تحریر : ایاز امیر تاریخ اشاعت     16-09-2026

عرب صحرا پر چھائے دکھ درد کے بادل

امریکیوں نے بھی مشرق وسطیٰ میں کیسی صورتِ حال پیدا کی ہے۔ اپنا نقصان تو کیا لیکن اپنے عرب اتحادیوں کو کہیں کا نہیں چھوڑا۔ بڑا اتحادی تو سعودی عرب تھا اور اُس کیساتھ جو ایک قسم کا سمجھوتا 1945ء میں طے پایا تھا وہ صدر فرینکلن روزویلٹ اور سعودی عرب کے شاہ عبدالعزیز کے درمیان تھا۔ یالٹا کانفرنس کے بعد نہر سویز کے قریب ایک امریکی بحری جہاز پر یہ تاریخی ملاقات ہوئی تھی۔ امریکی صدر کی نظر سعودی تیل پر تھی اور سعودی فرمانروا کو امریکی حفاظت درکار تھی۔ یعنی ایک طرف تیل اور دوسری طرف حفاظت کی ضمانت۔ اُس وقت سے لے کر اب تک امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات کی بنیاد یہ غیر تحریر شدہ سمجھوتا رہا ہے۔ امریکہ کا کارنامہ ہے کہ ایران پر حملہ کرکے صورتِ حال ایسی پیدا کی ہے کہ یہ باہمی انڈرسٹینڈنگ ہوا میں تحلیل ہو گئی ہے۔ یمن میں حوثیوں کی پیش قدمی کے بعد سعودی عرب پہ آشکار ہو گیا ہے کہ امریکی وعدے مشکل کی گھڑی میں کوئی معنی نہیں رکھتے۔
انصاراللہ یا حوثیوں کی پیش قدمی شروع ہوئی اور سعودی عرب کے حمایتی پسپا ہونے لگے تو پچھلی جمعرات کو سعودی ولی عہد نے دو بار صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو فون کرکے مدد کی اپیل کی اور آگے سے جواب آئیں بائیں شائیں میں ملا۔ کیا گزری ہو گی سعودی ولی عہد پر۔ جب پچھلے سال صدر ٹرمپ نے قطر‘ یو اے ای اور سعودی عرب کا دورہ کیا تھا تو کیا کچھ عرب سربراہان نے اُن پر نچھاور نہیں کیا تھا۔ کتنی امیدیں ان سربراہان نے صدر ٹرمپ سے وابستہ کی ہوئی تھیں۔ اور اب جسے اپنا محافظ اور مہربان سمجھ رہے تھے اُس نے کیسے ان کیلئے تباہی کا سامان پیدا کیا ہے۔ کیا سوچ رہے ہوں گے یہ سارے سربراہان۔
سعودی عرب کیلئے یہ صورتِ حال بالکل نئی ہے ۔ آبنائے ہرمز بند‘ وہاں سے کوئی سعودی تیل باہر نہیں جا رہا۔ متبادل راستہ سعودیوں نے ملک کے دوسری طرف ینبع بندرگاہ پر بنایا۔ ایک بڑی پائپ لائن بچھائی گئی ہے‘ جسے مشرق مغرب پائپ لائن کہتے ہیں۔ اس پائپ لائن پر حملے ہوئے ہیں‘ جس سے ساری سپلائی بند ہو گئی ہے۔ پہلے کہا جا رہا تھا کہ مرمت دنوں کا کام ہے۔ اب بات اُس سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ تیس سال کے عرصے میں سب سے کم ایکسپورٹ سعودی تیل کی ہو رہی ہے۔ اور عالمی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ جہاں امریکہ نے ایران پر اس جنگ کے دوران ہزاروں حملے کیے ہیں سعودی عرب کی مشکل گھڑی میں کچھ حملے ان کیلئے بھی کر دیتے۔ لیکن وائٹ ہاؤس نے ایک قسم کا صاف انکار کیا کہ اسلحہ آپ کے پاس بہت ہے آپ کو خود کچھ کرنا چاہیے۔
رہ جاتا ہے سوال سہ فریقی دفاعی معاہدے کا‘ جس پر سعودیہ‘ ترکیہ اور پاکستان نے دستخط کیے ہیں۔ درپردہ کوئی بات چیت چل رہی ہو تو اُس کے بارے میں ظاہر ہے کچھ نہیں کہا جا سکتا لیکن اب تک منظرِ عام پر ایسی کوئی بات نہیں آئی جس سے اندازہ لگایا جا سکے کہ سہ فریقی دفاعی معاہدے کے نتیجے میں انصار اللہ کی پیش قدمی کے بارے میں کچھ سوچ بچار ہوئی ہے یا نہیں۔ اتنی بات لوگوں کو سمجھ آ رہی ہے کہ اس مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔ شمالی یمن جو کہ انصار اللہ کا گڑھ ہے‘ پہاڑی علاقوں پر مشتمل ہے جہاں کسی باہر کی فوجی طاقت کا اترنا اتنا آسان نہیں۔ مصر کے جمال عبدالناصر نے 1962ء میں شمالی یمن میں مصری فوج بھیجی تھی جس سے بھاری نقصان مصری فوج کا ہوا۔ یہ تو سعودیہ کی حمایت یافتہ یمنی حکومت کی طرف سے بہت بڑی غلطی ہوئی کہ جولائی میں صنعا ایئرپورٹ پر حملہ کر دیا عین اُس وقت جب انصار اللہ کا ایک وفد آیت اللہ خامنہ ای کے جنازے میں شرکت کرکے صنعا واپس آ رہا تھا۔ موجودہ لڑائی تو وہاں سے شروع ہوئی۔ ویسے بھی ماضی میں انصار اللہ پر امریکہ نے فضائی حملے کرکے دیکھ لیا‘ دو ماہ کی بمباری سے امریکہ کا ایک بلین ڈالر کا اسلحہ ہوا میں تحلیل ہو گیا لیکن انصار اللہ کا کچھ نہ بگڑا۔ اُس سے پہلے سعودی عر ب اور یو اے ای نے یمن پر حملہ کیا تھا لیکن کچھ حاصل نہ ہو سکا۔ اور اب جو صورتِ حال ہے وہ دنیا کے سامنے ہے۔ سعودیہ کا سارا دارو مدار ہی تیل پر ہے اور اُس کی ترسیل دونوں اطراف سے بند ہے۔ سعودیہ کی نظروں میں بڑا دشمن تو ایران تھا۔ مرحوم شاہ عبداللہ نے صدر جارج بش سے کہا تھا کہ سانپ کو مارنا ہو تو سر پر وار ہونا چاہیے۔ اُن کا اشارہ ایران کی طرف تھا۔ لیکن جو تباہ کن صورتِ حال اب بنی ہے ایران کے ہاتھوں نہیں بلکہ امریکہ کی وجہ سے ہے۔
حل تو معاملے کا یہ ہے کہ امریکہ کو ایک طرف رکھ کے سعودی عرب اور ایران میں کوئی سمجھوتا طے پائے۔ لیکن اتنا پرانا انحصار جو کہ سعودی عرب کا امریکہ پر رہا ہے‘ اُسے خیرباد کہنا سعودی قیاد ت کے لیے اتنا آسان نہ ہو گا۔ ایسا انحصار ایک نفسیاتی ضرورت بن جاتی ہے۔ اور اُس سے نکلنا آسان نہیں ہوتا۔ لیکن حل یہی ہے‘ سعودیہ میں موجود امریکی ملٹری اڈے ویسے ہی ایرانی میزائلوں کی وجہ سے ناکارہ ہو چکے ہیں۔ اُن میں مقیم امریکی فوجی کہیں ہوٹلوں میں قیام کرنے لگے ہیں۔ جہاں تک امریکی لڑاکا طیارے ہیں وہ سعودی عرب کے کسی کام نہیں آئے۔ سعودی عرب کا تیل عالمی تیل کی قیمتوں کے اُتار چڑھاؤ کا سبب بنتا تھا اور آج حالت یہ ہے کہ تیل کی ترسیل بند پڑی ہے۔ امریکی سمجھوتے سے سعودی عرب نے اور کیا حاصل کرنا تھا؟ لیکن پھر وہی بات ہے کہ پرانی عادت سے چھٹکارا حاصل کرنا آسان نہیں ہوتا۔ اس موڑ پر امریکہ کا رویہ بھی دیکھا جائے کہ سعودی عرب مصیبت میں پھنسا ہے اور امریکی جیسے کچھ ہوا ہی نہیں‘ بڑے اطمینان سے کہہ رہے ہیں کہ حوثیوں سے ہمارے رابطے قائم ہیں اور وہ کہہ رہے ہیں کہ بندش کا اطلاق صرف سعودی جہازوں پر ہے۔ صدر ٹرمپ کے بقول یہ ہم سیدھا کر لیں گے۔ انگریزی کا محاورہ ہے کہ کسی کو بس کے نیچے پھینک دینا۔ تجزیے اس موقع پر جو ہو رہے ہیں اُن میں یہ جملہ بھی استعمال ہو رہا ہے کہ امریکہ نے یہ کچھ مشرقِ وسطیٰ میں اپنے سب سے پرانے اتحادی کے ساتھ کیا ہے۔
اپنی جملہ کمزوریوں کی وجہ سے مسلم دنیا نے اپنے آپ کو کتنا نقصان پہنچایا ہے۔ عراق پر حملہ ہوا سب چپ بیٹھے رہے‘ کچھ کرنا تو دور کی بات ہے مذمتی آواز ایک نہ اُٹھی۔ لیبیا کی تباہی کا سامان تیار کیا گیا مسلمان چپ رہے۔ مغربی طاقتوں نے شام میں گڑبڑ شروع کی مسلمان چپ رہے۔ غزہ میں بربریت کل کی بات ہے اور مخالفت میں مسلم ممالک ایک انگلی نہ اٹھا سکے۔ ایران پر پہلا حملہ پچھلے سال ہوا تو سب چپ رہے۔ اس سال فروری میں ایران پر جنگ مسلط کی گئی تو سارے سربراہان نے پھر چپ سادھے رکھی۔ گلف ممالک نے مذمت کیا کرنا تھی‘ ان سارے ملکوں میں موجود امریکی فوجی اڈے ایران پر حملوں میں استعمال ہوئے۔ آج یہ سارے ممالک بے یارو مددگار ہاتھ باندھے حالات کو دیکھ رہے ہیں۔ ان سب کا انحصار تیل اور گیس پر ہے جس کی ترسیل اس جنگ سے بری طرح متاثر ہوئی ہے۔
مؤرخ ان واقعات کے بارے میں کیا فیصلہ صادر کریں گے؟ کہ اسرائیل اور امریکہ اپنے ناپاک عزائم لے کر ایران پر چڑھ دوڑے اور عملاً مسلم دنیا تماشائی بنی رہی۔ اور کچھ نہ کرتے اتنا کہنے کی ہمت تو ہوتی کہ ہماری دھرتیوں پر موجود فوجی اڈے ایران کے خلاف استعمال نہ ہوں۔ اتنا بھی کہتے تو صورتِ حال آج مختلف ہوتی۔ لیکن ریڑھ کی ہڈی کی بات ہے۔ وہ نہ ہو تو دنیا کا سارا تیل کس کام کا۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved