تحریر : افتخار احمد سندھو تاریخ اشاعت     19-09-2026

عمل سے فارغ ہوا مسلماں بنا کے تقدیر کا بہانہ

بر صغیر پاک وہند میں انگریزوں کو سب سے زیادہ مزاحمت کا سامنا صوبہ پنجاب میں کرنا پڑا‘ اس لیے اس نے سب سے زیادہ فوکس بھی پنجاب پر کیا۔ اس مزاحمت کے توڑکے لیے پنجاب میں انفراسٹرکچر پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی۔ تمام صوبوں میں سے سب سے زیادہ کام صوبہ پنجاب میں کروایا گیا۔ پنجاب اور پنجابیوں کو رام کرنے کیلئے عالیشان اور یاد گار عمارتیں‘ سڑکیں‘ پُل‘ ریلوے لائنیں اور نہریں بنوائی گئیں۔ انگریز نے پنجاب میں پیسہ اس لیے لگایا کہ یہاں کے لوگ اچھی خدمت کریں گے۔ اس لیے وہ اتنا کچھ بنا کر گئے۔ پھر ان خدمات کے صلے میں جاتے ہوئے اپنے خدمتگاروں کو وسیع جاگیریں بھی دے کر گئے۔ بقول شورش کاشمیری:
ہم نے اُس وقت سیاست میں قدم رکھا تھا
جب سیاست کا صلہ آہنی زنجیریں تھیں
سرفروشوں کے لیے دار و رسن قائم تھے
خان زادوں کیلئے مفت کی جاگیریں تھیں
پھر جاگیریں لینے والوں نے اس کو مذہبی ٹچ دینے کی کوشش کی۔ خانقاہیں اور درگاہیں بنائی گئیں‘ خانقاہوں اوردرگاہوں پرآنے والے مریدوں نے ہاری بن کر مخدوموں‘ پیروں اور مشائخ کی زمینوں میں خوب کام کیا اوربے چارے سادہ لوح اور جاہل لوگ اس کو جنت کا حصول کا ذریعہ سمجھ بیٹھے۔ یوں پیری مریدی کا یہ سلسلہ نسل در نسل جاری رہا اور ہنوز جاری ہے۔ آج بھی ان مخدوموں کے بچے امریکہ اور یورپ میں پڑھ رہے ہیں‘ نہ صرف پڑھ رہے ہیں بلکہ عیاشی کر رہے ہیں۔ اربوں روپے بیرونِ ملک منتقل ہو چکے ہیں‘ جابجا جائیدادیں بنائی جا رہی ہیں۔
ہم کو تو میسر نہیں مٹی کا دیا بھی
گھر پیر کا بجلی کے چراغوں سے ہے روشن
یہی طبقہ تھا جس نے 1857ء کی جنگِ آزادی میں انگریز سامراج کا ساتھ دیا تھا۔ پنجابی مجاہدینِ حریت کو باغی اور غدار قرار دیا اور بدلے میں زمینیں‘ خطاب اور اقتدار حاصل کیا۔ 1947ء سے قبل انہی خان بہادروں‘ درباریوں کی بدولت انگریز برصغیر پر قابض تھا۔ پھر ان لوگوں نے تقدس کا جبہ پہنا تو ان کی اندھی تقلید کی گئی۔ بقول منٹو‘ اندھی تقلید ایک خطرناک نفسیاتی مرض ہے جو پتھر کو معبود‘ بندوں کو خدا‘ دین فروش کو عالم اور لٹیروں کو لیڈر بنا دیتی ہے۔
پاکستان میں کئی سال پہلے تبدیلی آجاتی اگر اس کے عوام خوابِ غفلت سے بیدار ہوجاتے۔ میں یہ بات واضح کر دوں کہ جس روز پاکستان کے عوام اُٹھ کھڑے ہوئے نظام میں تبدیلی آ کر رہے گی۔ پاکستان کی آبادی اس وقت 25 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔ صوبائی اسمبلیوں‘ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے کُل ممبران کی تعداد ہزار پندرہ سو سے زیادہ نہیں۔ میں آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ اگر 25 کروڑ عوام یہ عہد کر لیں کہ ہم نے اس ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے اور ہم نے کرپشن اور ناانصافی کے خلاف لڑنا ہے تو کیا اسمبلیوں میں بیٹھے ہوئے یہ ہزار‘ ڈیڑھ ہزار افراد عوام پر بھاری ہو سکتے ہیں؟ ایسا کرنا اس لیے مشکل ہو رہا ہے کہ بنیادی طور پر ہم ایسا کرنا ہی نہیں چاہتے۔ ہمارے سامنے ظلم ہو رہا ہو گا مگر ہم اُس کے خلاف آواز تک نہیں اٹھائیں گے کیونکہ ہم اپنے آپ کو کسی مشکل میں ڈالنا نہیں چاہتے۔ ہم صرف حکمرانوں پر برستے ہیں‘ اگرچہ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس ملک کی موجودہ صورتحال میں حکمرانوں کا بڑا کردار ہے مگر عوام کے کردار سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا‘ مگر کیا ہم نے اپنی طرف کبھی دیکھا ہے؟
ہم نے اس ملک کو اسلام کی تجربہ گاہ بنانا تھا لیکن اسلام کے نام پر بننے والے اس ملک میں دینِ اسلام پر عمل کے سوا سب کچھ ہو رہا ہے۔ ظلم کی انتہا یہ ہے کہ وطنِ عزیز میں رائج اسلامی جمہوری نظام اُن غریب افراد سے بھی ٹیکس لیتا ہے جو بیچارے زکوٰۃ کے مستحق ہیں۔ بدقسمتی دیکھیے کہ غریب اور عام آدمی ٹیکس دے رہا ہے اور طاقتور اور مقتدرطبقات مراعات لے رہے اور موج مستیاں کر رہے ہیں۔ منصف جی بھر کر مراعات لے رہے لیکن عام آدمی کو انصاف فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔ البتہ طاقتور کو انصاف ضرور فراہم کیا جا رہا ہے۔ قومیں اگر محض فحاشی سے تباہ ہوتیں تو یورپ کب کا تباہ ہو چکا ہوتا۔ قومیں ظلم اور ناانصافی سے تباہ ہوتی ہیں۔ پاکستانی قوم کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ اس امر میں کوئی شک نہیں کہ پاکستانی قوم ظلم اور ناانصافی سے زوال پذیر ہوئی۔ عوام پر ٹیکس کا بوجھ اور اشرافیہ کے لیے عیاشیاں! یہ کیسا معاشی انصاف ہے؟ حکومت ہر ناروا اقدام کا الزام آئی ایم ایف پر ڈال دیتی ہے۔ کیا آئی ایم ایف کا وفد صرف غریب عوام پر ٹیکس لگانے کے لیے پاکستان آتا ہے؟ بدقسمتی سے پاکستانی ایک قوم نہیں بلکہ انسانوں کا ایک ہجوم ہیں۔ کچھ افراد نظام بدلنے کے لیے محض دعائیں کرتے رہتے ہیں‘ خود کچھ نہیں کرتے۔ وہ حکمرانوں سے رحم کی بھیک مانگتے ہیں۔ بھلا قابض بھی کبھی رحم کرتے ہیں؟ بدقسمتی سے ہم عملی مسلمان نہیں بن سکے اور ہمارے مذہبی رہنما بھی ہماری ہر سستی‘ غلطی اورکوتاہی کو تقدیر کے کھاتے میں ڈال کر چپ سادھ لیتے ہیں۔ نجانے ہم خود کو دھوکا دیتے ہیں یا کسی اور کو دھوکا دینے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔ علامہ اقبال نے اس امر کا تذکرہ ارمغانِ حجاز میں یوں کیا ہے:
خبر نہیں کیا ہے نام اس کا‘ خدا فریبی کہ خود فریبی
عمل سے فارغ ہوا مسلماں بنا کے تقدیر کا بہانہ
ہمارے واعظوں کا یہی حال ہے۔ اقبال نے سچ کہا تھا:
واعظِ قوم کی وہ پختہ خیالی نہ رہی‘ برقِ طبعی نہ رہی شعلہ مقالی نہ رہی
رہ گئی رسمِ اذاں روحِ بلالی نہ رہی‘ فلسفہ رہ گیا تلقینِ غزالی نہ رہی
ہمیں یہ حدیث مبارکہ سنائی جاتی ہے کہ سب سے افضل جہاد ظالم اور جابر حکمران کے سامنے کلمۂ حق کہنا ہے لیکن جب خود کی باری آتی ہے تو سب جابروں کے سامنے لیٹ جاتے ہیں۔ یعنی جب قوم کو اپنے سپوتوں کے توانا دست وبازو کی ضرورت پڑتی ہے تو ملت کے مقدر کے ستارے اپنی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مساجد کی طرف دوڑ پڑتے ہیں۔ بقول شاعر:
یہ ناداں گر گئے سجدے میں جب وقتِ قیام آیا
احتجاج کا ایک طریقہ تو یہ بھی ہے کہ بڑوں شہروں میں‘ کالجوں اور یونیورسٹی کے طلبہ و طالبات شام سے قبل صرف ایک گھنٹے کیلئے گھروں سے نکلیں اور سڑکوں کے کنارے کھڑے ہوکر خاموش احتجاج کریں۔ انہیں وزیراعظم شہباز شریف کے بقول'اُو، اُو‘ کرنے کی ضرورت بھی نہیں۔ صرف چند دنوں کے اس پُرامن احتجاج سے حکمرانوں کے ہوش ٹھکانے آ جائیں گے اور وہ عوام کے مطالبات ماننے پر مجبور ہو جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ الرعد کی آیت: 11 میں اعلان کر رکھا ہے: ''بیشک اللہ کسی قوم کے حال کو نہیں بدلتا جب تک کہ وہ (قوم) خود اپنے اوصاف کو نہیں بدل دیتی‘‘۔ یعنی اللہ تعالیٰ اُس وقت تک کسی قوم کی تقدیر کو نہیں بدلتا جب تک وہ قوم اپنی تقدیر کو خود نہ بدلنا چاہے۔ بقول مولانا ظفر علی خان:
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved