اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید میں جا بجا اپنے بندوں کو دعا مانگنے کا حکم دیا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ البقرہ کی آیت: 186 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''جب میرے بندے میرے بارے میں آپ سے سوال کریں تو آپ کہہ دیں کہ میں بہت ہی قریب ہوں‘ ہر پکارنے والے کی پکار کو جب بھی وہ مجھے پکارے‘ قبول کرتا ہوں‘ اس لیے لوگوں کو بھی چاہیے (کہ) وہ میری بات مانا کریں اور مجھ پر ایمان رکھیں‘ یہی ان کی بھلائی کا باعث ہے‘‘۔ اسی طرح سورۃ النمل کی آیت: 62 میں ارشاد ہوا: ''بے کس کی پکار کو جبکہ وہ پکارے‘ کون قبول کر کے (اس پر سے) سختی کو دور کر دیتا ہے؟ اور (کون) تمہیں زمین کا خلیفہ بناتا ہے؟ کیا اللہ کے ساتھ اور معبود ہے؟ تم بہت کم نصیحت وعبرت حاصل کرتے ہو‘‘۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے دعا کی اہمیت کو سورۃ المومن کی آیت: 60 میں بڑے خوبصورت انداز میں کچھ یوں واضح کیا: ''اور تمہارے رب کا فرمان (جاری ہو چکا) ہے کہ مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعائوں کو قبول کروں گا‘ یقین مانو کہ جو لوگ میری عبادت سے خودسری کرتے ہیں وہ ابھی ابھی ذلیل ہو کر جہنم میں پہنچ جائیں گے‘‘۔ مذکورہ بالا آیات سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ انسانوں کی دعائوں کو قبول و منظور فرماتے ہیں لیکن اس کے باوجود بہت سے لوگ یہ بات کہتے نظر آتے ہیں کہ ہماری دعا قبول نہیں ہوتی۔ دعا کی قبولیت کیلئے بعض اسباب کا اختیار کرنا ضروری ہے‘ اگر ان کا اہتمام کر لیا جائے تو اللہ تبارک وتعالیٰ کے فضل وکرم سے دعا کی قبولیت کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ چند اہم اسباب درج ذیل ہیں:
1۔ اخلاص اور یقین سے دعا مانگنا: جب انسان اخلاص اور یقین سے دعا مانگتا ہے تو اللہ تبارک وتعالیٰ اس کی دعا کو قبول فرماتے ہیں۔ اس کے مدمقابل اگر کوئی اگر کوئی شخص بے یقینی اور دلِ غافل سے دعا مانگتا ہے تو اس کی دعا قبول نہیں ہوتی۔ اس حوالے سے صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا ''اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اپنے بندے کے گمان کے ساتھ ہوں اور جب بھی وہ مجھے یاد کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوں‘‘۔ جامع ترمذی میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ''تم اللہ سے دعا مانگو اور اس یقین کے ساتھ مانگو کہ تمہاری دعا ضرور قبول ہو گی‘ اور (اچھی طرح) جان لو کہ اللہ تعالیٰ لاپروائی اور بے توجہی سے مانگی ہوئی‘ غفلت اور لہو ولعب میں مبتلا دل کی دعا قبول نہیں کرتا‘‘۔
2۔ رزقِ حلال کا اہتمام: جو شخص رزق حلال کمانے کیلئے تگ و دو کرتا اور اس کے بعد اللہ تبارک وتعالیٰ سے دعا مانگتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی دعا کو قبول ومنظور فرماتے ہیں۔ صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ''اے لوگو! اللہ تعالیٰ پاک ہے اور پاک (مال) کے سوا (کوئی مال) قبول نہیں کرتا اور اللہ نے مومنوں کو بھی اسی بات کا حکم دیا جس کا رسولوں کو حکم دیا‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ''اے پیغمبرانِ کرام! پاک چیزیں کھائو اور نیک کام کرو‘ جو عمل تم کرتے ہو‘ میں اسے اچھی طرح جاننے والا ہوں‘‘۔ اور فرمایا : ''اے مومنو! جو پاک رزق ہم نے تمہیں عنایت فرمایا ہے اس میں سے کھائو‘‘۔ پھر آپﷺ نے ایک آدمی کا ذکر کیا کہ جو طویل سفر کرتا ہے‘ بال پراگندہ اور جسم غبار آلود ہے‘ (دعا کیلئے) آسمان کی طرف اپنے دونوں ہاتھ پھیلاتا ہے: اے میرے رب! اے میرے رب! جبکہ اس کا کھانا حرام کا ہے‘ اس کا پینا حرام کا ہے‘ اس کا لباس حرام کا ہے اور اس کو غذا حرام کی ملی ہے‘ تو اس کی دعا کہاں سے قبول ہو گی!‘‘۔
3۔ اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات کے ذریعے دعا کرنا: اللہ تبارک وتعالیٰ کے خوبصورت نام ہیں اور انسان کو ان ناموں کے ساتھ اللہ تبارک وتعالیٰ کو پکارنا چاہیے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الاعراف کی آیت: 180 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''اور اچھے اچھے نام اللہ ہی کیلئے ہیں سو ان ناموں سے اللہ کو پکارا کرو‘‘۔ مثلاً رزق کیلئے ''یا رزاق‘‘، مغفرت کیلئے ''یا غفور‘‘ اور ''یا رحیم‘‘ کہہ کر دعا کی جا سکتی ہے۔
4۔ دعا سے پہلے اللہ کی حمد و ثنا اور نبی کریمﷺ کی ذاتِ اقدس پر درود بھیجنا: سنن ابودائود میں حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہﷺ نے ایک شخص کو نماز میں دعا کرتے ہوئے سنا کہ اس نے اللہ کی حمد و ثنا کی تھی اور نہ ہی نبیﷺ پر درود پڑھا تھا‘ تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: ''اس نے جلدی کی‘‘۔ پھر اس شخص کو بلایا اور (اسے یا کسی دوسرے سے) فرمایا: ''جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو پہلے اپنے رب کی حمد و ثنا بیان کرے‘ پھر نبیﷺ کیلئے درود پڑھے‘ اس کے بعد جو چاہے دعا کرے‘‘۔
5۔ سجدے میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگنا: سجدہ عاجزی کی انتہا ہے۔ جب انسان سجدے کی حالت میں اللہ تبارک وتعالیٰ سے دعا مانگتا ہے تو اللہ تبارک وتعالیٰ اس کی دعا کو قبول فرماتے ہیں۔ اس حوالے سے صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ''بندہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب اس حالت میں ہوتا ہے جب وہ سجدے میں ہوتا ہے‘ لہٰذا اس میں کثرت سے دعا کرو‘‘۔
6۔ تہجد اور رات کے آخری حصے میں دعا مانگنا: جب لوگوں کی اکثریت اپنے بستروں پر سوئی ہوتی ہے تو ایسے عالم میں جو شخص اللہ تبارک وتعالیٰ کی بارگاہ میں اپنی حاجات کو پیش کرتا ہے تو اللہ تبارک وتعالیٰ اس کی دعائوں کو قبول ومنظور فرماتے ہیں۔ اس حوالے سے صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ ہمارا پروردگار بلند (اور) برکت والا ہے‘ ہر رات کو اُس وقت آسمانِ دنیا پر آتا ہے جب رات کا آخری تہائی حصہ رہ جاتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ کوئی مجھ سے دعا کرنے والا ہے کہ میں اس کی دعا قبول کروں‘ کوئی مجھ سے مانگنے والا ہے کہ میں اسے دوں‘ کوئی مجھ سے بخشش طلب کرنے والا ہے کہ میں اس کو بخش دوں۔
7۔ اذان اور اقامت کے درمیان دعا مانگنا: نماز دین کا ستون اور اسلام کا دوسرا اہم رکن ہے۔ اذان نماز کے بلاوے کا نام ہے۔ اذان اور اقامت کے درمیانی وقفے کو دعا کی قبولیت کے حوالے سے بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ جو شخص اس دوران اللہ تبارک وتعالیٰ کی بارگاہ میں دعا مانگتا ہے تو اللہ تبارک وتعالیٰ اس کی دعا کو قبول ومنظور فرماتے ہیں۔ اس حوالے سے سنن ابو دائود میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ''اذان اور اقامت کے مابین دعا رد نہیں کی جاتی‘‘۔
8۔ جلد بازی اور گناہ کی دعا سے اجتناب: جب انسان تسلسل کے ساتھ دعا مانگتا ہے اور دعا کے قبول نہ ہونے پر بھی مایوس نہیں ہوتا تو اللہ تبارک وتعالیٰ اس کی دعا کو قبول فرماتے ہیں۔ تاہم قطع رحمی اور گناہ کی دعا نہیں مانگنی چاہیے۔ اس حوالے سے صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول کریمﷺ نے فرمایا ''جب تک کوئی بندہ گناہ یا قطع رحمی کی دعا نہ کرے اور قبولیت کے معاملے میں جلد بازی نہ کرے‘ اس کی دعا قبول ہوتی رہتی ہے‘‘۔ عرض کی گئی: اللہ کے رسولﷺ! جلد بازی کرنا کیا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا ''وہ کہے کہ میں نے دعا کی اور میں نے دعا کی مگر مجھے نظر نہیں آتا کہ وہ میرے حق میں (یہ دعا)قبول کرے گا‘ پھر اس مرحلے میں (مایوس ہو کر) تھک جائے اور دعا کرنا چھوڑ دے‘‘۔
اگر مذکورہ بالا اسباب کو اختیار کر لیا جائے تو دعا کی قبولیت کے امکانات روشن ہو جائیں گے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ہم سب کی دعائوں کو قبول و منظور فرمائے‘ آمین!
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved