خزاں کا ملگجا پرندہ پر پھیلائے فضا میں منڈلا رہا ہے۔ کوئی دن جاتا ہے جب یہ شہر پر اُتر کر اپنے شہپر سمیٹ لے گا۔ تین‘ چار روز قبل رات کو جو چھینٹا پڑا تھا اس نے ملائم ستارے اور مخملی بنا دیے تھے۔ جاتے بھادوں کی آخری نرم رسیلی بارشیں ابھی درختوں اور پودوں کے چہروں سے ٹپکتی ہیں اور پتوں کی ہتھیلیوں پر لکیروں کے بیچ زندگی کی لکیر جگمگاتی ہے۔ ابھی لان میں ٹکوما کی گھنی بیل زرد پھولوں سے بھری ہوئی ہے۔ گھاس سے لے کر بیلوں تک کاہی سے انگوری تک سبز کا ہر شیڈ ابھی موجود ہے‘ لیکن اس پرندے کے اُترنے کی دیر ہے‘ یہ ہرے رنگ کجلانے لگیں گے۔ پہلے پتوں کے کناروں پر زنگار نمودار ہو گا‘ پھر یہ سرطان پورے بدن کو لپیٹ لے گا۔ ٹکوما کے زرد پھول اس کے پیروں میں ڈھیر ہوتے جائیں گے۔ پھر ایک ایک کر کے پتے بھی ان کا ساتھ دیں گے۔ کچھ دن کی دیر ہے پوری ٹکوما اپنے پیروں میں ڈھیر ہو چکی گی۔ پھر ٹنڈ منڈ شاخیں برہن کی طرح وقت گزاریں گی۔ بیلوں اور درختوں سے پوچھیں کہ سنجوگ سے بجوگ اور جوگ تک اتنی منزلیں چند دنوں میں کیسے طے ہو جاتی ہیں؟
میں بیل کے نیچے اس جگہ بیٹھا ہوں جہاں کل زرد اور خاکستری پتاور ہو گا۔ مجھے یہ جگہ پسند ہے۔ زمین تخلیق ہوئی تو شاید پت جھڑ بھی اسی کے ساتھ بنا دی گئی۔ حسین‘ مگر دل گرفتہ اور تنہا دیوی کی طرح۔ اتنی بڑی زمین پر کسی ہمدم‘ کسی ہمراز کے بغیر کروڑوں سال پت جھڑ نے تنہا زندگی گزار دی۔ پھر یوں ہوا کہ انسان خلق ہوا اور انسان نے شاعری تخلیق کی۔ بہت مماثلتیں تھیں دونوں میں۔ حسن‘ حزن اور ملال۔ سوپت جھڑ نے شاعری کا ہاتھ تھام لیا۔ قرنوں کے بعد جنم جنم کا ہمراز مل جائے تو ہاتھ کون چھوڑتا ہے۔ خزاں اور شاعری دونوں مل کر اس طرح مکمل ہو گئے کہ پتا ہی نہیں چلتا محب کون ہے اور محبوب کون؟ یار! عشق ہو تو ایسا ہو۔
اُترتی پت جھڑ میں ایک کتاب میرے ہاتھ میں ہے۔ اچھی کتاب پڑھنے کو مل جائے تو عجیب کشمکش شروع ہو جاتی ہے۔ ایک طرف ایک ہی نشست میں پڑھنے کی کوشش‘ دوسری طرف دل کی یہ مسلسل تنبیہ کہ میاں! کیا کرتے ہو۔ اچھی کتاب چٹخارے لے لے کر‘ ہر لفظ کا ذائقہ محسوس کرکے پڑھی جاتی ہے۔ کیا تم بھول گئے اچھی کتاب پڑھنے کا اپنا روایتی طریقہ؟ نہیں حضور! بھولا تو کچھ بھی نہیں ہوں۔ روایتی طریقہ یاد ہے کہ جملے‘ خیال یا شعر کی پہلے زیر لب داد دی‘ پھر کتاب وہیں چھوڑی۔ اٹھ کرگھر کا چکر لگایا۔ لیچی چھیلی۔ خوشبو اور رس کامزہ لیا یا امرود کی قاش پر نمک مرچ لگایا اور جملے یا شعر کا لطف اٹھایا۔ یہ سب داد میں شامل ہے اور اسے لذیذ تر کرنے کی کوشش۔ لیکن کتاب کی کشش اپنی جگہ گھومتے سیارے کو کھینچتی رہتی ہے۔ اور یہ کتاب تو کچھ زیادہ ہی کششِ ثقل والی ہے۔ طیب رضا کی ''دائرے میں تکون‘‘۔ میں اس کے شعر پڑھتا ہوں اور نیلگوں دھند کے پار ایک زمانہ جھلملاتے دیکھتا ہوں۔ ایک پورا عہد جو اَب زمانہ قبل از تاریخ لگنے لگا ہے۔ کلائیڈو سکوپ کی طرح ہر بار نیا منظر سامنے آتا ہے۔ کبھی چہرے‘ کبھی جگہیں اور کبھی شعر آنکھیں جکڑ لیتے ہیں۔ یہ توصیف خواجہ ہے‘ یہ رحمان حفیظ‘ یہ طیب رضا‘ یہ ادریس بابر‘ یہ شاہین عباس۔ ذرا سی دوری پر ذوالفقار عادل‘ سلیم ساگر‘ نوید صادق‘ منظر اعجاز وغیرہ کھڑے ہیں۔ کچھ اور فاصلے پر ارسلان احمد‘ فیضان ہاشمی اور کچھ چہرے جن کے نام اور چہرے یکجان نہیں ہو رہے۔ دھند کے جالے رہ رہ کر منظر اوجھل کر دیتے ہیں۔ یہ پورا عہد تھا جس میں انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور میں اوپر تلے باکمال نمودار ہوئے۔ یہ زمانہ یونیورسٹی نے نہ اس سے پہلے دیکھا نہ اس کے بعد۔ ان نوجوانوں کیلئے انجینئرنگ‘ روزگار‘ معاش کی دنیائیں بہت چھوٹی نکلیں۔ ان کی اصل دنیا لفظ کی بے کنار کائنات تھی۔ انہوں نے اس کائنات کو اس طرح اپنایا کہ کائنات ان کی ہو گئی۔ یہ وہی کائنات ہے جو اس اُترتے پت جھڑ میں میرے ہاتھ میں ہے۔ میں نے ایک بار لکھا تھا کہ شاعر جل پری کی طرح ہوتا ہے۔ دو دنیاؤں کا مکین سہی لیکن اصل دنیا کون سی ہے‘ اسے نہیں پتا۔ جل پری کا حسن‘ حزن‘ گونجتے گیت اور تنہائی سمجھنی ہو تو شاعر کو دیکھیے۔ طیب رضا شاعر ہے اور اسے بھی معلوم نہیں کہ اس کی اصل دنیا کون سی ہے۔ گاہے وہ ساحل پر ہم سے ملنے آتا ہے‘ اور اس کے پاس لاجوردی‘ ارغوانی‘ زمردی‘ آتشی اور نقرئی موتی اور ہیرے ہوتے ہیں۔ ایک ایک ہیرا دیکھتے رہیے۔ یہ آب زاد خزانے ہر ایک کو تھوڑی ملتے ہیں۔
اٹھاؤں ہاتھ تو پانی میں آگ جلنے لگے
دکھاؤں آنکھ تو یہ اژدھے چلے جائیں
گزر رہا ہوں کسی مشتعل ہجوم سے میں
ہجوم مجھ میں گزرنے لگا تو کیا ہو گا
دیر ہوجائے گی اس راہ پہ بیٹھے بیٹھے
دیدۂ چاک! رفوگر نہیں آنے والا
سرخ پتوں سے الجھتا ہوا پانی کا سفر
اس سفر سے کوئی بچ کر نہیں آنے والا
مجھے جلایا گیا ضبط کے اندھیرے میں
مرا تماشا مری روشنی میں دیکھا گیا
پھر اس نے آنکھ اٹھا کر مری طرف دیکھا
مجھے بھی زیست کا کوئی بہانہ چاہیے تھا
ایک زرد پھول کتاب کے صفحا ت پر آگرا ہے۔ براق صفحے پر یہ زرد پھول ہمیں زندگی کا ایک رخ دکھا رہا ہے۔ ہم ساری عمر صفحات بھرتے رہتے ہیں‘ لیکن پتا نہیں کس دن ان صفحات پر زردی کھنڈنے لگے اور سارے ورق ایک ایک کرکے خالی ہونے لگیں۔ میری خوشدامن جو میری پھوپھی بھی ہیں‘ شاعرہ ہیں۔ میں نے بچپن ان کی نظموں اور ان کے ترنم کے گلیاروں میں پھرتے پھراتے گزارا ہے۔ قریب دس سال سے وہ ڈیمنیشیا کا شکار ہیں۔ اپنے بچو ں کے نام تک یاد نہیں‘ لیکن اگر آج بھی ان کی نظموں کا کوئی ایک مصرع پڑھ کر سنایا جائے تو پوری نظم سنا دیتی ہیں۔ ان کی کتابِ عمر کے صفحات سفید براق ہو چکے لیکن کچھ صفحات میں ابھی تک روشنائی روشن ہے۔ شاعر نے بھی ایسا ہی منظر دل کے اندر سے دیکھا ہے اور نظم ڈیمنیشیا میں عجیب عجیب کیفیتوں کو چھوا ہے۔ ڈیمنیشیا کی جہات بدلتی رہتی ہوں گی لیکن مرکز ایک ہی رہتا ہے۔ ساری جہات اس کے گرد طواف کرتے گزرتی ہیں اور جب بدن تھک کر سو جائے تو آنکھ اسی مرکز میں کھلتی ہے۔
زندگی میں ایک بار مجھے ایک نیم صحرائی ویرانے میں رات بسر کرنے کا موقع ملا۔ دور تک کہیں نرم کہیں سخت ریت کے بیچ اجاڑ بکھرے بالوں والی جھاڑیاں‘ کچھ باہیں پھیلائے سخت جان درخت‘ تاحد نظر ویرانہ جسے آسمان سے بڑے بڑے جگمگ کرتے ستارے جھک کر دیکھتے تھے۔ وہ رات بھولے گی نہیں۔ گہری ہوتی رات میں دور سے کسی دل زدہ پرندے کی ہوک مسلسل سنائی دیتی تھی۔ معلوم نہیں وہ گھائل تھا‘ ڈرا ہوا تھا‘ قبیلے سے جدا ہو گیا تھا‘ قبیلہ بدری کی سزا سہہ رہا تھا‘ برہا میں آنسو بہا رہا تھا یا کسی کو پکار رہا تھا۔ یہ ہوک ہمیں سمجھ نہیں آتی تھی لیکن اگر پرندے سسکیاں لیا کرتے تو یہی آواز ہوتی۔ کتاب میں نظمیں پڑھتے ہوئے مجھے یہی ہوک اور یہی سسکیاں سنائی دیتی رہیں۔ آخری قیدی‘ ملبہ‘ دائرے میں تکون‘ محبت کی آخری نظم‘ بانجھ‘ سب میں یہی ہوک سنائی دیتی ہے۔ شاعر ویرانے میں کوئی خوفزدہ پرندہ ہے یا ہجرزدہ‘ معلوم نہیں۔ ہمیں بس یہ معلوم ہے کہ وہ دل زدہ پرندہ ہے۔ پیارے! عشق میں محنتانہ نہیں ملا کرتا۔ یہی بہت ہے کہ زخموں کی داد ملتی رہے۔ مزید عطا ہوتی رہے۔ اس سے بڑھ کر کوئی صلہ ہوتا بھی نہیں۔ شاداب رہو پیارے۔ سرسبز رہو!
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved