ڈاکٹر شاہد صدیقی‘ جو ایک نامور معلم‘ محقق اور نثر نگار ہونے کیساتھ ساتھ سینیٹر عرفان صدیقی مرحوم کے چھوٹے بھائی بھی ہیں نے ''میں اور عرفان بھائی‘‘ کے زیر عنوان اپنی یادداشتیں کتابی صورت میں مرتب کی ہیں۔ وہ اپنے بڑے بھائی کی انگلی پکڑ کر آگے بڑھے اور بڑھتے ہی چلے گئے۔اب اُن کی یادوں کا عصا تھامے زندگی کا سفر جاری رکھے ہوئے ہیں۔ان کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ انہوں نے ''اصحابِ عرفان‘‘ کو بھی شریک سفر کر لیا ہے۔ ان کے بقول: ''یہ بھائی عرفان صدیقی سے جڑی یادوں کی کہانی ہے جو اُن شب و روز کے گرد گھومتی ہے جو کبھی لوٹ کر نہیں آئیں گے۔ یہ ایک ماں کے خواب کی تعبیر کی داستان ہے جس کی خواہش تھی کہ اس کے بچے اعلیٰ تعلیم حاصل کریں اور (اپنے اپنے شعبوں میں) نام کمائیں۔ یہ اس بچے کی زندگی کا احوال ہے جس نے گائوں کے ایک کچے گھر کے آنگن میں آنکھ کھولی اور سخت محنت سے زندگی میں اپنا مقام بنایا‘‘۔
صدیقی برادران یعنی عرفان صدیقی اور شاہد صدیقی زندگی بھر ایک دوسرے سے جڑے رہے‘ اور اب بھی شاہد صاحب تنہا نہیں ہیں ؎
تیری یاد ہے یا ہے تیرا تصور؍ کبھی داغ کو ہم نے تنہا نہ دیکھا
عرفان مرحوم کی پہلی برسی کے موقع پر زندہ بھائی نے اپنے زندۂ جاوید بھائی کے ساتھ گزارے شب و روز کی کہانی بیان کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی شاعری اور نثرکے منتخب حصے بھی ہمیں یاد کرا دیے ہیں۔ وہ الفاظ جنہیں لکھتے لکھتے عرفان کی منزلیں طے ہوئیں اور ایک سکول ٹیچر‘ ایک ممتاز شاعر‘ نامور کالم نگار اور باوقار سیاستدان کے طور پر جانا اور مانا جانے لگا۔ عرفان صاحب نے جو کچھ حاصل کیا‘ اپنی والدہ کی دعائوں کے سائے میں محنت‘ محنت اور محنت کرتے ہوئے حاصل کیا۔ وہ جتنی بھی سیڑھیاں چڑھے‘ قلم کے سہارے چڑھے‘ قلم ہی کی چابی سے انہوں نے بند دروازے کھولے اور کچے مکان سے اونچے ایوان تک پہنچے‘ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے سب سے بڑے ایوان‘ سینیٹ کے قائد چُنے گئے۔
عرفان صاحب نے آٹھ دہائیاں ہمارے درمیان گزاریں‘ ان کی زندگی کی پہلی چار دہائیاں درس گاہوں میں گزریں۔ سکول ٹیچر کے طور پر سفر شروع کیا‘ کالج کے پروفیسر بنے‘ ان کے شاگردوں کی تعداد سینکڑوں نہیں ہزاروں میں ہو گی۔ سر سیّد کالج میں تعلیم حاصل کرنے والے بڑے بڑے عہدوں تک پہنچے‘ یہاں تک کہ ایک (قمر جاوید باجوہ) چیف آف آرمی سٹاف بنے اور اس کے بعد انہوں نے اہلِ سیاست کو تگنی کا ناچ نچایا۔ایک وقت ایسا تھا کہ لیفٹیننٹ جنرل قمر جاوید باجوہ نے عرفان صدیقی کو ڈھونڈا‘ اپنا استاد ٹھہرایا‘ ماضی یاد دلایا اور اپنا مستقبل سنوارنے میں کامیاب ہو گئے۔ بلاخوفِ تردید کہا جا سکتا ہے کہ عرفان صدیقی وزیراعظم نواز شریف کے کانوں میں سحر نہ پھونکتے تو قمر جاوید باجوہ کا جادو سر چڑھ کر نہ بول سکتا۔ باجوہ کے ساتھ کیا ہوا اور پھر انہوں نے اپنے محسنوں کے ساتھ کیا کِیا‘ اس سے قطع نظر ان کی بلندیٔ درجات‘ ان کے استاد کے بلند درجے کا پتہ بہرحال دیتی ہے۔
شاہد صدیقی صاحب نے اپنے بھائی کی اور اپنی جو کہانی ہمیں سنائی ہے‘ اس میں نہ تو کوئی مبالغہ ہے‘ نہ افسانہ۔ عرفان صاحب پر قسمت کیسے مہربان ہوتی گئی‘ وہ صحافت کے ایوانوں میں کیسے پہنچے اور ان کا نام وہاں کیسے گونجنے لگا‘ایوانِ صدر تک رسائی کیسے ہوئی‘ صدر رفیق تارڑ نے کس طرح اُنہیں ''رفیق ِ حیات‘‘ بنایا‘ نواز شریف کے ساتھ رشتۂ محبت کیسے استوار ہوا‘ میدانِ سیاست ان کی راہ میں کیسے بچھا‘اس کی سطر سطر تفصیل محفوظ کر دی گئی ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ ان چند صحافیوں میں تھے‘جو باقاعدہ سیاستدان کہلائے۔ اقتدار سے لطف اٹھایا اور اختلاف کا مزہ بھی چکھا۔ کوئے یار میں برسوں گزارے تو ''سرِدار‘‘ جاتے بھی نظر آئے لیکن اس تمام عرصے میں ان کے اندر کا آدمی متاثر ہونے نہیں پایا۔ اِترائے‘ نہ گھبرائے۔اقتدار سے لطف اندوز ہوتے ہوئے بھی انکساری اور ملنساری ان کا پہرہ دیتی رہی‘اور عمرانی اقتدار سے اختلاف کرتے ہوئے بھی ان کے قدم نہیں ڈگمگائے۔ مسلم لیگ (ن) کو ایسے دانشور بھی نصیب ہوئے جنہوں نے دن بدلتے ہی آنکھیں بدل لیں لیکن عرفان صدیقی نے مسلم لیگ(ن) کا انتخاب کیا تو پھر اسی کے ہو رہے۔پیچھے مڑ کر دیکھا‘ نہ اِدھر اُدھر جھانکا۔ وہ سینیٹ کی پارلیمانی پارٹی کے لیڈر تھے‘ قائدِ ایوان تھے‘ خارجہ تعلقات کمیٹی کے سربراہ بھی رہے لیکن قلم کا ساتھ نہیں چھوڑا‘ اس کی آبرو برقرار رکھی‘ اور اس ہی کے ذریعے نواز شریف کے دل میں گھر بنائے رکھا۔ جناب اعجاز الحق سے لے کر جناب رفیق تارڑ اور جناب نواز شریف کی درجنوں تقریریں لکھی ہوں گی۔ صدرِ مملکت اور وزیراعظم کے باقاعدہ تقریر نویس بھی رہے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف کے درمیان طے پانے والے میثاقِ جمہوریت کی نوک پلک درست کرنے میں بھی کردار ادا کیا‘ لیکن اپنے آپ کو زمین ہی پر رکھا۔ آسمانوں کی سیر کا شوق تو پالا لیکن اڑان بھر کرواپس آئے اور اپنے قدم اپنی زمین پر ٹکا دیے۔
میری اُن سے اولین ملاقات برادرِ عزیز اعجاز الحق کے ذریعے ہوئی تھی کہ جنرل ضیا الحق کی شہادت کے بعد قائم کی جانے والی ''ضیاء الحق فائونڈیشن‘‘ میں انہیں اعجاز صاحب کے مشیر کا درجہ حاصل تھا۔ وہ کچھ ہی دیر پہلے ریٹائرمنٹ لیکر آزاد دنیا کے باسی بن چکے تھے۔ اعجاز الحق سمندر پار پاکستانیوں کے وزیر بنے تو عرفان صاحب نے اوورسیز فائونڈیشن میں ڈائریکٹر ایجوکیشن کا منصب سنبھالا۔ یہیں سے صحافت اور سیاست کے دروازے ان پر کھلے اور کھلتے چلتے گئے۔ کالم نگاری شروع کی تو کالم نگاروں کی صف ِ اول ان کے بغیر مکمل نہیں ہوتی تھی۔ انٹرویو نگاری میں بھی کمال پیدا کیا‘افغانستان پر امریکی حملے کے بعد تو اُن کا قلم تلوار بن گیا۔ اہلِ وطن کی ترجمانی کا حق ادا کیا اور پورے پاکستان میں ان کا نام گونجنے لگا۔
پاکستان کی تاریخ ان لوگوں سے بھری پڑی ہے جنہوں نے غربت میں آنکھ کھولی اور اعلیٰ مناصب تک پہنچے‘ جرنیل‘ بیورو کریٹ اور سیاستدان بنے۔ مقام بنایا اور نام بھی کمایا لیکن بہت کم ایسے ہیں جنہوں نے اپنی غربت کو یاد رکھا۔ اس پر فخر کرتے رہے اور نوجوانوں کو موٹیویٹ کرنے کا ذریعہ بنے۔ عرفان صدیقی اس صف میں نمایاں نہیں نمایاں تر تھے‘ان کی زندگی کی کہانی نوجوانوں میں اعتماد پیدا کرے گی‘اپنے آپ پر بھروسہ کرنے اور محنت کے ذریعے مقام بنانے کا جذبہ جواں رکھے گی۔ ان کی داستانِ حیات ''قومی ترانے‘‘ کی طرح ہے جو سننے والے کو اپنی نشست پر بیٹھنے نہیں دیتا‘ اُٹھ جانے اور منزلِ مراد کی طرف قدم بڑھانے پر مجبور کرتا ہے۔ قوم‘ ملک‘ سلطنت‘ پائندہ تابندہ باد۔
ڈاکٹر عارف ریاض قدیر مرحوم
ڈاکٹر عارف ریاض قدیر83برس گزار کر اس دنیا سے رخصت ہوئے ہیں تو بے شمار گھروں کو ویران کر گئے ہیں۔اُن کا ایک امتیاز تو یہ تھا کہ وہ ڈاکٹر ریاض قدیر کے بیٹے تھے‘ پاکستان کے ابتدائی سالوں میں وہ ایک ممتاز معالج کے طور پر جانے جاتے تھے۔انہوں نے نوزائید ہ مملکت میں صحت کے ڈھانچے کو مضبوط بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا‘ڈاکٹر عارف کا نکاح مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ کی بیٹی عائشہ بی بی سے ہوا‘اس نسبت نے اُنہیں ممتاز تر کر دیا۔ وہ ذیا بیطس کے ایک بڑے معالج کے طور پر معروف ہوئے۔اپنا ہسپتال بھی قائم کیا اور دن رات مریضوں کی خدمت کرتے رہے۔کم وسیلہ لوگ ان کی توجہ کا خصوصی مرکز تھے‘اُنہیں ادویات بھی اپنے پاس سے فراہم کر دیتے۔
(یہ کالم روزنامہ ''پاکستان‘‘ اور روزنامہ ''دنیا‘‘ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے)
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved