اللہ کے آخری رسول‘ حضور نبی کریمﷺ نے اپنے ایک صحابی حضرت ابی ابن کعبؓ سے استفسار فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ اللہ کی کتاب (قرآن مجید) میں سب سے بڑھ کر عظیم آیت کون سی ہے؟ جواب دیا: اللہ اور اس کے رسولﷺ بہتر جانتے ہیں۔ حضورﷺ نے دوبارہ پوچھا تو حضرت ابی ابن کعبؓ نے آیت الکرسی کا نام لیا۔ اس پر حضورﷺ نے اپنے صحابی کے سینے پر معمولی سے دبائو کے ساتھ اپنا ہاتھ مبارک رکھا اور اللہ تعالیٰ کی قسم اٹھاتے ہوئے فرمایا ''تمہیں یہ علم مبارک ہو‘‘۔ صحیح مسلم میں مذکورہ حدیث کو راقم نے سلیس انداز میں رقم کیا ہے۔
آیت الکرسی کا آغاز اللہ تعالیٰ کے ذاتی اسم مبارک سے ہوتا ہے۔ اس کے بعد ہر شریک کی نفی کے بعد اثبات کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے ایک ضمیر استعمال فرمایا جسے ''ھو‘‘ کہا گیا۔ حضرت سلطان باہوؒ نے مذکورہ ضمیر سے کمال محبت کرتے ہوئے اپنی شاعری میں اسے کثرت سے استعمال کیا ہے۔ آیت الکرسی کا اختتام ''عظیم‘‘ کے لفظ پر ہوتا ہے۔ یہاں یہ لفظ اللہ تعالیٰ کی صفت کے طور پر آیا ہے۔ راقم نے جب مذکورہ آیت میں اللہ تعالیٰ کے ذاتی اور صفاتی ناموں سمیت ضمیروں کو شمار کیا تو تعداد 21 تک پہنچ گئی۔ عربی لغت کے مفسر ڈاکٹر فاضل سامرائی کہتے ہیں کہ اس آیت کا پہلا لفظ اللہ ہے اور آخری لفظ عظیم ہے۔ اگر ان دونوں کو ملایا جائے تو ایک 'جملہ مکمل‘ بنتا ہے؛ یعنی ''اللہ ہی عظیم ہے‘‘۔ جی ہاں! اسی لیے تو حضور کریمﷺ نے آیت الکرسی کو عظیم آیت قرار دیا کہ یہ سارے قرآن مجید میں‘ سب آیات سے بڑھ کر عظمت کی حامل ہے۔
امام جمال الدین المعروف ابن منظور اپنی شہرہ آفاق عربی لغت ''لسانُ العرب‘‘ میں اللہ کے رسولﷺ کی حدیث لائے ہیں کہ تمام آسمان اور زمینیں کرسی کے مقابلے میں اس طرح ہیں جیسے ساری زمین ایک ہموار میدان ہو اور اس میں ایک گول چھلّا (یا کنگن) پڑا ہو۔ اگر زمینی میدان ان کنگنوں اور چھلّوں سے بھر جائے تو انہیں کون شمار کرے گا؟ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی کرسی اس قدر بڑی اور وسیع ہے کہ اربوں کھربوں کائناتیں اس کے سامنے ہیچ ہیں۔ امام جمال الدین خزرجی انصاری لکھتے ہیں کہ عرب بادشاہ کرسی پر بیٹھ کر احکامات صادر کرتے تھے‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے تفہیم کے لیے کرسی کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔ یاد رہے! بادشاہوں یا حکمرانوں کے لیے ''تخت‘‘ کا لفظ بھی استعمال ہوتا ہے‘ اسی لفظ کو عربی میں ''عرش‘‘ کہتے ہیں۔ قرآن مجید میں جس عرش کا ذکر ہے وہ اس قدر بڑا‘ عظیم اور کریم ہے کہ حضور کریمﷺ کے فرمان کے مطابق اس کی حیثیت اس قدر بڑی ہے کہ کرسی اس کے سامنے ایک وسیع میدان میں چھلّے کی مانند ہے۔ جی ہاں! ایسے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن مجید میں مذکور کرسی‘ اللہ کے احکامات کا ایک نورانی مرکز ہے۔ پھر سدرۃ المنتہیٰ بھی ہے۔ قرآن وسنت کی روشنی میں علماء کرام عرش کے بارے میں فرماتے ہیں کہ (قیامت میں) کائناتیں تباہ ہو جائیں گی مگر عرش نہیں۔ جی ہاں! عرش کی چھائوں میں ہی ''جنت الفردوس‘‘ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب‘ ختم المرسلینﷺ کو جب سدرۃ المنتہیٰ کے پاس اپنا مہمانِ خصوصی بنایا تو نجانے اللہ تعالیٰ نے کیا کچھ دکھلایا۔ حضورﷺ نے ان میں سے کچھ مناظر کو ہمارے لیے اس طرح کھول کر بیان فرمایا کہ جیسے آپﷺ نے اپنی عظیم نورانی آنکھوں سے یہ مناظر مشاہدہ فرمائے‘ ویسے ہی ہم پر بھی یہ معاملہ شرح ہو جائے۔
سرکارِ مدینہﷺ نے نہ کوئی تخت بنوایا‘ نہ کرسی بنوائی۔ بس ایک منبر تھا اور کھجور کی چٹائی کا مصلّیٰ تھا۔ لوگوں نے اس پر گدّا نما مسند بچھا دی تو حضورﷺ اس پر تشریف فرما ہو گئے۔ تاہم کئی بار حضورﷺ زمین پر ہی تشریف فرما ہو جایا کرتے تھے۔ جب یہود کے علاقے میں ان کا ایک فیصلہ کرنے تشریف لے گئے تو اپنے نیچے رکھا ہوا گدّا چھوڑ کر رسول کریمﷺ اس وقت زمین پر تشریف فرما ہو گئے‘ جب وہ تورات لے کر آئے۔ حضورﷺ نے تورات کا صحیفہ اس گدے پر پھیلا دیا۔ اسی طرح ایک بار قبرستان میں کسی کی تدفین میں ذرا تاخیر ہو گئی‘ حضورﷺ بھی وہاں موجود تھے۔ اب آپﷺ وہیں قبرستان میں‘ زمین پر تشریف فرما ہو گئے اور صحابہ کرام کو اگلی زندگی کے حقائق پر وعظ فرمانے لگے۔ ایک بار ہلکی سی چھڑی پکڑی‘ زمین پر کچھ لکیریں کھینچ کر صراطِ مستقیم اور دنیاوی اور اخروی زندگی کے حقائق سے آگاہ فرمانے لگے۔ صدقے اور قربان حکمرانی کے ایسے پُررحمت انداز پر... کہ اندازِ حکمرانی دیکھیں تو رحمت ہی رحمت۔ ساری انسانیت کے لیے راحت ہی راحت۔ صداقت اور امانت ہی امانت۔
یاد رکھنا چاہیے کہ مرد اپنے گھر کا حکمران ہے‘ اس کی بیوی گھر کی خاتونِ اول ہے۔ فیکٹری یا کسی سرکاری اور پرائیویٹ ادارے کا سربراہ بھی اپنی جگہ حکمران ہے۔ مذہبی اور سیاسی جماعت کا سربراہ بھی حکمران ہے۔ ملکوں کے سربراہان تو بڑے حکمران ہیں۔ حکمرانی اگر حضور کریمﷺ کے اسوہ کی روشنی میں ہو گی تو سورۃ الدھر میں اللہ تعالیٰ نے ایسے انسان کو ایک خوشخبری سنائی ہے۔ اس سورت مبارکہ کا دوسرا نام ''الانسان‘‘ ہے۔ یعنی انسان وہ ہے‘ انسانیت اس کے پاس ہے جو ''الدھر‘‘ یعنی اپنے دورِ حکمرانی میں ظلم سے بچ گیا۔ عہد کی خلاف ورزی‘ جھوٹ‘ بددیانتی‘ اقربا پروری اور موروثیت کو نوازنے سے بچ گیا۔ جب وہ جنت میں داخل ہو کر ادھر ادھر ''دیکھے گا‘ پھر نظر ڈالے گا تو نعمتوں بھری عظیم وکبیر حکمرانی کے نظارے کرے گا‘‘۔ (الدھر: 20)۔
سرکارِ مدینہﷺ جب جمعہ کے روز فجر کی نماز پڑھایا کرتے تھے تو دوسری رکعت میں ''سورۃ الانسان‘‘ تلاوت فرمایا کرتے تھے تاکہ آپﷺ کی امت کا ہر فرد فردوس کی حکمرانی کو بھولنے نہ پائے۔ مرنے کے فوراً بعد برزخ میں جو علّیین کا مقام ہے‘ وہاں ملنے والی عارضی مگر عظیم جاگیر کو بھولنے نہ پائے۔ دنیا کی حکمرانی کے بارے میں حضور کریمﷺ کا فرمان ہے کہ دو بھوکے بھیڑے جنہیں بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑ دیا جائے اس قدر نقصان نہیں پہنچائیں گے جس قدر وہ انسان نقصان پہنچائے گا جو مال اور اقتدار کا شدید حریص اور لالچی ہو۔ مال و منصب کی ہوس سے انسان اپنا دین برباد کر لے گا۔ (سنن ترمذی‘ سندہٗ صحیح)۔ اللہ اللہ! آج یہی حرص اور لالچ ہے جس کے قیدی بن کر ہم اہلِ اسلام اپنی اپنی حکمرانی کے دائرے میں‘ فرقہ واریت کا پرچم اٹھا کر لڑتے چلے جا رہے ہیں۔ یا اللہ! ہم پر رحم فرما۔
آفرین ہے میرے پاک وطن کی قیادتوں پر۔ حضرت قائداعظم اور لیاقت علی خان سمیت تحریک پاکستان کے ان قائدین پر‘ جو برصغیر کے ساتھ ساتھ اہلِ فلسطین کو بھی نہیں بھولے۔ ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے عالمِ اسلام کو لاہور میں اکٹھا کیا۔ شاہ فیصل نے ان کا بھرپور ساتھ دیا۔ لاہور میں 1974ء کی سربراہی کانفرنس کا مطلب یہ تھا کہ لاہور پاکستان کا دل ہے تو عالم اسلام ہمارے دل میں بستا ہے۔ جنرل ضیاء الحق عربستان و ایران کی صلح کراتے کراتے اور اہلِ افغانستان کا مقدمہ لڑتے لڑتے اس دنیا سے چلے گئے۔ آج پھر میرا پاک وطن عالم اسلام کو جوڑنے کے لیے کوشاں ہے اور پاسبانِ حرمین شریفین بھی ہے۔ ضرورت کے مطابق کبھی اعلانیہ پا بہ رکاب ہوتا ہے تو کبھی خاموشی کے ساتھ صلح جوئی کی رکابوں میں پائوں جمائے‘ امن کے گھوڑے کو ایڑ لگا رہا ہوتا ہے۔ ایٹمی چھتری ہاتھ میں ہے تو بازو اور کندھے بنیانٌ مرصوص ہیں۔ بس دو چیزوں کی کمی کا احساس ہوتا ہے۔ سیاست پائیدار ہو جائے اور معاش کو استحکام مل جائے۔ اے مولا کریم! یہ دو نعمتیں بھی عطا کر دے‘ بے لاگ انصاف کا میزان بھی دیدے۔ پاک وطن اور اہلِ وطن کو اونچی اڑان دیدے۔ آمین یا رب العالمین!
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved