میں نے اپنے گزشتہ سے پیوستہ کالم میں ملتان میں بننے والی ایک شاندار سڑک 'ملتان ایونیو‘ کے سلسلے میں اپنے ماضی کے تجربات کو مدِنظر رکھتے ہوئے مستقبل کے حوالے سے متوقع خرابیوں کا ذکر کیا تھا۔ میں نے ان خدشات کا اظہار کسی قنوطی پن کی وجہ سے نہیں کیا تھا بلکہ میرے یہ خدشات سراسر ماضی کے تجربات پر مبنی تھے۔ مجھے اپنے اس کالم کے حوالے سے یہ دعویٰ ہرگز نہیں کہ میرے کالم میں اٹھائے گئے خدشات کو مدِنظر رکھتے ہوئے ملتان کے ایک اعلیٰ انتظامی افسر نے اس سڑک پر کسی متوقع خرابی‘ توڑ پھوڑ‘ تجاوزات‘ ناجائز کھوکھوں اور ریڑھیوں کے راستوں پر قبضے اور غلط پارکنگ کو روکنے کیلئے خصوصی بندوبست کیا ہے۔ تاہم خوش کن بات یہ ہے کہ نشاندہی کی گئی متوقع خرابیوں کے سدباب کیلئے آٹھ رکنی خصوصی سکواڈ بنانے کا آرڈر کیا گیا ہے۔ ان آٹھ اہلکاروں پر مشتمل سکواڈ کو آٹھ آٹھ گھنٹے کی تین شفٹوں میں بیک وقت دو لوگوں کو پٹرولنگ کی ذمہ داری سونپتے ہوئے اس سڑک کی نگرانی کا فریضہ سونپا ہے جبکہ بیک اینڈ پر ان کی رپورٹ اور تصویری شکایت کی بنا پر ملتان ترقیاتی ادارے‘ ڈسٹرکٹ کونسل‘ میونسپل کارپوریشن‘ پی ایچ اے‘ واسا‘ میپکو‘ ستھرا پنجاب اور ٹریفک پولیس میں باقاعدہ فوکل پرسن مقرر کرتے ہوئے نشاندہی کی گئی خرابیوں کی حتی الامکان حد تک سدباب کی کوشش کی گئی ہے۔ اب اس بات پر کیا بحث کہ یہ کام میرے حالیہ کالم کی روشنی میں ہوا ہے یا یہ کرنے والوں کے ذہن میں تب آیا جب ملتان ایونیو کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے اپنے ماضی کے تجربات اور مشاہدات کو سامنے رکھتے ہوئے کہا تھا کہ اتنے بڑے اور خوبصورت پروجیکٹ کو بنانا یقینا ایک قابلِ تعریف کام ہے لیکن اس کا دھیان کرنا‘ اسے اس کی درست حالت میں رکھنا اور دیرپا بنیادوں پر اس خوبصورتی کو قائم رکھنا اصل مرحلہ ہے۔ بہرحال یہ خدشہ بھی کسی حد تک ٹل گیا ہے کہ یہ پروجیکٹ کچھ عرصہ بعد خراب و خستہ ہونا شروع ہو جائے گا۔ لیکن اس خصوصی بندوبست سے میرے ذہن میں ایک اور سوال پیدا ہوا ہے۔ کیا اس پورے شہر میں صرف یہ نو کلومیٹر کی سڑک ہے جو اس امتیازی پروٹوکول کی مستحق قرار پائی ہے؟ کیا شہر کے باقی سڑکیں‘ پارک‘ باغات اور گلیاں لاوارث ہیں؟ کیا باقی شہر اور علاقوں کے مکین اس بات کے حقدار نہیں کہ انہیں فراہم کی گئی سہولتوں کی بھی حفاظت کی جائے؟ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ یہ سارا کام محض سرکار کی کاوشوں سے ممکن نہیں ہے۔
میں کسی بدگمانی کا اظہار نہیں کر رہا‘ میں نے ایک بار شاہ جی سے یہ کہا کہ اس ملک کے عوام کو ٹریفک قوانین کی پابندی سے لے کر خالی شاپر کو کوڑا دان میں ڈالنے کا میرا خواب تبھی پورا ہو سکتا ہے کہ ہم اس ملک میں ہر ایک بندے کی نگرانی کیلئے اس کے اوپر ایک بندہ تعینات کر دیں تاوقتیکہ لوگوں کو ایک اچھے شہری کی ذمہ داریوں کا احساس نہ ہو جائے۔ آگے سے شاہ جی مسکرائے اور کہنے لگے: پہلے تو یہ بتاؤ کہ تم نگرانی والے اتنے ایماندار بندے لاؤ گے کہاں سے؟ اگر تم پچیس کروڑ آبادی والے اس ملک میں ساڑھے بارہ کروڑ لوگوں کی نگرانی کیلئے بقیہ ساڑھے بارہ کروڑ لوگ مقرر کر دو گے تو نگرانی کرنے والا اور جس پر نگران مقرر کیا گیا ہے دونوں مل کر اس خرابی کو دُگنی رفتار سے سرانجام دیں گے جسے روکنے کیلئے تم نے نگرانی والا بندہ متعین کیا ہو گا۔ ہاں البتہ! دوسری صورت یہ ہے کہ یہ سارے بندے باہر سے لائے جائیں۔ یعنی پچیس کروڑ لوگوں کی نگرانی کیلئے مزید پچیس کروڑ بندے کہیں باہر سے لائے جائیں۔ تو عزیزم! پچیس کروڑ نگرانوں کے بوجھ سے تو اس ملک کی ہر رہی سہی چیز کا بھی تختہ ہو جائے گا۔ میں نے شاہ جی سے دوبارہ پھر اس موضوع پر کبھی بات نہیں کی۔
لیکن کیا یہ سارے معاملات اسی طرح چلتے رہیں گے؟ میرا خیال ہے ہرگز نہیں۔ یہ معاملات تا دیر اس طرح نہیں چل سکتے اور اس کیلئے ہمیں گراس روٹ لیول پر کچھ کرنا ہوگا۔ میں نے سولہ سترہ سال سکول‘ کالج اور یونیورسٹی میں گزارے ہیں۔ کالج اور یونیورسٹی کو تو چھوڑیں‘ تب تک تو عادتیں پختہ ہو گئی ہوتی ہیں‘ تاہم مجھے پرائمری اور ہائی سکول کی تعلیم کے دوران صرف دو اخلاقی سبق پڑھائے گئے۔ ایک یہ کہ استاد کی عزت کرو اور والدین کا احترام کرو۔ ان دو اخلاقی اسباق کی وجوہات کو چھوڑیں‘ وہ ایک علیحدہ موضوع ہے۔ تاہم ان دو باتوں کے بارے میں پڑھانے کے بعد اب یہ ہماری صوابدید پر چھوڑ دیا گیا کہ باقی معاشرے کے ساتھ آپ نے جو سلوک روا رکھنا ہے وہ آپ کی مرضی پر منحصر ہے۔ سولہ سترہ سال تک پڑھائے گئے مضامین میں کوئی مضمون ایسا نہیں تھا جو مجھے ایک اچھا‘ ذمہ دار اور کارآمد شہری بننے کا سبق سکھاتا۔ کوئی مضمون ایسا نہیں تھا جو مجھے یہ بتاتا کہ یہ ملک‘ یہ شہر اور اس کی تمام املاک نہ صرف یہ کہ میرے پیسوں سے بنائی گئی ہیں بلکہ میں ان کا محافظ بھی ہوں۔ میرے خیال میں سکول کی اولین کلاسوں میں ایک مضمون سماجیات اور معاشرت کے بارے میں بھی ہونا چاہیے جو مجھے سماج میں رہنے اور اسے بہتر کرنے میں مجھے میری ذمہ داریوں اور فرائض سے آگاہ کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ والدین کو یہ تربیت دے کہ انہوں نے اپنے بچوں کو محض منہ سے نہیں‘ بلکہ عمل کر کے یہ بتانا ہے کہ انہیں کیا کرنا چاہیے۔
ایک دن میں نے اپنی طرف سے بڑا دانشور بنتے ہوئے شاہ جی کے سامنے اپنی یہ تجویز رکھی۔ مجھے یقین تو خیر کیا ہونا تھا‘ تاہم خوش گمانی سی تھی کہ شاید اس بار شاہ جی میری اس تجویز کو سراہتے ہوئے اس پر صاد فرمائیں گے۔ ممکن ہے خلافِ معمول سخاوت سے کام لیتے ہوئے مجھے تھپکی بھی دے دیں‘ لیکن وہی ہوا جس کا خدشہ تھا۔ شاہ جی کہنے لگے: تم خوابوں کی جنت میں رہنا چھوڑ دو۔ ہم دراصل وہ کچھ کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو ہم اپنے بڑوں کو کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ ہم چاہتے یا نہ چاہتے ہوئے بچپن میں اپنے والدین اور گھر والوں کی جبکہ بڑے ہوکر اپنے حکمرانوں کی نقل اور تقلید کرنا پسند کرتے ہیں۔ سو ہمارے حکمران جس طرح آئین اور قانون کے ساتھ اپنی حیثیت کے مطابق کھلواڑ کرتے ہیں‘ ہم اپنی اپنی حیثیت کے مطابق وہی کچھ کرتے ہیں یا کم از کم کرنے کی کوشش ضرور کرتے ہیں۔ تو رہ گئی بات سکولوں اور کالجوں میں اخلاقیات اور سماجیات پڑھانے کی‘ تو جناب کالم نویس صاحب! آپ کو سکول‘ کالج اور یونیورسٹی میں معاشیات پڑھائی جاتی ہے‘ آپ کے ملک کی معیشت کا کیا حال ہے؟ آپ کو انگریزی پڑھائی جاتی ہے آپ لوگوں کو وہ نہیں آتی۔ سیاسیات بھی پڑھائی جاتی ہے لیکن سیاسی اخلاقیات اور جمہوریت کا جنازہ نکل چکا ہے۔ حساب پڑھایا جاتا ہے لیکن آپ کو اب تک یہ حساب کرنا نہیں آیا کہ آمدن کم اور اخراجات زیادہ ہوں تو ملک تو رہا ایک طرف‘ دکان بھی زیادہ دن نہیں چلتی۔ ویسے بھی اب سرکار سکولوں سے اپنا دامن چھڑوا رہی ہے۔ سرکار کے پاس سکول چلانے کیلئے نہ پیسے ہیں‘ نہ یہ اس کی ترجیح ہے اور نہ ہی اس کے پاس اس کی استعداد ہے۔ روایتی سکول چل نہیں رہے اور تم کہہ رہے ہو کہ والدین کیلئے بھی تعلیم بالغاں کا بندوبست کیا جائے۔ اگر تعلیم بالغاں کا بندوبست کرنا ہی ہے تو والدین سے پہلے اس ملک کی اشرافیہ کی‘ مقتدرہ کی‘ بیوروکریسی کی‘ کاروباری طبقے کی‘ حکمرانوں کی اور سیاستدانوں کی تربیت کیلئے سکول کھولے جائیں۔ لیکن مسئلہ یہ آن پڑے گا کہ ان سکولوں میں پڑھانے کیلئے باعمل استاد کہاں سے لاؤ گے؟ اس ملک کے سارے نہ سہی‘ مگر بیشتر اساتذہ کو تو خود اخلاقی اور سماجی تعلیم و تربیت کی ضرورت ہے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved