہ اس سے بھی زیادہ‘ صرف 656 افراد پر مشتمل اشرافیہ کے قبضے میں تھا۔ یاد رکھیے! مغل بادشاہ ہمارے آج کے حکمرانوں کے طرزِ زندگی کا سوچ بھی نہ سکتے تھے۔ ذرا سوچیے! لاکھوں گاؤں سڑکوں‘ ہسپتالوں‘ سکولوں کالجوں سے محروم ہیں۔ پٹرول اتنا مہنگا ہے کہ چھتوں پر کھڑے ہو کر اذانیں دینے کا مرحلہ ہے۔ کروڑوں بچے سکولوں سے باہر ہیں‘ اور حکمران کروڑوں روپے خرچ کر کے خصوصی طیاروں کی عیاشی کر رہے ہیں۔ بے حسی کی انتہا ہے۔ کابینہ مُہر بہ لب ہے۔ اسمبلیاں خاموش ہیں۔ وزرائے خزانہ اعتراض کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ وفاقی اور صوبائی خزانے ذاتی تجوریوں کی حیثیت رکھتے ہیں۔ گونگے بہرے‘ قلاش‘ بے کس عوام کو کبھی خوشخبری سنائی جاتی ہے کہ صاحبزادہ وزیراعظم ہو گا‘ کبھی دختر نیک اختر کے حکمرانِ اعلیٰ بننے کی نوید سنائی جاتی ہے۔ ایک شہزادہ وزیراعظم کے دفتر میں مسند سنبھالے ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکمرانوں کے اعزہ واقارب بھی سرکاری پروٹوکول میں حصہ دار ہیں۔ نیا طیارہ خریدا گیا تو پرانا طیارہ مبینہ طور پر قریبی وزرا اور خاص خاص بیورو کریٹ کے استعمال میں ہے۔ یعنی وہ قابلِ استعمال حالت میں ہے! ظلم کہیے یا مذاق کہ اس سب کچھ کے باوجود جمہوریت کا دعویٰ ہے۔ سمجھ بوجھ کے قربان! اتنا بھی نہیں سوچ سکتے کہ یہ شہنشاہانہ طریقے دیکھ کر عوام کڑھیں گے‘ اُن کے غیظ وغضب میں‘ نفرت میں‘ مایوسی اور جھلّاہٹ میں اضافہ ہو گا۔ عقلمند لوگ یتیم کی موجودگی میں اپنے بچے کو پیار نہیں کرتے کہ اسے احساسِ محرومی نہ ہو اور آپ ایسے لاکھوں کروڑوں پاکستانیوں کے سامنے‘ جو پنڈی سے لاہور اور شکارپور سے کراچی نہیں جا سکتے‘ خصوصی جہازوں میں سفر کرتے ہیں۔ اگر واقعی اپنے خرچ پر گئے ہیں تب بھی غلط بات ہے۔ یہ دولت کی نمائش ہے۔ غریب عوام کے دل جلتے ہیں۔ مثالیں خلفائے راشدین اور اہل بیت عظام کی اور عمل ایک سو اسی درجے الٹ!!
نظام انصاف کی یہ حالت ہے کہ ادھر مجرم سے بھیانک جرم سرزد ہوا‘ ادھر اسے ضمانت مل گئی۔ جاگیرداروں کو کھلی چھٹی ہے جسے چاہیں قتل کر دیں۔ حفیظ جالندھری نے ہمارے معاشرے کے لیے ہی کہا تھا:
شیروں کو آزادی ہے آزادی کے پابند رہیں
جس کو چاہیں چیریں پھاڑیں کھائیں‘ پئیں آنند رہیں
انساں بھی کچھ شیر ہیں باقی بھیڑوں کی آبادی ہے
بھیڑیں سب پابند ہیں لیکن شیروں کو آزادی ہے
بھیڑیں‘ لا تعداد ہیں لیکن سب کو جان کے لالے ہیں
ان کو یہ تعلیم ملی ہے بھیڑیے طاقت والے ہیں
ماس بھی کھائیں‘ کھال بھی نوچیں ہر دم لاگو جانوں کے
بھیڑیں کاٹیں دورِ غلامی بل پر گلّہ بانوں کے
جو جانتا ہے وہ جانتا ہے۔ جو نہیں جانتا‘ وہ جان لے کہ ہر عمل کا ردعمل ہوتا ہے۔ ہر کلائمکس کا اینٹی کلائمکس ہے۔ ہر طلوع کی قسمت میں غروب ہے۔ ہر عہد کا خاتمہ لازم ہے۔ ہر سلطنت نے دھواں بن کر ایک دن اُڑ جانا ہے۔ پاکستان میں کئی دہائیوں سے ''اولی گارکی‘‘ کا راج ہے۔ اس نے ختم ہونا ہی ہونا ہے۔ لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے۔ زار سے لے کر چاؤ شسکو تک‘ حسنی مبارک سے لے کر بشار الاسد تک‘ خلیفہ مستعصم سے لے کر شاہ ایران تک‘ کون ہے جو سونے چاندی کے برتنوں میں کھانا نہیں کھاتا تھا اور نشانِ عبرت نہ بنا؟

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved