صدر آصف علی زرداری کے برطانیہ سے واپس آنے کے بعد سے نام نہاد لندن پلان کی افسانوی کہانی تو دم توڑ چکی ہے؛ البتہ یہ شنید ہے کہ طاقت کے مراکز میں فیصلہ کر لیا گیا ہے کہ موجودہ انتظامی ڈھانچے کو مزید نہیں چلایا جا سکتا۔ سات مارچ 2027ء کے سینیٹ انتخابات سے پہلے بااختیار انتظامی یونٹس کے معاملے کو آئینی طور پر آگے بڑھانے کی سنجیدہ کوششیں زیرِ غور ہیں۔ سنا ہے کہ ملک کا انتظامی نقشہ بدلنے کیلئے آئینی ڈرافٹنگ پر کام ہو رہا ہے‘ لوکل گورنمنٹ کے نظام کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے اور اس ضمن میں مشرف دور کا مقامی حکومتی فارمولا مدنظر ہے۔ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد وفاق سے تو صوبوں کو اختیارات اور وسائل مل گئے لیکن چاروں صوبے طاقت کے ایسے مراکز بن چکے ہیں کہ جہاں عام آدمی اور حکومت کے درمیان اونچی دیوار کھڑی ہے‘ اور کرپشن کا بازار گرم ہے۔ این ایف سی کے ذریعے صوبوں کو منتقل ہونے والے وسائل اور اختیارات زیادہ تر صوبائی دارالحکومتوں میں مرتکز رہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ عام آدمی کو اب بھی اُنہی مسائل کا سامنا ہے جن سے وہ تب دوچار تھا جب اختیارات اور وسائل کا مرکز وفاق تھا۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے آٹھ ستمبر کو ''اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری گورننس ریفارمز‘‘ کے مشاورتی سیشن میں ملک میں بارہ صوبے بنانے کا ذکر کیا تھا جبکہ ہم نے اپنے الیکشن کمیشن کے تجربے کی روشنی میں چھ ماہ پہلے ہی بارہ صوبوں کا روڈ میپ مع آئینی اصلاحات‘ متعلقہ حلقوں کو بھجوا دیا تھا۔ سندھ اور پنجاب میں موجودہ حکمران خاندانوں کی وجہ سے صوبوں کی تقسیم کو انتہائی حساس معاملہ سمجھا جاتا ہے۔ اس ضمن میں وزیر داخلہ محسن نقوی کے 30 جولائی اور 5 ستمبر کے بیانات اہم ہیں۔ سیاسی حلقوں میں یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ فائلیں تیار ہیں‘ قانونی راستے دیکھے جا رہے ہیں اور کسی مناسب موقع پر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں صوبوں کی ازسرِنو تشکیل‘ اٹھارہویں ترمیم اور مقامی حکومتوں کے اختیارات کے بارے میں معاملہ لایا جا سکتا ہے۔ محسن نقوی صاحب کا نظام ری سیٹ کرنے کا مطلب جمہوری اور پارلیمانی نظام برقرار رکھتے ہوئے اٹھارہویں ترمیم کی ان شقوں میں مزید ترمیم ہے جن کے باعث چاروں صوبے آہستہ آہستہ ریاستوں کا روپ دھار رہے ہیں‘ لہٰذا انتظامی ڈھانچہ میں تبدیلی ناگزیر ہو چکی ہے۔
اگر مارچ 2027ء میں ہونے والے سینیٹ انتخابات سے پہلے نئے صوبوں کا معاملہ آگے بڑھتا ہے تو اس کے سیاسی جماعتوں کی تقسیم‘ انٹرا پارٹی انتخابات‘ ازسرِ نو انتخابی حلقہ بندیوں‘ وسائل کی تقسیم‘ بیوروکریسی کی طاقت اور سیاسی اجارہ داریوں کے توازن پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس ضمن میں فی الحال رائے عامہ کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔ اٹھارہویں ترمیم کے تحت کل وفاقی محاصل کا ساڑھے 57 فیصد صوبوں کو چلا جاتا ہے۔ شنید ہے کہ مجوزہ 28ویں ترمیم کے تحت اٹھارہویں ترمیم میں این ایف سی کے حجم میں تبدیلی اور مقامی حکومتوں کو صوبائی حکومتوں سے علیحدہ کرکے براہِ راست این ایف سی سے مالی وسائل کی فراہمی کا نظام بنایا جاسکتا ہے۔ اس طرح صوبائی حکومتیں قانون سازی تک محدود ہو جائیں گی اور ترقیاتی منصوبے مقامی حکومتوں کے پاس چلے جائیں گے۔
وفاقی دارالحکومت میں تو یہ اطلاعات بھی زیر گردش ہیں کہ صدر آصف علی زرداری کو واضح پیغام بھجوا دیا گیا ہے کہ نئے صوبے ملک و قوم کے بہترین مفاد میں ہیں اور اس منصوبے کو کسی فرد یا جماعت کی خواہش پر مؤخر نہیں کیا جا سکتا۔ اس وقت پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین کی رجسٹریشن کا کیس لاہور ہائیکورٹ میں زیرِ سماعت ہے‘ جسے الیکشن ایکٹ 2017ء کی دفعہ 202 کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کے دو جماعتوں کے رکن ہونے کا معاملہ اسی دفعہ سے متصادم قرار دیا جا رہا ہے۔ علاوہ ازیں آئینی عدالت میں صدر کو آئین کے آرٹیکل 248 کے تحت دیے گئے استثنیٰ کے خاتمے کی پٹیشن بھی دائر ہو سکتی ہے۔ آئین کے آرٹیکل 248 کے مطابق صدر کے خلاف ان کے عہدے کی مدت کے دوران کسی عدالت میں کسی بھی قسم کی فوجداری کارروائی شروع یا جاری نہیں کی جا سکتی؛ البتہ یہ استثنیٰ ختم ہونے کی صورت میں کرپشن کے کیسز کھلنے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ مقتدر حلقے ملک میں مزید انتظامی یونٹس کے حامی نظر آتے ہیں‘ وزیراعلیٰ بلوچستان بھی مزید صوبوں کے حامی ہیں‘ اس لیے لگتا ہے کہ ملک میں چار صوبوں کا نظام بہت جلد تبدیل ہونے جا رہا ہے اور اختیارات و وسائل عوام کے دروازوں تک پہنچائے جائیں گے۔ نئے صوبوں کے معاملے پر اگر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں منظوری دے دی جاتی ہے تو اس معاملے کو مزید آگے بڑھانے کیلئے ریفرنڈم کرانا ہوگا۔ ریفرنڈم کیلئے آئین کے آرٹیکل 48کو مدنظر رکھنا ہوگا جس کے مطابق پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کرکے منظوری حاصل کرنا آئینی تقاضا ہے؛ اگرچہ دو تہائی اکثریت لازمی شرط نہیں۔ سادہ اکثریت سے قرارداد منظور ہو سکتی ہے۔ چونکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کو قومی اسمبلی میں 169 اراکین کی حمایت حاصل ہے۔ اگر پیپلز پارٹی علیحدگی اختیار کرتی ہے تو بھی حکمران جماعت مشترکہ اجلاس میں سادہ اکثریت سے ریفرنڈم کی تجویز کی توثیق کر سکتی ہے۔ دوسری جانب الیکشن کمیشن ان دنوں انتخابی ڈیوٹیوں اور ملک بھر میں پولنگ سٹیشنوں کی تعداد کا ریکارڈ اکٹھا کر رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر عام انتخابات میں ابھی تقریباً تین سال باقی ہیں تو الیکشن کمیشن ابھی سے انتخابی عملے اور پولنگ سٹیشنوں کا ڈیٹا کیوں اکٹھا کر رہا ہے؟ بادی النظر میں الیکشن کمیشن کو کوئی سگنل موصول ہو ا ہے لہٰذا وہ صوبوں کے معاملے پر ریفرنڈم کرانے کیلئے غیر معمولی انداز میں تیاری کر رہا ہے۔ دراصل الیکشن کمیشن جنرل ضیا الحق کے فارمولے پر کام کر رہا ہے۔ 1984ء کے اوائل میں جنرل ضیا الحق کے چیف آف سٹاف آفیسر لیفٹیننٹ جنرل رفاقت نے چیف الیکشن کمشنر جسٹس ایس اے نصرت کو آگاہ کر دیا تھا کہ فروری 1985ء میں غیر جماعتی بنیادوں پر انتخابات کرائے جائیں گے لہٰذا انتظامات مکمل کیے جائیں جس پر الیکشن کمیشن نے اپنی مشینری متحرک کر دی تھی۔ 24 نومبر 1984ء کو جنرل ضیا الحق نے چیف الیکشن کمشنر اور متعلقہ حکام کو آرمی ہاؤس طلب کیا اور سیکرٹری الیکشن کمیشن حیدر محمد چوہان سے پوچھا کہ ریفرنڈم کرانے میں کتنا عرصہ درکار ہو گا؟ انہوں نے جواب دیا کہ عام انتخابات کی تیاری مکمل ہے‘ اس لیے یہی تیاریاں ریفرنڈم میں تبدیل کی جا سکتی ہیں۔ اگر نئے صوبے بنانے کیلئے ریفرنڈم کرانا مقصود ہے تو پارلیمنٹ سے اس کی توثیق کروانا ہو گی‘ لہٰذا ریفرنڈم کے بجائے پارلیمانی سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر آئین کے آرٹیکل (4)239 کے مطابق آئینی کارروائی مکمل کرکے ملک میں نئے صوبوں کی منظوری حاصل کی جا سکتی ہے۔
جہاں تک پاکستان تحریک انصاف کے 27 ستمبر کے لانگ مارچ کا تعلق ہے تو حکومت کو یقین ہے کہ پی ٹی آئی لانگ مارچ میں بہت زیادہ لوگوں کواکٹھا نہیں کر سکے گی۔ یہ خبریں بھی گردش کر رہی ہیں کہ عمران خان کو 27 ستمبر سے پہلے مارگلہ ہل کے قریب ایک پُرتعیش بنگلے میں منتقل کیا جا سکتا ہے۔ اڈیالہ جیل سے منتقلی کی صورت میں عمران خان کی ہمشیرگان اور پارٹی کے سینئر رہنما خان صاحب سے آسانی سے ملاقاتیں کرکے آگے کی حکمت عملی تیار کرسکیں گے جس سے حکومت پر دباؤ مزیدبڑھ جائے گا۔ زمینی سطح پر ابھی تک لانگ مارچ کی کوئی خاص تیاری نظر نہیں آ رہی ۔ لیڈر آف دی اپوزیشن محمود خان اچکزئی‘ راجہ ناصر عباس اور مولانا فضل الرحمن کے حوالے سے مختلف سیاسی امکانات زیرِ بحث ہیں۔ دوسری جانب جماعت اسلامی پٹرولیم لیوی کے خلاف اسلام آباد کی طرف مارچ کا اعلان کر چکی ہے۔ دونوں جماعتوں کے مطالبات مختلف ضرور ہیں‘تاہم ان کے حکومت کے خلاف احتجاج کے معاملے میں مشترکہ حکمت عملی نظر آ رہی ہے جس سے ہ حکومت کو ٹف ٹائم دے سکتی ہیں۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved