تحریر : رشید صافی تاریخ اشاعت     15-09-2026

برکس سمٹ، بھارتی ایجنڈے کی ناکامی

بھارت میں منعقد ہونے والا حالیہ برکس سربراہی اجلاس ایک ایسے وقت میں منعقد ہوا جب مشرقِ وسطیٰ کا تنازع اور عالمی معاشی عدم استحکام دنیا کو درپیش اہم ترین چیلنجز بن چکے ہیں۔ سنگین عالمی بحرانوں کے دوران جب کثیر جہتی فورمز منعقد ہوتے ہیں تو دنیا بھر کی نظریں ان پر ٹکی ہوتی ہیں کہ وہاں سے مسائل کے حل کیلئے کوئی ٹھوس پیشرفت سامنے آئے گی۔ بین الاقوامی برادری کو توقع ہوتی ہے کہ ایسے کثیر جہتی اجلاس انسانیت کو درپیش چیلنجز سے نکالنے کا راستہ فراہم کریں گے۔ برکس اجلاس سے بھی یہی امید وابستہ تھی کہ یہ پلیٹ فارم عالمی کشیدگی کو کم کرنے میں فعال کردار ادا کرے گا۔ اجلاس کے میزبان ملک ہونے کے ناتے بھارت کے پاس یہ موقع تھا کہ وہ کثیر جہتی سفارت کاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے عالمی اور علاقائی مسائل کے حل میں کلیدی کردار ادا کرتا‘ تاہم نئی دہلی کی موجودہ قیادت نے اس بین الاقوامی فورم کو اپنے سیاسی مقاصد اور پاکستان مخالف روایتی بیانیے کو فروغ دینے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی۔ بھارت کا یہ طرزِ عمل اس کی تنگ نظر خارجہ پالیسی کو ظاہر کرتا اور یہ نشاندہی کرتا ہے کہ وہ گلوبل ساؤتھ کے اجتماعات میں وسیع تر مفادات کی نمائندگی سے دور ہو رہا ہے۔ اجلاس کے دوران بھارتی انتظامیہ اور میڈیا کی توجہ بنیادی عالمی موضوعات سے ہٹ کر پاکستان کو ہدف بنانے پر مرکوز رہی۔ بھارت نے گزشتہ برس مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہونے والے واقعے کو پاکستان سے جوڑنے اور برکس کے پلیٹ فارم کے ذریعے اسلام آباد پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کی‘ لیکن عالمی برادری اور برکس کے رکن ممالک نے بھارتی مؤقف سے اتفاق نہیں کیا۔ بیجنگ اور ماسکو سمیت دیگر ارکان کا فریم ورک یہ واضح کرتا ہے کہ اس کثیر جہتی پلیٹ فارم کو کسی ایک ملک کے دوطرفہ یا علاقائی تنازعات کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ فورم کی توجہ عالمی اہمیت کے چیلنجز پر قائم رہی‘ جس کے باعث بھارت کا یہ مؤقف بین الاقوامی سطح پر پذیرائی حاصل نہ کر سکا۔ بھارتی بیانیے کو اس وقت سفارتی پسپائی کا سامنا کرنا پڑا جب ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم نے بھارتی میڈیا کے پیش کردہ مؤقف کی تصدیق سے انکار کر دیا۔ بھارتی ٹی وی چینل این ڈی ٹی وی کے اینکر نے جب ایک انٹرویو کے دوران مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کا موازنہ مقبوضہ کشمیر اور پہلگام واقعے سے کرتے ہوئے پاکستان پر الزام تراشی کی کوشش کی تو وزیراعظم انور ابراہیم نے اس مفروضے کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ اس کے برعکس انہوں نے کہا کہ پہلگام واقعے میں پاکستان کی شمولیت کے حوالے سے کوئی مصدقہ انٹیلی جنس شواہد موجود نہیں ہیں۔ انہوں نے غزہ کی صورتحال پر اپنے اصول پسندانہ مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے بھارتی میڈیا کی طر ف سے غزہ کے معاملے کو زبردستی پہلگام سے جوڑنے کو رد کر دیا۔ برکس سربراہی اجلاس کے اختتام پر جاری ہونے والا مشترکہ اعلامیہ بھی بھارت کی خواہشات کے برعکس سامنے آیا۔ اعلامیے میں دہشت گردی‘ اس کی مالی معاونت اور محفوظ پناہ گاہوں کے خاتمے کیلئے مشترکہ عزم کا اظہار کیا گیا‘ لیکن اس کے ساتھ یہ اصولی نکتہ شامل کیا گیا کہ دہشت گردی کو کسی بھی مخصوص مذہب‘ قومیت‘ یا نسلی گروہ کے ساتھ منسلک نہیں کیا جا سکتا۔ یہ شق کسی بھی ملک کی جانب سے کسی مخصوص مذہب یا خطے کو نشانہ بنانے کی کوششوں کی نفی کرتی ہے۔ اعلامیے کے اس انداز نے یہ ظاہر کیا کہ برکس بلاک انفرادی سکیورٹی ایجنڈوں کے مقابلے میں زیادہ جامع اور متوازن نقطہ نظر رکھتا ہے۔
برکس سربراہی اجلاس میں چین کے صدر شی جن پنگ مرکزِ نگاہ بنے رہے۔ چینی صدر نے برکس اجلاس کے دوران نتائج پر مبنی سفارت کاری کا مظاہرہ کیا۔ چینی صدر نے مشرقِ وسطیٰ میں فوری‘ جامع اور پائیدار جنگ بندی کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے 11 رکن ممالک کے سامنے یہ مؤقف رکھا کہ مسلح تنازعات کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں ہیں اور متعلقہ فریقوں کو سیاسی مذاکرات کے ذریعے حل کی طرف بڑھنا چاہیے۔ چینی سفارت کاری کی بدولت برکس ارکان نے 1967ء کی سرحدوں پر مبنی ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کی‘ جس کا دارالحکومت مقبوضہ بیت المقدس ہو۔ اس کے علاوہ فلسطینی ریاست کو اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت دینے کا مطالبہ بھی مشترکہ اعلامیے کا حصہ بنا۔ چینی صدر نے کانفرنس میں چین کا اصولی مؤقف پیش کیا اور طے شدہ شیڈول کے مطابق اگلی سفارتی مصروفیت کیلئے روانہ ہو گئے۔ چینی صدر کا طرزِ عمل اعلیٰ سفارت کاری اور نمائشی سیاست کے درمیان واضح فرق کو ظاہر کرتا ہے۔ چینی قیادت نے مذاکراتی میز پر ٹھوس پیش رفت حاصل کی جبکہ بھارتی قیادت کی توجہ کا مرکز تصویری اور میڈیا کوریج تک محدود رہا۔
موجودہ دور میں بھارت کی خارجہ پالیسی بعض بنیادی تضادات کی نشاندہی کرتی ہے۔ برکس کا بانی رکن ہونے کے باوجود بھارت کا چین کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی اور مغربی ممالک کی جانب جھکاؤ اس پلیٹ فارم کے اندر ہم آہنگی کو متاثر کرتا ہے۔ بھارت ایک طرف گلوبل ساؤتھ کی نمائندگی کا دعویدار ہے تو دوسری طرف روس کے ساتھ تجارتی تعلقات میں بھی مغربی پابندیوں اور استثنا کے فریم ورک کو مدنظر رکھتا ہے۔ اس پالیسی کے نتیجے میں بھارت کا مؤقف کثیر جہتی فورمز پر خود مختاری کے حوالے سے سوالات پیدا کرتا ہے۔بھارت علاقائی رقابت سے بالاتر ہو کر مثبت تعاون کی راہ اختیار کرتا تو خطے کا معاشی منظر نامہ مختلف ہو سکتا تھا۔ چین‘ روس‘ ایران‘ عرب ممالک‘ پاکستان اور بھارت اگر ایک نقطے پر مشترکہ معاشی و سفارتی فریم ورک تشکیل دیتے تو یہ ایشیا اور گلوبل ساؤتھ کے لیے اہم معاشی و سیاسی پیش رفت کا ذریعہ بن سکتا تھا۔ لیکن بھارت کی موجودہ سیاسی ترجیحات اور تنگ نظری کے باعث کثیر جہتی تعاون کے بڑے مواقع محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔
خارجہ پالیسی کی کامیابی کا انحصار تشہیری مہمات یا تصویری مقابلوں پر نہیں ہوتا۔ اصل پیمانہ یہ ہے کہ کوئی ملک مذاکراتی میز پر اپنے اور خطے کے مفادات کیلئے کیا حاصل کرتا ہے۔ بھارت نے اس اجلاس کے ذریعے اپنے ہمسایہ ممالک کے خلاف جو بیانیہ قائم کرنے کی کوشش کی اسے پذیرائی حاصل نہ ہو سکی۔ دوسری طرف چین نے اپنی متوازن سفارت کاری کے ذریعے برکس کی اہمیت اور اس بلاک میں اپنے مؤثر کردار کو برقرار رکھا۔ برکس سربراہی اجلاس اس بات کا ثبوت ہے کہ آئندہ دور انہی ریاستوں کا ہو گا جو علاقائی و عالمی بحرانوں میں سیاسی پختگی‘ معاشی وژن اور نتائج پر مبنی حکمت عملی پیش کریں گی۔ بھارت کو اگر عالمی فورمز پر اپنا مؤقف تسلیم کرانا ہے تو اسے ہمسایوں کے ساتھ کشیدگی کی پالیسی ترک کر کے گلوبل ساؤتھ کے حقیقی اہداف پر توجہ دینا ہو گی‘ ورنہ تاریخ کا دھارا تو کثیر جہتی تعاون کے ساتھ آگے بڑھتا رہے گا اور منفی ایجنڈے کے حامل ممالک عالمی دھارے سے کٹ کر رہ جائیں گے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved