تحریر : ڈاکٹر حسین احمد پراچہ تاریخ اشاعت     19-09-2026

ورلڈ ٹاپ سنگرز کا فلسطین سے اظہارِ یکجہتی

تیسری دنیا میں بیٹھے ہوئے شاید آپ کو یقین نہ آئے مگر دنیا بھر کے ٹاپ سنگرز اور بینڈ گروپوں نے کروڑوں ڈالرز کو پاؤں کی ٹھوکر مارتے ہوئے کہاہے کہ انسانوں پر ظلم ہو‘ بچوں کے چیتھڑے اڑائے جائیں‘ بستیوں پر بمباری کی جائے اور تڑپتے انسانوں کو زندہ درگور کیا جائے‘ بلکتے بچوں تک دودھ اور دوا نہ پہنچنے دی جائے اور تم کہو کہ ہم چپ رہیں۔ نہیں‘ نہیں‘ ہرگز نہیں! ہم آزادیٔ فلسطین کے لیے آواز بلند کرتے رہیں گے۔ ان ٹاپ سنگرز میں امریکی‘ برٹش‘ آئرش اور ڈینش سنگرز شامل ہیں۔
ایڈورڈ کرسٹوفر شیرن (Ed Sheeran) مشہور برٹش سنگر اور نغمہ نویس ہیں۔ وہ یورپ اور امریکہ میں جہاں جاتے ہیں وہاں نوجوان اُن کے شوز میں جوق در جوق آتے ہیں۔ مگر ان دنوں شیرن ایک مشکل میں گرفتار ہیں۔ انہوں نے کئی ہفتوں پر محیط امریکہ کے مختلف شہروں میں 'لوپ ٹورز‘ کے نام سے گانوں کے شوز ترتیب دیے تھے۔ جواں سال شیرن اس ٹور کے ٹاپ سنگر بھی تھے اور کوآرڈینیٹر بھی۔ 4 ستمبر کو اُن کا شو امریکی ریاست نیو جرسی کے میٹ لائف سٹیڈیم میں تھا۔ سٹیڈیم شائقین سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ امریکہ میں شوز کی کامیابی کے لیے وہاں کے نہایت مقبول اوپننگ آرٹسٹ میکلیمور (Macklemore) کی شرکت یقینی بنائی جاتی ہے۔ میکلیمور کی مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ اس نے سٹیڈیم میں نہایت شاندار پرفارمنس کی داد سمیٹتے ہوئے پہلے تو اسرائیل کی مذمت کی اور اہلِ فلسطین کے ساتھ اپنی وابستگی کا اظہار کیا اور پھر 2024ء میں شہرت کی بلندیوں پر پہنچنے والا اپنا مشہور نغمہ Hind's Hall بھی سنایا۔اس نغمے کی دلوں میں اتر جانے والی چند سطروں کو آپ کے سامنے پیش کرنے سے پہلے آپ کو اس مشہور گانے کا پس منظر یاد کرانا ضروری ہے۔
یہ 29 جنوری 2024ء کا واقعہ ہے کہ جب چھ سالہ فلسطینی بچی ہند رجب اور اس کی فیملی نے جنگ کے دوران غزہ سے اپنی چھوٹی سی گاڑی میں نکلنے کی کوشش کی۔ اسرائیلی فوجیوں نے اس سویلین گاڑی پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی۔ بلامبالغہ انہوں نے سینکڑوں گولیاں برسائیں۔ گاڑی میں سوار چھ افراد شہید ہو گئے‘ اب صرف ہند بچی تھی۔ زخمی ننھی بچی نے اپنے اوسان بحال رکھے اور ہلالِ احمر کو فون کیا۔ سسکتی ہوئی ہند گھنٹوں تک ہلالِ احمر کے کارکنوں کے ساتھ رابطے میں رہی۔ اس دوران دیگر لاشوں کے درمیان پڑی ہند کا رشتۂ حیات ٹوٹا اور نہ ہی رشتۂ امید منقطع ہوا۔ جب گھنٹوں کی تگ و دو کے بعد ایک ایمبولینس ہند کی گاڑی کے پاس پہنچی تو سفاک صہیونی فوجیوں نے اس ایمبولینس پر بھی گولیاں برسانا شروع کر دیں اور اس میں موجود دونوں میڈیکل ورکرز بھی جاں بحق ہو گئے۔ آخرکار گھنٹوں تک زندگی کے لیے تگ و دو کرتی ہوئی ہند نے جامِ شہادت نوش کر لیا۔ 12 دنوں کے بعد ریسکیو ورکرز نے ہند اور اس کے خاندان کے دیگر افراد کی لاشوں کو گاڑی سے نکالا‘ جس کے ساتھ ہی تباہ شدہ ایمبولینس‘ دو میڈیکل ورکرز کی لاشوں سمیت کھڑی تھی۔ جب یہ واقعہ عام ہوا تو دنیا میں کہرام مچ گیا۔ اس پر امریکہ کی یونیورسٹیوں میں شدید احتجاج ہوا۔ کولمبیا یونیورسٹی نیویارک کے طلبہ نے اپنے ایک ہاسٹل کا نام Hind's Hall رکھ دیا۔ اسی واقعہ کی یاد میں میکلیمور نے یہ گانا گایا تھا۔ اب اس کے چند مصرعے ملاحظہ کریں:
لوگ‘ وہ یہاں سے نہیں ہٹنے والے... سرمایہ کاری واپس لینے اور امن کی خواہش رکھنے میں کیا خطرہ ہے؟... مسئلہ احتجاج نہیں بلکہ وہ وجہ ہے جس کے لیے احتجاج کیا جا رہا ہے... یہ اس چیز کے منافی ہے جس کی ہمارا ملک مالی معاونت کر رہا ہے... (ارے) رکاوٹیں کھڑی کر کے راستہ روکے رکھو‘ جب تک فلسطین آزاد نہ ہو جائے... معاملہ ہمیشہ سے ڈالروں اور جلد کی رنگت کا ہی رہا ہے... لیکن اب بالآخر سفید فام بالادستی کا پول کھل چکا ہے... یہ نعرہ لگاتے رہو کہ ''فلسطین کو آزاد کرو‘‘ یہاں تک کہ وہ آخرکار اپنے گھر پہنچ جائیں۔
اب آئیے موجودہ معاملے کی طرف۔ جب پروگرام کے سنگر اور کوآرڈینیٹر شیرن پر پروموٹرز اور سٹیڈیم اونرز کا دباؤ بڑھا تو انہوں نے ایک ڈیڑھ ہفتے تک اسرائیل نواز مالکان کو قائل کرنے کی کوشش کی مگر اس معاملے میں ناکامی کے بعد بالآخر شو کے باقی پروگراموں سے فلسطین کے حامی امریکی اوپننگ آرٹسٹ میکلیمور کو آؤٹ کر دیا۔ ذرا سوچیے کہ اگر یہ پاکستان کا کوئی ایسا شو ہوتا تو ٹور کے باقی سنگرز کیا کرتے۔ یہی کہ فلسطین کے حامی اس اوپننگ آرٹسٹ کو باہر کریں اور باقی پروگرامز کو اس کے بغیر جاری رکھیں۔ مگر دیکھیے کہ ان ورلڈ ٹاپ کلاس سنگرز اور بینڈ گروپوں نے کیا کیا۔ 29 سالہ فینیس (Finneas) امریکہ کا پاپولر سنگر‘ سانگ رائٹر اور ایکٹر ہے۔ اس نے شیرن کے ساتھ نومبر میں چھ شوز کے لیے کمٹمنٹ کر رکھی تھی۔ اس نے ٹور کے برٹش کوآرڈینیٹر سے بہ آواز بلند کہا کہ کوئی بھی آرٹسٹوں کو اپنے دل کی آواز لب پر لانے سے نہیں روک سکتا‘ ہم فلسطین کی آزادی کے لیے آواز اٹھاتے رہیں گے‘ میں میکلیمور کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے تمہارے ساتھ طے شدہ ٹور کینسل کر رہا ہوں۔ فینیس نے ملینز آف ڈالر کی پروا نہیں کی اور طے شدہ پروگرام کینسل کر دیا۔ آئرلینڈ کے معروف سنگر Aaron Rowe نے کہا کہ اگرچہ شیرن میرا گہرا دوست ہے مگر میں دوست نوازی پر انسانیت نوازی کو ترجیح دوں گا‘ لہٰذا میں بھی اب ٹور کے ساتھ شامل نہ ہونے کا اعلان کرتا ہوں‘ فلسطین آزاد ہو کر رہے گا۔ آئرش پاپ گروپ‘ جو اس سارے ٹور کا بیکنگ بینڈ تھا‘ اس کے چیف نے کہا کہ امریکہ میں شیرن کے شوز میں شرکت ایک سہانے سپنے سے کم نہیں مگر جہاں فلسطین کے مظلوموں کے لیے آواز اٹھانے پر پابندی ہو وہاں ہم ڈالروں اور تالیوں‘ دونوں کو قربان کر دیں گے۔ اسی طرح ڈینش پاپ بینڈ کے انچارج سنگر Lukas Graham نے بھی فلسطین کے حامی میکلیمور اور غزہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے شیرن کے پرفارمنس ٹور سے اپنی لاتعلقی کا اعلان کر دیا۔ ان ورلڈ ٹاپ سنگرز اور بینڈ گروپوں نے بلاشبہ اپنا کروڑوں ڈالرز کا نقصان اور امریکی شہروں میں پرفارمنس کا موقع گنوا دیا مگر اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے دل کا سکون حاصل کر لیا۔ اخلاقیات کی بلندیوں پر فائز ان ٹاپ سنگرز کی دنیا بھر کے سوشل میڈیا پر بھرپور پذیرائی ہو رہی ہے۔
نوٹ کرنے کی اہم بات یہ ہے کہ غزہ پر مسلط کردہ حالیہ اسرائیلی جنگ کی دنیا بھر میں شدید مذمت کی گئی۔ 80 برس کے دوران پہلی مرتبہ مغربی دنیا کو بھرپور احساس ہوا ہے کہ اُن کے برطانوی و امریکی بڑوں نے کس طرح قانون شکنی‘ نسل کشی اور ظلم و بربریت کا ساتھ دیا تھا اور اپنی نام نہاد تہذیبی برتری اور انسانیت نوازی پر خطِ تنسیخ پھیر دیا تھا۔ پاکستان اور دیگر اسلامی دنیا میں بھی Solidarity with singer Macklemore ریگولر اور سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ ہونا چاہیے۔ ہمارے ہاں اعلیٰ اخلاقی اقدار کے ساتھ ایسی عظیم الشان کمٹمنٹ شاذ ونادر ہی دیکھنے میں آتی ہے۔
غزہ کی چھ سالہ بچی ہند رجب کے دلدوز واقعہ کی یاد میں ایک فلم 17 دسمبر 2025ء کو ریلیز ہوئی تھی۔ اس فلم کا نام تھا: The Voice of Hind Rajab۔ یہ ڈاکیومنٹری فلم آسکر ایوارڈ 2026ء کے لیے بھی نامزد ہوئی تھی۔ امریکی سنگر میکلیمور اور اس کے ساتھیوں نے کروڑوں ڈالروں کو ٹھکراتے ہوئے ایک بار پھر ہند رجب جیسے غزہ کے شہید بچوں کی یاد تازہ کر دی ہے۔ ان سنگرز نے آزاد فلسطین کے لیے اپنی آواز بلند کر کے اہلِ غزہ اور القدس کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ ہمیں بھی ان عالی ہمت سنگرز اور آزاد فلسطین کے لیے بھرپور آواز بلند کرنی چاہیے۔ آزاد فلسطین زندہ باد!

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved