تحریر : رسول بخش رئیس تاریخ اشاعت     18-09-2026

سونے کی چڑیا

وہ وقت اور زمانہ اور تھا۔ اُس کی دھندلی سی یادیں رہ گئی ہیں۔ تنہائی میں بیٹھتے ہیں اور حالاتِ حاضرہ کا نقشہ ذہن میں خوفناک چڑیل کی طرح اپنے دانت دکھاتا ہے تو ہم اچھے وقتوں کی کچھ خوبصورت یادوں سے دل کے زخموں پر مرہم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اُن کا ذکر آج اس لیے بھی ضروری ہے کہ پنجاب کے موجودہ حکمرانوں اور ماضی کے زمانے کے کچھ مہاراجوں کا موازنہ بھی کر کے دیکھ لیں کہ وہ کیا تھے اور یہ کیا ہیں۔ اس سے پہلے سونے کی چڑیا کا خیال اس لیے آیا کہ کبھی کبھار ہمیں پٹھانے خان یاد آتے ہیں۔ ان کی کئی کافیاں اور چند شامیں‘ جو اُن کی رفاقت میں گزریں‘ کو اپنی زندگی کا قیمتی سرمایہ سمجھتا ہوں۔ اُن سے باتیں آمنے سامنے بیٹھ کر ہوتی تھیں۔ اُن کے ایسے چاہنے والے جو اپنے گھروں میں مدعو کر کے محفل کا اہتمام کرتے‘ بہت کم تھے۔ البتہ موجودہ دور کے اعلیٰ پائے کے شاعر سرمد صہبائی ان میں سے ایک تھے۔ انہوں نے جو خوبصورت مضمون جو شاید گزشتہ سال لکھا‘ وہ اپنی مثال آپ ہے۔ دو تین دفعہ پڑھ چکا ہوں‘ ایک بار پھر پڑھنے کو جی چاہتا ہے۔ ان کے ہاں چند محفلوں میں پٹھانے خان کے قریب بیٹھنے کا موقع ملا۔ شام کا اندھیرا گہرا ہوتے ہی وہ سُروں کے ساتھ ساتھ اپنے مشکل وقت اور پہلی مرتبہ ریڈیو پاکستان ملتان میں گانے کا موقع ملنے کے علاوہ درباروں پر اپنی حاضریوں اور مجلسوں کا ذکر کرتے تو اُن پر مستی کی سی کیفیت طاری ہو جاتی۔ اُس زمانے میں کیسٹوں میں گانے ریکارڈ ہوتے تھے‘ اور یہ زبردست کام پہلے پہل لوک فنکاروں کو متعارف کرانے کیلئے لوک ورثہ‘ اسلام آبادکے ادارے نے شروع کیا تھا۔ وہ اب بھی اس درویش کے پاس محفوظ ہیں۔ اُن کو متعارف کرانے والے ایک ریکارڈ شدہ پروگرام میں اُس وقت کی مشہور ایکٹر عظمیٰ گیلانی تھیں۔ ایک سوال میں پوچھا کہ لاہور کب سے تشریف لا رہے ہیں‘ اور اسے آپ نے کیسا پایا؟ کہنے لگے ''پنجاب تو سونے کی چڑیا ہے‘ اور بلھے شاہ‘ شاہ حسین کی کافیاں ہیں‘ وہ مجھے یہاں کھینچ کر لائی تھیں۔ وہ مجھے نجم حسین سید صاحب نے سکھائیں اور تشریح بھی کی‘‘۔ یہ سن کر مجھے بھی جوانی کے وہ ماہ و سال یاد آتے ہیں جب میں بھی اُن کی محفلوں میں باقاعدگی سے جایا کرتا تھا۔ یہ سونے کی چڑیا والی بات پٹھانے خان نے اس مضمون میں شاید سنائی تھی کہ کیا خوشحالی ہے‘ دولت کی ریل پیل ہے! اس درویش کو ایسی خوشحالی سے کوئی غرض نہیں تھی۔ ان کا مطلب خوبصورتی سے تھا یا اچھی محفلوں سے تھا۔ چونکہ انہوں نے پنجاب کی تاریخی شہرت کے بارے میں سونے کی چڑیا کا حوالہ سن رکھا تھا‘ اس لیے پہلے حروف جو اُن کے منہ سے نکلے‘ وہ یہی تھے۔ پوری زندگی اپنا ہارمونیم کندھے پہ رکھے‘ اپنے شاگردِ خاص یٰسین خان کے ساتھ شہر شہر گھوم کر فن کا مظاہرہ کیا اور پھر اس ہارمونیم اور تن کے کپڑوں کے ساتھ اپنی مٹی میں جا کر آسودۂ خاک ہو گئے۔ یٰسین خان بھی اپنے رنگ کا منفرد آدمی تھا۔ جنہوں نے اسے دیکھا ہے‘ ان محفلوں میں وقت گزارا‘ جہاں وہ کتاب کھول کر کافیوں کے مصرعوں کے لقمے خان صاحب کو دیا کراتے تھے‘ وہ بھی شاید ان محفلوں کی رونق کا احاطہ نہ کر سکیں۔ پٹھانے خان اور یٰسین خان میرے نزدیک پنجاب کی دھرتی کے وہ کردار ہیں جو کھیتوں کھلیانوں سے لے کر دہکتے تنوروں پر آپ کیلئے روٹیاں لگاتے‘ بکریاں پالتے‘ مچھلیاں دریاؤں اور تالابوں سے نکالتے‘ گویا ہر وہ کام جو آپ کے طبقے کیلئے سودمند ہو‘ کرتے کرتے تھک ہار کر ہمیشہ کی نیند سو جاتے ہیں۔
سونے کی چڑیا جن کے ہاتھ میں ہے اور رہی ہے‘ اُن طبقات کے علاوہ ماضی کے باہر والے‘ اور آزادی کے بعد اپنے اندر کے حکمرانوں نے اس چڑیا کے طلسمی انڈوں سے سونے کے پہاڑ کھڑے کر لیے۔ پنجاب کی سونے کی چڑیا کو نچوڑنے کیلئے جتنے حملے افغانوں‘ ترکوں اور ایرانیوں نے کیے اور نسل در نسل لوٹ مار کرتے رہے‘ وہ تاریخ ہم نے مسخ کر کے انہیں ہیرو کا درجہ دے رکھا ہے۔ پنجابی زبان میں ایک کتاب اس بارے میں آئی ہے۔ جلد وہ پڑھ کر اس کے بارے میں کچھ مزید آپ کی خدمت میں عرض کروں گا۔ سچ اور حق کی بات‘ اگر آپ کو گوارا ہو تو یہ ہے کہ صدیوں بعد پنجاب کا آبائی حکمران‘ جو میدان میں افغانوں کو اپنے ملک سے نکال کر واقعی شیرِ پنجاب بنا‘ وہ مہاراجہ رنجیت سنگھ تھا۔ فصل پکتے ہی افغان ہزاروں کی تعداد میں پنجاب میں وارد ہوتے اور سب کچھ لوٹ کر واپس چلے جاتے۔ مغلوں کے زوال کے بعد سندھ سے لے کر کشمیر تک وہ حکمران مقرر کرتے اور ہر علاقے کی مالیت‘ پروانۂ حکمرانی دینے سے پہلے وصول کرتے۔ جو کچھ مہاراجہ نے بنایا‘ وہ پنجاب کیلئے بنایا اور پنجاب میں ہی رہا۔ اسی زمانے میں انگریزوں کی کمپنی ہندوستانیوں سے اربوںنکال کر برطانیہ منتقل کر رہی تھی۔ پنجاب کی سونے کی چڑیا پر اس کی گہری نظر تھی۔ جب تک مہاراجہ زندہ تھے‘ انگریزوں کو جرأت نہ ہوئی کہ وہ ستلج کو پار کر سکیں۔ آج کا خیبر پختونخوا مہاراجہ کی فوج نے افغانوں کو نکال کر حاصل کیا۔ افغان انگریزوں کی منتیں کرتے تھے کہ سونے کی چڑیا کا ایک حصہ ہمیں واپس دلاؤ۔ انگریزوں کی تو اپنی نظر اس پر تھی۔ کاش ہم پنجاب کی اصلی تاریخ کبھی پڑھتے اور تعصب کی عینک اتار کر پڑھتے تو مہاراجہ اور ان کی سلطنت کے بارے میں افغانوں اور ان کے مقامی گماشتوں نے جو غلط فہمی پھیلائی ہے‘ اس کا گرد و غبار ذہنوں پر اتنی دیر نہ رہتا۔ ان کے بعد جو ہوا اسے پڑھیں تو ایسا لگتا ہے کہ اسی نوع کے ٹولے سونے کی چڑیا پر ٹوٹ کر پڑے ہوئے ہیں۔
پنجاب اور ملک کے دیگر علاقوں میں سیاست بطور کاروبار کی تاریخ زیادہ گہری نہیں‘ سوائے افغانوں اور انگریزوں کی یلغار کے۔ گزشتہ نصف صدی کی بات ہمیشہ کرتے رہے ہیں تاکہ آپ آج کل کے حکمرانوں کا ماضی کے ایسے طاقتور لوگوں سے موازنہ کر سکیں۔ پنجاب‘ سندھ‘ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی لوٹ مار‘ جو صدیوں سے جاری ہے‘ اس کے مظاہر آپ خلیجی ریاستوں‘ فرانس‘ برطانیہ‘ امریکہ‘ آسٹریلیا وغیرہ میں دیکھ سکتے ہیں۔ یہ جو پاناما ملک ہے‘ جس کا نام عام پاکستانی نے اُس وقت سنا جب ہمارے بڑے بڑے حکمرانوں کی کمپنیاں وہاں نکل آئیں‘ یہ ملک کس مقصد کیلئے استعمال ہوتا ہے؟ سونے کی ایک نہیں‘ کئی چڑیاں ہیں جنہیں اتنا لوٹا گیا ہے کہ رکھنے کیلئے اپنے ملک میں اس دولت کی جگہ نہیں رہی۔ دوسروں کی جانب بھی‘ جو گماشتوں کا کردار ادا کرتے ہیں‘ بہت کچھ پھینکا جاتا ہے۔سب کے وارے نیارے ہیں۔ بے شک آپ احتجاج کریں‘ آپ گلا پھاڑ کر کہتے رہیں کہ یہ ہمارا جمہوری حق ہے‘ کچھ بھی نہیں ہو گا کہ وہ اتنے طاقتور ہو چکے ہیں کہ اب اقتدار بھی کوئی بڑی بات نہیں رہی۔ بس ایک عام سا کھیل ہے جو وہ ملک میں اپنی سیاسی دکان قائم رکھنے اور منافع در منافع حاصل کرنے کیلئے چلاتے رہیں گے۔ یہ گیارہ بارہ ارب والے جہاز اور اوپر کروڑوں کے اخراجات‘ اور پھر اسے ذاتی سیر و تفریح کیلئے استعمال کرنے والی بات تو رہ گئی۔ پھر ان ماضی کے افغانوں اور انگریزوں سے کیا گلہ؟ ہاں‘ وہ جو لندن کے مشہور زمانہ علاقے میں فلیٹ ہیں‘ اور کس حکمران گھرانے کے نہیں ہیں‘ وہ سونے کی چڑیوں کی جادوگری نہیں تو اور کیا ہے؟ ہم تو شکایتی ہیں؛ البتہ پٹھانے خان اور یٰسین خان کبھی کوئی حرف زبان پر نہیں لائے تھے۔ وہی ہمارے عوام کے نمائندے ہیں۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved