ہم نے گزشتہ تین کالموں میں ٹیکس نظام کی کمزوریوں اور پیچیدگیوں کا جائزہ لیا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس نظام کو کیسے بہتر بنایا جا سکتا ہے جس سے ٹیکس دہندگان کی تعداد میں اضافہ ہو سکے اور پیداواری شعبہ پر ٹیکسوں کا بوجھ کم کیا جا سکے۔ اصلاحات کا بنیادی مقصد یہ ہونا چاہیے کہ ایسا ٹیکس ڈھانچہ تشکیل دیا جائے جو شہریوں کیلئے دوستانہ‘ سادہ‘ منصفانہ‘ قابلِ پیش گوئی اور معاشی ترقی پر مبنی ہو۔ محاصل کیلئے دباؤ پر مبنی موجودہ چکر کو توڑ کر حکومت کو فوری طور پر ایف بی آر کی کارکردگی جانچنے کے طریقہ کار میں تبدیلی اور اصلاح کرنی چاہیے۔ اس وقت ایف بی آر کے اہداف کو خالص وصولیوں (ریونیو) کی بنیاد پر مقرر کیا جاتا ہے اور اسی بنیاد پر ان کی پیمائش کی جاتی ہے۔ موجودہ طریقہ سے ٹیکس حکام کو ترغیب ملتی ہے کہ وہ جائز ٹیکس ریفنڈز دینے میں تاخیر کریں اور مالی سال کے اختتام سے قبل ٹیکس دہندگان سے غیرضروری پیشگی مطالبات کریں۔ ایف بی آر کے اہداف کو صرف مجموعی وصولیوں کی بنیاد پر مقرر کیا جانا چاہیے یعنی ٹیکس ریفنڈز آٹومیٹک ادا کر دیے جائیں اور اسے ٹیکس وصولی کی کارکردگی کا حصہ نہ سمجھا جائے۔ اس صورت میں انتظامیہ کی جانب سے ٹیکس ریفنڈز روکنے کا سلسلہ ختم ہو جائے گا اور ٹیکس دہندگان کا اعتماد بحال ہو گا۔ اس انتظامی تبدیلی کے ساتھ ساتھ ایک جامع ٹیکس اصلاحاتی پروگرام پر عمل کیا جائے جو درج ذیل بنیادی اصولوں اور ساخت میں تبدیلی لانے والے اقدامات کی بنیاد پر استوار ہو:
یکساں آمدنی رکھنے والے تمام افراد پر یکساں شرح سے ٹیکس عائد ہونا چاہیے۔ مخصوص شعبوں کیلئے خصوصی استثنا‘ مراعات یافتہ رعایتیں اور امتیازی ٹیکس نظام کو مرحلہ وار اور نظامی تبدیلیوں کے ذریعے ختم کیا جائے۔ ٹیکس نظام ایسا ہو جو مجموعی کاروباری حجم یا لین دین کی مالیت پر ٹیکس نہ لگائے بلکہ خالص منافع پر ٹیکس عائد کرے۔ روزمرہ صارفین کی سرگرمیوں جیسے بجلی کے بل اور نقد رقم نکلوانے پر عائد وِد ہولڈنگ ٹیکس کی کٹوتیاں آمدنی پر مبنی نہیں ہیں‘ انہیں ختم کر دیا جائے۔ تجارتی معاہدوں اور درآمدات پر باقی رہ جانے والے وِد ہولڈنگ ٹیکس صرف اس صورت میں برقرار رہیں کہ وہ حتمی طور پر طے کیے گئے انکم ٹیکس کے ضمن میں قابلِ ایڈجسٹمنٹ پیشگی ادائیگی کے طور پر کام کریں۔ کارپوریٹ ٹیکس کی شرح کو بتدریج کم کیا جائے اور سب کیلئے 25 فیصد پر لایا جائے۔ اس کے ساتھ اضافی سپر ٹیکسوں اور مخصوص شعبوں پر عائد خصوصی محصولات (لیویز) کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے۔ افراد کیلئے ذاتی انکم ٹیکس کی شرحوں کو سادہ بنایا جائے۔ ذاتی انکم ٹیکس کی زیادہ سے زیادہ شرح 25 فیصد مقرر کی جائے اور ہر سال قابلِ ٹیکس آمدن (دوسرے الفاظ میں انکم ٹیکس سے مستثنیٰ آمدن) کو مہنگائی کے تناسب سے خودکار طور پر ایڈجسٹ کیا جائے۔ اس طریقہ کار سے تنخواہ دار ملازمین کو بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث بلند ٹیکس درجوں میں جانے سے تحفظ ملے گا اور ٹیکس سے بچنے کی ترغیب بھی کم ہو گی۔ برآمد کنندگان کیلئے دوبارہ ایک قابلِ پیش گوئی اور کم حتمی ٹیکس کا نظام بحال کیا جائے۔ دستیاب اعداد وشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایف بی آر نے برآمد کنندگان کیلئے سادہ حتمی ٹیکس نظام کے تحت موجودہ پیچیدہ عمومی ٹیکس نظام کے مقابلہ میں زیادہ خالص آمدن جمع کی تھی جبکہ موجودہ نظام سے غیرضروری پیچیدگیاں اور ٹیکس ریفنڈز کے تنازعات پیدا ہوتے ہیں۔ مزید برآں کارخانوں‘ مشینری اور صنعتی عمارتوں پر سرمایہ کاری کیلئے جو ٹیکس رعایتیں تھیں انہیں بحال کیا جائے تاکہ ملک میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہو۔ سرمایہ کے منافع پر ٹیکس یعنی کیپٹل گین کے معاملہ میں اثاثہ اپنے پاس رکھنے کی مدت پر مبنی نظام دوبارہ نافذ کیا جائے تاکہ سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہو۔ موجودہ جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) کے نظام کو تیزی سے وی اے ٹی (حقیقی قدر میں اضافہ) پر مبنی ٹیکس میں تبدیل کیا جائے اور آئندہ چار سے پانچ برسوں کے دوران اس کی شرح بتدریج کم کر کے 12 فیصد تک لائی جائے۔ مزید یہ کہ سیلز ٹیکس کے فریم ورک کو وی اے ٹی میں ڈھالا جائے۔ اِن پٹ ٹیکس رعایتوں کے نظام کو مکمل طور پر آٹومیٹک بنایا جائے اور قانونی طور پر مقررہ مدت کے اندر ان پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ وفاقی اور صوبائی دائرہ اختیار میں سیلز ٹیکس کی شرحوں کو ایک واحد کھڑکی کے ذریعے گوشوارے جمع کرانے کے نظام کے تحت ہم آہنگ کیا جائے تاکہ بین الصوبائی تجارت پر بار بار ٹیکس عائد ہونے کا سلسلہ ختم ہو اور اِن پٹ ٹیکس میں رعایت کا تسلسل بحال ہو۔ درآمدی محصولات کو صرف تین واضح درجوں میں تقسیم کیا جائے: بنیادی خام مال پر پانچ فیصد‘ درمیانی سرمایہ جاتی اشیا پر 10 فیصد اور تیار شدہ صارفی اشیا پر 20 فیصد۔ خام مال اور مشینری پر محصولات میں کمی سے مقامی پیداوار کی بنیادی لاگت کم ہو گی اور پاکستانی صنعتیں سرکاری امداد پر انحصار کیے بغیر عالمی منڈی میں مقابلہ کرنے کے قابل ہوں گی۔ قومی سطح پر ڈیجیٹل ترقی کے اہداف حاصل کرنے کیلئے موبائل فون‘ ٹیلی کمیونیکیشن خدمات اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے آلات پر عائد بلند ٹیکس شرحوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ بنیادی ڈیجیٹل کمیونیکیشن پر ٹیکس عائد کرنے سے پیداواری صلاحیت کمزور ہوتی ہے اور ٹیکنالوجی کے شعبہ کی ترقی میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔ جائیداد کی خرید وفروخت پر عائد بلند ٹرانزیکشن (لین دین سے متعلق) ٹیکسوں کو کم کیا جائے تاکہ مارکیٹ میں خرید وفروخت کا حجم (لیکویڈٹی) بڑھے اور لین دین کی حقیقی قیمتیں باقاعدہ طور پر ظاہر کی جائیں۔ ان کی جگہ صوبائی حکومتیں بازار کی تازہ ترین قیمتوں کی بنیاد پر سالانہ پراپرٹی ٹیکس نافذ کریں۔ خاص طور پر شہری علاقوں کی خالی زمین کو سالانہ پراپرٹی ٹیکس کے دائرے میں لایا جائے تاکہ قیاس آرائی کی غرض سے زمین روک کر رکھنے کا رجحان کم ہو‘ شہری رہائش کی لاگت میں کمی آئے اور مقامی انفراسٹرکچر کی ترقی کیلئے وسائل فراہم ہوں۔ وفاقی اور صوبائی ٹیکس رجسٹریشن کے نظام کو قومی ٹیکس نمبر (این ٹی این) اور قومی شناختی کارڈ (سی این آئی سی) کی بنیاد پر ایک مشترکہ کاروباری شناختی نظام میں یکجا کرنے کا عمل درست سمت میں جاری ہے۔ بینکوں‘ اراضی کے اندراجی ریکارڈ‘ کارپوریٹ رجسٹریوں اور عوامی خدمات فراہم کرنے والے اداروں کے اعداد وشمار کو صرف شفاف اور رِسک کی بنیاد پر جانچ پڑتال کیلئے استعمال کیا جانا چاہیے نہ کہ اندھا دھند ٹیکس نوٹس جاری کرنے یا جبر پر مبنی وصولی کی کارروائیوں کیلئے۔ آخر میں‘ آئندہ کسی بھی ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کو اخراجات میں ساختی اصلاحات سے واضح طور پر منسلک کیا جانا چاہیے۔ یہ اخراجات کیسے کم کیے جائیں اس موضوع پر ان کالموں میں کئی مرتبہ بات کی جا چکی ہے۔
درج بالا تجویز کردہ ٹیکس اقدامات اور سرکاری اخراجات کو معقول بنانے کی کوششوں کا نتیجہ درمیانی مدت میں محاصل میں کمی کا باعث نہیں بنے گا کیونکہ اس سے ٹیکس دہندگان کا اعتماد بحال ہو گا جس کے نتیجہ میں قوانین کی پابندی‘ سرمایہ کاری اور دستاویزی لین دین کے حجم میں اضافہ ہو گا۔ پاکستان کا ٹیکس نظام ناکارہ ہو چکا ہے لیکن اس کی وجہ یہ نہیں کہ وہ اپنی معیشت کے حجم کے اعتبار سے غیرمعمولی حد تک کم ٹیکس وصول کرتا ہے۔ اس کی اصل خرابی یہ ہے کہ یہ نسبتاً محدود مجموعی محاصل جمع کرتا ہے۔ اس نظام کی خصوصیات میں بلند ٹیکس شرحیں‘ محدود رسمی ٹیکس بنیاد‘ دستاویزی معیشت کے ساتھ سخت اور تعزیری سلوک‘ لین دین پر ناقابلِ ایڈجسٹ محصولات (لیوی) پر بھاری انحصار‘ غیر متوقع ریگولیشنز اور ٹیکس دہندگان کو فراہم کی جانے والی غیرمعیاری خدمات شامل ہیں۔ جبر پر مبنی ٹیکس وصولی کا نظام ختم کرکے وسیع البنیاد اور کم شرح والا‘ شفاف اور قابلِ پیش گوئی ٹیکس ڈھانچہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سرکاری اخراجات میں بامعنی اصلاحات نافذ کر کے پاکستان ٹیکس دہندگان کا اعتماد بحال کر سکتا ہے اور یوں رسمی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کر سکتا ہے‘ دستاویزی تجارت کو وسعت دے سکتا ہے اور محاصل میں پائیدار اضافہ یقینی بنا سکتا ہے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved