تحریر : مفتی منیب الرحمٰن تاریخ اشاعت     19-09-2026

نازک ہے بہت کام!

میر تقی میر نے کہا تھا: لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام؍ آفاق کی اس کارگہِ شیشہ گری کا۔ آج کل ہم ایسے ہی نازک ترین دور سے گزر رہے ہیں۔ ہمارے گرد وپیش حالات انتہائی ناسازگار ہیں‘ ہماری مشرقی اور مغربی سرحدیں خطرات کی زد میں ہیں‘ ہماری مسلّح افواج اور سلامتی کے اداروں کی بے مثال شہادتوں اور قربانیوں کے باوجود داخلی طور پر دہشتگردی کا سلسلہ قابو سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔ ہمارے مقتدر اداروں کا یہ دعویٰ درست ہے کہ اس تمام تر دہشتگردی کی کمین گاہیں افغانستان میں ہیں اور وہیں سے اس کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ بھارت اپنی تکنیکی‘ تربیتی اور مالی معاونت وہیں سے کر رہا ہے۔ یہ آمنے سامنے کی جنگ نہیں ہے‘ بلکہ گوریلا جنگ ہے۔ افغانوں کو سوویت یونین اور امریکہ کے خلاف اس جنگ کاکم وبیش چالیس سال کا تجربہ ہے۔ گوریلا جنگ میں دشمن بے چہرہ ہوتا ہے‘ اُسے مقامی لوگوں کی مدد بھی حاصل ہوتی ہے‘ اس کا سبب لالچ‘ خوف یا عصبیت کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ ہمیں کئی ذمہ دار لوگوں نے بتایا کہ بلوچستان کے بعض علاقوں کے تعلیمی اداروں میں مطالعہ پاکستان پڑھانا اور پاکستان کی حمایت میں بات کرنا نہایت دشوار اور خطرات سے پُر ہے۔ یہ بتانے والے لوگ مُحبِّ وطن ہیں اور دین کا درد رکھتے ہیں۔
معاہدۂ مکہ ایک امید کی کرن تھی مگر ''سرمنڈاتے ہی اولے پڑے‘‘ کے مصداق ابھی معاہدے پر دستخطوں کی روشنائی بھی خشک نہیں ہوئی تھی کہ مرحلۂ امتحان آ گیا۔ ایران کے زیراثر اور حمایت یافتہ حوثی یا انصار اللہ نے یمن میں مؤثر پیش قدمی کر کے باب المندب کی بحری گزر گاہ کو اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے‘ کئی مقامات اور اہم جزائر پر قبضہ کر لیا ہے اور تاحال اُن کی پیش قدمی جاری ہے۔ بعض ذرائع سے معلوم ہوا کہ عمان میں حوثیوں کے ترجمان عبدالسلام کی امریکی سفارتکاروں سے ملاقات ہوئی اور اس میں حوثیوں نے امریکہ کو یقین دلایا کہ امریکہ اور اسرائیل کیلئے باب المندب کی بحری گزرگاہ کھلی رہے گی۔ ایک غیر مصدقہ خبر یہ بھی ہے کہ جرمنی میں بعض عرب ممالک (سعودی عرب‘ متحدہ عرب امارات‘ بحرین‘ کویت‘ قطر‘ اردون اور مصر) کے اعلیٰ فوجی عہدیداروں کی اسرائیلی چیف آف آرمی سٹاف لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر سے غیر اعلانیہ ملاقات ہوئی اور مشرقِ وسطیٰ میں مشترکہ سکیورٹی چیلنجوں اور باہمی تعاون پر بات چیت ہوئی۔ الغرض صورتحال کافی گنجلک اور پیچیدہ ہے‘ اس لیے بعض لوگوں کا یہ خدشہ یا تبصرہ بے جا ہے کہ امریکہ اور ترکیے یکدم اس جنگ میں کیوں نہیں کود پڑے‘ ان کو بھی تمام پہلوئوں اور ہر اقدام کے مابعد اثرات پر غور وخوض کرنا پڑتا ہے۔
یہ سعودی عرب کیلئے بھی مشکل دور ہے کیونکہ حوثیوں نے کہا ہے: باب المندب کی بحری گزرگاہ سعودی عرب کے علاوہ سب کیلئے کھلی ہے اور امریکہ نے بھی سعودی عرب کو لال جھنڈی دکھا دی ہے۔ یہ تو طے ہے کہ یمن کے حوثی ایران کے زیرِ اثر ہیں اور وہ ان کی مختلف طریقوں سے مدد کر رہا ہے‘ اس میں مالی وتکنیکی معاونت‘ جنگی تربیت اور میزائل و ڈرون سمیت اسلحہ کی فراہمی شامل ہے۔ لہٰذا ایران ہی ایسی قوت ہے جو حوثیوں کو سعودی عرب پر حملے سے روک سکتی ہے‘ مگر اس نے اسے حوثیوں کا داخلی معاملہ قرار دے کر کوئی کردار ادا کرنے سے اجتناب کیا ہے اور کہا ہے کہ ہمارا حوثیوں کی کارروائی سے کوئی لینا دینا نہیں۔ یہ اچھی علامت نہیں ہے۔ ہماری نظر میں ایران کو چاہیے کہ خطے کے مسلم ممالک کیساتھ معاملات کو استوار کرے‘ غلط فہمیوں کا ازالہ کرے‘ پُرامن بقائے باہمی کا ماحول پیدا کرے اور باہمی تجارت کے امکانات کو بروئے کار لائے۔ خلیجی ممالک کو بھی چاہیے کہ اپنے اپنے ممالک میں امریکی فوجی اڈے ختم کریں اور وہاں سے امریکی افواج اور ماہرینِ جنگ کا مکمل انخلا کر کے انہیں اپنے قبضے میں لیں۔ درحقیقت خلیجی جنگ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ امریکہ خلیجی ممالک کے تحفظ میں ناکام رہا ہے اور اس نے اپنے سب سے معتمد حلیف سعودی عرب کو بھی کورا جواب دے دیا ہے۔ ایسے میں اگر خلیجی ممالک امریکہ کے اندر اپنی سرمایہ کاری کو ختم کرکے اپنے مالی اثاثوں کو نکالیں تو امریکی معیشت کو بڑا جھٹکا لگ سکتا ہے۔
ابھی معاہدۂ مکہ کیلئے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کا باقاعدہ اعلان نہیں ہوا۔ ظاہر ہے باقاعدہ سیکرٹریٹ قائم ہونے کے بعد اس کے قواعد وضوابط‘ دائرہِ کار اور باہمی تعاون کا پورا میکانزم بھی مرتب کرنا ہوگا‘ فوری حالات سے بددل ہونے کے بجائے طویل قابلِ عمل حکمت عملی پر مبنی پالیسی وضع کرنا ہو گی۔ ابھی تک یہ بھی واضح نہیں ہے کہ امریکہ کیساتھ پاکستان کے تعلقات کی موجودہ سطح کیا ہے‘ کیونکہ لگتا ہے ہنی مون کا دور ختم ہو چکا ہے‘ اسکا ثبوت یہ ہے کہ ٹرمپ نے پاکستانی وزیراعظم اور فیلڈ مارشل‘ نیز پاک بھارت جنگ کاکافی عرصے سے ذکرچھوڑ دیا ہے۔ پاکستان نے اپنی معیشت کو تقویت دینے کیلئے امریکہ سے جو دس ارب ڈالر قرض کی درخواست دی تھی‘ اس کا بھی کوئی جواب نہیں آیا۔ حالانکہ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسی باقاعدہ درخواست پسِ پردہ مذاکرات اور یقینی دہانیوں کے بعد دی جاتی ہے۔ حالیہ ایران امریکہ جنگ نے امریکہ کے واحد سپر پاور ہونے کے تاثر کو کافی نقصان پہنچایا ہے اور لگتا ہے کہ چین‘ روس اور بھارت بھی شاید ایران پر امریکہ کی نافذ کردہ ان پابندیوں کو قبول نہ کریں‘ بلکہ چین نے تو باقاعدہ اعلان بھی کر دیا ہے۔ پاکستانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے 10ستمبر 2026ء کو اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا: ''معاہدۂ مکہ خالصتاً دفاعی اتحاد ہے‘ اس کا بنیادی مقصد خطے کی سلامتی اور جارحیت کے امکانات کا سدِباب ہے۔ ابھی معاہدے میں نئے ممالک کی شمولیت کا مرحلہ نہیں آیا‘ پہلے بانی ممالک کو اپنی تنظیم اور تعاون کو مضبوط کرنا ہو گا۔ یمنی حوثیوں کی حالیہ کامیابیوں کے تناظر میں کوئی مشترکہ فوجی کارروائی زیرِ غور نہیں ہے‘ پاکستان معاہدے کے مطابق اپنا کردار ادا کرے گا اور جب وقت آئے گا تو عمل بھی کرے گا۔ پاکستان نے حوثی حملوں کی شدید مذمت کی اور سعودی عرب کی خودمختاری‘ علاقائی سا لمیت‘ سلامتی اور خوشحالی کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے‘‘۔ اگرچہ پاکستان نے ایران امریکہ جنگ کوختم کرنے کیلئے غیر معمولی سفارتی کوششیں کیں اور اسے اُس وقت امریکہ ایران سمیت ساری دنیا نے سراہا‘ مگر بدقسمتی سے فریقین نے 'معاہدۂ اسلام آباد‘ کی پاسداری نہیں کی۔ لیکن جب بھی مستقل جنگ بندی کا مرحلہ آیا تو فریقین کو معاہدۂ اسلام آباد کی طرف ہی لوٹنا پڑے گا۔ لگتا ہے کہ ایران امریکہ کے وسط مدتی انتخاب تک اس جنگ کو طول دینا چاہتا ہے۔ اس پالیسی نے پاکستان سمیت ساری دنیا کو انتہائی معاشی مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ یوں تو پوری دنیا اس بحران کے برے اثرات کی زد میں ہے‘ مگر پاکستان اپنے معاشی مسائل کے سبب زیادہ متاثر ہے۔امریکی سی آئی اے کے سابق ڈائریکٹر و سابق سیکرٹری دفاع لیون پنیٹا نے ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کہا ہے: ''ایران کے خلاف امریکہ کی فوجی مہم مغربی ایشیا میں عراق اور افغانستان کی طرح ایک اور ناکام اور طویل جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے‘ اس کا کوئی واضح ہدف نہیں ہے۔ امریکہ نے ماضی کی غلطیوں سے سبق نہیں سیکھا‘ فوج بھیجنے سے پہلے واضح ہدف‘ حکمتِ عملی اور جنگ کے خاتمے کی منصوبہ بندی ضروری ہوتی ہے‘ لیکن یہاں اس کا فقدان ہے۔ امریکہ اور ایران کے مابین تنازع تعطّل کا شکار ہے اور یہ جنگ کسی حل کے بغیر چھ ماہ اور بھی جاری رہ سکتی ہے۔ پینٹا گون میں افراتفری کی کیفیت ہے‘ کوئی مؤثر کنٹرول نہیں ہے‘ امریکی فوج کے سیکرٹری کا استعفیٰ اس کا واضح ثبوت ہے اور اس سے امریکہ کی ساکھ بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ اس سے پہلے امریکہ کی ایران پر مسلّط کردہ معاشی جنگ یعنی تجارتی پابندیاں بھی ناکامی سے دوچار ہو چکی ہیں۔ امریکہ کی عائد کردہ معاشی پابندیوں نے ایران کو سخت جان بنا دیا ہے اور اس نے اپنے لیے متبادلات تلاش کرلیے ہیں‘‘۔ واضح رہے کہ اسامہ بن لادن کے خلاف آپریشن کی نگرانی لیون پنیٹا ہی نے کی تھی۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved